امام ابو محمد عبدالمومن دمیاطی
نام : عبدالمومن
کنیت : ابومحمد
لقب : شرف الدین
ولادت :
آپ کی
ولادت ۶۱۳ھ بمقام تونہ میں ہوئی۔
نسب :
عبدالمومن
بن خلف بن ابی الحسن بن شرف بن خضر بن موسیٰ۔
شہر دمیاط میں پروان چڑھے اور اسی کو اپنا وطن
بنایا۔ دمیاط سمندر کے کنارے مصر کا انتہائی شاداب شہر ہے اسی شہر کی طرف نسبت
کرتے ہوئے آپ دمیاطی کہلائے۔
تحصیلِ علم:
امام دمیاطی نے
سب سے پہلے اپنے شہر کے علاوہ محدثین سے علم حاصل کیا پھر ذوقِ علم ان کو اسلامی
وطنوں اور شہروں میں پھراتا رہاانھوں نے طلب علم کے سلسلے میں مصر، اسکندریہ، بغداد،
حلب، حماۃ، ماردین، حران، دمشق، حرمین وغیرہ کا سفر کیا۔ علم وفضل کے حصول کا جذبہ
صادق انہیں علمی ترقی کے منازل طے کراتا رہا۔ انہوں نے اپنے عہد کے بے شمار جید
محدثین اور علمِ دین کا ذخیرہ منتقل کیا۔ حافظ ذہبی لکھتے ہیں "وحمل عن
ابن خلیل حمل دابۃ کتبا واجزءا"
شیوخ و اساتذہ:
کثرتِ رحلت کا
اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ نے اپنی معجم میں تین ہزار تین سو اساتذہ کا
تذکرہ کیا ہے۔ چودہ اہم شیوخ یہ ہیں۔ علی بن زیدنساری، ظافر بن شحم ، منصور بن
دباغ، ابن مقیر ، علی بن مختار، یوسف بن مجتلی، ابونصر بن علیق ، ابراہیم بن خیر،
ابو القاسم بن رواحہ ، علامہ ابن خلیل، صفیہ قرشیہ، عبد الخالق نشتری، عیسیٰ حناط۔
(ایضاً)
علم و فضل:
امام دمیاطی نے
جس محنت اور لگن سے علم حاصل کیا تھا اللہ تعالیٰ نے ان کی کاوشوں کو بار آور کیا
اور علم و فضل میں یکتائے روزگار بنا دیا۔ وہ علم وفضل اور خصائل و شمائل کا ایک
نورانی پیکر تھے۔ علمِ حدیث، فقه، انساب، لغت و ادب میں امتیازی شان رکھتے تھے۔
حسنِ سیرت اور حسنِ صورت کے لحاظ سے بھی منفرد تھے۔ حافظ ذہبی آپ کے علمی، عملی،
اخلاقی اور صوری محاسن ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں۔
"كان حافظاً
متقناً ذكياً جيد العربية غزير اللغة واسع الفقه راساً في علم النسب ديناً كيساً
متواضعاً بساماً محبباً الى الطلبة مليح الصورة نقى الشيبة كبير القدر". یعنی
آپ (دمیاطی) راست گو، حافظ اور متقن تھے، ادب و عربیت اور لغت میں ماہر تھے۔ فقہ میں
اپنے معاصرین پر فوقیت رکھتے تھے اور علمِ انساب میں تو آپ کا جواب نہیں تھا۔ علمی
کمالات کے ساتھ ساتھ دیانت دار، عقلمند اور تواضع پسند تھے۔ آپ کے چہرے پر ہر وقت
مسکراہٹ کھیلتی رہتی تھی۔ طلبہ آپ سے بڑی محبت کرتے تھے۔ خوبصورت اور خوش اخلاق
تھے۔ آپ کے سفید بال بڑے بھلے معلوم ہوتے تھے غرض ہر لحاظ سے آپ جلیل القدر اور عظیم
المرتبت شخصیت کے حامل تھے۔ (ایضاً)
دوسرے ممتاز اہل
علم کے اقوال و آراء امام دمیاطی کے بارے میں درج ذیل ہیں۔
حافظ ابن حجر:
"وہ (دمیاطی) مختلف چیزوں میں یکتا تھے اور بشاش تھے۔"
صفدی: "وہ
کثیر الفنون تھے۔"
ابن عماد حنبلی
: " ان کے کمالات نہایت متنوع اور گونا گون تھے"
ابن عماد حنبلی:
" وہ ائمہ اعلام میں تھے"
مزی: " عالی
قدر اور بلند پایہ تھے۔"
حدیث:
حدیث میں امام
دمیاطی کا مرتبہ کافی اونچا تھا وہ اپنے دور کے ہی ممتاز محدث نہیں تھے بلکہ خاتم
المحد ثین سمجھے جاتے تھے۔ حفظ وضبط، کثرتِ روایت، اتقان، ثقاہت اور سندِ عالی میں
ان کا پایہ بہت بلند تھا۔ شاہ عبد العزیز محدث دہلوی تحریر فرماتے ہیں
"صدق" دیانت اور حفظ و اتقان میں اپنے زمانہ کے سردارتھے۔ (بستان
المحد ثین ص ۱۵۳)
صاحبِ شذرات
الذہب نے آپ کو فقیہ نقادالحدیث لکھا ہے۔ (شذرات الذہب)
حلقہ درس:
حافظ دمیاطی جس
طرح دولتِ علم اپنے دامن میں سمیٹ کر جامع فضل و کمال بن گئے اسی طرح وہ اپنے علمی
خزانوں کو تشنگانِ علم تک پہونچانے کی تمنا بھی رکھتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے درسِ
حدیث و فقه کے لیے مستقل حلقہ قائم کیا جس میں دور دراز سے طلبہ شامل ہوتے اور آپ
کے کرمِ التفات علیٰ جو اہر پاروں سے دامن مالا مال کرتے۔ حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں
"دور دراز علاقوں سے علم وفن کے شائقین اور طلبان کی خدمت میں جوق در جوق آکر
ان سے فیضیاب ہوتے تھے۔ (البدایہ ج ۱۴ ص ۲۰)
تلامذہ :
آپ کے حلقہ درس
سے استفادہ کرنے والوں کی بہت بڑی تعداد ہے کچھ اہم تلامذہ کے نام یہ ہیں:
امام ابو حیان
اندلسی ، امام ابو الفتح یعمری ، امام علم الدین برزالی، امام قطب الدين عبد الکریم،
امام فخر نویری، امام تقی الدین سبکی، ابو الحسن یو نینی، شیخ الاثیرالدین ، کمال
الدین بن عدیم، قاضی علم الدین اخنائی، شیخ محمد بن محمد ابیوری اور محی الدین نووی۔
(ذکر
الحفاظ ج ۴ ص و تذکره ج 2)
تصانیف:
شیخ المحدثین
امام دمیاطی جس طرح گونا گوں علوم وفنون کے حامل تھے اسی طرح مختلف موضوعات پر آپ
نے لا تعداد کتابیں تصنیف کیں، جن کو شہرت و مقبولیت حاصل ہوئی۔
(۱) کتاب اتسلی والالتباط
من ثواب من تقدم من الافراط
(۲) تساعیات مطلقہ
(۳) کتاب ذکر ازواج
النبی اولادہ واسلافہ
(۴) کتاب الذكر والتسبیح
اعقاب الصلوٰۃ
(۵) کتاب فضل الخیل
(۶) کتاب فضل صوم ست
من شوال
(۷) قبائل الخزرج
والاوس
(۸) کشف المغطى فی تبیین
صلٰوۃ الوسطى
(۹) المتجر الرابح فی
ثواب العمل الصالح
(۱۰) مجالس بغداد
(۱۱) مجالس دمشقیہ
(۱۲) اربعین تساعیۃ
الاسناد
(۱۳) اربعین فی
الجہاد
(۱۴)ا ربعین موافقات
عوالی
(۱٥) معجم دمياطي
وصال
ماه ذی قعده ٧٠٥ ھ اچانک آپ
کا وصال ہوا۔
شاہ عبدالعزیز
صاحب تحریر فرماتے ہیں: "ایک روز حدیث کے درس کے بعد ان پر غشی طاری ہوئی اسی
حالت میں شاگرد ان کو مکان لے گئے تو دیکھا کہ روح پرواز کر چکی تھی، عربی میں اس
موت کو موت الفجاۃ کہتے ہیں، یہ واقعہ ماہِ ذی القعدہ ۷۰۵ھ میں پیش
آیا، ان کے جنازہ میں لوگوں کا بہت ہجوم تھا۔
(بستان
المحدثین ص ۱۵۲)
ماخذ مراجع، محدثین عظام حیات و خدمات
