نواسۂ اعلیٰ حضرت ،علامہ مولانا ادریس رضا خاں بریلوی
نام: ادریس رضا
سلسلۂ
نسب والدِ ماجد کی طرف سے:
مولانا ادریس رضا
خاں کا والد کی طرف سے سلسلۂ نسب یوں ہے:
مولانا ادریس رضا خان ابن مولانا حکیم حسین رضا خان ابن استادِ زمن مولانا
حسن رضا خان صاحب ابن علامہ نقی علی خان صاحب ابن مفتی رضا علی خان صاحب (رحمۃ اللہ تعالٰی علیھم)
سلسلۂ
نسب والدۂ ماجدۂ کی طرف سے:
والدۂ ماجدہ کی
طرف سے سلسلۂ نسب یوں ہے :
مولانا ادریس رضا خان ابن کنیز حسین فاطمہ بنت امام احمد رضا خان ابن
علامہ نقی علی خان بن مفتی رضا علی خان علیہم الرحمۃ۔
تاریخِ
ولادت:
نواسۂ اعلیٰ حضرت، علامہ مولانا ادریس رضا خاں بریلویسن 1907ء میں
پیداہوئے۔
اَساتذہ:
حضرت مولانا ادریس
رضا خاں صاحب ایک جیّد عالمِ دین تھے۔آپ نے اُس وقت کے جیّد او رمعروف علمائے اہل
ِ سنّت سے تعلیم حاصل کی۔
·
خلیفۂ
اعلیٰ حضرت حضور صدر الشریعہ علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی ( مصنّفِ بہارِ شریعت
)۔
·
شہزادۂ
حضور اُستادِ زمن حضرت علامہ مولانا محمد حسنین رضا خاں بریلوی
معاصرین:
آپ نے اپنے زمانے
کے معروف ومشہور علمااور مشائخِِ اہلِ سنّت کی صحبت اختیار کی، مشائخ کرام کے ساتھ
مل کر مذہب ومسلک کی اپنے طور پر نمایاں خدمات انجام دیں۔
آپ کے معاصرین میں مندرجۂ ذیل حضرات کے اسمائے گرامی ملتےہیں:
·
سیّد
العلماء علامہ سیّد آل مصطفیٰ( بمبئی ، سجادہ نشین خانقاہ برکاتیہ مارہرہ شریف)۔
(سید
العلماء اور مولانا ادریس رضا خان صاحب نے تعلیم اجمیر شریف میں پائی؛ وہاں، آپ کے
استادِ محترم حضور صدرالشریعہ تھے)
·
نبیرۂ
اعلی حضرت شہزادۂ حضور حجۃ الاسلام مفسر اعظم مولانا ابراہیم رضا خان صاحب المعروف
جیلانی میاں ۔
·
محدثِ
اعظم پاکستان علامہ مولانا سردار احمدچشتی( پاکستان )
·
علامہ
مولانا شمس الدین صاحب (مصنّفِ قانونِ شریعت )
·
علامہ
محمد ابراہیم خوشتر رضوی۔
علامہ ابراہیم خوشتر آپ کے ہم سبق تھے یا
نہیں اس کا تو علم نہیں، البتہ آپ مولانا ادریس رضا خاں صاحب، ریحانِ ملّت علامہ
ریحان رضا خان اور حضور صدرالعلما ء مولانا تحسین رضا خان رضی اللہ تعالٰی عنہم کے بہت گہرے اور مخلص دوست تھے۔
سفر
حج :
مولانا
ادریس رضاخاننے پہلا حج قطبِ زمانہ غوث الوقت مجدد ابن مجدد سرکار مُفتیِ اعظم
ہند کے ساتھ ادافرمایا۔
حضور مُفتیِ اعظم نے جب دوسرے حج کا ارادہ فرمایا تو اپنی صاحبزادی
یعنی میری دادی جان سے فرمایاکہ میں لالہ میاں کا حجِ بدل کرنے جارہا ہوں۔ وہاں
حضرت نے مولانا ادریس رضا کا حجِ بدل فرمایا۔ ادہر ہند میں ان کی اہلیہ یعنی میری
دادی جان نے خواب میں اپنےشوہر (مولانا
ادریس رضا خاں ) کو دیکھا کہ ان کے گلے میں پھولوں کے ہار ہیں اور فرمارہے ہیں کہ
بیگم میرا حج ہوگیا۔
بیعت:
مولانا ادریس رضا خان کو اپنے نانا جان امام ِاہلِ سنّت سیّدی سرکار
اعلی حضرت سے شرفِ بیعت حاصل تھا۔
نکاح:
مولانا ادریس رضا
خان کے عقد میں تاجدار اہلِ سنّت سرکار مُفتیِ اعظم ہند کی دوصاحبزادیاں یکے بعد
دیگرے آئیں۔
پہلی صاحبزادی سے دو اولادیں ہوئی جو بچپن میں ہی گزرگئیں تھیں۔
دوسری صاحبزادی سےایک صاحبزادے(سراجِ ملّت نواسۂ مُفتیِ اعظم ہند علامہ سراج رضا
خاں ) اور چھ بیٹیاں ہوئیں۔
مولانا ادریس رضا خاں کی پہلی اہلیہ کے انتقال کے بعد آپ سے والدین
نے دوسرا نکاح کرنے کو کہا تو آپ نے کہا جہاں سے انوار (سرکار مفتی اعظم ہند کے
شہزادے) کاجنازہ اٹھاتھا، وہیں سے میرا جنازہ بھی اٹھے گا، تو حضرت مفتی اعظم نے فرمایا
کہ وہ میرا اپنا بچہ تھا ۔ا گر انوار کے
چالیسویں پر بھی کہتا تو میں کردیتا ،پھر دوسری صاحبزادی سے نکاح ہوا جن سے حضرت سراج میاں صاحب ہوئے ۔۔۔اور چھ صاحبزادیاں
بھی۔
ادریس میاں کا قول ایسا صادق آیا کہ گھر کے لوگ
بتاتے ہیں کہ جس کمرے میں پہلی اہلیہ کا وصال ہوا، اسی جگہ آپ نے وصا ل فرمایا۔
مفتی اعظم ہند کے معتمد :
مفتی
اعظم ہند ہر وقت خدمتِ خلق میں مشغول رہتے اور تبلیغی دورے پر رہتے تھے تو آپ نے اپنی تمام جائداد کی ذمّے داری حضرت ادریس رضا خاں کے سپرد کردی تھی۔
حضرت ادریس رضا خان صاحب جتنے صورت کے جمیل تھے
اتنے سیرت کے بھی جمیل تھے۔ دیکھنے والے بتاتے ہیں کہ تاج دارِ اہلِ سنّت سرکار
مفتیِ اعظم کی شباہت دوحضرات میں تھی:
مولانا ادریس رضا خان صاحب میں اور دوسرے حضور
امین شریعت مولانا سبطین رضا خان صاحب میں۔
وصال
پرملال:
آپ کا وصال 29؍ شعبان المعظّم 1385ھ/1965ء کو ہُوا۔ آپ کے وصال کے وقت آپ کے اکلوتے شہزادے
علامہ سراج رضا خان صاحب کی عمر تقریباً
9یا 10 سال تھی اور صاحبزادیاں بھی کم عمر تھیں۔
وصال کے وقت، آپ کے ہونٹوں پر جنبش تھی۔ تاج دار اہلِ سنّت حضور مفتی
اعظم ہند نے اپنے کان لگا کر ان کی آواز سنی اور فرمایا کہ میں گواہ ہوں کہ لالہ
میاں (ادریس رضا خان) کا انتقال ایمان پر ہوا ہے جس وقت آواز سننے کے لیے سرکار
تاج دارِ اہلِ سنّت جھکے تھے اس کے بعد آپ کی پیٹھ میں خم آ گیا تھا۔ اسی موقع پر
آپ نے حضرت ادریس رضا خان صاحب کے بچوں کے حق میں بہتری کی دعا فرمائی تھی ۔ اُس
وقت حضرت ادریس رضا خان صاحب کے کل 10 نواسے اور 4 نواسیاں اور 1 پوتا اور دو
پوتیاں تھیں جن میں بڑے نواسے شہزادۂحضور حبیبِ ملّت محمد حبیب رضا خاں صاحب کا
سڑک حادثے (Road Accident) میں انتقال ہوچکا تھا۔
ماخذ:
’’نواسۂ اعلیٰ حضرت مولانا ادریس رضا خاں..حیات و خدمات‘‘...از.. نبیرۂ
اُستاذِ زمن، نواسۂ مفتی اعظم ہند ، شہزادۂ سراج ملّت مولانا قاری محمد فیض رضا
خاں تحسینی، خواجہ قطب بریلی شریف، مشمولۂ
ماہ نامہ اعلیٰ حضرت، بریلی شریف، مارچ 2020ء، ص 18 تا 19)
