شیخ الاسلام امام ابو خالد یزید بن ہارون
نام : یزید
کنیت : ابو خالد
لقب: سلمی
ولادت:
آپ کی
ولادت ۱۱۸ھ بخارا
میں ہوئی۔
نسب :
یزید بن
ہارون بن زاذان بن ثابت۔آپ کا وطن واسط تھا آباء واجداد بخارا کے رہنے والے تھے، قبیلہٴ سلم کے غلام تھے اس لیے سلمی کہلائے، اور
زندگی کے بیشتر ایام یہیں بسر ہوئے۔
تحصیلِ علم:
امام
یزید نے اپنے وطن واسط میں ابتدائی تعلیم حاصل کی پھر طلبِ علم کا ذوق انہیں کشاں
کشاں اسلامی بلاد و امصار کے علمی مرکزوں تک لایا اور انہوں نے اپنے زمانہ کے
اکابرِ تابعین ومحدثین سے حدیث وفقہ کی تعلیم حاصل کی۔
آپ کے ممتاز شیوخ
یہ ہیں:
سلیمان
تیمی، حمید الطویل، عاصم الاحول، اسماعیل بن ابی خالد، ابو مالک اشجعی، یحییٰ بن سعید
انصاری، حریز بن عثمان، ابن عون، داؤد بن ابی ہند، حسین معلم، محمد بن اسحاق، سعید
جریری، سفیان بن حسین، کہمس بن حسن، محمد بن عمرو بن علقمہ، مسلم بن سعید، ہمام،
ورقاء بن عمر، ہشام بن حسان، ابان، عطار، حجاج بن ابی زینب، حماد بن سلمہ، حماد بن
زید، ربیع بن مسلم، شعبہ، سفیان ثوری، سلیمان بن علی، سلیمان بن کثیر، عبدالخالق
بن سلمہ، عبدالعزیز ماجشون، عبدالملک بن ابی سلمان، عوام بن حوشب، عمر بن محمد
عمری، ابوغسان، محمد بن مطرف، ہشام دستوائی، ہشیم، ابراہیم بن سعد وغیر ہما۔ (تہذیب
التہذیب ج ۱۱ ص ۳۲۱)
علم وفضل:
یزید بن
ہارون نے غیر معمولی حافظے اور تحصیلِ علم کے بے پایاں ذوق کے ساتھ رحلت وسفر کی
مشقتیں برداشت کر کے علماء و شیوخ کی بارگاہوں سے اکتسابِ علم کیا تھا اور وہ علم
کا ظرف بن گئے تھے انہوں نے دوسری صدی کے نصفِ آخر میں علم و عمل کی ایسی شمع
فروزاں کی جس سے ہزاروں قلوب واذہان نے روشنی حاصل کی اور ان کی عظمت وجلالت کا
سکہ علمی دنیا میں چلتا رہا۔ ان کی درسگاہ حدیث وفقہ کے طلبہ کی آماجگاہ بنی ہوئی
تھی۔ حدیث میں ان کی عظمت و رفعت کا اعتراف بڑے بڑے ائمہ فن نے کیا ہے۔
احمد بن حنبل: "كان
حافظاً للحديث، صحيح الحديث عن حجاج بن ارطاة"
وہ حافظِ حدیث تھے ، حجاج بن ارطاة کی حدیثوں کے صحیح ناقل تھے۔ (تہذیب ج
۱۱ ص ۳۲۱)
ابن مدینی: "هو من
الثقات .... ما رايت احفظ منه" وہ ثقہ تھے میں نے ان سے بڑا حافظ کسی کو نہیں
دیکھا۔ (ایضاً ص ۳۲۲)
ابو حاتم: "ثقة
امام، صدوق، لا يسأل عن مثله" وہ ثقہ امام صدوق ہیں ان کے مثل کے بارے میں سوال
نہیں کیا جا سکتا۔ (ایضاً)
ابن سعد: "كان ثقة
كثير الحديث" وہ معتبر اور کثیر الحدیث تھے۔ (ایضاً)
ابن حبان: "كان من
عباد الله تعالىٰ ممن يحفظ حديثه" وہ اللہ کے ان برگزیدہ بندوں میں سے تھے جن سے
حدیثیں یاد کی جاتی ہیں۔ (ایضاً)
ابن معین، عجلی، ابن حبان، اور قانع وغیرہما نے آپ کو ثقہ
قرار دیا۔ (ایضاً)
امام احمد: "كان يزيد
حافظاً متقناً" یزید حافظ و متقن تھے۔ (تذکرہ ج
۱ ص ۲۹۲)
ہشیم: "ما بالبصریين
مثل يزيد بن هارون" بصریوں میں کوئی یزید بن ہارون جیسا نہیں۔ (ایضاً)
یحییٰ بن یحییٰ: "كان
بالعراق اربعة من الحفاظ شيخان يزيد بن زريع وهاشم، وكهلان وكيع ويزيد"
عراق میں چار حافظِ حدیث ہیں ان میں دو یزید بن زریع اور ہاشم بوڑھے ہو چکے ہیں
اور دو وکیع اور یزید بن ہارون جوان ہیں۔ (ایضاً)
ابوبکر بن ابی شیبہ: "ما رأينا
اتقن حفظاً من يزيد" ہم نے یزید سے زیادہ حدیث کو ضبط کرنے والا کوئی
نہیں دیکھا۔ (ایضاً)
حفظ وضبط:
یزید بن
ہارون کو قدرت نے غیر معمولی قوتِ حفظ وضبط سے سرفراز فرمایا تھا۔ علی بن مدینی
جیسے محدث نے فرمایا میری نظر میں یزید بن ہارون سے بڑھ کر کوئی حافظِ حدیث نہیں۔
خود امام یزید فرمایا کرتے تھے ۔ "احفظ اربعة
وعشرين الف حديث بالاسناد ولا فخر واحفظ للشاميين عشرين الفاً لا اسأل عنها"
مجھے مع اسناد ۲۴/ ہزار
احادیث حفظ ہیں اور اس پر کوئی فخر نہیں نیز مجھے شامی اساتذہ کی ۲۰/ ہزار حدیثیں اس طرح یاد ہیں کہ مجھے ان کے متعلق کچھ
پوچھنے کی حاجت نہیں ہے۔ (تذکرہ ج
۱ ص ۲۹۲)
ایک بار ان سے کسی نے کہا کہ ہارون آپ کے پاس اس غرض سے آ
رہا ہے کہ وہ چند حدیثوں کے الفاظ میں ردوبدل کر کے آپ کے حافظے کا امتحان لے۔
کہنے والے نے ابھی بات پوری بھی نہ کی تھی کہ ہارون مکان میں داخل ہوا حضرت یزید
نے اس کی آواز سن کر فرمایا 'ہارون مجھ کو یہ خبر پہونچی ہے کہ تم میری قوتِ حفظ
کا امتحان لینے کے لیے مجھ پر بعض مشتبہ حدیث پیش کرنا چاہتے ہو تو تم اپنی جیسی
کوشش کر دیکھو۔ خدا مجھ کو کفر کرے اگر میں اپنی احادیث کو اچھی طرح یاد نہ رکھ
سکوں۔
ایک دوسرے موقع پر شیخ یزید نے فرمایا میں بیس ہزار حدیث
یاد رکھتا ہوں جس کا جی چاہے ان میں کوئی ایک حرف بھی کم و بیش کر کے دیکھ لے۔ (تذکرہ
ج ۱ ص ۲۹۳)
فقہ:
یزید بن
ہارون فقہ میں بھی کامل دستگاہ رکھتے تھے کسی نے امام احمد سے پوچھا کیا ابن ہارون
فقیہ تھے؟ جواب دیا 'نعم' ما كان افطنه واذكاه وافهمه"
ہاں، ان سے زیادہ ذہین وفطین اور عقل و شعور والا میری نظر سے نہیں گزرا۔ سائل نے
کہا اچھا ابن علیہ کے بارے میں کیا خیال ہے فرمایا "كان له
فقه لا اعلم انى لم اخبره خبری يزيد" وہ فقیہ
تو ضرور تھے لیکن مجھ کو ان کی نسبت اتنا علم نہیں ہے جتنا کہ یزید بن ہارون کی
نسبت ہے۔ (تہذیب
التہذیب ج ۱۱ ص ۳۲۲)
علمی دبدبہ:
حضرت
یزید بن ہارون ان عظیم فقہاء ومحدثین میں تھے جن کی علمی شان اور حکمت کا سکہ دلوں
پر چلتا تھا۔ عوام ہوں یا خواص سب کے دل پر ان کے کمالاتِ علمی کا رعب قائم تھا
اور ان کی شخصیت سے خود خلیفہ مامون الرشید بھی مرعوب تھا۔ وہ یونانی منطق وفلسفہ
کا دلدادہ تھا جس کے اثر سے خلقِ قرآن کا فتنہ رونما ہوا۔ مامون خود بھی قرآن کو
مخلوق مانتا تھا مگر اس باطل عقیدے کی بر ملا تشہیر اور اعلان سے یزید بن ہارون کی
شخصیت مانع تھی۔
یحییٰ بن اکثم کا بیان ہے ایک مرتبہ مامون نے ہم سے کہا 'لو لا
مكان يزيد بن هارون لا ظهرت القرآن مخلوق"
اگر یزید بن ہارون کے وقار کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں قرآن کے مخلوق ہونے کا اظہار
کر دیتا۔ اس پر کسی مصاحب نے پوچھا اے امیر المؤمنین یہ یزید بن ہارون کون ہیں جن
سے اس قدر خوف کھایا جاتا ہے؟ مامون نے کہا میں ان سے اس لیے نہیں ڈرتا کہ ان کے
ہاتھ میں کوئی سلطنت ہے یا وہ کسی جگہ کے بادشاہ ہیں البتہ مجھ کو خوف یہ ہے کہ
اگر میں نے اپنے عقیدہ کا اظہار کر دیا اور انہوں نے میری تردید کی تو لوگوں میں
اختلاف پیدا ہو کر ایک فتنہ کھڑا ہو جائے گا اور میں فتنہ سے ڈرتا ہوں وہ شخص بولا
اچھا میں اس بات کی تحقیق کرتا ہوں چنانچہ یہ شخص واسط آیا اور ایک مسجد میں جہاں
حضرت یزید بن ہارون تشریف رکھتے تھے ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا۔ امیر
المؤمنین آپ کو سلام کہتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ میں اس بات کا ارادہ کرتا ہوں کہ
قرآنِ مجید کے مخلوق ہونے کا اظہار کر دوں۔ یزید بن ہارون بولے تم امیر المؤمنین
پر تہمتی طرازی کرتے ہو ۔ وہ لوگوں کو کسی ایسی بات پر آمادہ نہیں کر سکتے جس کو
وہ جانتے ہی نہیں ہیں اگر تم سچے ہو تو ذرا ٹھہرو۔ یہاں تک کہ مجلس کا وقت ہو
جائے۔ جب لوگ جمع ہو جائیں تو اس بات کا پھر اعادہ کرنا چنانچہ دوسرے دن جب لوگ
حضرت یزید بن ہارون کی مجلس میں اکٹھے ہوئے تو یہ شخص کھڑا ہوا اور اس نے حضرت
یزید کی طرف مخاطب ہو کر کہا۔ ابو خالد امیر المؤمنین آپ کو سلام کہتے ہیں اور
فرماتے ہیں کہ میں قرآنِ مجید کے مخلوق ہونے کا اعلان کرنا چاہتا ہوں ۔ یزید بن
ہارون بولے تم امیر المؤمنین پر تہمتی باندھتے ہو وہ کسی ایسی بات پر لوگوں کو
آمادہ نہیں کر سکتے جس کو لوگ بالکل نہیں جانتے ہوں اور جس کا قائل کوئی شخص بھی
نہ ہوا ہو، اس گفتگو کے بعد اس شخص نے مامون کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا۔
"امیر المؤمنین آپ جو کچھ فرماتے تھے بالکل بجا اور درست تھا۔ اس معاملہ میں
بے شبہ آپ اعلم تھے۔ (تاریخ بغداد ج ۱۴ ص ۲۴۶)
یزید بن ہارون کو معلوم تھا کہ مامون الرشید کا رجحان
خلقِ قرآن کی طرف ہے لیکن اس کے باوجود ان کی حق گوئی کا یہ عالم تھا کہ وہ بے خوف
ہو کر اعلان کرتے تھے "قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ جو شخص
خلقِ قرآن کا قائل ہے وہ کافر ہے۔ (ایضاً)
حلقہٴ درس:
یزید بن
ہارون کا مستقل حلقہٴ درس واسط میں قائم ہوتا تھا جب وہ بغداد جاتے وہاں بھی
شائقینِ علم ان کے گرد جمع ہو کر درسِ حدیث لیتے ۔ ان کے حلقہٴ درس میں لوگوں کا
ازدحام ہوتا کبھی کبھی شرکائے درس کی تعداد ستر ہزار تک پہونچ جاتی۔ یحییٰ بن ابی
طالب کا بیان ہے "سمعت من يزيد ببغداد وكان يقال في مجلسه سبعون الفا"
میں نے بغداد میں یزید بن ہارون سے سماعِ حدیث کیا کہا جاتا تھا کہ ان کی مجلسِ
درس میں تقریباً ستر ہزار مستفیدین حاضر ہوتے تھے۔ (تذکرہ ج
۱ ص ۲۹۲)
تلامذہ:
بقیہ بن
ولید، آدم بن ابی ایاس، احمد بن حنبل، اسحاق بن راہویہ، یحییٰ بن معین، علی بن
مدینی، ابوبکر بن ابی شیبہ، یعقوب بن ابی شیبہ، بیان بن عمر، بندار، ابو موسیٰ،
محمد بن سلام، ابو خیثمہ، عمرو، ناقد، ابن نمیر، محمد بن حاتم بن میمون، ہارون
حمال، محمد بن عبادہ واسطی، عباس عنبری، محمد بن عبدالرحیم بزاز، عمر و بن علی
فلاس، مفضل بن سہل، ابو قدامہ، ابن ابی عمر، محمد بن حمید، حسن بن علی حلال، ذہلی،
عبد اللہ بن نمیر، یحییٰ بن جعفر، یحییٰ بن موسیٰ، یوسف بن موسیٰ قطان، مطر بن
فضل، یعقوب دورقی، احمد بن سنان قطان، محمد بن عبید بن منادی، حسین بن عیسیٰ
بسطامی، ابو قلابہ رقاشی، حسن بن عرفہ، حسن بن محمد زعفرانی، محمد بن عبدالملک
دقیقی، حارث بن ابی اسامہ، ابو مسعود رازی، عباس دوری، محمد بن احمد بن ابی
العوام، حارث بن ابی اسامہ، احمد بن عبدالرحمن سقطی وغیرہم۔ (تہذیب
ج ۱۱ ص ۳۲۱)
عبادت:
وہ علمی
جلالت کے ساتھ بے حد متورع، متقی اور خشوع وخضوع کے ساتھ عبادت کرنے والے برگزیدہ
بندہٴ مومن تھے۔ احمد بن سنان کہتے ہیں "ما رأيت
احسن صلوة منه" میں نے ان سے عمدہ نماز پڑھنے والا کسی کو نہیں
دیکھا۔ (تذکرہ ج
۱ ص ۲۹۲)
ان کے ذوقِ عبادت کا یہ حال تھا کہ انہوں نے چالیس سال تک
عشاء کے وضو سے فجر کی نماز ادا فرمائی۔ عاصم بن علی کا بیان ہے "كان يزيد
يقوم الليل وصلى الصبح وضوء العتمة نيفاً واربعين سنة"
یزید ساری رات قیام میں مصروف رہتے تھے اور انہوں نے چالیس سے زیادہ سال تک عشاء
کے وضو سے صبح کی نماز پڑھی۔ (ایضاً)
یعقوب بن ابی شیبہ کہتے ہیں "وكان يعد
من الآمرين بالمعروف والناهين عن المنكر" یزید بن
ہارون کا شمار ان بزرگوں میں ہوتا ہے جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ
انجام دیتے تھے۔ (تاریخ
بغداد ج ۱۴ ص ۲۴۲)
وصال:
علم وعمل
زہد وتقویٰ کا یہ پیکرِ نورانی ۸۸ سال کی عمر پا کر ۲۰۶ھ میں بمقام واسط وصال فرما گئے ۔
ماخذ مراجع، محدثین عظام حیات و خدمات
