امام ابو مسلم ابراہیم بن عبداللہ
کشی
نام: ابراہیم
کنیت: ابو
مسلم
ولادت : ولادت
۲۰۰ھ
نسب:
ابراہیم
بن عبداللہ بن مسلم بن ماغر بصری کشی، خطیب بغدادی کے مطابق ولادت ۲۰۰ھ میں ہوئی مگر حافظ ذہبی کے قول سے پتہ
چلتا ہے کہ وہ ۲۰۰ھ سے قبل پیدا ہوئے۔
آپ بصرہ میں مقیم تھے اور تعمیرِ مکانات کا
کام کرتے تھے۔ کشی کی نسبت کے بارے میں اربابِ تذکرہ کا اختلاف ہے بعض لوگوں نے
کہا کہ کش جرجان کے ایک قریہ کا نام ہے جو ابو مسلم کا آبائی وطن تھا اسی کی طرف
نسبت کرتے ہوئے کشی کہلائے لیکن سمعانی نے ان کے ایک جدِ اعلیٰ کا نام کش لکھا ہے
بعض لوگوں کا خیال ہے کش فارسی لفظ گچ (چونا) کی بگڑی ہوئی شکل ہے چونکہ آپ کا
پیشہ معمار کا تھا اینٹوں اور پتھروں کو جمانے کے لئے گچ ہی کا استعمال کیا جاتا
تھا اس بناء پر کشی (کچی) مشہور ہوئے۔
علم و فضل:
ابو مسلم کے زمانے
میں بصرہ اسلامی علوم کے مشہور مراکز میں شمار کیا جاتا تھا۔ ابو مسلم نے اس مرکزِ
علم کے مشہور علماء، محدثین کی بارگاہوں میں حاضری دی اور ان سے خوب خوب فیض حاصل
کیا بصرہ کے علاوہ دوسرے شہروں کے ائمہ علم و فن سے بھی آپ نے علم کی دولت حاصل کی
۔
شیوخ:
ابو عاصم نبیل،
عبداللہ انصاری، اصمعی، بدل بن محبر، مسلم بن ابراہیم، ابو ولید طیالسی، حجاج بن
نصیر، فساطیطی، سلیمان بن حرب، عبداللہ بن رجاء نہدانی، عبداللہ بن مسلم قعنبی،
عبدالرحمن بن حماد شعبی، عبدالملک بن قریب اصمعی، عمرو بن مرزوق، محمد بن عرعرہ،
مسلم بن ابراہیم، معاذ بن عبداللہ عوذی وغیرہ۔
(تذکرۃ
ج ۲ ص ۱۷۲ ،
تذکرۃ الحفاظ ثین ج ۱ ص ۳۵۸)
ابو مسلم کشی نے اکابر و سلاطینِ علم کی
بارگاہوں سے اپنے دامنِ علم کو مالا مال کر لیا تھا اور وہ اپنے حفظ و ضبط اور
شوقِ علم کی وجہ سے حدیث کے ممتاز شیخ بن گئے تھے علماء، فن اور محدثین آپ کی
کثرتِ حدیث اور توثیق و جلالت کے معترف تھے انہوں نے آپ کو الحافظ،
کان محدثا حافظا ،اور من حفاظ الحدیث لکھا ہے۔
* موسیٰ بن ہارون
اور دار قطنی نے آپ کو ثقہ اور صدوق قرار دیا ہے۔
* حافظ عبدالغنی بن
سعید: وہ ثقہ اور نہایت ذکی تھے۔
* علامہ ابن جوزی:
وہ عالم، ثقہ اور جلیل القدر محدث تھے۔
* ابنِ ندیم: وہ ان
اجلہ محدثین میں سے تھے جن کی سندیں نہایت عالی ہوتی ہیں۔
* علامہ سمعانی: وہ
ثقہ اور اکابر محدثین میں تھے اور انہوں نے بے شمار حدیثیں بیان کیں۔
* خطیب بغدادی: وہ
صاحبِ علم و فضل اور امین تھے۔
* علامہ ذہبی:
"الحافظ
المسند۔۔۔۔
بقیۃ
الشیوخ"
وہ حدیث کے واقف کار مسند اور بقیہ الشیوخ میں تھے۔
* ابنِ عماد: وہ
صاحبِ سنن اور مسندِ وقت تھے۔
امام ابو مسلم کی علمی کشش دور دور سے
طالبانِ علم کو ان کے حلقۂ درس میں کھینچ لاتی اور وہ اپنے زمانہ کے عظیم شیخ
الحدیث بن گئے تھے۔ ان کی مقبولیت اور علمی طمطراق کا یہ عالم تھا کہ جب بغداد
شریف پہنچے تو رحبہ غسان میں مجلسِ حدیث قائم کی آپ سے حدیثیں لکھنے اور سننے
والوں کی اتنی کثرت تھی کہ سات نقیب آپ سے الفاظِ حدیث کو سن کر دوسروں تک پہنچاتے
جن کی مدد سے چالیس ہزار سے زیادہ افراد حدیثیں سنتے اور لکھتے تھے۔
(تذکرۃ
الحفاظ ج ۲ ص ۱۷۷)
بغداد ہی میں صالح جزرہ کے تلامذہ حاضرِ
بارگاہ ہوئے اور آپ سے ابنِ عرعرہ کی حدیث اور اصمعی کی حکایات حاصل کیں۔ (ایضاً)
تلامذہ :
ابوبکر شافعی،
ابوبکر مالک بن قطیبی، ابو سہیل بن زیاد، ابو عمرو بن سماک، ابو القاسم بغوی، ابو
محمد بن ماسی، احمد بن سلمان نجاد، اسماعیل خطی، اسماعیل بن محمد صفار، جعفر
خالدی، حبیب فزار، عبدالباقی بن قانع، فاروق خطابی۔
(تذکرۃ
المحدثین ج ۱ ص ۳۵۸)
سنن ابی مسلم کشی:۔
امام ابو مسلم نے
سنن کا ایک مجموعہ مرتب فرمایا شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلوی فرماتے ہیں اس کتاب
میں ثلاثیات بہت ہیں ان کی ثلاثیات کی پہلی حدیث باب فضل الصدقہ میں یہ ہے:
حدثنا عمر و بن محمد العثمانی قال حدثنا عبد
الله بن نافع الانصاری انه اخبر عن جابر بن عبد الله ان رسول الله صلی الله علیہ
وسلم قال من احیاء ارضاً ميتة فله منها اجر وما اكلت العافية منها فهو له صدقة۔
"جابر بن عبداللہ
سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جو ویران زمین
کو آباد کرے گا تو اس کے لیے اس میں سے اجر ہے اور اس میں سے جو کچھ جانوروں نے
کھایا ہے وہ اس کے لیے صدقہ ہے۔
(بستان
المحدثین ص ۸۷)
سنن کے علاوہ ایک مسند بھی تصنیف فرمائی،
سنن کی تصنیف اور اساتذہ و علماء پر اس کی قرأت سے فارغ ہوئے تو شکرانے میں ایک
ہزار درہم مہتاجوں میں تقسیم کیے اور محدثین و علماء، امراء و خواص کی پر تکلف
دعوت کی اور ہزاروں دینار اس دعوتِ طعام کے اہتمام میں صرف کیے یہ عمل آپ کی
فیاضی، سرچشمی، اور جود و سخا کا واضح ثبوت ہے۔
وصال :
اس
جلیل القدر محدث نے ۲۳محرم ۲۹۲ھ میں بمقام بغداد وفات پائی جنازہ بصرہ لاکر سپرد
خاک کیا گیا ۔
ماخذ مراجع، محدثین عظام حیات و خدمات
