امام ابو المواہب عبدالوہاب شعرانی
·
نام: عبدالوہاب
·
کنیت: آپ کی
کنیت ابو المواہب ہے جب کہ صاحبزادے کی نسبت سے ابو عبدالرحمن کہلاتے تھے۔
·
والد گرامی: احمد
بن علی
خاندانی پسِ منظر
مجمع العلوم، امام عبدالوہاب شعرانی رحمتہ اللہ تعالی
علیہ شریعت و طریقت کے یکتا امام، رسوخِ علمی سے بہرہ ور اور اربابِ کشف و مشاہدہ
کے آسمان کے درخشندہ ستارے تھے۔
عبدالوہاب بن احمد بن علی بن احمد بن محمد بن موسیٰ
الشعرانی، الانصاری، شافعی المسلک، سلسلہ شاذلیہ سے نسبت رکھنے والے، مصر کے باسی
تھے ۔ آپ ایک فقیہ، اُصولی، محدث، صوفی کے ساتھ ساتھ علوم کی مختلف انواع میں بھی
کامل دستگاہ رکھتے تھے۔“
سلسلۂ نسب
عبدالوهاب، ابن احمد بن علي بن احمد بن علي بن محمد، ابن
زوفا، ابن الشيخ موسي المكني في بلاد البهنسا بأبي العمران جدّي السادس، ابن
السلطان احمد، ابن السلطان سعيد، ابن السلطان قاشين، ابن السلطان محيا، بن السلطان
زوفا بن ريان، ابن السلطان محمد، ابن موسي، ابن السيد محمد بن الحنفية، ابن الإمام
علي بن أبي طالب رضي الله عنه۔ امام شعرانی اپنے آپ کو ”درنی“ کے بادشاہوں کی
اولاد بتاتے ہوئے اپنا سلسلۂ نسب یوں بیان فرماتے ہیں: (المنن الکبریٰ
، امام عبدالوہاب الشعرانی، ص: 55(
حاجی خلیفہ نے دیگر القاب اور نسبتوں کے ساتھ ”التلمسانی“
کی نسبت کا بھی ذکر کیا ہے۔
(حاجی خلیفہ ، کشف الظنون ، کوئتہ ، پاکستان
، مکتبہ فاروقیہ (س ن) 5/515)
مندرجہ بالا سلسلۂ نسب سے معلوم ہوتا ہے کہ امام شعرانی
کے آباء و اجداد میں متعدد افراد کو حکومت و سلطنت کی نعمت عطا کی گئی تھی۔ امام
شعرانی اپنے قدیم نسب نامے کے حوالے سے ”السید محمد“ سے قبل دو اور ناموں کا بھی
ذکر کرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ آپ اُن کے بارے میں کہتے ہیں کہ انھیں ان کے بارے
میں معلوم نہیں کہ وہ کون ہیں؟
مزید برآں آپ یہ بھی واضح فرماتے ہیں کہ آپ کے سلسلۂ
نسب میں سے آپ کے ساتویں دادا سلطان احمد، ابو مدین مغربی کے معاصر تھے اور ان کے
زمانے میں تلمسان شہر میں رہتے تھے، جب ابو
مدین مغربی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کی ”موسی بن السلطان احمد“ سے ملاقات ہوئی تو
پوچھا آپ کا سلسلہ نسب کیا ہے؟
تو جنابِ موسیٰ
نے جواب دیا کہ سلطان احمد میرے والد گرامی ہیں، ابو مدین مغربی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ نے
فرمایا:
آپ
کے سلسلۂ نسب کے شرف کے حوالے سے پوچھ رہا ہوں تو انھوں نے جواب دیا کہ میں حضرت
محمد بن حنفیہ کی طرف منسوب ہوں، تو حضرت ابو مدین مغربی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ
نے فرمایا:
بادشاہت، شرف اور فقر کسی میں اس طرح یکجا نہیں ہوسکتے۔
تو موسیٰ بن احمد نے عرض کی:
يا سيدي قد خلعت ما عدا الفقر (المنن الکبریٰ،
ص: 55)
”میرے
آقا! میں نے فقر کے علاوہ ہر نسبت اُتار دی ہے۔“
امام شعرانی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ پھر
حضرت ابو مدین مغربی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ نے آپ کی تربیت کی اور جب طریقِ تصوف
میں کمال حاصل کرلیا تو آپ نے انھیں سرزمینِ مصر کی طرف سفر کرنے کا حکم دیا اور
فرمایا:
’’اسكن
بناحية’’ هو‘‘فإن بها قبرك فكان الأمر كما قال رضي الله عنه‘‘ (المنن
الکبریٰ ، ص:55)
”مصر کے
علاقہ ”ھو“ کے کنارے پر جاکر سکونت اختیار کرو، وہیں آپ کی قبر بنے گی۔ (امام
شعرانی فرماتے ہیں) کہ بالکل وہی ہوا جو حضرت ابومدین مغربی رحمتہ اللہ تعالیٰ
علیہ نے فرمایا تھا۔“
امام شعرانی کے والدِ گرامی
شیخ شہاب احمد بن
نور الدین علی شعراوی اپنے دور کے شریعت و طریقت کے جید عالم و عارف تھے۔
آپ نحو، فقہ،
فرائض اور فلکیات میں کامل دستگاہ رکھتے تھے۔ علاوہ ازیں شعر و خطابت کے ساتھ ساتھ
ایک بہترین انشاء پرداز بھی تھے، برسر
منبر فی البدیہہ خطبہ ارشاد فرماتے، اللہ
تعالیٰ نے کمال خوش الحانی بھی عطا فرمائی تھی، قرآنِ کریم کی تلاوت نہایت خشوع و خضوع سے کرتے
تھے۔
ایک مرتبہ قاضی کمال الدین الطویل آپ کی قراءت سے اس قدر
متاثر ہوئے کہ آپ کا جسمانی توازن برقرار نہ رہ سکا، گوناگوں علمی مشاغل کے باوجود رزقِ حلال کے حصول
کے لیے زراعت کے پیشہ سے وابستہ تھے، ذاتی
اُمور کے علاوہ حاجت مندوں کی مدد فرماتے اور خدمتِ خلق کو ذریعۂ ثواب جانتے تھے۔
آپ شب زندہ دار عابد تھے، ہر رات نماز کے دوران قرآن
کریم کا ایک ثلث (تہائی) تلاوت فرماتے، امام شعرانی کے بقول بعض اوقات قرآنِ کریم کی
تلاوت سنتے تو بے خود ہو کر گر جاتے اور مرغِ بسمل کی طرح تڑپنے لگتے، آپ نے حدیث، اُصول، معانی و بیان اور نحو میں
متعدد کتابیں تصنیف کیں مگر وہ سرقہ (چوری) ہوگئیں۔
اس پر آپ کا ردِعمل عام معمول کے برعکس تھا۔ فرمانے لگے
کہ ہم نے یہ کتابیں اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے لکھی تھیں۔ لہٰذا اس سے کچھ فرق
نہیں پڑتا کہ لوگ ان کتب کو ہماری طرف منسوب کریں یا نہ کریں۔
۹۰۷ھ میں آپ کا وصال پُرملال ہوا۔ آپ کو اپنے والدِ ماجد علی
بن احمد کے پہلو میں اپنے آبائی قصبہ ابوشعرہ کی خانقاہ میں دفن کیا گیا۔ (شذرات
الذھب، شمس الدین الذھبی، 8/34۔35)
مقام و مرتبہ:
امام شعرانی ولایت کے اعلیٰ
مقام پر فائز تھے، باطنی کیفیت اور ان کی طاقت کا یہ اثر تھا کہ کسی مزار پر حاضر
ہوتے تو صاحبِ مزار بزرگ کے بارے میں معلوم کر لیتے کہ قبر میں موجود ہیں یا کہیں تشریف لے گئے ہوئے ہیں۔
اللہ تعالیٰ اکثر
اپنے نیک بندوں کو آنے جانے کی مکمل آزادی دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسی قوتِ عطا فرمائی تھی کہ مغرب
تا فجرجمادات و حیوانات کی تسبیح سماعت فرماتے، یہ درجہ اس طرح نصیب ہوا کہ ایک مرتبہ شیخ امین الدین
کی رفاقت میں مغرب کی نماز ادا کر رہے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے حجابات دور فرما دیے۔
ایک کرامت یہ بھی تھی کہ آپ کی توجہ سے رزق میں برکت ہو جاتی،ایک بار آپ کے ہاں ۱۴ مہمان آ گئے، گھر میں صرف ایک روٹی دستیاب ہوئی، اسی سے
تمام مہمان سیر ہو گئے۔
آپ خطرناک ترین درندوں، جنوں اور دیگر مخلوقات میں سے کسی
سے ذرہ برابر خوف نہ کھاتے، جن بھی آپ کی
خدمت میں حاضر ہوتے، ایک مرتبہ انہوں نے
آپ کی خدمت میں مسئلہ توحید پر ۷۵ استفتاء
بھجوائے، جس کے جواب میں آپ نے یہ کتاب تحریر فرمائی: "کشف
الحجاب والران عن وجہ اسئلة الجان"۔
تصانیف:
·
امام
شعرانی صاحبِ تصانیف بزرگ تھے، درج ذیل تصانیف مشہور ہیں:
·
لوائح
الانوار فی طبقات الاخیار (طبقاتِ کبریٰ)،
·
الانوار
القدسیہ فی بیان آداب العبودیہ،
·
میزانِ
شعرانی، الیواقیت والجواہر،
·
کشف
الغمہ عن جمیع الامۃ،
·
الکبریت
الاحمر فی بیان علوم الشیخ الاکبر،
·
البدر
المنیر فی غریب احادیث البشیر النذیر۔
وصال:
امام شعرانی نے اپنی تمام زندگی تصوف و شریعت کی خدمت میں
بسر کرنے کے بعد ۹۷۳ھ میں
قاہرہ میں وصال فرمایا۔
