حافظِ
اکبر امام ابو بكر عبدالرزاق صنعانی
نام: عبدالرزاق
کنیت : ابو بکر
لقب: صنعانی
ولادت :
یمن پایہٴ تخت صنعاء میں ۱۲۶ھ میں آپ
کی ولادت ہوئی صنعانی مشہور ہوئے۔
نسب:
عبدالرزاق بن ہمام بن نافع ۔آپ کے والد ہمام ثقہ تابعین
میں شمار ہوتے تھے۔ ابتداء میں اپنے والد اور مقامی شیوخ سے علم حاصل کیا تجارت کے
لیے اسلامی بلاد و امصار کے سفر کیے اور وہاں کے شیوخ سے استفادہ کیا۔ حافظ ذہبی
لکھتے ہیں: "رحل فى تجارة الى الشام ولقى الكبار"
وہ تجارت کی غرض سے شام جاتے اور وہاں کے کبار علماء کی خدمت میں حاضر ہوتے ۔ (تذکرہ
ج ۱ ص ۳۳۱)
غیر معمولی قوتِ حفظ وضبط کے مالک تھے ابراہیم بن عباد
زہری کا بیان ہے کہ ان کو سترہ ہزار حدیثیں یاد تھیں ۔ (الاعلام
ج ۲ ص ۵۱۹)
امام
عبدالرزاق نے بیس سال کی عمر میں تمام علومِ متداولہ میں مہارت پیدا کر لی تھی
انہوں نے مشہور امامِ فن معمر بن راشد کی بارگاہ میں کامل سات سال گزارے تھے خود
کہتے ہیں "جالست معمر سبع سنين"اور ان کے زمانہ میں امام معمر کی مرویات کا ان سے
بڑا کوئی حافظ نہ تھا۔ (تذکرہ ج
۱ ص ۳۳۱)
امام
احمد کہتے ہیں "كان عبدالرزاق بحفظ حديث معمر" (ایضاً)
ان کے شیوخ:
ہمام، وہب، معمر، عبید اللہ بن عمر عمری، ایمن بن نابل،
عکرمہ بن عمار، ابن جریج، اوزاعی، مالک، سفیان ثوری، سفیان بن عیینہ، عبداللہ بن
عمر عمری، زکریا بن اسحاق مکی، جعفر بن سلیمان، یونس بن سلیمان صنعانی، ابن ابی
رواد، اسرائیل، اسماعیل بن عیاش۔ (تہذیب ج
۶ ص ۲٧۸)
علم وفضل:
عبدالرزاق بن ہمام علم ودین میں امتیازی شان رکھتے تھے
تبحرِ علمی، مہارتِ فن، قوتِ حفظ وضبط میں نہایت بلند مقام پر فائز تھے ان کے علم
وفضل کا اعتراف اربابِ علم نے اس طرح کیا ہے:۔
خیر
الدین زرکلی: "من حفاظ الحدیث الثقات" وہ ثقہ
حفاظِ حدیث میں سے تھے۔
علامہ
یافعی: "الحافظ
العلامة"
حافظ اور بڑے علم والے تھے۔
حافظ
ذہبی: "احد
الاعلام الثقات"
وہ بڑے ثقہ عالم تھے۔ (تذکرہ ج ۱ ص ۳۳۱)
ہشام بن یوسف:
"كان عبد
الرزاق اعلمنا واحفظنا" عبدالرزاق ہم میں سب سے بڑے عالم اور حافظِ حدیث
تھے۔
(تہذیب ج ۶ ص ۲۷۹)
احمد بن صالح کہتے ہیں میں نے امام احمد بن حنبل سے پوچھا
"رایت
احدا احسن حديثا من عبدالرزاق قال لا" کیا آپ نے کسی کو عبدالرزاق سے عمدہ حدیث والا پایا
انہوں نے جواب دیا نہیں۔
(تہذیب ج ۶
ص ۲۷۹)
ابو زرعہ
کا بیان ہے میں نے امام احمد سے پوچھا "من اثبت فى ابن
جريج عبدالرزاق او البرسانی قال عبدالرزاق"۔ (ایضاً)
ماہرینِ علمِ حدیث امام عبدالرزاق کی صداقت وعدالت پر
متفق ہیں ان کے ثقہ وعادل ہونے کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ ان کی احادیث صحاحِ ستہ
میں مرقوم ہیں: حافظ ذہبی لکھتے ہیں "وثقه غير واحد
وحديثه مخرج فى الصحاح" بہت سے ائمہ فن نے ان کی توثیق کی ہے ان کی احادیث
صحاحِ ستہ کی ساری کتابوں میں مذکور ہیں۔ امام احمد بن
حنبل فرماتے ہیں معمر سے ابنِ ہمام کی روایت میرے نزدیک تمام بصری علماء سے زیادہ
پسندیدہ اور قابلِ ترجیح ہے نیز یہ بھی فرمایا ابن جریح کے تلامذہ میں عبدالرزاق
اثبت ہیں۔ (تذکرہ ج
۱ ص ۳۳۱)
حلقہٴ
درس:
امام عبدالرزاق کے فضل وکمال کا شہرہ سن کر اقصائے عالم
سے تشنگانِ علم کا ہجوم سیلِ رواں بن کر ان کے پاس آنے لگا اور شہرِ صنعاء قال
اللہ وقال الرسول کے نغموں سے معمور ہو گیا ان کے استاذ معمر بن راشد نے پیشین گوئی
کی تھی "اما عبد
الرزاق فان عاش فخليق ان تضرب اليه اكباد الابل" اگر
عبدالرزاق کی زندگی رہی تو لوگ دور دراز مقامات سے سفر کر کے اس کے گرد ہجوم کریں
گے۔ (تہذیب ج ۶ ص ۲۷۹) یہ پیشین گوئی
حرف بہ حرف حقیقت ہو کر رہی مؤرخین کا بیان ہے کہ عہدِ رسالت کے بعد کوئی شخصیت
اتنی مرجوعۂ خلائق اور پرکشش ثابت نہ ہو سکی۔ علامہ یافعی نے آپ کو
المرتـحل اليه من الآفاق لکھا ہے یعنی وہ شخص جس کے پاس لوگ مختلف اطراف واکناف
سے آتے تھے۔ (مرآۃ الجنان ج ۲ ص ۵۲) ابنِ اثیر لکھتے ہیں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے
بعد کسی کے پاس اس قدر کثرت سے لوگ نہیں آئے جتنے ابنِ ہمام کے پاس آئے۔ (اللباب
فی تہذیب الانساب ج ۲ ص ۶۱)
ابنِ
خلکان لکھتے ہیں "ما رحل الناس الى احد بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم
مثل ما رحلوا اليه" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد لوگوں نے کسی
کی طرف اتنا سفر نہیں کیا جس قدر لوگ عبدالرزاق کی خدمت میں حاضر ہوئے"
(وفیات
الاعیان ج ۲ ص ۱۰۳)
مشہور
تلامذہ یہ ہیں:
ابن عیینہ، معتمر بن سلیمان، وکیع، ابو اسامہ، احمد،
اسحاق، علی، یحییٰ، ابوخیثمہ، احمد بن صالح، ابراہیم بن موسیٰ، عبداللہ بن محمد
مسندی، سلمہ بن شبیب، عمرو الناقد، ابن ابی عمر، حجاج بن شاعر، یحییٰ بن جعفر بیکندی،
یحییٰ بن موسیٰ، اسحاق بن ابراہیم، سعدی، اسحاق بن منصور کوسج، احمد بن یوسف سلمی،
حسن بن علی خلال، عبدالرحمن بن بشر بن حکم، عبد بن حمید، محمد بن رافع، محمد بن
مہران حمال، محمود بن غیلان، محمد بن یحییٰ ذبلی، ابو مسعود رازی، اسحاق بن ابراہیم
دبری۔ (تہذیب التہذیب
ج ۶ ص ۲٧۸)
الزامِ
تشیع:
بعض علمائے جرح وتعدیل نے آپ کو نقد و جرح کا بھی نشانہ
بنایا ہے مگر تحقیق سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ان اعتراضات کی کوئی اصل نہیں ان
پر ایک اعتراض رفض و تشیع کی طرف میلان کا بھی ہے مگر اس بارے میں خود آپ نے فرمایا:
"والله ما
انشرح صدري قط ان افضل عليا على ابى بكر وعمر" بخدا میں
اس بات پر کبھی راضی نہیں ہوا کہ میں علی کو ابوبکر اور عمر پر فضیلت دوں۔ (تذکرہ
ج ۱ ص ۳۳۱)
آپ پر
الزامِ تشیع کی حقیقت محض اتنی ہے کہ بعض اکابر کی طرح وہ بھی حضرت علی اور اہل بیت
کے بڑے گرویدہ تھے لیکن دوسرے صحابہ کے درجات و مراتب کو اہل سنت ہی کی طرح مانتے
تھے شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے ان کا یہ قول نقل کیا ہے۔ مجھ کو یہ
جرأت نہیں ہے کہ امیر المؤمنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو امیر المؤمنین حضرت
ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما پر ترجیح دوں اور میرا دل یاوری نہیں کرتا کہ
ان کے تفاضل کو ثابت کروں کیوں کہ امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بہ
تواتر ثابت ہے اور یقین کی حد تک پہونچ گیا ہے کہ وہ فرمایا کرتے تھے مجھ کو ان
دونوں حضرات پر فضیلت مت دو۔ (بستان
المحدثین ص ۸۰)
تصانیف:
امام
عبدالرزاق متعدد کتابوں کے مصنف بھی تھے مگر ان کی اکثر کتابیں امتدادِ زمانہ کی
وجہ سے ناپید ہو چکی ہیں بعض کے نام یہ ہیں جامع یا سنن عبدالرزاق، کتاب السنن فی
الفقہ، کتاب المغازی، تفسیر میں بھی ایک کتاب لکھی تھی، مصنف عبدالرزاق، یہ کتاب
نہایت اہم اور مشہور کتاب ہے اس میں حدیثوں کو ابوابِ فقہ پر ترتیب دیا گیا ہے
ابوبکر بن ابی شیبہ کی مصنف اگرچہ مجموعی حیثیت سے زیادہ اہم اور وقیع ہے لیکن
قدامت کے لحاظ سے وہ بھی اس مصنف سے کم پایہ ہے مصنف عبدالرزاق کی خصوصیت یہ ہے کہ
اس کی اکثر حدیثیں ثلاثی ہیں۔ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی لکھتے ہیں اس کی اکثر حدیثیں
ثلاثی ہیں عجیب بات یہ ہے کہ انہوں نے اپنی مصنف کو شمائل پر ختم کیا ہے اور شمائل
کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے موئے مبارک کے ذکر پر تمام کیا چنانچہ اس کے آخر میں
یہ حدیث ہے "حدثنا معمر عن ثابت عن انس قال كان شعر النبي صلى الله
عليه وسلم الى انصاف اذنيه" حضرت انس فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے
موئے مبارک آپ کے کانوں کے نصف حصہ تک پہونچتے تھے۔ (بستان
المحدثین ص ۸۰)
وصال:
آپ کا وصال ماہِ
شوال ۲۱۱ھ میں ہوا۔
ماخذ مراجع، محدثین عظام حیات و خدمات
