امام عبدالرحمن بن علی ابن جوزی
نام : عبدالرحمن
کنیت : ابوالفر ج
لقب : جمال الدین
ولادت:
آپ کی ولادت
عروس البلاد بغداد میں ۵۰۸ھ میں ہوئی ہے ۔
نسب :
عبدالرحمن
بن ابی الحسن بن علی بن محمد آگے چل کر سلسلہ نسب خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی
اللہ عنہ سے مل جاتا ہے۔
جس بنا پر وہ صدیقی کہلاتے ہیں۔ آپ کے جد
اعلیٰ نے شہر واسط میں اپنے گھر کے اندر اخروٹ (جوز) کا درخت لگایا تھا اور پورے
علاقے میں صرف انہیں کے گھر میں یہ درخت تھا اس لیے یہ درخت آپ کی شناخت بن گیا
اور جوزی کے لقب سے مشہور ہوئے اور آپ کی اولاد ابن جوزی کہلائی۔ (تذکرۃ الحفاظ ج ۴ ص ۱۳۱)
تین ہی سال کی عمر میں باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ پھوپھی نے
تربیت کی۔
تحصیل علم:
علامہ ابن
جوزی نے اپنے زمانہ کے سب سے بڑے علمی مرکز بغداد میں آنکھ کھولی تھی جہاں کا ذرہ
ذرہ علم وفن کی شعاعوں سے رشک مہر ونجوم بنا ہوا تھا۔ ابھی کم سن ہی تھے کہ پھوپھی
نے مشہور محدث ابن ناصر کے پاس بٹھا دیا۔ چنانچہ ان سے قرآن مجید حفظ کیا، احادیث
کی سماعت کی اور فن تجوید وقرأت میں مہارت پیدا کی۔ حافظ ذہبی لکھتے ہیں انہوں نے
آپ کی تعلیم وتربیت پر خصوصی توجہ مبذول فرمائی اور علم کا وسیع ذخیرہ آپ کے قلب و
دماغ میں اتار دیا۔ ابن ناصر کے علاوہ آپ نے اپنے زمانہ کے مشہور محدثین وفقہاء کی
بارگاہوں سے خوب خوب کسب علم کیا۔ قدرت نے علمی استعداد کے ساتھ بے پناہ ذوق تحصیل
علم بھی عطا فرمایا تھا۔ سلیم الطبعی اور متانت کا یہ حال تھا کہ کمسنی میں بھی
عام بچوں کے برعکس کھیل کود سے سروکار نہیں رہتا۔ وہ اپنے علمی انہماک، جہد فی
العلم کا تذکرہ اس طرح فرماتے ہیں:
"میں چھ سال کی عمر میں مکتب میں داخل ہوا... دوسرے لڑکے
دجلہ کے کنارے کھیلا کرتے تھے اور میں کسی کتاب کے اوراق لے کر کسی طرف چلا جاتا
اور الگ تھلگ بیٹھ کر مطالعہ میں مشغول ہو جاتا۔ میں اساتذہ وشیوخ کے حلقوں میں
حاضری دینے میں اس قدر جلدی کرتا تھا کہ دوڑنے کی وجہ سے میری سانس پھولنے لگتی تھی
صبح اور شام اس طرح گزرتی کہ کھانے کا کوئی انتظام نہیں ہوتا تھا مگر اللہ تعالیٰ
کا شکر ہے کہ اس نے مخلوق کی احسان مندی سے بچایا ہے۔
(الفتتہ الکبد فی نصیحۃ
الولد ص ۸۱)
علم و فضل:
علامہ ابن
جوزی نے نہ صرف اساتذہ کی بارگاہوں سے علم حاصل کرنے پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ وہ
زندگی کے آخری ایام تک طالب علم ہی رہے اور وہ کبھی علم کی موج کوثر سے آسودہ نہ
ہوئے۔ کتابوں کا مطالعہ ان کا محبوب مشغلہ تھا جو زمانہ طالب علمی سے لے کر عمر کے
آخری لمحات تک برابر جاری رہا۔ اور وہ کسی ایک فن تک محدود نہ رہے بلکہ بغداد میں
موجود بڑے بڑے کتب خانوں کی ہر علم وفن پر مشتمل کتابیں پڑھتے تھے۔ خود لکھتے ہیں:
میں اپنا حال عرض کرتا ہوں، میری طبیعت مطالعوں سے کسی طرح سیر نہیں ہوتی، جب کسی
نئی کتاب پر نظر پڑتی ہے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کوئی دفینہ ہاتھ آگیا۔ اگر میں
کہوں کہ میں نے بیس ہزار کتابوں کا مطالعہ کیا ہے تو بہت زیادہ معلوم ہوگا اور یہ
طالب علمی کا ذکر ہے مجھے ان کتابوں کے مطالعہ سے سلف کے حالات و اخلاق، ان کی عالی
ہمتی، قوت حافظہ، ذوق عبادت اور علوم نادرہ کا ایسا اندازہ ہوا جو ان کتابوں کے
مطالعہ کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ (صیدالخاطر ص ۲۶۶)
اس وسیع
مطالعہ نے ابن جوزی کو تمام علوم وفنون کا جامع بنا دیا تھا اور تنہا ان کی ذات میں
تمام علمی و دینی محامد و محاسن جمع ہو گئے تھے۔ آپ کے شمائل و خصائل تبحر علمی
اور پرکشش شخصیت کا تذکرہ موفق عبداللطیف اس طرح کرتے ہیں:
"کان ابن الجوزی لطیف الشمائل حلو الصورۃ رخیم النغمۃ موزون
الحرکات والنغمات لذیذ المفاكھۃ یحضر مجلسہ مائۃ الف او یزیدون لا یضیع من زمانہ
شیئا یکتب فی الیوم اربعۃ کراریس ولہ فی کل علم مشارکۃ لہ ولکنہ کان فی التفسير من
الاعیان وفی الحدیث من الحفاظ وفی التاريخ من المتوسطین ولدیہ فقہ واما السمع
الواعظی فللہ فیہ ملکۃ قویۃ"
امام ابن
جوزی خوبصورت خوش اطوار اور سریلی آواز کے حامل تھے حرکات ونغمات موزوں ظرافت اور
خوش طبعی میں دل پسند تھے آپ کی مجلس وعظ میں ایک ایک لاکھ یا اس سے بھی زیادہ لوگ
حاضر ہوتے تھے۔ آپ اپنا وقت بالکل ضائع نہیں کرتے تھے ہر روز چار کراسے (رسائل)
لکھنا آپ کا معمول تھا۔ آپ کو ہر علم میں درک حاصل تھا لیکن تفسیر میں چوٹی کے
مفسر، حدیث میں جلیل القدر حافظ، تاریخ میں کثیر المطالعہ مورخ تھے۔ فقہ میں بھی
آپ کے معلومات قابل اعتماد تھے
بوقتِ وعظ مستمع کلام کرنے میں یدِ طولیٰ رکھتے تھے۔ (تذکرۃ الحفاظ ج ٤ ص ۱۳۶، ۱۳۷)
علامہ ابن
جوزی حدیث میں ممتاز مقام رکھتے تھے انہیں جرح و نقدِ رجال کا ملکہ حاصل تھا اس
باب میں ان کی ناقدانہ بصیرت بے نظیر تھی وہ خود کہا کرتے تھے۔ "میں ہر حدیث
کے بارے میں کہہ سکتا ہوں کہ صحیح ہے یا حسن یا محال ہے"۔
حافظ شمس
الدین ذہبی آپ کا تذکرہ ان الفاظ سے شروع کرتے ہیں "الامام العلامہ الحافظ عالم العراق وواعظ
الآفاق.... الواعظ المفسر صاحب التصانیف السائرۃ فی فنون العلم" "امام علامہ جلیل
القدر حافظ حدیث عالم عراق اور واعظ آفاق ہیں، واعظِ نامدار اور مفسر بے بدل تھے مختلف
علوم وفنون میں آپ نے ایسی عظیم الشان اور پر مغز کتابیں تصنیف کیں جو چار دانگ
عالم میں پھیل گئیں"۔ (ایضاً)
ابن خلکان: "کان علامۃ عصرہ وامام وقتہ فی الحدیث وصناعۃ الوعظ صنف فی فنون
عدیدۃ" "وہ اپنے
زمانہ کے ممتاز عالم اور حدیث و وعظ میں وقت کے امام تھے۔ اور انہوں نے متعدد فنون
میں کتابیں تحریر کیں۔
(وفیات الاعیان ج ۳ ص ۷۶)
تلامذہ:
علامہ ابن
جوزی کے خرمن علم سے خوشہ چینی کرنے والوں کی بہت بڑی تعداد ہے چند مشاہیر تلامذہ
کے نام تحریر کیے جاتے ہیں:
محی الدین
بن علامہ ابن جوزی، شمس الدین یوسف بن فرغلی بن علامہ ابن جوزی، حافظ عبدالغنی،
ابن دبیثی، ابن نجار، ابن خلیل، تقی یلدانی، ابن عبدالدائم، نجیب، عبداللطیف، شیخ
شمس الدین بن ابوعمر فخر علی، احمد بن سلام حداد، قطب احمد عبدالسلام عصرونی، خضربن
حمویہ جوینی۔ (تذکرہ ج ۳ ص ۱۳۶)
تصانیف:
علامہ ابن جوزی ایک بالغ نظر، تبحر عالم
اور مصلح امت ہونے کے ساتھ ساتھ تصنیف و تالیف میں بھی کامل دستگاہ رکھتے تھے
انہوں نے گوناگوں موضوعات پر بڑی اہم اور مفید کتابیں تحریر کی ہیں۔ اوپر موفق
عبداللطیف کا بیان گزر چکا ہے کہ وہ ہر روز چار رسالے بلاناغہ لکھا کرتے تھے ان کا
یہ تصنیفی عمل ابتدائی سے جاری تھا ۔
انہوں نے اس قدر احادیث اور دیگر موضوعات پر کتابیں اپنے ہاتھ
سے قلمبند کیں اور اربابِ سیر کا بیان ہے کہ انہوں نے بوقتِ وصال وصیت فرمائی کہ
ان کے غسل کا پانی اس کترن اور برادے سے گرم کیا جائے جو حدیث کے لکھنے کے لیے قلم
بنانے میں جمع ہو گیا تھا، چنانچہ وفات کے بعد ان کے قلم کے کترن سے پانی گرم کیا
گیا وہ اتنا تھا کہ پانی بھی گرم ہو گیا اور وہ بچ رہا۔ (ابن خلکان ص ۳۹۵)
اسلاف واکلاف میں ان سے زیادہ کسی نے کتابیں تصنیف نہیں کیں۔
حافظ ذہبی
لکھتے ہیں: "ما
علمت احدا من العلماء صنف ما صنف هذا الرجل" میرے علم میں جتنی کتابیں آپ نے
تحریر کی ہیں کسی دوسرے نے نہیں لکھیں۔ (تذکرہ ج ۴ ص ۱۳۳)
کچھ اہم کتابیں یہ ہیں:
۱)
المغنی فی علوم القرآن (۲) زاد المسير ۴ جلد (۳) تذكرة الاريب فی اللغة (۴) الوجوہ والنظائر ۱ جلد (۵) فنون الافنان ۱ جلد (۶) جامع المسانید ۷ جلد (۷) الحدائق ۲ جلد (۸) نقی النقل ایک ضخیم جلد (۹) عیون الحکایات ۲ جلد (۱۰) التحقیق فی مسائل الخلاف ۲ جلد (۱۱) مشکل الصحاح ۴ جلد (۱۲) الموضوعات ۲ جلد (۱۳) الواہیات ۳ جلد (۱۴) الضعفاء ایک جلد (۱۵) تلقیح فہوم الاثر ایک جلد
(۱۶) المنتظم فی التاریخ ۱۰ جلد (۱۷) المذہب فی المذہب ایک جلد
(۱۸) الاشعار فی مذاهب الاختلاف
۲ جلد (۱۹) المواقیت فی الخطب الوعظیہ
(۲۰) نسیم السحر ایک جلد (۲۱) المنتخب ایک جلد (۲۲) المدهش فی المحاضره ایک
جلد (۲۳) صفوة الصفوة ۴ جلد (۲۴) اخبار الاخیار ایک جلد (۲۵) اخبار النساء ایک جلد (۲۶) مشير الغرام الساكن الى
اشرف الاماكن (۲۷) المقعد المقیم ایک جلد (۲۸) ذم الهوى ایک جلد (۲۹) تلبیس ابلیس ایک جلد (۳۰) صيد الخاطر ۳ جلد (۳۱) الاذکیاء ایک جلد (۳۲) المغفلین ایک جلد (۳۳) منافع الطب ایک جلد (۳۴) صبانجدالطب ایک جلد (۳۵) المزعج ایک جلد (۳۶) المطرب ایک جلد (۳۷) الملہب ایک جلد (۳۸) منتهى المشتهى ایک جلد (۳۹) فنون الباب ایک جلد (۴۰) الظر فاء ایک جلد (۴۱) صلوة الاخران ایک جلد (۴۲) منهاج القاصدين ۲ جلد (۴۳) الوفاء بفضائل المصطفى ۲ جلد (۴۴) مناقب الصدیق ۱ جلد (۴۵) مناقب عمر ایک جلد (۴۶) مناقب علی ایک جلد (۴۷) مناقب عمر بن عبدالعزیز ایک
جلد (۴۸) مناقب سعید بن مسیب ایک
جلد (۴۹) مناقب الحسن البصری (۵۰) مناقب الثوری ایک جلد (۵۱) مناقب احمد ایک جلد (۵۲مناقب الشافعی ایک جلد (۵۳) مناقب جماعہ متعدد اجزاء (۵۴) موافق المرافق ایک جلد۔ ان
کے علاوہ اور بہت سی کتابیں ہیں جن کی تفصیل کے لیے ایک دفتر درکار ہے۔ (ایضاً)
الموضوعات:
یہ کتاب دو جلدوں پر مشتمل ہے جس کے اندر
ان موضوع احادیث پر فنی نقطہ نظر سے جرح و نقد کی گئی ہے جن کے سہارے اہل ہوئی
افراد اپنے باطل مزعومات ثابت کرتے تھے۔ اس کتاب میں انہوں نے موضوع احادیث کے
اسقام کو واضح کیا ہے جو فن حدیث میں آپ کی بصیرت اور درک کا واضح ثبوت ہے۔
تلبیس ابلیس:
یہ کتاب ابن جوزی کی ناقدانہ تصنیف ہے جس
میں انہوں نے مسلم معاشرہ کے اندر در آنے والے مفاسد کا بڑی گہرائی سے جائزہ لیا
ہے اور مسلم سماج کے ہر طبقہ کی بے اعتدالیوں پر کڑی تنقید کی ہے اور سنت و شریعت
کی منہاج پر چلنے کی دعوت دی ہے۔ مسلم سوسائٹی کے اندر اخلاقی ذمائم اور نفسانی
خواہشات کے بڑھتے ہوئے سیلاب کو پوری جرات کے ساتھ روکنے کی کوشش کی ہے۔
وصال:
بروز جمعہ ۱۳ رمضان المبارک ۵٩٧ھ میں داعی اجل کو لبیک
کہا۔ پورا بغداد رنج و الم میں ڈوب گیا بیشمار لوگوں نے باديده نم جنازہ میں شرکت
کی اور باب الحرب کے قبرستان میں آپ کو سپرد خاک کیا۔
ماخذ مراجع، محدثین عظام حیات و خدمات
