اطہر نعیمی، علامہ مفتی محمد
نام: محمد اطہر۔
تاریخ نام: سعید اختر(1345ھ)۔
والدِ ماجد: تاج العلما مفتی محمد عمر نعیمی
نسب: محمد اطہر نعیمی بن تاج العلما مفتی محمد عمر نعیمی بن محمد
صدّیق۔
تاریخِ
ولادت: 27؍ شعبان المعظّم 1345ھ مطابق
2؍ مارچ 1927ء، بروز بدھ، تین بجے دن۔
مقامِ ولادت: مرادآباد، یوپی، انڈیا۔
بہن بھائی:
حضرت مفتی محمد اطہر
نعیمی کے بھائیوں کی تعداد چار (4)، جب کہ بہنوں کی تعداد دو(2)
ہے۔
اَسمائے برادران (بھائیوں کے نام):
1.
علامہ حافظ محمد ازہر نعیمی( ولادت: 10؍ ذی الحجہ 1349ھ۔ وفات: 5؍ جون 2008ء)
2.
محمد اَطیَب نعیمی (ولادت: 10؍ جمادی الآخرہ 1352ھ)
3.
محمد طیّب نعیمی(ولادت: 26؍ شعبان 1355ھ، جمعرات، 12؍ دسمبر 1936ء۔ وفات:25؍
رمضان المبارک 1338ھ)
4.
محمد طاہر نعیمی (ولادت: 15؍ رجب المرجب 1358ھ مطابق ستمبر 1939ء)۔
مفتی صاحب اور اُن کے
تمام بہن بھائیوں کے نام خلیفۂ اعلیٰ حضرت
صدرالافاضل حضرت علامہ مولانا سیّد
محمد نعیم الدین مرادآبادی نے
تجویز فرمائے۔
تحصیلِ علم:
جامعہ نعیمیہ مرادآباد (انڈیا) سے درسِ نظامی کی
تکمیل کی۔ آپ کی دستار بندی خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرالافاضل بدرالاماثل مفسرِ قرآن حضرت علامہ مولانا سیّد
محمد نعیم الدین مرادآبادی اور دیگر اکابر علمائے اہلِ سنّت کے مبارک ہاتھوں سے ہوئی۔ آپ کے اَساتذۂ کرام میں آپ
کے والدِ ماجد تاج العلما حضرت علامہ مولانا مفتی محمد عمر نعیمی مرادآبادی، صدرا لافاضل حضرت علامہ مولانا مفتی سیّد محمد
نعیم الدین مرادآبادی اور دیگر جیّد علمائے کرام شامل ہیں۔ درسِ نظامی کے علاوہ،
آپ نے فروری 1944ء میں، الٰہ آباد بورڈ(انڈیا) سے ’’مولوی امتحان‘‘؛ مئی 1953ء میں،
پنجاب یونیورسٹی سے ’’فیکلٹی آف اورینٹل لرننگ‘‘ سے’’منشی‘‘ کا امتحان؛ اور 1954ء میں، پنجاب یونیورسٹی سے فیکلٹی آف
اورینٹل لرننگ سے ’’منشی فاضل‘‘ کا امتحان پاس کیا۔ علاوہ ازاں، فروری 2000ء میں
کراچی یونیورسٹی سے ’’الشھادۃ العالمیۃ‘‘ کی سندِ معادلہ حاصل
کی۔
زبانوں پر عبور:
آپ کو اُردو، عربی، فارسی اور انگریزی زبانوں پر
عبور حاصل تھا۔
بیعت:
آپ کو سلسلۂ
اشرفیہ کےعظیم بزرگ قطب المشائح حضرت سیّد شاہ علی
حسین الاشرفی الجیلانی المعروف ’’اشرفی
میاں‘‘ سے شرفِ بیعت حاصل تھا۔
اجازت و خلافت:
آپ نے
صدرالافاضل حضرت علامہ سیّد محمد نعیم الدین
مرادآبادی، اپنے والدِ ماجد تاج العلما حضرت علامہ مفتی محمد عمر نعیمی مرادآبادی اورحضرت پیر
سیّد طاہر علاء الدین گیلانی بغدادی سے اجازت و خلافت کا شرف پایا۔
حج و زیارت: پہلا سفرِ حج بذریعۂ بحری جہاز جنوری 1972ء میں کیا۔
خطابت: جامع مسجد آرام باغ (کراچی) میں
پچاس سال سے زائد عرصے خطابت فرمائی۔
رؤیتِ ہلال کمیٹی : آپ مرکزی رؤیتِ
ہلال کمیٹی پاکستان کے چیئرمین بھی رہے۔
دارالعلوم جامعہ نعیمیہ:
آپ دارالعلوم جامعہ
نعیمیہ کراچی کے بانی ارکان میں سے تھے اور تاحیات اس کے ٹرسٹی بھی رہے، وہاں تدریس و فتویٰ نویسی کی
خدمات بھی انجام دیں۔
تحریری خدمات:
·
اُردو ترجمۂ قرآنِ مجید (غیرِ مطبوعہ)
·
اُردو ترجمۂ معارج النبوّۃ (حصّۂ اوّل)
·
اُردو ترجمۂ شفاء قاضی عیاض مالکی (حصّۂ دوم)
·
مؤرّخ محمد بن اسحاق کی کتاب کے فارسی ترجمے کا اُردو ترجمہ
·
اِصلاحِ زبان و بیان قلائد الجواہر (وغیرہم)
·
مُتعدّد مضامین برائے اخبارات و رسائل
تقاریظ وتاثرات:
آپ نے متعدد کتب پرگراں قدر تقاریظ و تاثرات رقم فرمائے، جن
میں سے اِس فقیر (ندیم احمد نؔدیم نورانی) کی درجِ ذیل کتب بھی شامل ہیں:
·
پاکیزہ پاکیزہ اَسماءِ رسائلِ فتاوٰی رضویہ(2011ء) المعروف ’’فہرستِ رسائلِ فتاوٰی رضویہ‘‘
·
گُلِ چمنِ عبدالحکیم...امام
الدین احمد مختار صدّیقی(2013ء)
·
مُفتیِ اعظمِ ہند شاہ محمد مظہراللہ کے سَفرِ پاکستان(2013ء)
·
جب جب تذکرۂ خجندؔی ہوا(2014ء)
·
علامہ حاجی محمد بشیر صدّیقی کا سَفرِ زندگی(1338ھ) ملقب بَہ لقبِ تاریخِ عیسوی: ’’یک اجل تحریر در حیاتِ بشیر‘‘(2017ء)
نوٹ:’’فہرستِ رسائلِ فتاوٰی رضویہ‘‘ اور ’’گُلِ چمنِ عبدالحکیم...امام الدین احمد مختار صدّیقی(2013ء)‘‘ اِن دونوں مطبوعہ کتب پر مفتی صاحب نے اپنے
تاثرات لکھے تھے، جو اَبھی (دسمبر 2024ء) تک شائع نہیں ہوئے: جب کہ ’’جب جب تذکرۂ
خجندؔی ہوا‘‘ مبطوعہ کتاب کو ملاحظہ فرماکرجو تاثرات رقم فرمائے تھے، وہ بعد میں،
’’علامہ حاجی محمد بشیر صدّیقی کا سَفرِ زندگی‘‘ کے صفحات 222 تا 224 پر شائع ہو چکے ہیں۔
بہترین مقالہ نگار کا اعزاز:
1988ء میں صوبائی سطح
پر وزارتِ مذہبی اُمور و اقلیتی اُمور کے
زیرِ اہتمام بارھویں ’’قومی سیرت کانفرنس‘‘ کا انعقاد کیا گیا، جس میں صوبۂ سندھ
سے تعلق رکھنے والے مقالہ نگاروں میں حضرت مفتی اطہر نعیمی کا مقالہ اوّل آیا، جس
پر حکومت نے آپ کو بہترین مقالہ نگار کے اعزاز
اوربطورِ انعام کچھ رقم سے نوازا۔
شادی:
خلیفۂ اعلیٰ
حضرت صدرالافاضل حضرت علامہ سیّدمحمد نعیم الدین مرادآبادی کی خواہش پر آپ کی
شادی طے کی گئی اور 6؍ صفرالمظفّر 1368ھ مطابق 20؍ دسمبر 1947ء کو آپ کا نکاح ہوا،
جس کے اگلے دن تقریبِ ولیمہ منعقد کی گئی۔
اَولادِاَمجاد:
آپ کی دو صاحبزادیاں
اور تین صاحبزادگان ہیں:
·
محمد اَنفس نعیمی(انتقال: 1445ھ/ 2023ء) آپ شدید علالت کے باعث حضرت علامہ مفتی محمد اطہر
نعیمی کی نمازِ جنازہ میں شریک نہ ہو سکے اور کچھ عرصے بعد....انتقال فرما گئے۔
·
محمد مظہر نعیمی مدّ ظلّہ
·
محمد زبیر نعیمی مدّ ظلّہ
خلفا:
حضرت علامہ
مفتی محمد اطہر نعیمی کے خلفا کے اب تک جو نام سامنے آئے، وہ درجِ ذیل ہیں:
1.
حضرت علامہ مفتی محمد جان نعیمی دَامَتْ
بَرَکاتُھُمُ الْعَالِیَۃکو عرسِ تاج العلماکے
موقع پر، غالباً 2017ء میں، سندِ حدیث و خلافتِ سلاسل سے نوازا، جس کا یہ فقیر عینی شاہد ہے۔
2.
برادرِطریقت و عزیز دوست شیخ التفسیر
والحدیث حضرت علامہ مولانا محمد عبداللہ
نورانی مُدَّ ظِلُّہُ الْعَالِیْ نے گزشتہ سال (1445ھ/ 2023ء) عرسِ
حقّانی کے موقع پر ، اس فقیر سے گفتگو کے دوران ضمناً ذکر کیا کہ آپ کو بھی حضرت
مفتی صاحب نے اجازت و خلافت سے نوازا تھا۔
3.
اِس فقیر (ندیم احمد نؔدیم نورانی) غُفِرَلَہٗ کو بھی حضرت مفتی محمد اطہر نعیمی نے
سلسلۂ اشرفیہ کی خلافت و اجازت سے نوازا۔
4.
حضرت پروفیسر ڈاکٹر ناصرالدین صدّیقی قادری(شعبۂ علومِ اسلامی، جامعہ کراچی،
کراچی) مُدَّ ظِلُّہُ الْعَالِیْ (یونیورسٹی آف کراچی) (سندِ حدیث و خلافتِ سلاسل)
5.
علامہ سیّد ریاض علی اشرفی مُدَّ ظِلُّہُ الْعَالِیْ (قادری محلہ، شاہ
فیصل کالونی، کراچی)
6.
علامہ محمد مسعود احمد اشرفی مُدَّ ظِلُّہُ
الْعَالِیْ (گلوبل اسلامک مشن)
7.
علامہ ڈاکٹر حامد علی علیمی زِیْدَ مَجْدُہٗ
8.
مفتی ڈاکٹر اعجاز بشیر زِیْدَ مَجْدُہٗ
نوٹ: نمبر 4 تا8 کی خلافت و اجازت؛نیز، حضرت
علامہ مفتی احمد رضا شامی زِیْدَ مَجْدُہ کی اجازتِ سندِ حدیث کے بارے میں 2؍ جمادی الآخرہ 1445ھ مطابق 5؍ دسمبر 2024ء کو حضرت
پروفیسر ڈاکٹر ناصرالدین صدّیقی قادری مُدَّ ظِلُّہُ
الْعَالِیْ سے، بذریعۂ موبائل فون، آگاہی حاصل ہوئی۔
جن حضرات کو آپ نے اجازتِ سندِ حدیث سے
نوازا:
·
سرپرستِ اعلیٰ ادارۂ ضیائے طیبہ پاکستان کراچی نبیرۂ بیہقیِ وقت حضرت علامہ مفتی محمد اکرام المحسن فیضی مُدَّ ظِلُّہُ
الْعَالِیْ کو، پہلے زبانی طور پر، سندِحدیث سے نوازا اور پھر بعد
میں، اپنے دولت کدے پر، ماہانہ حلقۂ ذکر کی محفل کے بعد، تحریری اجازت سے بھی مشرف
کیا، جس کا یہ فقیر عینی شاہد ہے۔
·
حضرت علامہ مفتی احمد رضا شامی زِیْدَ مَجْدُہ
وصالِ پُر ملال:
5؍جمادی الآخرہ 1445ھ
(چھٹی شب) مطابق 19؍ دسمبر 2023ء، منگل اور بدھ کی درمیانی شب گیارہ بجے حضرت مفتی صاحب کا وصال
ہوا۔
نمازِ جنازہ:
6؍ جمادی الآخرہ 1445ھ
مطابق 20؍ دسمبر 2023ء کو بعدِ نمازِ ظہر جامع مسجد آرام باغ، کراچی میں آپ کی
نمازِ جنازہ آپ کے نبیرہ (پوتے) جناب محمد عمر اَنفس بن
جناب محمد اَنفس نعیمی صاحب نے پڑھائی، جس
میں کثیر علما و مشائخ اور عوامِ اہلِ سنّت نے شرکت فرمائی۔ بعدِ نمازِ جنازہ حضرت علامہ مفتی
منیب الرحمٰن صاحب مد ظلہ العالی نے خصوصی دعا فرمائی۔
تدفین:
آپ ناظم آباد نمبر 4 (کراچی) میں اپنے والدِ ماجد تاج
العلما حضرت مفتی محمد عمر نعیمی کے پہلو میں
دفن کیے گئے۔
مآخذ و مراجع:
1.
’’خانوادۂ مفتی محمد عمر نعیمی(حیات و خدمات)‘‘، افادات مفتی محمد اطہر نعیمی،
مرتبۂ علامہ ڈاکٹر حامد علی علیمی، مطبوعۂ
مفتی محمد عمر نعیمی ٹرسٹ، ناظم آباد نمبر4، کراچی، طبعِ اوّل: رجب المرجب 1339ھ مطابق مارچ 2018ء۔
2.
بعض خلفا کے متعلق سے حضرت پروفیسر
ڈاکٹر ناصرالدین صدّیقی قادری (شعبۂ علومِ اسلامی، جامعہ کراچی، کراچی) مُدَّ ظِلُّہُ الْعَالِیْ سے معلومات حاصل
ہوئی۔
3.
کچھ معلومات اِس فقیر (ندیم احمد
نؔدیم نورانی) کے ذاتی مشاہدات و حضرت مفتی محمد اطہر نعیمی سے براہِ راست گفتگو
کا حاصل ہے۔
