امام ابو عبداللہ محمد ضیاء الدین مقدسی
نام : محمد
کنیت : ابو عبداللہ
لقب : ضیاء الدین
ولادت :
آپ کی
ولادت ۵ جمادی الاخریٰ ۵۶۹ھ کو بیت المقدس
میں ہوئی۔
نسب :
محمد
بن عبد الواحد بن احمد بن عبد الرحمن بن اسماعیل بن منصور۔
وطن کی
نسبت سے مقدسی کہلاتے تھے۔
تحصیل علم:
آپ خدا داد
ذہانت، طمامی اور حفظ وضبط کی قوت سے مالا مال تھے۔ علم کی طلب میں انہوں نے دمشق،
بغداد، عراق، اصفہان، ہرو، حلب، مصر، حران، موصل اور جاز کا سفر کیا اور وہاں کے شیوخ
واساتذہ سے پوری دلچسپی کے ساتھ علم حاصل کیا اور بنیادی کتابیں نقل کیں اس طرح آپ
کے پاس علمی اور فنی کتابوں کا وافر ذخیرہ فراہم ہو گیا تھا۔
انہیں علم وفن سے غیر معمولی شغف تھا۔ ابن نجار کہتے ہیں
"میں نے علم کی طلب وتحصیل کا ان سے زیادہ شوقین کسی کو نہیں پایا"۔
ابن
رجب فرماتے ہیں کہ "انہوں نے پانچ سو سے زیادہ شیوخ کی کتابیں نقل کیں"۔
اساتذہ :
ابوالمعالی بن
صابر، ابوالمجد بانیاسی، احمد بن موازینی، عمر بن علی جوینی، یحییٰ ثقفی،
ابوالقاسم بصیری، مبارک بن معطوش، علامہ ابن جوزی، ابو جعفر صیدلانی، عبدالباقی بن
عثمان، موید طوسی، عبدالعزیز بن محمد بزار، ابوالِمظفر سمعانی، ابوطاہر سلفی۔
(تذکرۃ
الحفاظ ج ۴ ص ۱۹۱)
علم و فضل:
ضیاء مقدسی علم
وفضل میں کافی اونچا مقام رکھتے تھے ان کی ہمہ گیر علمی شخصیت اور کمالِ فن کا
اعتراف علماء اور تذکرہ نگاروں نے کیا ہے۔
ابنِ نجار: "ما رايت مثله في
نزهة وعفة وحسن طريقة" میں نے نزاہت عفت اور حسن اخلاق میں آپ کے مثل کسی
کو نہیں دیکھا۔ (ایضاً)
شرف بن نابلسی : "ما رايت مثل
شيخنا الضياء" میں
نے اپنے شیخ ضیاء جیسا کسی کو نہیں پایا۔
عمر بن حاجب: "شيخنا ابو عبد
الله شيخ وفته ونسيج وحده علما وحفظا وثقة ودينا من العلماء الربانيين وهو اكثر من
ان يدخل عليه مثل كان شديد التحري في الرواية مجتهداً في العبادة كثير الذكر
منقطعا متواضعا سهل العارية" ہمارے شیخ ابو عبد اللہ اپنے زمانہ کے شیخ اور علم
وحفظ اور ثقاہت و دیانت میں اپنی نظیر آپ تھے علاوہ ربانیین میں شمار ہوتے تھے۔ آپ
کی شان اس سے بہت بلند وارفع تھی کہ میرے جیسا انسان آپ کی مدح وثنا میں لب کشائی
کرے۔ حدیث بیان کرنے میں بڑے محتاط اور عبادت وذکر الٰہی میں بجد سرگرم تھے۔ تواضع
پسند اور خلوت نشیں تھے اپنی کتابیں مستعار دینے میں بہت فیاض تھے۔ (ایضاً)
صاحبِ شذرات لکھتے ہیں۔ وہ یکتائے روزگار تھے ان کی شہرت
محتاج بیان نہیں۔
حافظ ذہبی: "الامام العالم
الحافظ الحجة محدث الشام شيخ السنة المقدسی" محدثِ
شام، عالی شان، نامور امام، بلند پایہ حافظِ حدیث اور امورِ عالم ہیں۔ بیت المقدس
کے رہنے والے ہیں۔ (تذکرہ ج
۴ ص ۱۹۱)
حافظ ذہبی آگے لکھتے ہیں۔ ونسع و صنف و
صحح و لین و جرح و عدل و کان المرجوع اليه فی هذا الشان۔ آپ سریع القلم،
ناسخ اور منجھے ہوئے مصنف تھے صحیح و تضعیف اور جرح و تعدیل کے ماہر تھے اس سلسلے
میں آپ کی بات کو حرفِ آخر سمجھا جاتا تھا۔ (ایضاً)
زکی بن برزالی: ثقة جبل حافظ
دين آپ ثقہ،
علم کے پہاڑ، حافظ اور متدین تھے۔ (ایضاً)
حدیث میں مہارت و بلند پائیگی کا ثبوت یہ بھی ہے کہ وہ
جرح و تعدیل کے امام ،فن رجال کے ماھر ماہر اور احادیث کے علل و اسقام اور صحیح و غلط
روایات میں حفظ و امتیاز کی پوری صلاحیت رکھتے تھے حافظ ذہبی کا قول اوپر گذرا کہ
"وہ جرح و تعدیل کے امام اور اس فن کے مرکز و مرجع تھے"
دیگر علوم:
حدیث
کے علاوہ قرآت اور فقہ میں بھی دستگاہ رکھتے تھے اربابِ تذکرہ نے فقیہ و مجتہد
لکھا ہے۔
مدرسہ کا قیام:
آپ نے
اپنی ذاتی کوشش سے جامع مظفری میں دارالحدیث کے نام سے ایک مدرسہ قائم کیا۔ وہ خود
اس مدرسہ کو چلاتے تھے۔ دوسروں سے مدد نہ لیتے تھے۔ اس مدرسہ کے لئے انہوں نے اپنی
تمام کتابیں وقف کر دی تھیں، آپ کے بعد بھی یہ مدرسہ مدتوں تک قائم رہا جس میں
طالبانِ علم قرآن و حدیث و فقہ و فتاویٰ کا درس لیتے رہے۔
حافظہ
ورس سے ہزاروں طالبانِ علم و دین نے فیض پایا چند نام یہ ہیں۔
قاضی
تقی الدین، ابن موازی، امین الفراء، نجم شعرانی، ابن خباز، تقی بن مومن، عثمان
نساج، ابن طلال، عیسیٰ، ابوبکر بن عبدالداہم، عیسیٰ سمار، قاضی سالم، ابن نجار،
ابن نقطہ، شرف بن بالسی، عمر بن حاجب۔ (تذکرہ ج
۴ ص ۱۹۱)
تصانیف:
ضیاء
مقدسی نے جہاں اپنے علم و فن سے درس و تدریس کے ذریعہ لوگوں کو فائدہ پہنچایا وہیں
اپنی وسیع معلومات اور علمی تبحر کی نشانیوں سے مستقبل میں آنے والی نسلوں کے
استفادہ کے لئے گرانقدر مصنفات یادگار چھوڑیں جو کیفیت و کمیت ہر لحاظ سے کافی اہمیت
رکھتی ہیں۔ آپ کی کتابوں کے نام یہ ہیں۔
(۱) کتاب الاحکام (۲) الکفایات المستطرفہ (۳) الرواۃ
عن البخاری (۴) الطب والرقایة (۵) افراد الصحیح (۶) الموبقات (۷) النھی عن سب
الصحابہ (۸) الہجرۃ فی ارض الحبشۃ (۹) دلائل النبوۃ
والالٰہییات(۱۰) ذم المسکر (۱۱) سیر المقادسہ (۱۲) شفاء العلیل (۱۳) صفۃ الجنہ (۱۴) صفۃ النار (۱۵) غرائب الحدیث (۱۶) فضائل الاعمال (۱۷) فضائل الشام (۱۸) فضائل القرآن (۱۹) قصہ موسیٰ (۲۰) کلام الاموات (۲۱) مناقب اصحاب
الحدیث (۲۲) الِمختارۃ فی الحدیث۔
المختارۃ فی الحدیث:
اصل
نام الاحادیث الجیاد المختارہ مما لیس فی الصحیحین او احد ہما۔ یہ کافی ضخیم کتاب
ہے جو نوے اجزاء پر مشتمل ہے مگر یہ کتاب پایہ تکمیل کو نہ پہونچ سکی۔ یہ صحیح ابن
خزیمہ، صحیح ابن حبان اور صحیح مستدرک کے طرز کی کتاب ہے اور ان صحیح حدیثوں پر
مشتمل ہے جو صحیحین میں درج نہیں۔ اس میں صحت کا التزام ہے ان صحیح روایتوں کو جمع
کیا ہے جن کی پہلے کسی نے تصحیح نہیں کی تھی۔
شاہ
عبدالحق صاحب کا بیان ہے کہ "ائمہ صحاح کے علاوہ دوسرے علماء نے بھی صحیح حدیثوں
کے مجموعے مرتب کئے، ضیاء مقدسی کی المختارہ اسی نوعیت کی کتاب ہے اس میں ان صحیح
حدیثوں کی تخریج کی گئی ہے جو صحیحین میں نہیں ہیں۔
اس کی
ترتیب ابواب کے بجائے حروفِ معجم کے مطابق مسانید پر کی گئی ہے اس کتاب کو ابن خیر۔
اور حاکم کی کتابوں جیسی شہرت تو ملی مگر اس کا شمار انہیں کتابوں کے ساتھ ہوتا ہے
حافظ ابن کثیر کے نزدیک یہ مستدرک سے زیادہ بلند پایہ ہے وہ لکھتے ہیں: ”یہ علم و
علوم اور علمی فوائد پر مشتمل ہے اور مستدرک حاکم سے بھی بڑھ کر ہے ہمارے بعض
مشائخ اس کو اس پر ترجیح دیتے ہیں کاش یہ مکمل ہوگئی ہوتی۔“
سیرت و اخلاق:
ضیاء
مقدسی بہت حق گو، نفع بخش، نیک صالح کے حریص اور مکارمِ اخلاق کے جامع تھے ابن
نجار کہتے ہیں، ”وہ حسنِ سیرت میں ممتاز اور بے نظیر تھے۔“
وہ بڑے
زاہد، متقی اور پرہیز گار انسان تھے۔ ابن کثیر لکھتے ہیں ”وہ زہد و عبادت، ورع و
تقویٰ اور خیر خیرات میں بہت پیش پیش رہتے تھے
وصال:
18 جمادی
الآخرۃ 643ھ بروز دوشنبہ وصال
فرمایا اور جبل قاسیون کے اندر دفن کئے گئے۔
ماخذ مراجع، محدثین عظام حیات و خدمات
