شیخ ابو یعقوب اسحاق بن ابی الحسن بن راہویہ
نام : اسحاق
کنیت: ابو
یعقوب
ولادت :
آپ کی ولادت بمقام
مرو (ایران) ۱۶۱ھ یا ۱۶۶ھ
میں ہوئی اس کے بعد آپ نے نیشاپور میں مستقل قیام کیا۔
نسب:
اسحاق بن ابراہیم
بن مخلد بن ابراہیم بن عبیداللہ بن بکر بن عبداللہ بن غالب بن عبد الوارث بن عبد
اللہ بن عطیہ بن مرہ بن کعب بن ہمام بن تمیم بن مرہ بن عمرو بن حنظلہ۔
(تہذیب ج ۱ ص ۱۵۱)
تعلیم:
مرو ہی میں ابتدائی
تعلیم حاصل کی پھر تحصیلِ علم کے لیے وطن سے قدم باہر نکالا اور اپنے وقت کے ممتاز
شیوخِ حدیث و فقہ اور ائمہ مفسرین سے درس لیا اس سلسلہ میں انہوں نے دور دراز
مقامات کا سفر کیا راستے کی سختیاں خوشی کے ساتھ جھیلیں۔ عراق، حجاز، یمن، مکہ، مدینہ،
شام، مصر کی خاک چھانی اور علوم و معارف کے گنجہائے گراں مایہ سے دامن بھر لیا۔
آپ کے مشہور مشائخ :
عبداللہ بن مبارک،
جریر بن عبدالحمید، عبدالعزیز بن عبداللہ العمی، فضیل بن عیاض، عیسیٰ بن یونس، ابن
عیینہ، ابن علیہ، بشر بن مفضل، حفص بن غیاث،
سلیمان بن نافع عبدی، معتمر بن سلیمان، ابن ادریس، عبدالرزاق، عتاب بن بشیر، ابو
معاویہ غندر، شعیب بن اسحق، دراوردی، بقیہ، وکیع بن جراح، یحییٰ بن آدم، ابو
اسامہ۔
(تذکرہ ج ۲ ص ۲۰
تہذیب ج ۱ ص ۱۵۱)
قوتِ حفظ وضبط:
خداوندِ تعالیٰ نے
حفظ و ضبط کی غیر معمولی دولت عطا فرمائی تھی بے شمار احادیث ازبر تھیں اس بے مثال
حافظے کے بارے میں امام ابو زرعہ فرماتے ہیں "ما رأی احفظ من
اسحاق"
امام اسحق سے زیادہ قوی یادداشت والا کوئی آدمی نہیں دیکھا گیا۔ ابو حاتم کا بیان
ہے "العجب
من اتقانہ و سلامتہ من الغلط مع مارزق من الحفظ" قوتِ حفظ
کے ساتھ ساتھ ان کے حدیث ضبط کرنے اور غلطیوں سے محفوظ ہونے پر تعجب ہوتا ہے۔
(تذکرہ
ج ۲ ص ۲۰)
امام اسحاق سے ایک بار پوچھا گیا آپ کو ایک
لاکھ حدیثیں زبانی یاد ہیں؟ فرمایا میں ایک دو لاکھ کچھ نہیں جانتا مگر میں نے آج
تک جتنی حدیثیں سنی ہیں وہ سب یاد ہیں۔ (تاریخ
بغداد)
تلامذہ کو کئی کئی ہزار حدیثیں اپنی یادداشت
سے لکھوایا کرتے تھے اور کبھی کتاب دیکھنے کی ضرورت پیش نہیں آتی تھی خود فرماتے
تھے "کانی
انظر الی مائۃ الف حدیث فی کتبی و ثلاثین الفا اسردہا" میری
کتابوں میں لکھی ہوئی ایک لاکھ احادیث اس طرح میری آنکھوں کے سامنے ہیں جیسے میں
ان کو دیکھ رہا ہوں اور تیس ہزار احادیث تو میں روانی کے ساتھ ازبر پڑھ سکتا ہوں۔ (تذکرہ ج ۲ ص ۲۰)
امام اسحاق کے ایک شاگرد ابو داؤد خفاف کا
بیان ہے: "املی علینا اسحاق من حفظہ احد عشر
الف حدیث ثم قرأها علینا فما زاد حرفا ولا نقص حرفا "ایک بار گیارہ
ہزار حدیثیں انہوں نے املا کرائیں پھر ان کو دوبارہ دہرایا تو ایک حرف کا بھی فرق
نہیں تھا۔ (ایضاً)"
علم و فضل اور حدیث:
خدا داد قوتِ
حافظہ اور ذاتی کد و کاش نیز رحلت و سفر اور بکثرت شیوخ سے سماعِ حدیث کی بدولت
انہوں نے حدیث میں جو بلند مقام حاصل کیا تھا اور جس امتیازی شان کے وہ محدث بن
گئے تھے اس کا اندازہ وقت کے عظیم محدثین کے اعتراف سے لگایا جا سکتا ہے۔
امام احمد بن حنبل :۔ "لا اعلم لاسحاق
بالعراق نظیرا.....
اسحاق
لم یلق مثلہ"
"مجھے عراق میں اسحاق بن راہویہ کی نظیر معلوم نہیں۔ اسحاق نے اپنے جیسے کسی
عالم سے ملاقات نہیں کی ہے۔" (تذکرۃ
الحفاظ ج ۲ ص ۲۰)
امام نسائی:۔ "اسحاق ثقہ مامون امام"
اسحاق ثقہ، مامون اور امام ہیں۔ (ایضاً)
حافظ ذہبی:۔ "الامام الحافظ الکبیر.....
عالمہا بل شیخ اهل المشرق" بلند پایہ امام، بہت بڑے حافظِ حدیث،
نیشاپور کے عالم اور اہل مشرق کے شیخ ہیں۔ (ایضاً ص ۱۹)
امام احمد بن حنبل: "لم یعبر
الجسر الی خراسان مثلہ" "خراسان کی طرف جانے والوں میں
کسی بزرگ نے ان سے زیادہ اس پل کو عبور نہیں کیا۔" (ایضاً)
ابن خزیمہ:۔ "واللہ لو کان فی التابعین
لاقروا لہ بحفظہ وعلمہ وفقہہ" اگر وہ تابعین کے زمانہ میں ہوتے تو
اپنے علم و فضل، حفظ و ضبط اور فقہ کی بنا پر اس زمرہ میں ایک ممتاز حیثیت حاصل کر
لیتے۔
(تہذیب التہذیب ج ۱ ص ۱۹۱)
مرہ:۔ جب مرہ سے اسحاق
کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا "اسحاق عندنا امام من ائمة المسلمین"
"اسحاق ہمارے نزدیک مسلمانوں کے اماموں میں سے ایک امام ہیں۔" (ایضاً)
وهب بن جریر:۔ "جزی اللہ اسحاق بن راہویہ
عن الاسلام خیرا" "اللہ تعالیٰ اسحاق کو ان کی اسلامی
خدمات کا صلہ عطا فرمائے۔" (ایضاً)
ابن حبان:۔ "کان اسحاق من سادات اهل
زمانہ فقہا وعلما وحفظا وصنف الکتب وفرع علی السنن وذب عنہا وقمع من خالفہا"
"اسحاق فقہ، علم اور حفظ میں اپنے زمانہ کے سردار تھے۔ انہوں نے کتابیں تصنیف
کیں اور سنن کی اشاعت کی اور سنن کی حفاظت کی اور مخالفینِ سنت کا مقابلہ کیا۔"
(ایضاً
ص ۱۹۲)
ابن خلکان: ”جمع بين الحديث والفقه والورع
وكان احد ائمة الاسلام“ اسحاق بن راہویہ حدیث وفقہ، زہد و ورع کے
جامع اور اسلام کے ایک امام تھے۔
(وفیات الاعیان ج ۱ ص ۱۰۸)
امام اسحاق کے علمی مرتبہ کا پاس و لحاظ ان
کے معاصرین بلکہ عمر میں ان سے بڑے علماء ومحدثین بھی کیا کرتے تھے اور آپ کے حفظ
و اتقان پر ائمہ محدثین کے اعتماد کا یہ حال تھا کہ ان کی احادیث پر چون و چرا کو
پسند نہ کرتے تھے۔
ایک بار امام احمد نے اسحاق بن راہویہ سے
کوئی حدیث پوچھی جب اسحاق نے اسے بیان کیا تو ایک شخص نے اعتراض کرنا چاہا کہ دیکھئے
یہ بھی روایت ہے انہوں نے مختلف طریقہ پر بیان کی ہے امام احمد نے بر افروختہ ہو
کر کہا خاموش رہو جب ابو یعقوب جوامیر المؤمنین فی الحدیث ہیں کوئی روایت بیان کریں
تو اسے بلا تامل قبول کر لینا چاہئے۔ (تاریخ بغداد ج ۶
ص ۳۵۳) ایک ممتاز محدث یحییٰ بن معین کے پاس جب
اسحاق بن راہویہ تشریف لاتے تو وہ ان کا اتنا احترام کرتے تھے کہ ان کے پاس بیٹھنے
والوں کو بڑا تعجب ہوتا تھا کسی نے ان سے پوچھا کہ وہ تو آپ سے عمر میں چھوٹے ہیں
آپ ان کی اتنی عزت افزائی کیوں کرتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا اسحاق علم میں مجھ سے
بڑے ہیں اور میں ان سے عمر میں بڑا ہوں مقصد یہ تھا کہ باعث احترام علم ہے۔ ارباب
علم کا جہاں مجمع ہوتا تھا امام اسحاق صدر نشیں ہوا کرتے تھے محمد بن یحییٰ ذھلی
کا بیان ہے ایک بار ۱۹۷ھ میں اسحاق بن
راہویہ کے ساتھ وصاف گیا جہاں تمام معاصر ائمہ حدیث مثلاً احمد بن حنبل یحییٰ بن
معین وغیرہ موجود تھے لیکن اس مجلس کے صدر نشیں اسحاق بن راہویہ بنائے گئے۔ (تاریخ
بغداد)
امام اسحاق محض جامع و ناقل حدیث ہی نہ تھے
بلکہ نقد حدیث پر بھی ان کی نظر رہتی تھی انہوں نے موضوع حدیثیں بھی یاد کر رکھی
تھیں تاکہ کوئی شخص آکر صحیح روایات میں جھوٹی حدیثوں کو شامل کرے تو وہ اس کی کذب
بیانی کی گرفت کریں اور ایسی موضوع حدیثوں کو رائج نہ ہونے دیں۔
ان کا بیان ہے کہ جو ذخیرہ حدیث میرے پاس
موجود ہے ان میں ایک لاکھ حدیثوں کے موقع ومحل سے اس طرح واقف ہوں گویا کہ وہ میری
آنکھوں کے سامنے ہیں ان میں سے ستر ہزار مجھے مع معانی حفظ ہیں اور چار ہزار مزورہ
حدیثیں مزید مجھے یاد ہیں لوگوں نے دریافت کیا مزورہ حدیثوں سے آپ کی کیا مراد ہے؟
فرمایا وہ جھوٹی حدیثیں ہیں جنہیں میں نے اس لیے یاد کر لیا ہے کہ جب وہ روایتیں
صحیح حدیث کے ساتھ خلط ملط ہو کر میرے سامنے آئیں تو ان میں جتنا حصہ کذب اور وضع
کا ہو اسے الگ کر دوں اور صحیح حدیث کا جتنا حصہ ہے اس کو علیحدہ کر دوں۔
ابن حبان کا بیان ہے اسحاق بن راہویہ نے
سنت نبوی کی ترویج کی جھوٹی روایتوں کو مٹا دیا۔
ابن حبان کا بیان ہے۔ اسحاق بن راہویہ نے
سنت نبوی کی ترویج کی جھوٹی روایتوں کو احادیث نبوی سے الگ کیا اور جن لوگوں نے
سنت کی مخالفت کی ان کا پورا مقابلہ کیا۔
امام اسحاق حدیث وفقہ کے ساتھ تفسیر کے بھی
بڑے عالم تھے انہوں نے کتابیں بھی تصنیف کیں جو آج موجود نہیں ابن ندیم نے کتاب
السنن فی الفقہ کتاب التفسیر کا تذکرہ کیا ہے۔
تلامذہ:
علمی جلالت کا یہ
عالم تھا کہ نیشا پور میں آپ کی قیام گاہ ہر وقت تشنگان علوم کا مرکز بنی رہتی تھی
اور دور دور سے علم کے شائق آپ کی بارگاہ میں آتے اور دامن کو گوہر مقصود سے بھر
کر واپس جاتے آپ کے زمرہ تلامذہ میں وقت کے بڑے بڑے ائمہ حدیث شامل تھے ۔ امام
بخاری، امام مسلم، امام ترمذی، ابوداؤد، امام نسائی، احمد بن حنبل، یحیی بن معین، یحییٰ
بن آدم، حسن بن سفیان ابن ابو العباس سراج ، بقیه بن ولید، اسحاق کو سج ،محمد بن
رافع ، ذہلی ، زکر یا سنجری، محمد بن افلح۔
(
تہذیب ج اص ۱۹۰ ، تذکرة
الحفاظ ج ۲ ص ۲۰)
فقہ واجتہاد:
امام اسحاق محض ایک
بلند پایہ امام حدیث ہی نہ تھے بلکہ فقہ میں بھی مرتبہ اجتہاد پر فائز تھے۔ آپ کے
فقہی مسلک کی نشاندہی امام ترندی نے اپنی جامع میں جگہ جگہ کی ہے آپ کے متبعین کی
تعداد بھی پائی جاتی تھی مگر دوسرے مجتہدین و بانیان مسالک کی طرح آپ کے مسلک فقہ پر
عمل کرنے والوں کی تعداد بھی نا پید ہوگئی۔ ابن کثیر تحریر فرماتے ہیں اسحاق بن
راہو یہ امام وقت تھے ایک گروہ ان کی تقلید کرتا تھا اور ان کے مسلک کے مطابق
مسائل کا استنباط اور اجتہاد کرتا تھا۔
(اختصار
علوم الحدیث ص ۸۹)
امام احمد بن حنبل اس طرح فرماتے ہیں امام
اسحاق کی فقہ کا مدار احادیث وسنن پر ہے شاہ ولی اللہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں
ان کے مسائل کی بنیاد احادیث اور اقوال صحابہ پر زیادہ ہے (انصاف) ابو حاتم سے
پوچھا گیا کہ آپ کا میلان ان دونوں امام احمد ، اسحاق کی جانب زیادہ ہے؟ فرمایا
مجھے ان سےزیادہ پر عظمت شخص نظر نہیں آتاان دونوں نے حدیثیں قلم بند کیں ان کا مذاکرہ
کیا اور ان پر تصنیفات کیں۔ ابن حجرعسقلانی کا بیان ہے ان کی فقہی تعریفات سنن
واحادیث مبنی ہے مگر ان کا میلان امام مالک کی طرف زیادہ ہے جن کا اصل ماخذ اہل مدینہ
کے اقوال ہوتے ہیں۔
تصانیف :
طبقات و تراجم کے
مرتبین نے امام اسحاق کو صاحب تصانیف کثیرہ لکھا ہے مگر زمانہ کے امتداد نے ان کی
مصنفات کو نا پید کر دیا ان کی جن کتابوں کے نام معلوم ہوئے وہ یہ ہیں۔ (1) کتاب
السفن فی الفقہ (۲) کتاب التفسیر جسے امام اسحق نے مکمل کر لیا
تھا اور اسے املا بھی کرا دیا تھا (۳) مسند ۔
یہ آپ کی سب سے اہم اور مشہور کتاب ہے جو چھ جلدوں پر مشتمل ہے حاکم نیشاپوری نے
دور ثانی کے مسانید میں ان کا بھی تذکرہ کیا ہے امام اسحق نے اسے اپنی زندگی ہی میں
مکمل کر لیا تھا اور اسے املا بھی کرایا تھا اس کا ایک نسخہ جرمنی میں موجود ہے۔
زہد و تقوی:
علم دین میں امتیازی
شان رکھنے کے ساتھ عمل بالسنہ اور زہد و ورع میں بھی نمایاں مقام رکھتے تھے۔ محمد
بن اسم طوسی کو آپ کے انتقال کی خبر ملی تو فرمایا " ما اعلم
احدا كان اخشى الله من اسحاق يقول الله وانما يخشى الله من عباده العلماء وكان
اعلم الناس ولو كان الحماد ان والشورى في الحيلة لاحتاجوا اليه میں
کوئی ایسا شخص نہیں جانتا جس کے دل میں اللہ تعالی کی خشیت اسحاق سے بڑھ کر ہو
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے " انما يخشى الله من عباده" الله تعالى کے بندوں میں سے علماء ہی اس سے
ڈرتے ہیں اور یہ سب لوگوں سے بڑے عالم تھے ۔ اگر حماد بن سلمہ، حماد بن زید ، اور
سفیان ثوری موجود ہوتے تو ان کے محتاج ہوتے ۔ ( تذکرہ ج ۲
ص ۲۰) ایک مرتبہ امیر خراسان علی بن طاہر کے پاس
گئے ہاتھ میں کچھ کھجوریں تھیں کھاتے ہوئے اس کے سامنے بیٹھ گئے اس نے ان کی اس بے
نیازی اور سادگی کو دیکھ کر کہا اگر تم نے یہ کسی ریا کی وجہ سے نہیں کیا ہے تو دنیا
میں تم سے زیادہ بے ریا شخص میں نے نہیں دیکھا۔
(ابن
عسا کر ج ۲ ص ۴۱۴)
وصال :
علم و تقویٰ کے اس
تاجدار نے کے ۷۷سال کی عمر پا کر ۱۵
رشعبان ۲۳۸ھ میں دار فانی سے رحلت فرمائی آپ کی قبر زیارت
گاہ خلائق ہے۔
ماخذ
مراجع، محدثین عظام حیات و خدمات
