امام ابو فتح محمد تقی الدین قشیری(دقیق العید قشیری)
نام : محمد
والد گرامی : علی
کنیت : ابوالفتح
لقب : تقی الدین
ولادت :
حجاز کے
مشہور شہر ینبع کے قریب ماہِ شعبان ۶۲۵ھ میں آپ کی
ولادت ہوئی۔
تحصیلِ علم:
ابن دقیق العید
کو خالقِ کائنات نے قبولِ علم کی استعداد اور ذوق و طلب سے بہرہ مند فرمایا تھا
چنانچہ جب وہ سنِ شعور کو پہنچے تو انہوں نے اپنے دور کے ممتاز علماء و محدثین سے
علم حاصل کیا۔ حافظ ذہبی نے آپ کے متعدد شیوخ کے یہ نام بتائے ہیں۔
اساتذہ:
علامہ ابن المقیر،
امام ابن جمیزی، سبط السلفی، حافظ زکی الدین علامہ ابن عبدالدائم، ابوالبقاء خالد
بن یوسف اور ایک مختصر جماعت۔ (تذکرہ
ج ۳ ص ۲۶۲)
علم و فضل:
ابن دقیق العید
نے فقہ و حدیث میں کمال پیدا کیا تھا اور وہ اپنے زمانہ کے ممتاز فقیہ و محدث شمار
کیے جاتے تھے۔ ان کی علمی شان کا تذکرہ حافظ ذہبی نے ان الفاظ میں کیا ہے:
"كان من أذكياء
زمانه واسع العلم كثير الكتب مديما للسهر مكبا على الاشتغال ساكنا وفورا ورعاً عاقلاً
ان ترى العيون مثله" یعنی ابن دقیق العید اپنے زمانہ کے ذہین لوگوں میں
شمار ہوتے تھے، بڑے وسیع العلم تھے اور کتابوں کا حکیم ذخیرہ اپنی تحویل میں رکھتے
تھے، عابدِ شب زندہ دار تھے اور ہمہ وقت تعلیم و تعلم میں مصروف رہتے تھے، باوقار
اور پرسکون زندگی بسر کرتے تھے، تورع اور پرہیزگاری میں ان کا جواب نہیں تھا ان جیسے
فاضلِ بزرگ، لوگوں نے کم ہی دیکھے ہوں گے۔ (ایضاً)
حافظ قطب الدین
حلبی کا بیان ہے: "كان الشيخ تقي الدين امام اهل زمانه وممن فاق بالعلم
والزهد على اقرانه عارفاً بالمذهبين اماماً في الاصلين حافظاً متقناً في الحديث
والعلوم ويضرب به المثل في ذلك وكان نهاية في الحفظ والاتقان والتحري" شیخ
تقی الدین اپنے زمانہ کے امام تھے، علم و زہد میں اپنے معاصرین پر گوئے سبقت لے
گئے تھے، شافعی اور مالکی دونوں مسلکوں کے عالمِ بے بدل اور امامِ بے نظیر تھے، حدیث
اور دیگر علوم میں حافظ اور متقن تھے اور اس میں وہ ضرب المثل تھے، حفظ، اتقان اور
غور و فکر میں انتہا کو پہنچے ہوئے تھے۔ (ایضاً)
شاہ عبدالعزیز
محدث دہلوی لکھتے ہیں: "ازکیاء زمانہ سے وسعتِ علم میں بالاتر تھے علم کے شغل
میں اکثر شب بیداری کرتے اور بہت لکھا کرتے تھے اصول و علومِ معقولہ میں بھی
مہارتِ تامہ رکھتے تھے۔" (بستان
المحدثین ص ۲۱۷)
علمِ حدیث:
تذکرہ بالا
اقوال سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ حدیث و فقہ اور دوسرے علوم و فنون کے جامع تھے
مگر حدیث ان کا خاص میدان تھا جس میں وہ اپنے معاصرین سے بہت آگے نظر آتے ہیں۔
کثرتِ حدیث، قوتِ حفظ و ضبط، ثقاہت و عدالت میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔ ساتھ ہی وہ
فکر و رسا تعمق نظر کی دولت سے بھی بہرہ مند تھے چنانچہ احادیث کے معانی و مطالب
اور اس کے دقیق نکات تک پہنچنے کی کامل صلاحیت رکھتے تھے۔
(۸۲) شیخ الاسلام حضرت امام ابن دقیق العید قشیری رحمۃ اللہ علیہ
لغت:
امام ابن دقیق
العید لغت میں درجہ امامت پر فائز تھے، وہ لغت، باکی اور فقہ شافعی دونوں کے
زبردست عالم تھے ان کی فقہی عظمت اور قوتِ فیصلہ دیکھ کر انہیں مصر کا قاضی مقرر کیا
گیا۔ اس عہدہ پر پوری دیانت کے ساتھ اسلامی شریعت کے مطابق فیصلے صادر فرماتے تھے۔
آپ نے کئی بار عہدۂ قضاء سے استعفا دیا مگر بار بار آپ سے درخواست کی گئی اور
دوبارہ عہدہ قبول کرنے پر مجبور کیا گیا۔
حافظ ذہبی آپ کی لغوی کمال کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں
"شرح بعض
مختصر ابن الحاجب فی الفقہ لمالک لم ار فی کتب الفقہ مثلہ" یعنی فقہ
مالکی میں مختصر ابن حاجب کی ایک حصہ کی ایسی شرح رقم فرمائی ہے کہ میں نے کتب فقہ
میں ایسی کوئی کتاب نہیں دیکھی۔ (تذکرۃ
الحفاظ ج ۴ ص ۲۶۳)
تلامذہ:
آپ سے علمی کمالات سے بہت سے لوگوں نے فیض حاصل کیا ان میں
چند اہم شخصیتیں یہ ہیں۔ قاضی القضاہ علاء الدین بن قونوی، قاضی القضاہ شیخ علم
الدین بن اخنائی، اور حافظ قطب الدین وغیرہ۔ (ایضاً ص ۲۶۴)
تصانیف:
شیخ الاسلام ابن
دقیق العید ممتاز مصنف تھے انہوں نے بہت سی نادر اور مفید کتابیں تصنیف فرمائیں۔ (۱) شرح العمدہ (۲) کتاب الالمام فی
احادیث الاحکام (۳) الاربعین فی الروایۃ عن رب العالمین (۴) الاربعون (۵) علوم الحدیث (۶) شرح مقدمہ المطرزی (۷) کتاب
الالمام فی الاحکام۔
کتاب الالمام:
آپ کی شہرہ آفاق
کتاب الالمام فی احادیث الاحکام ہے جس کا موضوع نام سے ظاہر ہے اس کے دیباچہ میں
کتاب کی خصوصیات کے بارے میں مصنف تحریر فرماتے ہیں۔
"یہ کتاب علم حدیث میں ایک ایسا مختصر
رسالہ ہے جس کے حضور میں نے کافی تامل کیا اس کے احادیث کو غیر مرتب نہ چھوڑا اور
اس کی وضع کی تہذیب میں نے کوئی کوتا ہی نہیں کی۔
شاہ عبدالعزیز
صاحب نے کتاب الالمام کی پہلی حدیث نقل کی ہے۔ "عن یزید الفقیر
قال حدثنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال
اعطیت خمسا لم یعطھن احد قبلی نصرت بالرعب مسیرۃ شھر وجعلت لی الارض مسجداً وطھوراً
فایما رجل من امتی ادرکتہ الصلوۃ فلیصل واحلت لی الغنائم ولم یحل لاحد قبلی واعطیت
الشفاعۃ فکان النبی یبعث الی قومہ خاصۃ وبعثت الی الناس عامۃ متفق علیہ من حدیث
ھشیم عن یزید الفقیر واللفظ للبخاری انتھی۔" یعنی
جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام
نے فرمایا مجھ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسی پانچ چیزیں عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے
پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔
(۱) ایک ماہ کی
مسافت تک میرا رعب دلوں میں ڈال کر میری مدد کی جاتی ہے۔
(۲) میرے لیے پوری
زمین مسجد اور مٹی پاکی کا ذریعہ بنا دی گئی ہے پس میری امت میں سے جس کو جہاں
نماز کا وقت ہو جائے وہ وہیں نماز ادا کر لے (۳) میرے لیے
مالِ غنیمت حلال کر دیا گیا ہے مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں ہوا تھا (۴) مجھے شفاعت کا حق عطا ہوا ہے (۵) ہر دیگر
انبیا خاص خاص قوموں کی طرف مبعوث ہوئے تھے اور میں تمام مخلوق کی طرف بھیجا گیا
ہوں۔ (ایضاً)
کتاب الامام فی الاحکام لکھنا شروع کی تھی اگر مکمل ہو
جاتی تو پندرہ جلدوں میں ختم ہوتی۔ (تذکرہ ج
4 ص ۲۶۳)
زہد و عبادت:
تقی الدین ابن
دقیق العید ورع و تقویٰ اور ریاضت و مجاہدہ میں بھی بہت بلند درجہ رکھتے تھے۔ صوم
و صلٰوۃ اور قیامِ لیل آپ کا معمول تھا حافظ ذہبی لکھتے ہیں "کان
..... شدید الخوف دائم الذکر لا ینام اللیل الاقلیلا ویقطعہ فیما بین مطالعۃ
وتلاوۃ وذکر وتہجد حتی صار السہر لہ عادۃ اوقاتہ کُلّھا معمورۃ لم یر فی عصرہ مثلہ" یعنی
عبادت میں سرگرم اور خشیت الٰہی میں شدت کی وجہ سے سوتے نہ تھے ذکر و فکر میں
مصروف رہتے تھے۔ سوتے بہت کم تھے اور رات متعلقہ کتب، ذکر خدا اور تہجد میں بسر
ہوتی تھی بیداری آپ کی فطرت ثانیہ بن گئی تھی ہر وقت افادہ و استفادہ میں لگے رہتے
تھے آپ کے زمانہ میں آپ جیسا کوئی آدمی دیکھنے میں نہیں آیا۔ (ایضاً)
کشف و کرامت:
کثرت عبادت، دین
کی بے لوث خدمت نے تقی الدین ابن دقیق العید کو تزکیہ باطن اور معرفت و سلوک کی
مرتبہ بلند پر فائز کیا تھا ان سے بوجہ کرامتوں کا ظہور ہوتا تھا۔
(۱) تاتاریوں کی یلغار
نے پورے عالم اسلام کو تہ و بالا کر رکھا تھا ان کا لشکر جس طرف رخ کرتا سیلابِ
بلا بن کر بڑے بڑے شہروں اور قصبوں کو مہیب
ویرانوں میں تبدیل کر دیتا۔ تاتاریوں کا ایک لشکر بلادِ شام کا رخ کیا تو سلطانِ
وقت نے اس بلائے عظیم سے ملک کو بچانے کی غرض سے علماء کو حکم دیا کہ وہ بخاری شریف
کا ختم کریں تا کہ ختم بخاری کی برکتوں سے بلائے تاتار ٹل جائے اور مسلمان امن و
سلامتی کے ساتھ رہیں چنانچہ سلطانی حکم کی تعمیل میں علماء نے ایک جگہ جمع ہو کر
بخاری کا دور کیا بخاری کا دور ابھی ایک حصہ باقی رہ گیا تھا کہ جمعہ کے تبرک دن
کے لیے چھوڑ دیا گیا تھا ابھی جمعہ نہیں آیا تھا کہ شیخ تقی الدین ابن دقیق العید
جامع مسجد میں تشریف لائے اور علماء حاضرین سے دریافت فرمایا کہ آپ لوگ ختم بخاری
سے فارغ ہو گئے؟ آپ نے عرض کیا ایک دن کا وظیفہ باقی ہے ہم چاہتے ہیں کہ اس کو
جمعہ کے روز ختم کریں۔ آپ نے فرمایا مقدمےکا فیصلہ ہو چکا ہے کل ہی عصر کے وقت
تاتاری فوج شکست فاش کھا کر لوٹ گئی اور مسلمانوں نے فلاں صحراء میں فلاں گاؤں کے
قریب انتہائی خوشی و خرمی سے قیام کیا۔ لوگوں نے عرض کیا اس خبر کو مشتہر کر دیں؟
آپ نے فرمایا ہاں۔ چند روز کے بعد سلطانی ڈاک سے اس خبر کی تصدیق ہو گئی اور سر
موتفاوت نہ نکلا۔ (بستان
المحدثین ص ۲۱۷)
(۲) ایک روز کسی نے
آپ کی مجلس میں کسی گستاخی کی ۔ فرمایا تم نے اپنے آپ کو موت کے حوالے کیا اور
اس کلمے کی تین بار تکرار کی چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ وہ تین دن کے بعد مر گیا۔
(ایضاً)
شاہ عبدالعزیز
صاحب لکھتے ہیں "اللہ تعالیٰ نے ان کو کشف خواطر، قلوب اور کشفِ وقائع و حوادث
دونوں مساوی عطا فرمائے تھے چنانچہ ان کے اہل مجلس نے اس قسم کی حکایات دفتر کی
دفتر نقل کی ہیں"۔ (ایضاً)
وصال:
صفر ۷۰۲ھ دیارِ مصر میں داعی اجل کو لبیک کہا۔
ماخذ مراجع، محدثین عظام حیات و خدمات
