امام ابو عبدالله محمد شمس الدین ذھبی
نام : محمد
کنیت : ابو عبداللہ
لقب : شمس الدین
ولادت :
آپ كی ولادت ۶٧٣ھ دمشق میں ہوئی ۔
نسب :
محمد
بن احمد بن عثمان بن قیماز بن عبداللہ فارقی چونکہ آپ کا آبائی پیشہ سنار ی تھا اس لئے ذہبی کے لقب مشہور
ہوئے۔
آپ کے آباء و
اجداد اصلاً ترکمانی تھے جو ہجرت کر کے دیارِ بکر کے شہر میافارقین میں آباد ہوئے
اور پھر وہاں سے شام کی راجدھانی دمشق آ گئے ۔ وہیں ربیع الاول ۶۷۳ھ میں آپ کی ولادت ہوئی۔
تعلیم:
حافظ ذہبی نے
جس دور میں چشمِ ہوش کھولی وہ سرزمینِ شام کی علمی و فنی ترقی کا زمانہ تھا ۔ امام
مزی،امام ابن دقیق العید، ابن شہبہ اور سبکی جیسے آفتابِ علم و حکمت آپ کے معاصر تھے جن کی
شعاعوں سے عالمِ اسلام روشن ہوا، آپ کا خاندان اگر چہ تجارت و حرفت سے وابستہ تھا
تاہم علمی ذوق و رجحان سے خالی نہ تھا جس کا ثبوت یہ ہے کہ جس سال آپ پیدا ہوئے آپ
کے رضاعی بھائی نے مختلف علماء سے آپ کے لئے سندِ اجازت لے لی جو آگے چل کر زندگی
میں بہت مفید ثابت ہوئی۔ جب آپ پڑھنے لکھنے کے قابل ہوئے کتب کی تعلیم شروع ہوئی ۶۹۰ھ میں جبکہ عمر ۱۸ سال کی ہوئی
اس وقت علمِ حدیث کی تحصیل کی جانب متوجہ ہوئے اور دمشق کے مختلف علماء و محدثین
کے دامنِ فیض سے وابستہ ہوئے جن میں ابو حفص عمر بن القواس، ابو فضل احمد بن ھبۃ
اللہ بن عساکر اور یوسف بن احمد قمولی خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں مگر آپ کا ذوقِ
علم دوسرے دیار و امصار کے علماء کی خدمتوں میں کشاں کشاں لے گیا چنانچہ بعلبک،
مصر، اسکندریہ، مکہ، حلب اور نابلس کے اکابرِ شیوخ سے ملاقات کی اور ان سے خوب خوب
استفادہ کیا۔
علمِ حدیث سے
قلبی لگاؤ کا محرک یہ واقعہ ہوا کہ آپ کے خصوصی استاد امام ابن برزالی نے ایک
مرتبہ آپ کا خط (تحریر) دیکھا تو بہت خوش ہوئے اور فرمایا تمہارا خط محدثین کے خط
سے ملتا ہے۔ ان کے اس جملہ نے محدثین کی محبت اور ان کے طریقہ کار کو اپنانے کا
شوق پیدا کر دیا اور اس قدر طلبِ حدیث کے گرویدہ ہو گئے کہ ساری زندگی اسی میں وقف
کر دی ۔ (الدرر الطالع ج
۳ ص ۱۱۰)
ذوقِ
علم کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ کے شیوخ کی تعداد ایک ہزار سے
متجاوز بتائی جاتی ہے۔ علامہ حسینی فرماتے ہیں کہ صرف علمِ جرح میں آپ کے اساتذہ کی
تعداد ایک ہزار سے زائد ہے۔ (ذیل تذکرۃ الحفاظ ص ۳۵)
اساتذہ :
عبدالخالق بن
علوان، زینب بنت عمر کِندی، احمد بن اسحاق ابرقوھی، عیسیٰ بن عبدالمنعم بن شہاب، شیخ
الاسلام ابن دقیق العید، حافظ ابو محمد دمیاطی ، حافظ ابوالعباس الظاہری، ابوالحسن
علی بن احمدعراقی ،ابو الحسن یحیی بن احمد بن صواف ، توزری، منقرزینی، عماد بن
بدران۔
علم و فضل:
حافظ شمس الدین
ذہبی نے خدا داد صلاحیت ، علم کو بروئے کار لا کر جس شوق و انہماک کے ساتھ علم
حاصل کیا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آپ اپنے دور کے عظیم محدث، فقیہ، مورخ اور امام
جرح وتعدیل بن گئے، تاریخ رجال میں آپ کے مرتبہ کی کوئی دوسری شخصیت نظر نہیں آتی۔
علما و فن محدثین نے آپ کے علم، اور شخصیت
کو اس طرح خراجِ تحسین و عقیدت پیش کیا اور علمی بلندی کا اعتراف کیا ہے۔
علامہ سبکی: "آپ کے زمانہ میں حفاظِ حدیث چار تھے،
مزی، برزالی، ذہبی اور میرے والد۔ مگر ان سب میں امام ذہبی کا پایہ فائق تھا، جرح
و تعدیل کے اگر شیخ تھے تو وہی تھے۔
(طبقات
الشافعیہ)
علامہ ابن کثیر:
آپ شیخ المحدثین
اور مورخِ اسلام ہیں، شیوخت حدیث و حفظِ حدیث آپ پر ختم ہے۔ (البدایہ
والنہایہ 194/14)
صلاح الدین صفدی:
فنِ حدیث، رجال میں بڑی پختگی، عللِ حدیث اور
معرفتِ حدیث کی گہری نظر تھی یقیناً آپ کے لیے ذہبی (سونا والے) کی نسبت بہت موزوں
ہے۔
(الوافی بالوفیات
ج 162/2)
حلقۂ درس:
حافظ ذہبی نے
علومِ اسلامی بالخصوص حدیث اور رجال کی معرفت میں جو نمایاں مقام حاصل کر لیا تھا
اس کی شہرت دور دور تک پھیلی اور دور بہت کے شائقینِ جرح و ورق آپ سے کسبِ فیض کے
لیے آنے لگے۔
تلامذہ:
آپ سے بے شمار
علما و طلبہ نے استفادہ کیا مشہور تلامذہ میں سے قاضی القضاۃ تاج الدین ابونصر عبد
الوہاب بن علی بن عبد الکافی السبکی، شمس الدین ابو المحاسن محمد بن علی الحسینی ،
قاضی جمال الدین ابو الطیب الحسین بن علی
السبکی، ابو عبد اللہ محمد بن مفلح الصالحی،
صلاح الدین ابو الصفاء خلیل بن ایبک الشافعی ، قاضی القضات موفق الدین
ابوعبداللہ محمد بن الحجاوی غیرہ تھے، قاضی ابن شہبہ فرماتے ہیں کہ "بڑے بڑے
حفاظ نے آپ سے روایت حاصل کی علامہ سبکی ، برزالی، علاقی ، ابن کثیر، ابن رافع،
ابن رجب اور آپ کے مشائخ اور ہم عصروں میں سے ایک مخلوق نے آپ سے استفادہ کیا ہے۔ (سیر
اعلام النبلاء ،ج 1ص 69)
تصانیف:
علامہ سلف کے
نقشِ قدم پر چلتے ہوئے حافظ ذہبی نے پوری عمر قلم و قرطاس سے سروکار رکھا اور آپ
کے قلم سے اتنی کثیر، مفید اور اہم کتابیں وجود میں آئیں جنہیں دیکھ کر یہ خیال
گزرتا ہے کہ یہ سارا کام اکیلا ایک فرد سے انجام پانا ممکن نہیں مگر یہ اللہ کا
فضل ہے وہ جسے چاہے نوازے۔ (ذلک فضل اللہ یؤتیہ من یشآء)
ڈاکٹر بشار عواد نے آپ کی تصانیف کی تعداد ۲۱۵ بتائی ہے
آپ کی اہم تصانیف حسبِ ذیل ہیں۔
(۱) تاریخ اسلام
الکبیر (۲) میزان الاعتدال۔ (۳) تجرید
اسماء الصحابہ یہ کتاب ابن اثیر کی مشہور تالیف اسد الغابہ کا اختصار ہے نیز امام
نے اس میں بہت سے اسماء کا اضافہ بھی کیا ہے (۴) دول
الاسلام (۵) العبر فی خبر من غبر (۶) سیر
اعلام النبلاء (۷) کتاب المعرفة القرآء علی الطبقات والاعصار (۸) تہذیب التہذیب (۹) الکاشف (۱۰) المعجم الکبیر (۱۱) المعجم الصغیر (۱۲) المعجم الوسطی (۱۳) قرۃ العینین فی
ضبط رجال الصحیحین (۱۴) تلخیص
المستدارک (۱۵) مختصر
تاریخ بغداد (۱۶) مختصر المحلی لابن حوم (۱۷) کتاب
الکبائرو بیان المحارم و غیرہ من الکتب والرسائل۔
جرح وتعدیل:۔
فنِ جرح و تعدیل
کے میدان میں حافظ ذہبی کی مسابقت محتاجِ بیان نہیں اس فن میں آپ نے گرانقدر تالیفات
یادگار چھوڑیں ہیں جو تاریخ سے متعلق اچھی بعض کتابیں ہیں ان میں یہ موضوع غالب ہے
اس فن سے متعلق آپ کی تقریباً ۱۵ تالیفات ہیں
جن میں اصول و جرح و تعدیل سے متعلق کچھ اہم کتابیں بھی ہیں۔ (سیر اعلام
النبلاء ج ١ ص ٧٩)
مکارمِ اخلاق:
حافظ ذہبی علم
وفضل میں امتیازی شان کے ساتھ ساتھ عبادت و ریاضت اور حسنِ اخلاق کا پیکر تھے۔ علم
کی وجاہت کے باوصف وہ بڑے خليق، متواضع انسان تھے۔
وصال:
3 ذی القعدہ ٧٤٨ھ کو ادارالحديث ام
صالح میں وصال ہوا۔ جامع دمشق میں نمازِ جنازہ پڑھی گئی اور "بابِ صغیر"
میں سپردِ خاک کر دیے گئے۔
ماخذ مراجع، محدثین عظام حیات و خدمات
