امام ابو الفضل قاضی عیاض سبتی
نام: عیاض
کنیت : ابوالفضل
لقب : عالم المغرب
ولادت:
سبتہ
کے باشندے تھے ۴۷۶ھ میں ولادت ہوئی۔
نسب:
عیاض
بن موسیٰ بن عمر بن موسیٰ بن عیاض بن محمد بن موسیٰ بن عیاض
خاندانی تعلق یمن
کے مشہور قبیلہ حمر سے تھا آپ ایک علمی خانوادہ کے چشم و چراغ تھے اندلس کا رہنے
والا تھا آپ کے دادا وہاں سے فارس چلے گئے پھر سبتہ میں سکونت گزیں ہوئے۔ (تذکرہ ج ٤ ص ۹۶)
تحصیلِ علم:
علم وفن سے طبعی
و موروثی لگاؤ تھا۔ بے نظیر ذہانت و ذکاوت کے ساتھ آپ نے طلب علم کے میدان میں قدم
رکھا تو اکابر علماء، وحفاظ وفقہاء کی بارگاہوں سے خوب خوب کسبِ فیض کیا انہوں نے
اپنے ہم وطن علماء سے استفادہ کے بعد سنہ ۵۰۷ھ میں اندلس کا
سفر کیا اور قرطبہ کے علماء فن سے کسب فیض کیا۔ تحصیل علم کے لیے بلادِ مشرق کا بھی
سفر کیا۔ اساتذہ :
قاضی ابو الولید
بن رشد، قاضی ابو عبد اللہ بن حمدین، ابو محمد بن عتاب عتابی، محمد بن احمد بن
الحاج، ابو علی بن حسین محمد صدفی، عبد اللہ بن محمد بطلیوسی، عبد اللہ بن محمد خشتی،
ابو علی حسن بن محمد بن سکرہ، ابو القاسم عبد الرحمن بن بقر بن مخلد، ابو الحسین
بن سراج بن عبد الملک، ابو محمد بن عثمان، ہشام بن احمد، قاضی ابو بکر بن عربی،
ابو علی حسن بن علی طریف، ابو القاسم خلف بن ابراہیم بن نحاس، ابو عبد اللہ محمد
بن عبد اللہ مسبل، عبد الرحمن بن محمد بن عجوز، ابو عبد اللہ محمد بن عیسیٰ تمیمی،
ابو حامد محمد بن اسماعیل، سفیان عاص فقیہ، قاضی ابو عبد اللہ تمیمی، ابو الولید
ہشام بن احمد المعروف بن العواد، ابن مغیث، ابو علی غسانی، شیخ ابو بکر طرطوسی، خلیص
بن عبد اللہ، ابو زید بن منتال، ابن السید، ابو زید بن وراق، ابو عبد اللہ خولانی،
ابو الولید بن طریف، ابو الاصبغ بن عیسیٰ بن ابی البحر شنترینی، ابو نصر نہاوندی،
ابو طاہر احمد بن محمد سلفی، ابو عبد اللہ مازری۔
علم و فضل:
وقت کے جلیل
القدر رفقاء، محدثین اور اہل ادب کی صحبت اور ان سے استفادہ نے قاضی عیاض کو جامع
علوم وفنون بنا دیا تھا ۔ وہ حدیث، علوم حدیث، فقہ، تفسیر اور شعر و ادب میں یکساں
مہارت اور کمال رکھتے تھے۔ آپ کی جامعیت علم، فہم و ذکاء اور دانش و بینش کا
اعتراف اکابر علمائے اسلام نے کیا ہے۔
ابنِ خلکان:
"کان امام
وقتہ فى الحديث وعلومه والنحو واللغة وكلام العرب وايامهم وانسابهم وصنف التصانيف
المفيدة"
آپ اپنے وقت میں حدیث کے امام تھے اور اس کے متعلقہ علوم کو سب سے زیادہ جانتے
تھے۔ علم نحو، علم لغت، کلام عرب اور ان کے ایام اور انساب میں بھی آپ کی معلومات
بہت وسیع تھی، اور آپ نے بہت سی مفید کتابیں لکھیں۔
ابو القاسم بن بشکوال : "و هو من اهل
التفنن فى العلم والذكاء واليقظة والفهم" وہ علوم وفنون کے ماہر، صاحب فراست، بیدار مغز اور
دانشمند تھے۔ (ايضاً)
ابن ابار : "احد ائمة الحفاظ
الفقهاء المحدثين الادباء وتواليفه واشعاره شاهدة بذلك" وہ حافظ
حدیث، فقہا، محدثین اور ادباء کے امام تھے۔ ان کی کتابیں اور ان کے اشعار اس امر کی
گواہ ہیں۔ (ايضاً ص ۲۳۱)
حافظ ذہبى : "القاضى العلامة عالم
المغرب الحافظ.... وحاز من الرياسة فى بلده و من الرفعة مالم يصل اليه احد قط من
اهل بلده"
عالم مغرب قاضی چوٹی کے عالم اور جلیل القدر حافظ حدیث ہیں۔ آپ کو اپنے شہر میں وہ
سیادت اور عظمت حاصل ہوئی جو آپ سے پہلے اس شہر میں رہنے والوں میں سے کسی کو نصیب
نہیں ہوئی۔ (تذكرة
الحفاظ ج ۴ ص ۹۶، ۹۷)
صاحب معجم : قاضی عیاض کی علمی خدمات متنوع اور گونا گوں
ہیں۔ فن حدیث میں ان کا انتہاک غیر معمولی اور بے مثال تھا۔ وہ مختلف علوم اور
معانی و اصطلاحات کی فہم ومعرفت میں یکتا، نظم ونثر، لغت ، عربیت اور ادب کے ماہر
تھے۔ در حقیقت ان کی ذات لائق فخر اور سرمایہ کمال تھی اور وہ نہ صرف اندلس بلکہ
مغرب کے علماء اور اہل علم کے صدر الصدور تھے۔ (معجم ص ۲۹۶)
علم حديث :
قاضی عیاض کا
خاص فن حدیث تھا وہ اس میں بڑا شغف واشتغال رکھتے تھے آپ کو اس فن میں کامل مہارت
اور درک تھا۔ وہ علوم حدیث میں بھی خاص بصیرت رکھتے تھے ۔ ان کا شمار ناقدین حدیث
میں کیا جاتا ہے۔
ابو القاسم بن بشکوال : قاضی عیاض طلب علم کے لیے اندلس
تشریف لائے تو انہوں نے قرطبہ میں علماء کی ایک جماعت سے علم حاصل کیا اور حدیث کا
بڑا ذخیرہ جمع کیا حدیث کی طرف ان کی بہت توجہ تھی اور حدیث کے جمع وضبط کا بڑا
اہتمام کرتے تھے وہ علم میں حدیثیں کو پیو نیچے ہوئے تھے اعلیٰ درجہ کی ذکاوت
وفطانت اور بلند فہم و فراست کے مالک تھے ۔
(دائرہ
معارف القرآن ج ۶ ص ۷۹٤ )
دوسرے
اکابر اہل علم کے اقوال وآراء اوپر گزر چکے ہیں جن سے آپ کی بلند پایہ محد ثانہ
شخصیت کا پتہ چلتا ہے۔ نیز علم حدیث اور کتب حدیث کی شرح آپ کی بصیرت فی الحدیث کی
شاہد عدل ہیں۔
تفسیر و فقہ:
قاضی عیاض علیہ
الرحمہ حدیث اور علوم حدیث میں درجہٴ امامت پر فائز ہونے کے ساتھ ساتھ علم تفسیر،
فقہ و قضا اور اختلافیات میں بھی کمال رکھتے تھے صاحب دیباج کا قول ہے حضرت قاضی عیاض
نے علم فقہ ابو عبد اللہ محمد بن عیسیٰ تمیمی اور قاضی ابو عبد اللہ محمد بن عبد اللہ
مسیلی سے حاصل کیا تھا۔ تفسیر اور اس کے متعلقہ علوم وفنون کے عالم، مبصر، فقیہ
اور احکام و شرائع کے بڑے واقف کار تھے۔
فقہ
وقضا میں درک وکمال کے باعث ۳۵ سال کی عمر ہی
میں اپنے وطن سبتہ کے برسوں قاضی رہے پھر غرناطہ میں یہ عہدہ تفویض کیا گیا وہاں
سے آکر دوبارہ سبتہ کے قاضی ہو گئے اور عرصہٴ دراز تک اس عہدہ پر فائز رہے جس کی
وجہ سے قاضی آپ کے نام کا جز بن گیا۔
دیگر علوم وفنون:
دینی علوم وفنون
کے علاوہ وہ نحو، لغت، کلام، انساب، وقائع، شعر و سخن خطابت میں بھی ید طولیٰ
رکھتے تھے۔ تنہا قاضی عیاض کی ذات میں بیک وقت اتنے علوم وفنون کا جمع ہو جانا کوئی
معمولی بات نہ تھی۔ انہیں جن علوم پر قدرت کاملہ تھی ان میں سے کسی ایک علم میں
کمال حاصل کر لینا ہی کسی عالم کے لیے باعث فخر و امتیاز ہوتا تھا یہی وجہ ہے کہ
ان کے معاصرین اور بعد کے ارباب سیر و تاریخ نے ان کی علمی جلالت و جامعیت کا
بھرپور اعتراف کیا ہے۔
آپ کے
فضل وکمال کی کثرت اور گونا گوں علوم وفنون میں مہارت کی شہرت جلد ہی اکناف واطراف
میں پھیل گئی اور لوگوں کا جم غفیر آپ کے گرد طلب علم کے لیے جمع ہونے لگا ۔
آپ کے تلامذہ کی تعداد بے شمار ہے چند اہم نام یہ ہیں:
ابوالقاسم خلف بن
بشکوال، ابو جعفر بن قیصر، عبداللہ بن احمد، ابو محمد عیسیٰ بن حجری، محمد بن حسن
حائزی، حافظ ذہبی۔
تصانیف:
قاضی عیاض بلند
پایہ مصنف تھے ان کی تصانیف کمیت و کیفیت ہر لحاظ سے اہم ہیں جن سے اسلامی علوم
وفنون کے خزانے میں گراں قدر اضافہ ہوا ہے حافظ ذہبی لکھتے ہیں "صنف
التصانیف اللتی سارت بھا الرکبان واشتھر اسمہ و بعد صیتہ ولم یکن احد بسبتہ فی
عصرہ اکثر توالیفاً منہ" آپ نے بہترین کتابیں تصنیف کیں جو چار دانگ عالم میں
پھیل گئیں اور ان کی وجہ سے آپ کی شہرت اور ناموری کو چار چاند لگ گئے۔ آپ کے
زمانہ میں سبتہ کے اندر آپ سے زیادہ کتابیں تصنیف کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ (تذکرہ ج
۲ ص ۹۶)
ابن الآبار: ان کی مفید کتابوں کو نقل کر کے لوگ ان سے
خوب فیضیاب ہوئے وہ ہر طبقہ کے لوگوں میں نہایت مقبول ہوئیں۔
۱) الشفاء
بتعریف حقوق مصطفےٰ (۲) ترتیب المدارک
وتقریب المسالک فی ذکر فقہاء مذہب مالک (۳) کتاب العقیدہ (۴) شرح حدیث ام زرع (۵) جامع التاریخ (۶) مشارق الانوار فی اقتفاء صحیح الآثار (۷) اکمال العلم فی شرح المسلم (۸) التنبیہات
المشبطہ فی شرح کلمات مشکلۃ والفاظ متعلقۃ(۹) الاعلام بحدود
وقواعد الاسلام (۱۰) الالماع فی ضبط الروایۃ وتقیید السماع (۱۱) معجم فی شرح ابن السکر (۱۲) نظم
البرھان علی صحبۃ جزم الاذان (۱۳) مقائد الحسان فی
ما یلزم الانسان (۱۴) غية الکاتب وبغية الطالب (۱۵) العیون
السنۃ فی اخبار سبتة (۱۶) الاجوبۃ المحسرۃ
عن الاسئلۃ المحیرۃ (۱۷) رجویۃ القرطبیین
(۱۸) السیف المسلول علی من سب اصحاب الرسول (۱۹) الصفا بتحریرالشفا (۲۰) مصالح
الافھام فی شرح الاحکام (۲۱) غریب الشھاب۔
شفاء شریف:
تو امام قاضی عیاض
علیہ الرحمہ کی سبھی کتابیں اہل علم میں قدر ومنزلت کی نظر سے دیکھی گئیں مگر ان میں
جو قبول عام کتاب الشفا بتعریف حقوق المصطفےٰ کو حاصل ہوا وہ کسی دوسری کتاب کے نصیب
میں نہ آیا بلکہ اس موضوع پر دوسرے مصنفین کی کتابیں اس کی بلندی اور شہرت ومقبولیت
تک نہ پہنچ سکیں۔ مصنفین محدثین اور محققین نے اس سے استناد کیا ہے اور بعد کے سیرت
نگاروں نے اسے ماخذ بنایا یہ کتاب دلوں کا نور اور ایمان کی رونق ہے۔
اس کتاب کی جدت و ندرت ہر طبقہ اور ہر دور میں محبوب رہی
اس کے اسلوب نگارش اور دلکشی و دلآویزی کا اعتراف معاصرین اور بعد کے علماء نے کیا
ہے۔
صاحب دیباج: مصنف کی انفرادیت، جدت اور سبقت و تقدم کا
شرف مسلم ہے لوگوں نے اس کتاب کی نقل و روایت کر کے اس سے بڑا فائدہ اٹھایا ہے اور
شرق وغرب ہر جگہ اس کا غلغلہ بلند ہے۔ (دیباج
المذہب ص ۱۷۰)
صاحب کشف الظنون: یہ نہایت بیش قیمت اور مفید کتاب ہے اس
سے پہلے ایسی عمدہ کتاب نہیں لکھی گئی اس کتاب میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی
عظمت شان اور آپ کے جلیل القدر منصب و مقام کو قرآن مجید حدیث نبوی اور ائمہ کے
اقوال کی روشنی میں جمع کیا گیا ہے۔
کتاب کی مقبولیت و عظمت کی سب سے بڑی سند یہ ہے کہ اسے
بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں قبولیت کا درجہ حاصل ہوا، ایک مرتبہ قاضی
عیاض کے بھتیجے نے خواب میں دیکھا کہ میرے چچا قاضی عیاض حضور صلی اللہ علیہ وسلم
کے ساتھ سونے کے تخت پر بیٹھے ہوئے ہیں اس خواب کے دیکھنے سے ان پر دہشت طاری ہوگئی
اور طرح طرح کا وہم پیدا ہونے لگا کہ بھلا میرے چچا (قاضی عیاض) کو اتنا بڑا مرتبہ
کیوں اور کیسے مل گیا؟ یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اتنے مقرب ہوکر ایک ساتھ
سونے کے تخت پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ قاضی عیاض نے اپنے کشف سے بھتیجے کے دل کی کیفیت
اور اس کے خطرات کو معلوم کر لیا پھر بھتیجے کو قریب بلاکر بڑی شفقت کے ساتھ فرمایا
میرے فرزند! تم میری کتاب شفا کو مضبوطی کے ساتھ پکڑے رہو اور اس کو اپنے عقائد و
اعمال میں حجت بناؤ۔ اس کلام میں آپ نے اشارہ فرما دیا کہ یہ مرتبہ اسی کتاب کی
بدولت حاصل ہوا۔ (بستان
المحدثین ص ۲۲۲)
کتاب الشفا کی مدح میں شعراء نے بڑے بڑے قصائد اور نادر
قطعات لکھے ہیں:
شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں۔ غرض اس
باب میں جس قدر کتابیں تصنیف ہوئی ہیں ان سب میں یہ کتاب عجیب اور بہت مقبول واقع
ہوئی ہے۔ (بستان
المحدثین ص ٣۲۲)
یہ کتاب اسم بامسمیٰ ہے سلف صالحین فرماتے ہیں اس کا
پڑھنا بیماریوں کی شفا اور مشکلات کی گرہوں کے کھولنے میں مجرب ہے نبی اکرم صلی
اللہ علیہ وسلم کی برکت سے اس میں ڈوب جانے اور طاعون کی مصیبتوں سے امان ہے۔
اس کتاب کے غیر معمولی اہمیت کی وجہ سے اس کی شرحیں، تعلیقات،
مختصرات اور دوسری زبانوں میں بکثرت ترجمے لکھے گئے ہیں جن کی تفصیل کا یہاں موقع
نہیں۔
اکمال العلم فی شرح صحیح مسلم: یہ صحیح مسلم کی بڑی مستند
اور معتبر شرح ہے متاخرین نے اپنی شرحوں میں اس سے استفادہ کیا ہے۔
مشارق الانوار علیٰ صحاح الآثار:
حدیث کی تین اہم کتابوں مؤطا امام مالک، صحیح
بخاری اور صحیح مسلم کی شرح ہے اس میں ان کی حدیثوں کے مشکل اور غریب الفاظ کی تحقیق
و تشریح معانی و مطالب کی توضیح، اور راویوں کے ناموں کا ضبط اور ان کے اغلاط
واوہام پر تنبیہ کی گئی ہے۔
سیرت و کردار:
قاضی عیاض
علم و فضل کے ساتھ مکارمِ اخلاق کے بلند مرتبہ پر فائز تھے بے حد فیاض
خلیق،
اور سادگی پسند واقع ہوئے تھے۔ علمی وجاہت کے باوجود خاکساری کا پیکر تھے۔ حافظ
ذہبی کا بیان ہے "حاز من الریاسة فی بلده ومن الرفعة مالم یصل الیه احد قط
من اهل بلده وما زاده ذلک الا تواضعا وخشية لله" ان کے
شہر میں ایسی عظیم الشان شہرت کا حامل کوئی نہ تھا مگر اس چیز نے عجب و کبر کے
بجائے ان میں عجز و انکسار اور خوف و خشیت الہی میں مزید اضافہ کر دیا تھا۔ (تذکرة
الحفاظ ج ۴ ص ۸۷)
وصال:
جمادی الاخریٰ ۵۴٤ھ بروز جمعہ مراکش میں وصال ہوا ۔
تدفین:
باب
ایلان میں سپر خاک کیے گئے۔
ماخذ مراجع، محدثین عظام حیات و خدمات
