امام ابو الحسن علی عزالدین جزری
نام : علی
عرف ابن اثیر
کنیت : ابو الحسن
لقب : عزالدین
ولادت :
آپ
کی ولادت ٥٥٥ ھ میں جزیرہ ابن عمر میں ہوئی ۔
نسب :
علی بن
اثیر ابو الکرم محمد بن محمد بن عبدالکریم شیبانی جزری۔
آپ نے
ایک صاحبِ علم باپ کی آغوش میں تربیت پائی خاندانی ماحول علمی تھا باپ اور بڑے
بھائی محدث تھے ان کی صحبتوں نے آپ پر علوم و معارف کے دروازے کھول دیئے ذوقِ علم
اتنا بڑھا کہ موصل، بغداد، دمشق اور حلب کا سفر کیا اور وہاں کے مقتدر شیوخ سے علم
حاصل کیا۔
شیوخ :
ابو الفضل طوسی،
یحییٰ ثقفی، عبد المنعم بن کلیب، یعیش بن صدقہ، ابن سکینہ، ابو القاسم مصری، زین
الامناء۔
(تذکرة
الحفاظ ج ۴ ص ۱۸۵)
علم و فضل :
ابن اثیر
جزری حدیث و فقہ، تاریخ و رجال میں امامت کے درجہ پر فائز تھے آپ کی جامعیت علم و
کمال فن کا اعتراف اربابِ سیر و تذکرہ نے اس طرح کیا ہے۔ حافظ ذہبی آپ کا تذکرہ ان
الفاظ سے شروع کرتے ہیں۔
”الامام العلامة الحافظ فخر العلماء..... المحدث اللغوی،
امام، علامہ“
بلند پایہ حافظِ حدیث، نامور محدث، بحر العلوم اور جلیل
القدر لغوی تھے۔ (ایضاً)
علامہ
ابن خلکان فرماتے ہیں، "کان بیتہ مجمع الفضل لاھل الموصل والواردین لھا۔ وکان
اماما فی حفظ الحدیث ومعرفتہ ومایتعلق بہ وحافظا للتوار یخ المتقدمۃ والمتأخرۃ و
خبیرا بانساب العرب واخبارہم وایامہم ووقائعھم" موصل میں
آپ کا مکان اہل علم کا جمگھٹ تھا۔ وہ حفظِ حدیث اور متعلقاتِ حدیث اور اس کی معرفت
میں امام تھے تاریخِ متقدم و متاخر کے حافظ تھے۔ انسابِ عرب ان کے اخبار ایام اور
وقائع سے واقف تھے۔
تلامذہ:
چوں کہ
آپ کا خاندان علم و فضل کے لحاظ سے کافی مشہور ہو چکا تھا اس لیے آپ کا دولت خانہ
طلبہ اور شائقینِ علم کا مرکز تھا جہاں دور دور سے علم وفن کے طلب گار حاضر ہوتے
اور اپنے خالی دامنوں کو علمی جواہرات سے معمور کرتے۔ آپ نے وقتاً فوقتاً موصل،
دمشق اور حلب میں بھی مجالسِ درس قائم کیں اور وہاں کے طلبہ کو فیضیاب کیا آپ کے
اہم تلامذہ یہ ہیں:
ابن دبیثی قوصی، مجد الدین عقیلی، شرف الدین ابن عساکر، منتصر
قضائی۔ (تذکرہ ج۴ ص ۱۳۵)
تصنیفات:
امام
ابن اثیر با کمال مصنف بھی تھے تاریخ، رجال اور انساب پر گراں قدر مصنفات یادگار
چھوڑیں۔
الکامل فی التاریخ:
آپ کی یہ
تاریخ انتہائی مشہور و متداول ہے علامہ سخاوی فرماتے ہیں کہ "کتاب یقیناً اسم
با مسمی ہے بلکہ ہمارے استاذ محترم (حافظ ابن حجر) نے یہاں تک فرمایا ہے کہ یہ
کتاب فنِ تاریخ میں سب سے بہتر کتاب ہے احادیث و واقعات کو اس انداز سے ذکر کیا ہے
کہ سننے والا یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کو دیکھ رھا ہے۔
کتاب کی
ترتیب سن وار ہے ابن جریر طبری کی تاریخ کا اسلوب اختیار کیا گیا ہے۔ کتاب کی اہمیت
کے بارے میں خود ابن اثیر لکھتے ہیں۔
اسد الغابہ فی معرفة الصحابۃ:
حافظ
ابن اثیر کی اسماء صحابہ پر انتہائی مشہور و معروف کتاب ہے اور اس فن کی سابقہ
کتابوں کی اہم معلومات کا خلاصہ اور نچوڑ ہے۔ حافظ ابن حجر فرماتے ہیں:
"صحابہ کے بارے میں
جن لوگوں نے تالیفات کی ہیں ان کا شمار بہت مشکل ہے (اس لیے کہ یہ کام متقدمین و
متاخرین دونوں نے کیا ہے) اس طرح یہ سلسلہ چلتا رہا یہاں تک کہ ساتویں صدی کی
ابتدا میں حافظ ابن اثیر آئے جنہوں نے ایک عظیم کتاب تیار کی جس میں بہت ساری
سابقہ کتابوں کو جمع کر دیا۔ (الاصابہ ۱/۳)
کتاب کی ترتیب انتہائی دقیق اور منظم طور سے حروف معجم پر
کی گئی ہے اس لیے کسی بھی نام کو تلاش کرنے میں کوئی پریشانی نہیں ہوتی۔ مطلوبہ
نام جس حرف سے شروع ہوتا ہے اس حرف کی جگہ نکال کر جہاں ترتیب میں یہ نام فٹ ہوتا
ہے۔ وہاں دیکھنے سے باآسانی مل جائے گا۔ پوری کتاب کی ترتیب حرف الف سے حرف یاء تک
اسی طرح سے ہے۔ کتب صحابہ میں سب سے اچھی اور آسان ترتیب اسی کتاب کی ہے۔ ناموں کے
بعد خواتین کے ختم ہونے کے بعد گنتی سے معروف حضرات کا تذکرہ ہے اس کے بعد خواتین
کا تذکرہ سابقہ ترتیب پر ہے۔
صحابہ کے تراجم میں ان کے حسب و نسب ان سے متعلق ان
واقعات کا جس سے صحابی کی صحبت کا پتہ چلتا ہے خصوصیت کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ مثال کے
طور پر بعض حدیثوں کا بھی تذکرہ کیا ہے جس میں اختصار ملحوظ رکھاہے۔ اس کتاب میں ۷۵۵۴ (سات ہزار پانچ سو چون) افراد کا ترجمہ ہے۔
وصال :
آپ نے
شعبان ٦٣٠ ھ بمقام موصول داعئ اجل کو لبیک کہا ۔
ماخذ مراجع، محدثین عظام حیات و خدمات
