امام ابو بکر بن ابی شیبہ
نام: عبداللہ
کنیت: ابو
بکر
ولادت: آپ کی ولادت ۱۵۹ھ میں
ہوئی۔
نسب :
عبداللہ بن محمد
بن ابی شیبہ ابراہیم بن عثمان بن خواستی۔ وطن واسط ہے آپ کا خاندان علمی لحاظ سے
مشہور تھا ان کے دادا ابو شیبہ صاحبِ علم بزرگ تھے خلیفہ منصور عباسی کے زمانہ میں
۲۳ برس تک واسط کے قاضی رہے۔ آپ کے والد محمد
بھی صاحبِ علم تھے وہ فارس کے قاضی تھے جن کے تین صاحبزادے عبداللہ، عثمان، اور
قاسم اکابر محدثین کے زمرہ میں شمار کیے جاتے ہیں امام ابو بکر کا خاندان بعد میں
کوفہ آکر آباد ہو گیا تھا جس کی بناء پر بعض لوگوں نے ان کو کوفی کا باشندہ بتایا
ہے۔
تحصیلِ علم:
امام ابو بکر نے
جب آنکھ کھولی ان کا خانوادہ اور شہر واسط گہوارۂ علم و فن بنا ہوا تھا چنانچہ آپ
نے خداداد استعداد علمی اور بے نظیر حافظہ کی بدولت علم و فضل میں کمال پیدا کیا
انہوں نے واسط، کوفہ، بغداد اور دوسرے شہروں کے ائمہ فن سے بھی اکتسابِ فیض کیا ان
کے مشہور اساتذہ یہ ہیں:
ابوالاحوص، عبداللہ بن ادریس، ابن مبارک،
شریک، ہشیم، ابو بکر بن عیاش، اسماعیل بن عیاش، جریر بن عبدالحمید، ابواسامہ،
ابومعاویہ، وکیع، ابن علیہ، خلف بن خلیفہ، ابن نمر، ابن مہدی، قطان، ابن ابی
زائدہ، عباد بن عوام، ابن عیینہ، ابوالخالد الاحمر، عبدالاعلیٰ بن عبدالاعلیٰ،
محمد بن فضیل، مروان بن معاویہ، معتمر بن سلیمان، یزید بن مقدام بن شریح، یزید بن
ہارون۔
(تہذیب التہذیب ج ۶ ص ۳)
فضل و کمال:
امام ابو بکر بن
ابی شیبہ قرآن و تفسیر، حدیث و سنت تاریخ و سیر میں بڑا اکمال رکھتے تھے ان کو
حدیث میں ممتاز مقام حاصل تھا معاصر اور بعد کے اکابر علماء نے آپ کے فضل و کمال
تثبت و اتقان اور کمالِ حفظ و ضبطِ حدیث کا اعتراف کیا ہے۔
امام احمد بن حنبل:
"ابو بکر
صدوق وهو احب الی من عثمان" "ابو بکر صدوق ہیں اور میرے
نزدیک اپنے بھائی عثمان سے زیادہ محبوب ہیں۔
(تہذیب
التہذیب ج ۶ ص ۳)
عجلی: "ثقة وكان حافظاً
للحدیث"
"وہ ثقہ اور حافظِ حدیث تھے۔ (ایضاً)
عمرو بن علی: "ما رأیت
احفظ من ابی بکر قدم علینا مع علی بن المدینی فسرد للشیبانی اربع مائة حدیث حفظاً"
میں نے ابو بکر بن ابی شیبہ سے بڑا حافظِ حدیث نہیں دیکھا۔ وہ ہمارے یہاں علی بن
مدینی کے ساتھ آئے تو انہوں نے شیبانی کی چار سو حدیثیں اپنی یادداشت سے بیان کیں۔
(ایضاً)
ابوعبید قاسم
: "انتھی
العلم الی اربع فابو بکر اسردھم لہ واحمد افقھھم فیہ
ویحییٰ اجمعہم لہ وعلیٰ اعلمہم بہ "علم چار آدمیوں پر ختم ہو گیا۔ تو
ابو بکر حدیث کو سب سے زیادہ خوبی کے ساتھ بیان کرنے والے تھے اور اَقران میں میں
سب سے بڑے فقیہ اور یحییٰ ان میں سب سے زیادہ حدیث جمع کرنے والے اور علی ان میں
سب سے بڑے عالم تھے۔ (ایضاً ص۴)
صالح بن محمد:
"اعلم من ادرکت
بالحدیث وعللہ علی بن المدینی واعلمہم بتصحیف المشائخ یحییٰ بن معین واحفظہم عند
المذاکرۃ ابو بکر بن ابی شیبۃ" میں نے جن اہل علم کو پایا ان میں
علی بن مدینی حدیث اور اس کے علل کو زیادہ جاننے والے ہیں۔ یحییٰ بن معین تصحیفِ
مشائخ کے سب سے بڑے عالم ہیں اور ان میں ابو بکر بن ابی شیبہ مذاکرۂ حدیث کے وقت
سب سے بڑے حافظ ہیں۔ (ایضاً)
ابو زرعہ رازی:
"ما رایت
احفظ من ابی بکر بن ابی شیبۃ" میں نے ابو بکر بن ابی شیبہ سے بڑا
حافظِ حدیث نہیں دیکھا (ایضاً)
ابنِ حبان:
"کان متقنا
حافظا دینا ممن کتب وجمع وصنف وذاکر وکان احفظ اہل زمانہ للمقاطع"
ابو بکر متقن، حافظ اور دیندار تھے۔ اور ان لوگوں میں تھے جنہوں نے لکھا جمع کیا
اور تصنیفات چھوڑیں، مذاکرہ کیا وہ اپنے زمانہ میں منقطع روایتوں کے سب سے بڑے
حافظ تھے۔ (ایضاً)ابنِ قانع: "ثقۃ ثبت" ابو بکر بن
ابی شیبہ ثقہ اور ثبت ہیں۔ (ایضاً)
حافظ ذہبی:
"الحافظ
الکبیر القدیم النظیر الثبت الحریر" ابو بکر بن ابی شیبہ بے مثال حافظِ
حدیث اور اس فن میں ماہر بے عدیل ہیں۔
(تذکرۃ
الحفاظ ج۲ ص۱۸)
تلامذہ:
امام ابو بکر نے
علم وفن میں جو کمال پیدا کیا تھا اس کا تقاضا تھا کہ دنیا ان کے گرد جمع ہو کر
اپنے دامن کو مالا مال کرے چنانچہ ایسا ہی ہوا آپ کے چشمۂ علم سے ہزاروں پیاسوں نے
اپنی علمی پیاس بجھائی ان میں سے چند اہم تلامذہ کے نام یہ ہیں:
امام بخاری، مسلم، ابو داؤد، ابنِ ماجہ،
نسائی، احمد بن علی قاضی، زکریا ساجی، عثمان بن خرزاذ، ابو شیبہ، ابراہیم بن ابی بکر
بن ابی شیبہ، احمد بن حنبل، محمد بن سعد، ابو زرعہ، ابو حاتم، عبد اللہ بن احمد بن
حنبل، محمد بن عثمان بن ابی شیبہ، ابراہیم حربی، محمد بن عبید اللہ منادی، یعقوب
بن شیبہ، بقی بن مخلد بن ابی عاصم، ابو یعلیٰ، ہیثم بن خلف دوری، عبدان اہوازی،
محمد بن محمد بن سلیمان باغندی، ابو القاسم عبد اللہ بن محمد بغوی، ابو عمر،یوسف
بن یعقوب نیشاپوری۔
(تہذیب
ج۶ ص۳)
تصا نیف:
حضرت ابوبکر بن ابی شیبہ ایک باکمال مصنف
تھے ابو عبیدہ کا بیان ہے "احسنہم وضعا للكتاب ابو بكر بن ابی شیبہ"
کہ کتاب تصنیف کرتے وقت ابوبکر بن ابی شیبہ کی ترتیب سب سے اچھی ہوتی ہے۔ (تذکرہ
ج ۲ ص ۱۸)
خطیب بغدادی کہتے ہیں "كان ابو
بكر متقنا حافظا صنف المسند والاحكام والتفسير" ابوبکر
متقن اور حافظ ہیں مسند، احکام، اور تفسیر میں متعدد کتابوں کے مصنف ہیں (ایضاً)
ابن ندیم نے ان کی کتابوں کا تذکرہ کیا ہے ۔
کتاب السنن فی الفقہ،
کتاب التفسیر، کتاب التاریخ، کتاب الفتن، کتاب صفین، کتاب الجمل، کتاب الفتوح،
کتاب المسند،
لیکن عام مورخین ان کی چار کتابوں کا ذکر کرتے ہیں۔ مسند، تفسیر، کتاب
الاحکام
اور
مصنف موخر الذکر کتاب ابن ابی شیبہ کی شہرہ آفاق کتاب ہے اسے لازوال
شہرت و مقبولیت حاصل ہوئی حدیث کی بلند پایہ اور اہم کتابوں میں شمار کی جاتی ہے
اس موضوع پر لکھی جانے والی تمام کتابوں میں یہی کتاب سب سے جامع اور مبسوط ہے۔
امام ابن ابی شیبہ نے اس کتاب کو ابواب فقہ
پر مرتب کیا ہے اور حدیث پوری سند کے ساتھ تحریر کی ہے ابتدا کتاب
الطہارت
سے ہوئی ہے اس کے شروع میں یہ ہے "باب ما يقول الرجل اذا دخل الخلاء"
جب کوئی شخص پاخانہ میں داخل ہونے کا ارادہ کرے تو کون سی دعا پڑھے۔ اس باب میں یہ
حدیث بیان کی ہے "حدثنا هشيم بن بشير عن العزيز بن ابی صهيب عن
انس بن مالک قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا دخل الخلاء قال اعوذ باللہ
من الخبث والاخبائث"
(بستان المحدثین ص
۱۸۰)
حافظ ابن کثیر نے لکھا ہے کہ ابوبکر بن ابی
شیبہ لاجواب اور عدیم المثال مصنف کے مرتب ہیں ۔ ان سے پہلے اور بعد میں ایسی کتاب
نہیں لکھی گئی۔ (ابن کثیر ج ۱۰ ص ۳۱۵) اس کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ اکثر مرویات
صحاح ستہ میں موجود ہیں امام بخاری نے تیس اور امام مسلم نے ۱۵۴۰
روایت کی تخریج کی ہے سنن ابوداؤد میں بکثرت اور سنن ابن ماجہ میں غالباً سب سے
زیادہ اسی مصنف سے حدیثیں لی گئی ہیں۔
(حجۃ
اللہ البالغہ ج ۱ ص ۱۰۷)
احکام و مسائل کا اس سے زیادہ جامع اور
مستند کوئی مجموعہ نہیں ہے اس میں وہی حدیثیں شامل کی گئی ہیں جن سے کوئی فقہی
مسئلہ مستنبط ہوتا ہے اس کتاب میں مرفوع و متصل روایات کے ساتھ مرسل، منقطع اور
موقوف حدیثیں بھی ہیں آثار صحابہ اور تابعین کے فتاوے اور فقہاء کے اقوال اور آراء
بھی بیان کیے گئے ہیں اس سے ہر حدیث کے متعلق سلف کے تعامل اور ائمہ کے اتفاق
واختلاف کا پتہ چل جاتا ہے۔
مصنف ابن ابی شیبہ شائع ہوچکی ہے۔
وصال:
امام ابن ابی شیبہ
نے ٧٤/سال کی عمر پائی ٨ / محرم
الحرام ۲۳۵ھ میں رحلت فرمائی۔
ماخذ
مراجع، محدثین عظام حیات و خدمات
