امام ابو محمد عبداللہ بن وہب قرشی
نام : عبداللہ
والد گرامی وہب بن مسلم
کنیت : ابو محمد
لقب : قرشی
ولادت :
آپ کی ولادت 125ھ میں ہوئی ۔ جہاں آپ کا آبائی وطن مصر تھا ۔
قرشی :
ریحانہ مولاۃ ابو عبدالرحمن بن یزید بن انیس فہری کے غلام
تھے، فہر بن مالک قرشی تھے، اس لیے آپ بھی قرشی کہلائے۔
تعلیم
وشیوخ:
انہوں نے تعلیم کا آغاز سترہ سال کی عمر میں کیا مصر میں
لیث بن سعد کی مجلسِ درس سے وابستہ ہوئے۔ ان کے علاوہ دیگر مشائخِ مصر سے بھی حدیث
وفقہ کا درس لیا مگر علم کی پیاس نہ بجھی اور وہ مکہ، مدینہ، بغداد، جا کر وہاں کے
ممتاز فقہاء ومحدثین کے حلقہٴ درس سے وابستہ ہوئے اور ان کے چشمہٴ علم سے خوب خوب
سیرابی حاصل کی۔ مشہور تابعی حضرت ہشام بن عروہ کو انہوں نے مسجد میں بیٹھا ہوا
پایا جب وہ مکان تشریف لے گئے تو درِ دولت پر حاضر ہوئے مگر وہ آرام فرما رہے تھے
اس لیے اسی وقت وہاں سے آ گئے اور حج کے لیے مکہ چلے گئے واپس آئے تو ہشام کا
انتقال ہو چکا تھا۔
)تذکرہ ج ۱ ص ۲۸۰(
ابن وہب نے چار سو اربابِ علم وفضل سے استفادہ کیا تھا ان
کے طلبِ علم کا سب سے بڑا زمانہ امام مالک کی خدمت میں گزرا وہ بیس سال تک آپ کی
خدمت میں رہے۔
ابن
خلکان لکھتے ہیں۔ "صحب الامام مالك بن انس رضى الله عنه عشرين سنة"
ابن وہب امام مالک کی صحبت میں بیس سال تک رہے۔ (وفیات
الاعیان ج ۲ ص ۱۸)
امام مالک آپ کی ذہانت، اور قوتِ حفظ کی بنا پر اپنے
شاگرد کی قدر و منزلت کرتے تھے اور آپ کو امام کہا کرتے تھے۔ تخلیلِ اصابع کے بارے
میں امام مالک سے کسی نے پوچھا تو آپ خاموش رہے اس مجلس میں امام ابن وہب بھی تھے
انہوں نے لیث بن سعد کی سند سے تخلیلِ اصابع کی حدیثِ رسول بیان فرمائی "جب
وضو کرو تو پیر کی انگلیوں کا خلال کر لیا کرو" اس کے بعد امام مالک سے جو
کوئی یہ مسئلہ پوچھتا تو اس کو انگلیوں کے خلال کا حکم دیتے یعنی امام مالک نے اس
مسئلہ میں اپنے شاگرد ابن وہب کی روایت کو قبول فرمایا تھا امام مالک جب ابن وہب
کو مصر خط لکھتے تو خط کی پیشانی پر تحریرفرماتے عبداللہ بن وہب الى فقیه
مصر والى مفتی مصر۔ اربابِ تذکرہ کا بیان ہے کہ امام مالک نے کسی بھی شاگرد
کی اتنی قدر افزائی نہیں کی ۔ (ایضاً)
نامور
اساتذہ:
عمرو بن حارث، ابن ہانی، حسین بن عبداللہ معافری، بکر بن
مضر، حیوۃ بن شریح، سعید بن ابی ایوب، لیث بن سعد، ابن لہیعہ، عیاض بن عبداللہ
فہری، عبدالرحمن بن شریح، مالک، سلیمان بن بلال، یونس بن یزید، سلمہ بن وردان،
سعید بن عبدالرحمن جمحی، ابن جریج، عمر بن محمد بن زید عمری، معاویہ بن صالح، ہشام
بن سعد، داؤد بن عبدالرحمن عطار، سفیان ثوری، ابن عیینہ، حفص بن میسرہ۔ (تہذیب ج ۶ ص ۶۵)
علم وفضل:
امام ابن وہب نے جس بالغ نظری اور کوشش سے اربابِ فضل و
کمال سے علم کی تحصیل کی تھی اس کا اثر یہ ہوا کہ آپ زمرہٴ تبع تابعین میں ممتاز
حیثیت کے مالک بن گئے آپ امام مالک کے ممتاز تلامذہ میں تھے چنانچہ امام مالک کے
بعد میں جب اہل مدینہ کسی مسئلہ یا حدیث میں اختلاف کرتے تو یہ لوگ آپ کی آمد کا
انتظار کرتے ان کی رائے دریافت کرتے اور اسی پر فیصلہ ہو جاتا تھا۔
ہارون بن
عبداللہ کہتے ہیں "كان الناس بالمدينة يختلفون في الشئ عن مالك فينتظرون
قدوم ابن وهب حتى يسألوه عنه" "لوگ مدینہ میں امام مالک سے مروی کسی حدیث
یا مسئلہ میں اختلاف کرتے تو وہ ابن وہب کے آنے کا انتظار کرتے جب وہ مدینہ آتے تو
اس کے بارے میں ان سے پوچھتے ۔
(تہذیب
التہذیب ج ۶ ص ۶۶)
آپ کی
علمی جلالت کا اعتراف ائمہ فن اور علماء نے اس طرح کیا ہے:
عبدالرحمن
بن قاسم: "لو مات ابن عيينة لضربت الى ابن وهب اكباد الابل ما دون
العلم احد تدوينه"
اگر
سفیان بن عیینہ کا ابن وہب کی زندگی میں انتقال ہو جاتا تو لوگ دور دراز ممالک سے
سفر کر کے ابن وہب کی خدمت میں حاضر ہوتے جس قدر محنت سے علم کی تدوین انہوں نے کی
ہے کسی نے نہیں کی۔ (تذکرہ ج
۱ ص ۲۸۰)
ابن
عیینہ: "هذا عبد
الله بن وهب شيخ اهل مصره" یہ عبداللہ بن وہب اہل مصر کے شیخ ہیں۔ (تہذیب ج ۶ ص ۶۶)
حارث بن
مسکین: "جمع ابن
وهب الفقه والرواية والعبادة ورزق من العلماء محبة وحظوة من مالك وغيره"
ابن وہب نے فقہ، حدیث اور عبادت کو جمع کیا اور علماء سے محبت کی اور امام مالک
وغیرہ سے حصہ پایا۔ (ایضاً)
حارث:
"ما اتيته
قط الا وانا افيد منه خيراً وكان ليسمى ديوان العلم" میں ابن
وہب کے پاس جب بھی آیا میں نے ان سے فائدہ حاصل کیا اور انہیں علم کا دیوان کہا
جاتا تھا۔ (ایضاً)
حافظ
ذہبی: "الامام الحافظ
الفقيه احد الائمة الاعلام" ممتاز حافظِ حدیث، نامور فقیہ اور چوٹی کے اماموں
میں سے ایک امام ہیں۔
(تذکرہ ج
۱ ص ۲۸۰)
ابن یونس: "جمع ابن وهب بين الفقه والحديث
والعبادة" عبداللہ بن وہب نے فقہ، حدیث اور عبادت کو اپنی ذات میں جمع کر لیا
تھا۔ (ایضاً)
ابوزید
بن ابی عمر: "کنا نسمی ابن وهب دیوان العلم" ہم
عبداللہ بن وہب کو علم کا دفتر کہہ کر پکارتے تھے۔ (ایضاً ص ۲۸۱)
حدیث اور
درسِ حدیث:
عبداللہ بن وہب حدیث میں بڑا کمال رکھتے تھے۔ حافظ ذہبی
کا بیان ہے ایک لاکھ حدیثیں ان کی نوکِ زبان پر تھیں۔ ابو زرعہ کا بیان ہے: "نظرت فى
نحو ثلاثين الفاً من حديث ابن وهب بمصر وغير مصر لا اعلم انى رايت له حديثاً لا
اصل له وهو ثقة" (تہذیب ج ۶ ص ۶۶)
میں نے ابن وہب کی تیس ہزار حدیثوں کو خوب اچھی طرح جانچا
لیکن مجھ کو اس مجموعہ میں کوئی ایک حدیث بھی ایسی نہیں ملی جس کی اصل نہ ہو۔ اور
وہ ثقہ تھے امام وقت ابنِ عیینہ جب ان کا تذکرہ فرماتے تو شیخ اہل مصر کہتے ۔ امام
ابن وہب کے ثبت فی الحدیث اور ثقاہت و اتقان پر اکابر علم کا اتفاق ہے۔
ابن معین اور امام نسائی وغیرہ آپ کو ثقہ کہتے ہیں خلیلی
ثقہ اور متفق علیہ کہتے ہیں۔ ساجی صدوق ثقہ کہتے ہیں ۔
(تہذیب ج ۶ ص ۶۶)
ابن سعد:
"عبد الله
بن وهب كان كثير العلم ثقة" عبداللہ بن وہب صاحبِ علم اور ثقہ تھے۔ (ایضاً)
ابن وہب جو حدیثیں سنتے اسے قلم بند بھی کر لیا کرتے تھے
انہوں نے مؤطا امام مالک بھی مدون کی تھی یہ اور بات ہے کہ ابن وہب کے نسخہٴ مؤطا
کو وہ مقبولیت حاصل نہ ہوئی جو یحییٰ کے نسخہٴ مؤطا کو ہوئی مگر خود یحییٰ نے امام
مالک کی وفات کے بعد ان کے تلامذہ میں سب سے پہلے ابن وہب سے مؤطا کا سماع کیا تھا
اس طرح یحییٰ کی تدوین میں بھی ابن وہب کا ہاتھ تھا۔
عبداللہ
بن وہب نے عمر کا ایک حصہ تحدیثِ روایت کے لیے مخصوص کر رکھا تھا ابن عون کا بیان
ہے ابن وہب نے اپنا زمانہ (سال) تین حصوں میں تقسیم کر رکھا تھا ایک حصہ جہاد میں
مصروف رہتے ایک حصہ میں لوگوں کو کتاب وسنت کی تعلیم دیتے اور ایک حصہ حج کے لیے
وقف کر رکھا تھا انہوں نے ۳۶/ حج کیے تھے ۔ (تذکرہ ج ۱ ص ۲۸۱)
احمد بن صالح کہتے ہیں: "ما رايت احدا
اكثر حديثاً منه حدث بمائة الف حديث وقد وقع عندنا سبعون الف حديث"
میں نے کسی کے پاس ان سے زیادہ احادیث نہیں دیکھیں انہوں نے ایک لاکھ احادیث کا
درس دیا میں نے ان سے ستر ہزار احادیث سیکھیں۔
تلامذہ:
احمد بن عبدالرحمن بن وہب، لیث بن سعد، عبدالرحمن بن
مہدی، عبداللہ بن یوسف، تنیسی، احمد بن صالح مصری، یحییٰ بن یحییٰ نیشاپوری، علی
بن مدینی، سعید بن ابی مریم، یحییٰ بن بکیر، ابراہیم بن منذر، اصغ بن فرجع ابوطاہر
بن سرج، حرملہ بن یحییٰ، قتیبہ، عیسیٰ بن حماد زغبہ، ہارون بن معروف، یحییٰ بن
ایوب، محمد بن مسلمہ مرادی، بحر بن نصر خولانی، محمد بن عبداللہ بن عبدالحکم، یونس
بن عبدالاعلیٰ، ربیع بن سلیمان ۔ (تہذیب ج ۶ ص ۶۵)
فقہ:
ابن وہب کو حدیث کے ساتھ فقہ میں بھی کمال حاصل تھا ابنِ
یونس کہتے ہیں ابنِ وہب فقہ، حدیث اور عبادت تینوں کے جامع تھے۔
محمد بن عبداللہ بن حکم کا بیان ہے کہ "كان ابن
وهب افقه من ابن القاسم" ابن وہب ابنِ قاسم سے بڑے فقیہ تھے۔ (تہذیب ج
۶ ص ۶۷)
ابن وضاح کا بیان ہے امام مالک عبداللہ بن وہب کے پاس
لکھتے فقیہِ مصر امام مالک نے وہب کے علاوہ کسی کو فقیہِ مصر نہیں لکھا (ایضاً)
ابن خلکان نے سلطان کا نام ذکر نہیں کیا مگر تذکرۃ الحفاظ
میں حافظ ذہبی نے ابن وہب کے بھتیجے کا قول نقل کیا ہے کہ عباد بن محمد نے آپ کو
قاضی بنانا چاہا تھا اور میرے چچا ابن وہب روپوش ہو گئے تھے جس سے وہ ناراض ہوا
اور غصہ میں آ کر ابن وہب کے مکان کا کچھ حصہ منہدم کرا دیا۔ (تذکرہ ج ۱ ص ۲۸۱)
احمد کہتے ہیں صباحی نے استخفاف کی نیت سے عباد سلطان سے
کہا اس میں کون سی ایسی قابلیت ہے کہ عہدہٴ قضا سنبھال سکے میرے چچا ابن وہب کو
پتہ چلا تو انہوں نے اس کے حق میں اندھا ہو جانے کی دعا کی وہ ایک ہفتہ بعد نابینا
ہو گیا۔ (ایضاً)
عباد بن محمد کوئی خلیفہ نہیں گزرا اس لیے قیاس کیا جا
سکتا ہے کہ عباد بن محمد ممکن ہے مصر کا حاکم رہا ہو۔
وصال:
وصال پر ملال25 شعبان المعظم ۱۹۷ھ مطابق 4 مئی
813 ء میں ہوا ۔
ابن وہب پر خوفِ خدا ہمیشہ طاری رہتا قیامت کی ہولناکیوں
کا تذکرہ چھڑ جاتا تو آپ کی آنکھیں پرنم ہو جاتیں کبھی کبھی بے ہوش ہوجاتے احمد بن
سعید ہمدانی کا بیان ہے ایک بار ابن وہب حمام میں داخل ہوئے کسی کو ’’ واذ
يتحاجون في النار‘‘ پڑھتے سنا تو
ان پر غشی طاری ہو گئی۔ (تذکرہ ج
۱ ص ۲۷۸)
خوفِ خدا کی ہی شدت ان کی موت کا سبب بنی قیامت کی
ہولناکیوں پر ان کی مرتب کتاب کسی نے ان کی مجلس میں پڑھنی شروع کی ایسا اثر ہوا
کہ بے ہوش ہو کر گر پڑے اٹھا کر گھر لائے گئے اسی حالت میں واصل بحق ہوئے۔
وقت کے امام سفیان بن عیینہ کو جب سانحہٴ ارتحال کی خبر
ملی تو "انا لله
وانا اليه راجعون" پڑھا اور درد و کرب کے عالم میں فرمایا ’’اصيب به
المسلمون عامة واصبت به خاصة‘‘ ابن وہب کی
موت سے مسلمانوں کو عام طور پر اور مجھے خاص طور پر سخت صدمہ پہنچا ہے۔ (تذکرہ ج ۱ ص ۲۸۱)
ماخذ مراجع، محدثین عظام حیات و خدمات
