امام ابوبکر بزار ر
نام: احمد
کنیت :
ابوبکر
لقب: بزار
نسب:
حمد بن عمرو بن
عبدالخالق۔ بزار اس شخص کو کہتے ہیں جوتخم فروشی (بیجوں کی خرید و
فروخت) کرتا ہے، اردو اور ہندی میں اسے پنساری کہتے
ہیں، یہ بصرہ کے باشندے تھے۔
(بستان المحدثین ص ۵۹)
قبیلہ ازد کی ایک شاخ عتیک سے خاندانی تعلق
ہے، اسی نسبت سے عتکی اور بصری مشہور ہوئے۔
تیسری صدی ہجری علمِ حدیث کی اشاعت کے لحاظ
سے کافی اہم ہے، اسی صدی میں محدثینِ ستہ کے جلیل القدر مصنفین نے اپنی مستند اور
مشہورِ عالم کتابیں تحریر فرمائیں، تاریخ کے اسی قرن میں ابوبکر بزار نے ہوش کی
آنکھ کھولی اور ابتداء میں بصرہ کے علمائے حدیث سے استفادہ کیا، انہوں نے عمر کے
آخری حصہ میں اشاعتِ حدیث اور ساتھ ہی دوسرے شہروں کے شیوخ سے تحصیلِ علم کے لیے
بغداد، اصفہان، شام وغیرہ کے سفر کیے اور ان مقامات میں قیام کر کے وہاں کے
شائقینِ حدیث کو درس دیتے اور شیوخ و محدثین سے سماع کرتے رہے۔ شاہ عبدالعزیز
رقمطراز ہیں:
عام رواج یہ ہے کہ جوانی کے زمانہ میں
تعلیم اور فائدہ حاصل کرنے کی غرض سے سفر کیا جاتا ہے، انہوں نے اس کے برعکس یہ
کیا کہ آخر عمر میں ان حدیثوں کی اشاعت کے لیے جن کے وہ عالم تھے اور مزید علم
حاصل کرنے کی غرض سے سفر اختیار فرمایا، دمشق، اصفہان اور شام میں اسی نیتِ صالحہ
پر مقیم رہے اور خلقِ کثیر کو علمِ حدیث کے فیض سے مستفیض فرمایا۔ (بستان المحدثین ص
۵۹)
شیوخ:-
ابراہیم بن سعید
جوہری، اسماعیل بن یوسف، حسن بن علی بن راشد واسطی، عبدالاعلیٰ حماد، عبداللہ بن
معاویہ، عبدالرحمن بن فضل بن موفق، عمر بن موسیٰ۔
تلامذہ:-
ان کے بعض تلامذہ
اور مستفیدین کے نام درج ذیل ہیں: ابو احمد عسال، ابوبکر بن مسلم، ابوبکر بن
مہندس، حضرت ابوشیخ، ابوالقاسم طبرانی، ابوالحسن علی بن محمد مصری، حسن بن رشیق،
عبدالباقی بن قانع، عبداللہ بن حسن، محمد بن ایوب بن صموت، محمد بن عباس بن نجیح۔
فضل وکمال:-
امام ابوبکر بزار
اپنے زمانہ کے اکابر حفاظِ حدیث میں شمار کیے جاتے ہیں، ان کے فضل وکمال، حفظ و
ضبط، ثقاہت و صداقت کا اعتراف ائمہ حدیث نے کیا ہے۔
* حافظ ذہبی لکھتے ہیں: "ذکره
الدار قطنی فاثنی علیہ وقال ثقۃ" امام دارقطنی نے آپ کے محامد کا
تذکرہ کرنے کے بعد لکھا ہے وہ ثقہ ہیں۔ (تذکرہ
ج ۲ ص ۲۰۴)
* ابو شیخ: "حفاظِ دنیا میں ایک وہ بھی
تھے، علی بن مدینی کے بعد کوئی شخص ان سے زیادہ حدیثوں کا جاننے والا نہیں گزرا۔
بغداد کے حفاظ ومحدثین ان کے گرد جمع ہو کر ان سے روایتیں تحریر کرتے تھے، وہ
لوگوں میں حدیثوں کے سب سے بڑے حافظ تھے۔"
* ابو یوسف یعقوب بن مبارک: "ما رأیت
انبل من البزار ولا احفظ" میں نے بزار سے زیادہ دانشور اور
حافظ نہیں دیکھا۔
(لسان
المیزان ج ۱ ص ۲۳۸)
مسند بزار:-
فنِ حدیث میں ابوبکر بزار کے کمالِ فن کا
ثبوت ان کی مسند ہے۔ مسند میں ان کی دو کتابیں تھیں (۱) المسند
الکبیر المعلل
جس کا نام البحر
الزاخر
ہے (۲) مسندِ طبقہ ۔ مسندِ کبیر میں حدیثوں کے علل
اور خفی اسبابِ قادحہ سے کلام کیا گیا ہے، یہی وجہ ہے کہ اسے کتبِ معلل میں شمار
کیا جاتا ہے۔ ائمہ حدیث کی اصطلاح میں معلل وہ کتابیں ہیں جن میں مصنف ان مخفی
اسباب وعلل کو بیان کرتا ہے جو حدیث کی صحت کے لیے موجبِ قدح ہوں، شاہ عبدالعزیز
رقمطراز ہیں ان کی مسندِ کبیر معلل ہے یعنی ایسے اسبابِ جو صحتِ حدیث میں قادح ہیں
ان کو بھی بیان کرتے جاتے ہیں، عرف میں اس قسم کی کتاب کو معلل کہتے ہیں مثلاً اس
روایت کے بعد جو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر کے واسطے سے بیان کی کہتے
ہیں اسامہ بن الحکم مجہول ہیں اس حدیث کے سوا کوئی حدیث روایت نہیں کرتے۔
(بستان
المحدثین ص ۵۹)
ابو العباس احمد بن ابی بکر اسماعیل الکتانی
بوصیری م ٤۴۰ھ نے اور حافظ نور الدین الہیثمی متوفی ۸۰۷ھ نے اس کتاب کے زوائد علی الکتب السته جمع
کیے ہیں۔ حافظ ہیثمی کی کتاب کا نام البحر الذخار فی زوائد البزار ہے۔
وصال:-
ماہ ربیع الاول ۲۹۲ھ
میں بمقام رہا (ملک شام) وفات پائی جہاں وہ اشاعتِ حدیث کے سلسلہ میں تشریف لے گئے
تھے۔
ماخذ مراجع، محدثین عظام حیات و خدمات
