امام ابو القاسم سلیمان طبرانی
نام: سلیمان
کنیت : ابو القاسم
نسب : سلیمان بن احمد بن ایوب بن مطیر لخمی،
طبرانی۔
ولادت :
آپ
کی ولادت صفر 260ھ میں ہوئی ۔
آپ کا نسبی تعلق یمن کے مشہور قبیلہ لخم سے
تھا جس کی ایک شاخ شام کے مشہور شہر طبر یہ میں آباد ہو گئی تھی یہیں قبیلے کی
مناسبت سے لخمی اور مولد کی طرف نسبت کرتے ہوئے طبرانی مشہور ہوئے۔
تحصیل علم
طبر یہ میں
ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ان کے والد احمد جو صاحب علم بزرگ تھے اپنے فرزند
کو لے کر شہروں اور قریوں میں علماء و شیوخ کے پاس جاتے رہے۔ امام طبرانی نے طلب
حدیث کے لیے سفر کا آغاز ۲۷۳ھ میں
کیا جب کہ ان کی عمر تیرہ سال سے زیادہ نہ تھی اور وہ تقریباً تیس سال تک طلب علم
میں اسلامی دیار و امصار کی خاک چھانتے رہے اور ایک ہزار سے زیادہ شیوخ سے حدیث کا
علم حاصل کیا۔ ابن خلکان آپ کی مدت سفر اور مشہور مقامات سفر کا تذکرہ ان الفاظ
میں کرتے ہیں۔
’’رحل
في طلب الحديث من الشام الى العراق والحجاز واليمن ومصروبلاد جـزيــرة الفراتية
واقام فى الرحلة ثلاثاً وثلاثين سنة وسمع الكثير وعدد شيوخه الف شيخ"- امام
طبرانی نے طلبِ علم کے لیے شام سے عراق، حجاز، یمن، مصر اور جزیرہ فراتیہ کے شہروں
کا سفر کیا اور وہ طلبِ علم کے اس سفر میں ۳۳ سال
تک رہے اور کثیر شیوخ سے حدیثوں کو سماع کیا اور ان کے شیوخ کی تعداد ایک ہزار ہے۔
(وفیات
الاعیان ج ۱ ص ۳۸۴)
ابتداء میں انہوں نے شام کے علمی مراکز طبر
یہ، قدس، قیساریہ، حمص کے اساتذہ سے علم حاصل کیا پھر مکہ، مدینہ، یمن، مصر،
بغداد، کوفہ، بصرہ، فارس اور اصفہان وغیرہ کے شیوخ واَساتذہ سے درسِ حدیث لیا۔
انہیں سفر میں بڑی دشواریاں اور مشقتیں برداشت کرنی پڑیں۔ مگر طلبِ علم کی راہ میں
ساری زحمتوں کو صبر واستقامت کے ساتھ جھیلتے رہے۔ ذکوانی کہتے ہیں "سئل
الطبرانی عن كثرة حديثه فقال كنت انام على البوارى ثلاثين سنة"
طبرانی سے بکثرت احادیث جمع کرنے کا سبب پوچھا گیا تو فرمایا میں نے مسلسل تیس سال
چٹائی پر سوکر بسر کیے ہیں (یعنی آرام و آسائش کو چھوڑ دیا تب یہ خزانہ ہاتھ آیا) (تذکرۃ
الحفاظ ج ۳ ص ۱۲۱)
شیوخ
ہاشم بن مرشد
طبرانی، ابو زرعہ دمشقی، اسحاق دبری، ادریس عطار، بشر بن موسیٰ، حفص بن عمر سنجه
الف، علی بن عبدالعزیز بغوی، مقداد بن داؤد دعینی، یحییٰ بن ایوب علاف، ابو عبدالرحمن
نسائی، عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابی مریم، ابراہیم بن ابی سفیان قیسرانی، ابراہیم
بن محمد بن عرق حمصی، ابراہیم بن موبد شیبانی، ابو مسلم کجی، احمد بن یونس، احمد
بن عبدالرحیم حوطی، احمد بن عبدالقاہر، احمد بن معلیٰ، اسحاق بن ابراہیم دبری، ابو
علی اسماعیل بن محمد بن قیراط، حسن بن سہل، حسن بن عبدالاعلیٰ بوسی، ابو خلیفہ،
فضل بن حباب جمحی۔ (تذکرہ
ج ۳ ص ۱۱۹)
علم و فضل
امام طبرانی نے جس
ذوق وشوق اور یکسوئی کے ساتھ طویل مدت تک اسلامی بلاد و امصار کے بکثرت حاملینِ
حدیث سے سماع اور استفادہ کر کے اپنے دامنِ علم کو بھر لیا تھا ان کا حافظہ بڑا
قوی تھا۔ حفظ وضبطِ حدیث کا اعتراف بڑے بڑے اہل کمال نے کیا ہے۔
ابنِ خلکان: "کان حافظ
عصرہ"
وہ اپنے زمانہ کے حافظِ حدیث تھے۔ (وفیات
ج ۱ ص ۳۸۴)
ابن جوزی: امام سلیمان طبرانی کا حافظہ
نہایت قوی تھا۔
ابراہیم بن محمد بن حمزہ: میں نے ان سے بڑا
کوئی حافظِ حدیث نہیں دیکھا۔
حفظ و ضبط کے ساتھ
ثقاہت و عدالت میں بھی آپ کا پایہ بہت بلند تھا ان خصوصیات کےساتھ وہ لاکھوں
حدیثوں کے حافظ تھے۔ کثرتِ علم میں ان کے زمانہ میں کوئی ان کا ہمسر نہ تھا۔حدیث
کے علاوہ دوسرے علوم میں بھی انہیں کمال حاصل تھا۔ مگر حدیث میں ان کا مرتبہ تمام معاصرین
سے بلند تھا۔ اور محدثین ان کی وسعتِ علم اور علو استاد کے معترف ہیں۔
ابن مندہ: "الطبرانی احد حفاظ
المذکورین"
طبرانی مشہور حفاظِ حدیث میں سے ہیں۔ (تذکرہ
ج ۳ ص ۱۲۲)
احمد بن منصور شیرازی: "کتبت عن الطبرانی
ثلاث مأۃ الف حدیث و هوثقۃ" میں نے امام طبرانی سے تین لاکھ
حدیثیں لکھیں وہ ثقہ محدث تھے۔ (ایضاً)
حافظ ذہبی: "و حدیثه قد ملأ
البلاد"
ان کی حدیثوں سے سارے شہر بھر گئےتھے۔ (ایضاً)
یافعی: "حدیثوں کے علل اور رجال و
ابواب کے اچھے واقف کار تھے"۔
شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی: "طبرانی
علمِ حدیث میں کامل وسعت رکھتے تھے اورکثرتِ روایت میں مستثنیٰ اور ممتاز تھے"۔
(بستان
المحدثین ص ۹۱)
امام ابن عقدہ سے
کسی اصفہانی شخص نے ایک مسئلہ پوچھا انہوں نے پوچھا کہ تم نے سلیمان بن احمد لخمی
(طبرانی) سے سماع کیا ہے؟ اس نے جواب دیا میں ان سے واقف نہیں۔ ابن عقدہ نےحیرت سے
سبحان اللہ کہا اور فرمایا "ابوالقاسم ببلدکم وانت لا تسمع منه وتؤذینی
هذاالذی ما اعرف له نظیراً" ابوالقاسم طبرانی تمہارے شہر میں
ہیں ان کے ہوتے ہوئے تم لوگ انسے حدیثیں نہیں لکھتے اور ہم لوگوں کو خواہ مخواہ دق
کرتے ہو میں نے طبرانی کا کوئی مثیل اور نظیرنہیں دیکھا۔ (تذکرہ
ج ۳ ص ۱۲۲)
امام طبرانی کی
وسعتِ علم کا اندازہ اس واقعہ سے بھی لگایا جا سکتا ہے "استاذ ابن عمید
کہتےہیں جب تک میں نے طبرانی اور ابوبکر جعابی کا مذاکرہ علمیہ نہیں سنا تھا میں
اپنی وزارت اور سیادت کے مقابلہ میں دنیا کی کسی چیز کو حلاوت بخش نہیں سمجھتا تھا
اس مذاکرہ میں کثرتِ محفوظات کے لحاظ سےطبرانی کا پلڑا بھاری تھا۔ جب کہ ذہانت اور
فطانت میں جعابی غالب نظر آتے تھے ہوتے ہوتے دونوں کی آوازیں بلند ہوئی اور جعابی
نے دعویٰ کیا میرے پاس ایک ایسی حدیث ہے جو دنیا میں کسی کے پاس نہیں ہے طبرانی
بولے وہ حدیث بیان کرو جعابی نے حدیث بیان کی۔ "اخبرنا ابو خلیفتہ قال
اخبرنا سلیمان بن ایوب" (ہم سے ابوخلیفہ نے حدیث بیان کی
انہوں نے کہا ہم سے سلیمان بن ایوب نے روایت کی) طبرانی نے کہا سلیمان بن ایوب تو
میں ہی ہوں اور ابوخلیفہ میرے شاگرد ہیں۔ تم یہ سند عالی کے ساتھ مجھ سے لے لو یہ
سن کر جعابی شرمندہ ہوئے اور میں نے اس وقت خواہش کی کاش میں وزیر ہونے کے بجائے
طبرانی ہوتا اور اس مذاکرہ میں جو انہیں خوشی ہوئی وہ مجھے حاصل ہوتی۔ (تذکرہ
ج۳ ص ۱۲۱)
حلقۂ درس
امام طبرانی نے
اسلامی دنیا میں اپنی علمی عظمت کا سکہ بٹھا دیا تھا اور ان کی شہرت تمام اسلامی
آبادیوں میں پھیل گئی تھی چنانچہ طلبِ حدیث کے لیے رحلت وسفر سے انہوں نے جب فرصت
پائی تو اصفہان میں مستقل بود و باش اختیار کرلی اور انہیں حاکم اصفہان ابن رستم
کی طرف سے ۵۰۰ درہم وظیفہ مقرر ہوا اور آپ پوری فراغت کے
ساتھ علم کی تدریس میں مصروف ہوئے اور تقریباً ساٹھ سال تک آپ کی مجلسِ درس اصفہان
میں قائم رہی جہاں دور دور سے طلبہ کھنچ کھنچ کر آتے رہے۔ آپ سے سماع حدیث بھی
کرتے اور آپ کی کتابیں بھی نقل کرتے۔ آپ کی علمی شہرت اور حلقۂ درس کی وسعت کے
بارے میں حافظ ذہبی لکھتے ہیں۔
’’حافظ
اسماعیل بن محمد تیمی کے زمانہ میں یہ مشہور تھے اور طلبہ ان سے استفادہ کرنے کے
لیے آیا کرتے تھے پھر ابن ناصر اور ابوالعلاء ہمدانی کے زمانہ میں ان کی شہرت کو
چار چاند لگ گئے اور طلبہ کا ان کی طرف تانتا بندھ گیا ازاں بعد ابو موسیٰ مدینی
کے زمانہ میں تو ان کی سند بہت عالی سمجھی جاتی تھی اور اسی زمانہ میں حافظ
عبدالغنی نے نجم کبیر کا ان سے سماع کیا تھا پھر ابن خلیل حافظ ضیاء اور دوسرے
مشاہیر نے ان کی طرف رختِ سفر باندھا اور ان سے سماع کرنے میں ایک دوسرے سے بڑھ
چڑھ کر حصہ لیا"۔ (تذکرہ
ج۳ص ۱۲۲)
تلامذہ
ابو خلیفہ جمحی،
ابن عقدہ، احمد بن محمد صحاف، ابوبکر بن مردویہ، فقیہ ابو عمرو، محمد بن حسین
نظامی، حسین بن احمد بن مرزبان، ابوبکر بن علی ذکوانی، ابوالفضل، محمد بن احمد
جارودی، ابو نعیم حافظ، ابوالحسین بن فادشاہ، محمد بن عبیداللہ بن شہریار،
عبدالرحمن بن احمد صفار، ابو بکر بن زبدہ۔ (تذکرہ
ج ۳ ص ۱۱۹)
تصانیف اور معجم
امام طبرانی کے
قلم نے مختلف علوم وفنون میں ہزاروں صفحات پر علم وفضل کے نادر موتی اہلِ ذوق کے
استفادہ کے لیے بکھیر دیئے آپ کی کثیر تصانیف میں آپ کی مصنفات یہ ہیں:
کتاب الدعاء، کتاب
المناسک، کتاب عشرۃ النساء، کتاب السنۃ، کتاب الطوالات، کتاب النوادر، کتاب دلائل
النبوۃ، کتاب مسند شعبۃ، کتاب مسند سفیان، اسانید جمعۃ من الکبار، کتاب حدیث
الشامیین، کتاب الاوائل، کتاب الری، تفسیر کبیر، معجم کبیر، معجم اوسط، معجم صغیر،
مسند العشرہ، مسند الشامیین، النوادر، معرفۃ الصحابۃ، فوائد معرفۃ الصحابۃ، مسند
ابی ہریرہ، مسند عائشہ، الدعاء السنہ، حدیث اعمش، حدیث الاوزاعی، حدیث شیبان، حدیث
ایوب، مسند ابی ذر، الرؤیۃ، الجود، العلم، الالویۃ، فضل رمضان، الفرائض، الرد علی
المعتزلہ، الرد علی الجہمیۃ، مکارم الاخلاق، القراء، الصلوۃ علی الرسول صلی اللہ
علیہ وسلم، الماموم، الغسل، فضل العلم، ذم الرأی، تفسیر الحسن، الزہری عن انس، ابن
المنکدر عن جابر، مسند ابی اسحاق سبیعی، حدیث یحییٰ بن ابی کثیر، حدیث مالک بن
دینار، ما روی الحسن عن انس، حدیث ربیعہ، حدیث حمزۃ الزیات، حدیث مسعر بن کدام،
حدیث ابی سعد البقال، طرق حدیث من کذب علی النوح، مسند ابن جحادہ، من اسمہ عباد،
من اسمہ عطاء، من اسمہ شعبہ، اخبار عمر بن عبدالعزیز بن رفیع، مسند روح بن القاسم،
فضل عکرمہ، امہات النبی صلی اللہ علیہ وسلم، مسند عمارہ بن غزیہ، طلحہ بن مصرف و
جماعۃ، مسند العبادلۃ، احادیث ابی عمر و بن العلاء، غرائب مالک، ابان بن تغلب،
حریث بن ابی مطر، وصیت ابی ہریرہ، مسند الحارث العکلی، فضائل الاربعۃ الراشدین،
مسند ابن عجلان، کتاب الاشرِبہ، کتاب الطہارۃ، کتاب الامارۃ، مسند ابی ایوب
الافریقی، مسند زیاد الجصاص، مسند زافر وغیرہ۔ مقامِ افسوس ہے کہ دوسرے قدیم
مصنفین کی طرح آپ کی اکثر و بیشتر کتابیں تلف ہوگئیں ان کی تصانیف میں معاجم ثلاثہ
کو خاص اہمیت اور کتب حدیث میں نمایاں مقام حاصل ہے۔
معجم کبیر
یہ کتاب حقیقتاً
مسند ہے کیوں کہ اس میں صحابہ کی ترتیب پر ان کی مرویات درج کی گئی ہیں لیکن اس کی
شہرت معجم کے نام سے ہوئی۔ ابن عابدین نے فرمایا اس کتاب کی بارہ جلدیں ہیں جن میں
ساٹھ ہزار حدیثیں ہیں۔ ابن دحیہ کا بیان ہے کہ کتب معاجم میں سب سے بڑی یہی کتاب
ہے اور جب محدثین مطلق معجم کہتے ہیں تو ان کی مراد یہی کتاب ہوتی ہے۔ (ایضاً ص ۵۱)
معجم اوسط
یہ کتاب شیوخ کے
ناموں پر ترتیب دی گئی ہے اس میں طبرانی نے تقریباً ایک ہزار شیوخ کے غرائب جمع
کیے ہیں چوں کہ مفرد و غریب وہ احادیث ہیں جو ایک ہی شیخ کے پاس ہوں اور دوسرے
شیوخ ان سے واقف نہ ہوں یہی وجہ ہے کہ اس میں نفیس، عزیز، منکر ہر قسم کی حدیثیں
شامل ہیں لیکن اس کی ترتیب و تالیف میں امام طبرانی نے بڑی کاوش سے کام لیا تھا یہ
کتاب چھ مبسوط جلدوں پر مشتمل ہے۔
اس کتاب کی تصنیف میں امام طبرانی نے کافی
محنت کی تھی اور اپنی اس قلمی کوشش کو بہت عزیز رکھتے تھے۔ حافظ شمس الدین ذہبی
تحریر فرماتے ہیں:’’کان یقول ھذا الکتاب روحی فانہ تعجب علیہ فیہ کل نفیس
وعزیز ومنکر‘‘
یہ کتاب میری جان ہے اس میں آپ نے بہت محنت کی اور اس میں ہر قسم کی نفیس عزیز اور
منکر احادیث تحریر ہیں۔ (تذکرہ ج ۳ ص ۱۲۰)
معجم صغیر
یہ کتاب معجم اوسط
ہی کی طرح مرتب کی گئی ہے چوں کہ مختصر ہے اس لیے زیادہ مقبول و متداول ہے طبرانی
نے اس میں حروف تہجی کے اعتبار سے ایک ہزار سے زیادہ شیوخ کی ایک ایک حدیث درج کی
ہے آخر میں بعض خواتین کی حدیثیں جمع کی ہیں جن کی تعداد دو ہزار ہے۔ اس میں روایت
اور راوی کے متعلق مختلف نوع کی تصریحات کی گئی ہیں حدیث کے بارے میں المعلم کے
بیان کردہ مفہوم کو ذکر کرنے کے علاوہ خود بھی کہیں کہیں اس کی مراد واضح کی اور
مشکل لغات کے معنی لکھے۔
طبرانی نے ائمہ فقہ اور محدثین کے فقہی
اقوال و آراء بھی نقل کیے ہیں اور بعض روایتوں کی اس طرح تشریح کی ہے جن سے کسی
خاص فقہی مسلک کی تائید ہوتی ہے۔
امام طبرانی علم و فضل کے افق پر ایک درخشندہ
ستارہ تھے حدیث میں وہ حفاظِ حدیث کی آخری یادگار تھے۔
وصال:
دنیائے اسلام کے اس عظیم محدث نے سو سال کی عمر پا کر
بروز شنبہ ۲۸ ذو قعدہ ۳۲۰ھ
میں دار فانی سے رحلت کی۔
نماز جنازہ :
حافظ ابو نعیم
اصفہانی نے نماز جنازہ پڑھائی۔
تدفین
صحابی رسول حمصہ
دوسی کے مزار کے پہلو میں تدفین کی گئی ۔
ماخذ مراجع، محدثین عظام حیات و خدمات
