ابوالحماد علامہ مولانا مفتی احمد میاں برکاتی محدث حیدرآبادی
نام: غلام محی الدین
خان لودھی
عرف: احمد میاں برکاتی
اَلقاب: مُفتیِ اعظم سندھ و بلوچستان، تاج
الفقہاء، محامد العلماء، نقیب البرکات ، فخرِ رضویت،
شاگردوں، مریدوں اور خاندان بھر میں آپ کو ’’آغا جان‘‘ کے لقب سے پکارا جاتا تھا۔
کنیت: ابو
حماد۔
تخلص: حاؔفظ
والدِ
ماجد:
تاج الفقہاء ابو حماد حضرت علامہ مولانا الحاج
حافظ قاری مفتی احمد میاں برکاتی البغدادی
محدث حیدر آبادیکے والدِ ماجد مُفتیِ اعظمِ
سندھ خلیل العلماء مفتی محمد خلیل خاں قادری برکاتی
تھے، جنھوں نے دارالعلوم احسن البرکات قائم فرمایا اور شہرۂ آفاق کتاب: ’’سنّی بہشتی زیور‘‘ تصنیف فرمائی۔ آپ پیر خانۂ
اعلیٰ حضرت مارہرہ شریف کے ایک بزرگ تاج العلما حضرت علامہ
مولانا سیّد محمد میاں مارہروی برکاتیکے
مرید و خلیفہ بھی تھے۔
ولادت:
27؍ ذوالحجہ 1370ھ مطابق 29؍ ستمبر1951ء بروز ہفتہ
مقامِ ولادت: میرپور
خاص، سندھ۔
حصولِ
علم:
والدِ گرامی یعنی خلیل العلما حضرت علام ہ مفتی محمد خلیل خاں برکاتی سے دارالعلوم احسن
البرکات حیدرآباد میں حصولِ علم کا آغاز کیا، حفظِ قرآن سے فراغت گیارہ سال کی عمر میں اسی
مدرسے میں ہوئی۔ 1966ء میں دارالعلوم امجدیہ کراچی میں داخلہ لیا اور حضرت علامہ مفتی محمدحسن حقانی علیہ الرحمۃ ، حضرت مفتی سیّد
شجاعت علی قادری علیہ الرحمۃ، حضرت علامہ قاری
محمد مصلح الدین صدّیقی قادری علیہ الرحمۃ ، حضرت علامہ مفتی محمد وقار الدین قادری رحمۃ اﷲ علیہ اور ممتاز
المحدثین حضرت علامہ عبد المصطفیٰ ازہری رحمۃ
اﷲ علیہ سے کتبِ درسِ نظامی اور کتبِ حدیث پڑھیں ۔ دورۂ
حدیث حضرت علامہ ازہری اور حضرت مفتی محمد وقار الدین صاحب علیھم
الرحمۃ والرضوان سے کیا ۔
سند ِفراغت
و دستار بندی:
1973ءمیں دارالعلوم امجدیہ کراچی سے سند
الفراغ عطا ہوئی۔ 1974ء میں خلیل العلما حضرت مفتی محمد خلیل خاں برکاتینے دارالعلوم احسن البرکات حیدرآباد سے
خصوصی طور پر سندِ حدیث اور سندِ قرآن عطافرمائی۔
مفتی
صاحب کی قابلیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہےکہ 1982ء میں آپ واحد شخص
تھے جو قاضی کے امتحان میں پاس ہوئے ۔
1982ء میں لاہور سے قاضی کورس کا امتحان دیا ،
جس میں کراچی سینٹر سے 55 علمائے کرام نے شرکت کی اور صرف ایک (یعنی مفتی صاحب) نے قاضی کورس کا امتحان
پاس کیا۔
تدریسی
خدمات:
·
مدرس و نائب مفتی
دارالعلوم امجدیہ، کراچی (1974ء تا 1976ء)
·
مدرس و ناظمِ
تعلیمات و مفتی احسن البرکات، حیدرآباد (1976ء تا 1985ء )
·
شیخ الحدیث و
پرنسپل و مفتی اعلیٰ دارالعلوم احسن البرکات، حیدرآباد (1985ء تا وصال)
·
پرنسپل احسن
البرکات اورینٹل کالج (1989ء تاوصال)
·
پرنسپل جامعہ
خلیلیہ برکاتیہ ، حیدرآباد (1988ء تا وصال)
بیعت
و خلافت:
حضرت والدِ گرامی نے بچپن ہی میں پیر خانۂ
امام احمد رضا، خانقاہِ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ (انڈیا) میں حضرت تاج العلماء اولادِ رسول مفتی سیّد محمد میاں قادری برکاتی،
سجادہ نشین خانقاہِ برکاتیہ کے دستِ مبارک پر بیعت کرایا تھا ۔ اس وقت عمر تقریباً
ایک سال یا کم ہوگی ۔ 22؍جمادی الاخریٰ 1399ھ
مطابق 1979ءحضرت تاج العلماء کے 24؍ ویں سالانہ عرس کے موقع پر حیدرآباد میں علما
ومشائخ کے اجتماع میں حضر ت والدِ گرامی نے سلسلۂ قادریہ برکاتیہ اور چاروں سلاسل
کی خلافت و اجازت سے نوازا اور تمام اَعمال و اوراد جو انہیں حضرت ’’تاج العلماء
‘‘ اورحضرت مُفتیِ اعظم ہند حضرت علامہ مولانا محمد
مصطفیٰ رضا خاں بریلوی رحمۃاللہ
تعالٰی علیہما سے
عطاہوئے ، مرحمت فرمائے ۔ 3؍ مارچ 1986ء
مطابق21؍ جمادی الاخریٰ 1406ھ کو مرشِدِ اعظم
ہند احسن العلماء حضرت علامہ مولانا مفتی
سیّد مصطفیٰ حیدرحسن میاں شاہ صاحب برکاتی سجادہ نشین خانقاہِ برکاتیہ مارہرہ
مطہرہ نے جو پاکستان تشریف لائے تھے درگاہِ حضرت سیّد
سخی عبد الوہاب شاہ جیلانی علیہ الرحمۃ کے صحن میں، خلیل العلماء حضرت علامہ مفتی محمد خلیل خاں برکاتیکے مزارِ
مبارک کے پائنتی علما و مشائخ کے اجتماع میں مارہرۂ مطہرہ کے خصوصی وظائف کے ساتھ
خلافت واجازت، سلاسلِ اربعہ سے نوازا۔ 28؍ جمادی الاولیٰ 1404ھ
مطابق 9؍ فروری 1986ء کو تاج
الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد اختر رضا خاں قادری ازہرینے والدِ گرامی کے عطا
کردہ خلافت نامے پر ہدیۂتبریک رقم فرمایا۔3؍ ربیع الآخر 1417ھ مطابق 18؍ اگست 1996ء، بروز
پیر، فقیہ الہند، شارح البخاری، حضرت علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ الرحمۃ
دارالعلوم احسن البرکات تشریف لاکر مجمع علماء میں ، اپنی دستار اتار کر ،’’آغا
جان‘‘کے سر پر باندھی اور بَعْدَہٗ سلسلۂ عالیہ
رضویہ نوریہ مصطفویہ کے اورادو و ظائف اور
النورو
البھا ء
کے سلاسل کی اجازت عطا فرمائی ۔ حضرت علامہ مولانا
ابوداؤد محمد صادق قادری رضوی نے بھی آپ کو خلافت و اجازت سے نوازا۔
تصنیفی
و ادبی خدمات:
حضرت مفتی احمد میاں برکاتینے تدریسی اُمور کے
علاوہ تصنیفی خدمات بھی انجام دیں۔آپ نے تقریباً 25 کتب تحریر فرمائیں اور کچھ تصانیف زیرِ قلم ہیں :
1.
اسلام
اور عصری ایجادات(رسول اﷲﷺ کی سچی خبریں) عربی سے اردو ترجمہ1972ء میں
مکمل کیا، جو قسط وار ماہنامہ ’’ترجمانِ اہلِ سنّت‘‘کراچی
میں مکمل شائع ہوا۔
2.
ادب پارے (عربی
ترجمہ)یہ رسالہ کراچی یونیورسٹی میں ایم ۔ اے عربی کے نصاب میں شامل ہے ۔
3.
شرح منہاج
العربیۃ
برائے بی ۔ اے
4.
ملفوظاتِ مشائخِ
مارہرہ ، علاوہ ازیں مختلف موضوعات پر تقریباً 10
رسائل ترتیب دیے جو سب چھپ چکے ہیں۔
5.
موت سے لحد تک
6.
ثواب زیارت فاتحہ
7.
نعتیہ دیوان
’’برکات محل ‘‘
8.
رسول اور نائبینِ رسول
‘‘(شخصیات پر مشتمل ہے )
9.
برکاتِ حدیث (
چالیس سے زائد اَحادیث کی شرح اور ریڈیو کی تقاریر)
10.
تنویرِ برکات ،
مضامین متفرق اور ریڈیائی تقاریر
11. تذکرہ
سیّد حسن میاں
12.
مُفتیِ اعظم سندھ
13. میر
اہلسنت علامہ سردار احمد
14. شادی
کے مسائل (زیرِ قلم )
15. کندہ
نقوش کے خواص
16.
طِبِّ مصطفیٰﷺ
(زیرِقلم)
17. حدائقِ برکات
18.
تذکرۂمشائخ
برکاتیہ
دارالعلوم
اَحسن البرکات میں درسِ نظامی کا آغاز:
دارالعلوم احسن البرکات میں درسِ نظامی کا
آغاز 1955ء میں ہوا ور
1965ءمیں دورۂ حدیث کا پروگرام طے ہوا، خلیل العلماء کے وصال کے بعد مفتی احمد
میاں برکاتی کی سرپرستی میں آج تک جاری و ساری ہے۔ آپ نے 1985ء سے اپنے وصال تک ہزاروں
فتاوٰی تحریر و تصدیق فرمائے۔ اب آپ کے فتاوٰی پر کام شروع کیا جا چکا ہے۔
تبلیغی
اَسفار:
دین کی تبلیغ و اشاعت کے لیے ، آپ نے ملکی
و غیر ملکی متعدد سفر کیے۔ غیر ملکی دوروں
میں آپ انڈیا، بنگلہ دیش، شام، عراق ، ماریشس و دیگر مقامات پر تشریف لے جاچکے ہیں، جب
کہ مدینۂ منوّرہ و مکۂ مکرمہ میں حاضری کی 24 مرتبہ سعادت حاصل کی۔
مریدین
و خلفا:
آپ نے ملکِ پاکستان و ماریشس میں سلسلۂ
عالیہ قادریہ برکاتیہ نوریہ رضویہ خلیلیہ کی خوب اشاعت کی۔ آپ کے مریدین کی تعداد
ایک ہزار سے زائد ہے ، اس کے علاوہ آپ نے50 سے زائد علما و مشائخ کو سلسلۂ عالیہ
قادریہ برکاتیہ رضویہ خلیلیہ کی خلافت و اجازت سے بھی نوازا۔
خلیل
العلما کا علمی سرمایہ:
آپ نے اپنے والدِ گرامی خلیل العلما کا علمی سرمایہ منظرِ عام پر لانے میں تگ و دو اور خوب محنت کی ، اور سچے وارث ہونے کا پورا
پورا حق ادا کیا ۔
مناصبِ
عالیہ:
آپ بہت سے مناصبِ
عالیہ پر فائز رہے:
1.
مہتمم و شیخ
الحدیث و رئیس دارالافتاء دارالعلوم احسن البرکات، حیدرآباد، پاکستان
2.
سرپرستِ اعلیٰ: احسن
البرکات کی متفرق 16 شاخیں
3.
پرنسپل: اَحسن
البرکات اورینٹل کالج، حیدرآباد
4.
چیف ایگزیکٹو ،برکاتیہ
ماڈل اسکول، حیدر آباد
5.
سرپرستِ اعلیٰ
دائرہ برکاتِ اسلامی انٹرنیشنل
6.
سرپرستِ اعلیٰ
دربار احسن البرکات ماریشس
7.
بزم ِرضا،
حیدرآباد ۔
8.
ممبر مرکزی مَجلسِ
شوریٰ تنظیم المدارس اہلِ سنّت پاکستان
اولادِ
اَمجاد:
آپ کے چار صاحبزادے اور ایک صاحبزادی ہیں:
1.
مفتی حماد رضا
برکاتی
آپ حافظ وقاری اور عالم و مفتی ہیں۔
2.
انجینئر حسان رضا
برکاتی
آپ کمپیوٹر کے شعبے
سے وابستہ ہیں اور پرائیوٹ جوب کرتے ہیں۔
3.
انجینئر نعمان رضا
برکاتی
آپ بھی کمپیوٹر کے شعبے سے وابستہ ہیں، پرائیویٹ کمپنی
میں برسرِ روز گار ہیں۔
4.
علامہ جوّاد رضا
برکاتی الشامی
آپ حافظ وقاری اور
عالم و مفتی ہیں ہونے کے علاوہ نعت خواں ہیں بھی ہیں۔
5.
مولانا ڈاکٹر حافظ
سیّد عطا بخاری برکاتی
آپ حضرت کے داماد
ہیں۔ حافظ و قاری اور عالم ہیں اور کیڈٹ کالج گھوٹکی میں تدریسِ
اسلامیات کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ آپ نے حال ہی میں خلیلِ ملّت
کی شخصیت پر جامعہ سندھ جامشورو سے پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی۔
پیغام:
حضرت آغا جان مفتی احمد میاں برکاتی کی
طرف سے اپنے تلامذہ، مریدین، محبین، معتقدین کے لیے آج بھی یہی پیغام ہے کہ ’’مسلک
رضا پر سختی سے قائم رہیں‘‘۔
وصالِ
پُر ملال:
مفتی صاحب کا وصال 24؍ رمضان
المبارک 1445ھ مطابق 4؍ اپریل 2024ء، بروز جمعرات ہوا۔
نمازِ جنازہ:
اگلے روزیعنی
جمعۃ المبارک کو آپ کی نمازِ جنازہ فخر المشائخ ابوالمکرم حضرت علامہ ڈاکٹر سیّد محمد
اشرف الاشرفی الجیلانی مدظلہ العالی کی اقتداء میں بمقام دارالعلوم احسن البرکات ادا کی گئی۔
تدفین:
حضرت سخی عبدالوہاب شاہ جیلانی کے مزارِ مبارک (حیدرآباد) کے احاطے میں آپ کو سپردِ خاک کیا
گیا۔
ماخذ:
فقیر (ندیم احمد نؔدیم نورانی) نے اس مضمون
کی تیاری میں دیگر ذرائع کے علاوہ، دارالعلوم احسن البرکات حیدرآباد سندھ کے شعبۂنشرو
اشاعت کے تحت فیس بک پر شائع کردہ مضمون سے بھرپور مدد لی ہے،
جس
کا لنک مندرجۂ ذیل ہے:
https://www.facebook.com/BarkatiFaizanMarehra/posts/%D8%AA%D8%A7%D8%AC%D8%A7%D9%84%D9%81%D9%82%DB%81%D8%A7%D8%A1%D9%85%D8%AD%D8%AF%D8%AB%D8%AD%DB%8C%D8%AF%D8%B1%D8%A7%D9%93%D8%A8%D8%A7%D8%AF%DB%8C%D9%85%D9%81%D8%AA%DB%8C-%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D9%85%DB%8C%D8%A7%DA%BA-%D8%A8%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%AA%DB%8C-%D8%A7%D9%84%D8%A8%D8%BA%D8%AF%D8%A7%D8%AF%DB%8C-%D8%AF%D8%A7%D9%85%D8%AA%D8%A8%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%AA%DB%81%D9%85%D8%A7%D9%84%D8%B9%D8%A7%D9%84%DB%8C%DB%81%D8%A7%D9%84/3329671460451630/
