امام ابو حاتم محمد ابنِ حبان
نام : محمد
کنیت: ابو حاتم
لقب: ابنِ حبان
ولادتِ با سعادت
آپ کی ولادت 270ھ میں خراسان کے مشہور شہر بست میں ہوئی
نسب :
محمد بن حبان بن احمد بن حبان بن احمد بن معاذ
بن معبد تمیمی دارمی بستی۔
آپ قبیلہ تمیم کی شاخ دارم سے نسبی تعلق
رکھتے ہیں۔ یہ سرسبز و شاداب شہر غزنہ و ہرات کے درمیان واقع ہے جو انتہائی زرخیز
خطہ ہے یہاں بڑے بڑے علماء و فضلاء پیدا ہوئے۔
تحصیلِ علم:
امام ابنِ حبان کو
قدرت نے علمی استعداد اور ذوقِ طلب سے مالا مال کیا تھا۔ ہوش سنبھالتے ہی بست کی
درسگاہوں میں تحصیلِ علم کا آغاز کر دیا اور جوں جوں اس میدان میں آپ آگے بڑھتے
رہے علم کی تشنگی فزوں تر ہوتی رہی اور وہ خراسان کی سرحدوں سے نکل کر اسلامی بلاد
و امصار کی بستیوں کی خاک چھانتے رہے، ایک ایک شہر میں علم کی خاطر بار بار گئے۔
انہوں نے درجنوں اسلامی بلاد و امصار کا سفر کیا۔ یاقوت حموی نے ۴۳ شہروں کا نام
لکھا ہے ان میں مشہور علمی مراکز بخارا، رے، نسا، بصرہ، بغداد، حجاز، مصر، تشریف
لے گئے۔ ابو عبداللہ بن غنجارفرماتے ہیں کہ آپ نے شاش سے اسکندریہ تک کا سفر کیا۔
ابنِ حبان کے علمی
ذوق کا یہ عالم تھا کہ آپ اپنا وقت کبھی ضائع نہ کرتے تھے۔ سفر ہو یا حضر ہر جگہ
تحصیلِ علم کا شغل جاری رکھتے۔ ابو حامد نیشاپوری فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ
امام ابنِ خزیمہ کے ساتھ نیشاپور سے کہیں جا رہے تھے۔ ہمارے ساتھ ابو حاتم بستی
بھی تھے۔ یہ بار بار راستے میں ان سے سوالات کرتے رہتے تھے حتیٰ کہ وہ تنگ ہو گئے
اور فرمایا کہ (دور ہو جاؤ تنگ مت کرو)۔
انہوں نے پھٹکار
کا یہ جملہ بھی لکھ لیا۔ جب ان سے کہا گیا کہ اس جملہ کو بھی لکھ ڈالا؟ تو آپ نے
فرمایا کہ "آنجناب کی ہر بات قابلِ غور ہے۔" (معجم
البلدان ج۱ ص۴۱۹)
امام ابنِ حبان نے
رواجِ زمانہ کے مطابق علم کے شوق میں دور دراز ملکوں اور شہروں کا سفر کیا اور بے
شمار اساتذہ و شیوخ سے کسبِ علم کیا۔ ان کا بیان ہے کہ ہم نے اسبیجاب اور اسکندریہ
کے درمیان سے دو ہزار بزرگوں سے حدیثیں لکھیں۔ (الاحسان
بترتیب صحیح ابنِ حبان ج۱ ص۸۴)
شیوخ:
حسین بن ادریس،
ابو خلیفہ جمیحی، ابو عبدالرحمن النسائی، عمران بن موسیٰ بن مجاشع، حسن بن سفیان،
ابو یعلیٰ موصلی، احمد بن حسن صوفی، جعفر بن احمد دمشقی، ابو بکر بن خزیمہ۔ (تذکرہ
ج۳ ص۱۲۵) ابویعلیٰ زکریا ساجی، عبداللہ بن محمد بن عبدالرحمن بن شیرویہ ازدی،
ابوالقاسم عبداللہ بن محمد بن عبدالعزیز بغوی، عمر بن محمد عمران بن موسیٰ بن
مجاشع، محمد بن ابراہیم خلدی ہروی، محمد بن اسحٰق بن ابراہیم، سراج ثقفی، ابوالحسن
محمد بن عبداللہ جنید بستی ، محمد بن عثمان بن سعد دارمی، محمد بن یحییٰ مدینی،
محمد بن یزید دورقی، ابو عوانہ، یعقوب بن اسحاق وغیرہ۔
فضل و کمال:
ابنِ حبان نے طلبِ
علم میں راحت و مسرت کی پریشانیاں جھیلیں اور بڑے بڑے علماء و حفاظِ حدیث سے
اسنادِ عالی و متون کی تحصیل کی۔ ان کا دامن علم و فن کے خزانوں سے معمور تھا۔
مختلف علوم و فنون کے ماہر تھے۔ میدانِ علم میں کوئی آپ کا ہم پلہ نہ تھا۔ علمِ
حدیث، فقہ، طب، علمِ کلام، علمِ نجوم، اور دیگر علوم میں آپ ماہر سمجھے جاتے۔ ابنِ
عماد فرماتے ہیں کہ آپ حدیث، فقہ، لغت، وعظ علم طب ،علمِ نجوم اور کلام میں علمِ کا
خزانہ تھے۔ (شذرات الذہب ج۳ ص۱۶)
فنِ حدیث میں آپ
کو خصوصی ملکہ حاصل تھا۔ آپ سنن و متون کے حافظ و ثقہ تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ نقدِ
حدیث میں اپنے اپنے دور کے مراجع و ماخذ پکارے جاتے جس سے دوسرے لوگ قاصر رہے۔
ابو عبداللہ بن غنجار
فرماتے ہیں: "اخرج فی علوم الحدیث ما عجز عنہ غیرہ"
(معجم
البلدان ج۱ ص۱۱۵) علمِ حدیث میں ایسی حدیثوں کا پایا جانا جس سے دوسرے
عاجز تھے۔
امام ذہبی فرماتے ہیں: "کان راساً
فی معرفة الحدیث" (میزان
الاعتدال)
ابو سعد ادریسی فرماتے ہیں کہ: "کان من
فقہاء السدن و حفاظ الآثار والمشہو رین فی الأمصار والأقطار عالماً بالطب والنجوم
وفنون العلم"
(لسان
المیزان ج ۵ ص ۱۱۴) آپ کا
شمار بڑے بڑے فقہاء اور حفاظ حدیث میں ہوتا تھا۔ شہروں اور ملکوں میں آپ کی شہرت
تھی آپ طب، نجوم اور مختلف فنون کے عالم تھے۔
ابن عماد حنبلی فرماتے ہیں کہ: "کان
حافظاً ثبتاً اماماً، حجةً احد اوعية العلم" وہ حافظ
ثبت امام، حجت اور علم کا ظرف تھے۔ (شذرات
الذہب ج ۳ ص ۱۶)
حافظ ابن حجر عسقلانی: "آپ علم وفن کے
مالک، انتہائی ذہین اور عظیم تر حافظہ کے حامل تھے۔
حاکم: "کان ابن حبان من
اوعية العلم والفقہ والحدیث واللغۃ والوعظ ومن عقلاء الرجال"
ابن حبان فقہ، لغت، اور حدیث میں علم کا خزانہ تھے۔ وعظ خوب کہتے تھے اور عقلمند
انسانوں میں شمار ہوتے تھے۔
(تذکرہ ج ۳
ص ۱۲۶)
خطیب: "کان ثقة، نبیلاً،
فهماً"
وہ قابل اعتماد، ذی ہوش اور فطین عالم تھے۔
علومِ حدیث
حدیث میں وہ
امتیازی شان رکھتے تھے اور ان کا شمار باکمال ائمہ حدیث میں ہوتا ہے وہ مکثر حدیث
اور ماہر علوم حدیث تھے متون اور اسانید حدیث پر ان کی نظر بڑی گہری اور وسیع تھی
اسماء الرجال، فن جرح و تعدیل اور عللِ حدیث کی معرفت میں یکتائے روزگار تھے۔ فن
جرح میں آپ اپنے معاصرین میں بعد میں آنے والے محدثین پر بھی فوقیت رکھتے تھے۔
عللِ حدیث میں آپ کا علمی خولافی جرح و تعدیل میں گراں قدر تالیفات، رجال کے سلسلے
میں بے باک فیصلے، جرح و تعدیل کے اچھے وضوابط، اس کا واضح ثبوت ہیں کہ آپ امام فن
اور ناقد وقت تھے۔
ماہرینِ فن کا
بیان ہے کہ وہ متون و اسانید کے عالم اور واقفِ کار تھے۔ حدیث میں ان کے کارنامے
غیر معمولی ہیں انہوں نے علوم حدیث کی حیرت انگیز خدمات انجام دی ہیں حدیث میں ان
کی مہارت اور ژرف نگاہی کا ثبوت یہ بھی ہے کہ وہ جرح وتعدیل کے امام تھے اور اس فن
میں ان کی تصنیفات بڑی اہم خیال کی جاتی ہیں۔
فقہ:
ابن حبان حدیث کے
ساتھ فقہ میں بھی اجتہادی شان رکھتے تھے انہوں نے یہ علم اپنے استاد امام ابن
خزیمہ سے حاصل کیا تھا۔ آپ ہی کی بدولت سمرقند میں فقہی ذوق پیدا ہوا۔ فقہی کمالات
کو دیکھتے ہوئے آپ کو منصب قضاء پر فائز کیا گیا۔
ابو سعد ادریسی کہتے ہیں: "کان علی
قضاء سمر قند زماناً و کان من فقہاء الدین" مدتوں
سمرقند کے عہدۂ قضاء پر فائز رہے ہیں اور وہ دین کے فقیہ تھے۔ (تذکرہ
ج ۳ ص ۱۲۶)
حلقہ درس:
امام ابن حبان کو
قدرت نے علوم وفنون کی دولت سے مالا مال کیا تھا اور وہ بہت جلد اسلامی دنیا میں
محدث و فقیہ کی حیثیت سے مشہور ہو گئے سب سے پہلے ۳۳۷ھ
میں خراسان کے مرکز علم نیشاپور میں خانقاہِ سمر قندی اور حلقہ درس قائم کیا جہاں
طلبہ کی ایک کثیر جماعت آپ سے علم حاصل کرتی اور آپ کی کتابیں نقل کرتی۔ حافظ ذہبی
لکھتے ہیں:
"اقام بنیسابور بنی
الخانقاہ وقریئ علیہ جملة من مصنفاتہ" وہ نیشاپور آئے وہاں انہوں
نے ایک خانقاہ تعمیر کی اور ان سے طالبان علم نے ان کی ساری تصنیفات پڑھیں۔
(ایضاً)
نیشاپور سے ۳۴۰ھ
میں اپنے وطن بست آئے مجھے جہاں انہوں نے اپنی جیب خاص سے ایک مدرسہ اور ایک کتب
خانہ تعمیر کیا جہاں بستی میں رہنے والے طلبہ کی کفالت خود کیا کرتے اور کتب خانہ
کا دروازہ ہر صاحب علم کے لیے کھلا رہتا وہ ان کتابوں سے استفادہ کرتے اور انہیں
نقل کرتے۔
آپ کی علمی شہرت
دور دور پھیلی اور طلبہ جوق در جوق حلقہ درس میں شامل ہونے لگے۔ علامہ استرآبادی
آپ کی شہرت کا تذکرہ ان الفاظ میں کرتے ہیں "کان من المشهور ين في
الآفاق والامصار" مختلف علاقوں اور شہروں میں آپ کی شہرت تھی۔ (معجم البلدان ج ۱ ص ۴۷۱)
چنانچہ آپ سے طلبہ
کے جم غفیر نے استفادہ کیا جن میں ایک سے بڑھ کر ایک امام تھے آپ کے ہی شاگردوں
میں امام ابو عبداللہ حاکم، امام دارقطنی، ابو عبداللہ بن مندہ تھے۔ ان کے علاوہ
منصور بن عبد الله، ابو معاذ عبد الرحمن بن محمد سجستانی، ابو عبد الله غنجار
بخاری، جعفر بن شعیب بن محمد سمر قندی، حسن بن منصور، محمد بن احمد بن منصور بوقانی،
ابو سلمہ محمد بن محمد بن داؤد شافعی وغیرہ جیسے اہلِ علم و فضل ہیں۔
تصانیف:
امام ابن حبان نے
اپنی وسیع معلومات اور علمی تجربات و تحقیقات کو مختلف الانواع تصانیف میں تحریر
فرمایا۔ آپ کی کل تصانیف کتنی ہیں ان کی تعداد کی تعیین نہیں کی جاسکتی۔ یاقوت
حموی نے چالیس کتابیں ذکر کی ہیں جب کہ مقدمہ "موارد الظمأن" میں ۵۹
تصانیف کا ذکر کیا گیا ہے۔ شیخ کمال یوسف نے "الاحسان بترتيب صحیح ابن
حبان" کے مقدمہ میں آپ کی تالیفات میں ۶۳ کتابوں کا ذکر کیا ہے۔
تصانیف:
کتاب الصحابہ، کتاب
التابعین، کتاب اتباع التابعین، کتاب تبع الاتباع، کتاب الفصل بین النقلة، کتاب
علل حدیث الزہری، کتاب علل حدیث مالک، کتاب علل اوہام اصحاب التواریخ، کتاب علل
مناقب ابی حنیفہ ومثالبہ ، کتاب علل ما
استند الیہ ابوحنیفۃ، کتاب ما خالف الثوری شعبۃ، کتاب ما انفرد فیه اهل المدینة من
السنن، کتاب ما انفرد فیه اهل مكة من السنن، کتاب ما عند شعبة عن قتادة وليس عند
سعيد عن قتادة، کتاب غرائب الاخبار، کتاب ما اغرب الکوفيون عن البصر يین، کتاب ما
اغرب البصریون عن الکوفيين، کتاب اسامی من يعرف بالکنی، کتاب کني من يعرف بالاسامی،
کتاب الفصل والوصل، کتاب التمييز بين حديث النضر والخزار، کتاب الفصل بین حديث
اشعث بن مالک واشعث بن سوار، کتاب المفضل بين حدیث منصور بن معتمر و منصور بن
زاذان، کتاب الفصل بين مکحول الشامی والازدی، کتاب موقوف ما رفع، کتاب آداب
الرجالة، الفصل بين الغني والفقر، کتاب السخا والبذل، کتاب صفة الصلوة، کتاب شعب
الايمان، روضة العقلاء ونزهة الفضلاء، کتاب التاريخ، کتاب الهداية الى علم السنن،
کتاب الجرح والتعديل، کتاب الثقات، کتاب الضعفاء، وصحيح ابن حبان۔
امام حاتم فرماتے
ہیں "کانت
الرحلة بخراسان الی تصانیفه" آپ کی تصانیف پڑھنے اور سننے کے لیے
لوگ خراسان کا رختِ سفر باندھتے تھے۔ (معجم
البلدان ج 5 ص ۱۴۷)
ابو عبداللہ غنجار
فرماتے ہیں "صارت تصانیفه عدة لاصحاب الحديث الا انها عزيزة الوجود"
ان کی تصانیف اصحابِ حدیث کے لیے زادِ راہ تھیں لیکن اب ان کا وجود بہت کم ہو گیا
ہے۔ (ایضاً
ص ۴۱۵)
آپ کی تالیفات مختلف علوم وفنون میں ہیں
لیکن فنِ حدیث سے متعلق آپ کی گرانقدر تالیفات اپنی مثال آپ ہیں امام حاکم فرماتے
ہیں "علمِ حدیث میں آپ کی ایسی تالیفات ہیں جن کی نظیر نہیں ملتی۔ (لسان الميزان ج ۵ ص ۱۱۲)
صحیح ابن حبان:
صحیح ابن حبان آپ
کا عظیم کارنامہ ہے جسے کتاب الانواع والتقاسیم بھی کہا جاتا ہے یہ اہم کتاب پانچ
مبسوط جلدوں پر مشتمل ہوتی ہے اس کی ترتیب کے بارے میں شاہ عبد العزیز فرماتے ہیں:
اس کی ترتیب نئی طرح کی نہ مبوب ابواب ہی
ہے اور مثل مسانید صحابہ و معاجیم شیوخ ہے اول اقسام کو ذکر کرتے ہیں اور ان اقسام
میں انواع بیان کرتے ہیں مثلاً کہتے ہیں "النوع السادس
والاربعون من القسم الثاني في النواهي"
(بستان
المحدثین ص ٦٦)
صحیح ابن حبان کی
اہم ترین خصوصیت اس کی صحت ہے صحاح میں جو کتابیں لکھی گئی ہیں ان میں ابن خزیمہ
کی کتاب کے بعد اسی کا درجہ ہے۔
اس کتاب کو عام
روش ترتیب سے ہٹ کر نادر اسلوب پر مرتب کیا گیا ہے یعنی فقہی ابواب ومسانید پر
مرتب کیا گیا ہے۔
ہر حدیث کے آخر
میں رجال و اسناد کی تحقیق، حدیث کے مفہوم کی تعیین و وضاحت اور اسناد و متون کی
فنی علتیں اور دوسری مفید معلومات فراہم کی گئی ہیں۔
اس کتاب سے سے
امام ابن حبان کی فقہی بصیرت اور عالمانہ ژرف نگاہی کا ثبوت ملتا ہے۔
کتاب الثقات:
امام ابن حبان نے
فنِ رجال میں بڑی مبسوط اور جامع کتاب تحریر کی۔ اس کی ابتدا میں سنت و اتباعِ سنت
کی اہمیت ذکر کی گئی ہے۔ مقدمہ کتاب میں حدیث کے راویوں کی ۳۲
قسمیں بیان کی گئی ہیں کتاب کا آغاز رسالتِ مآب صلی اللہ علیہ وسلم، خلفاء راشدین
کے تذکرہ سےکیا گیا ہے پھر عام صحابہ، تابعین، تبع تابعین سے لے کر اپنے عہد تک کے
علماء حدیث کا تذکرہ حروف تہجی کی ترتیب پر لکھا گیا ہے یہ کتاب بڑی اہم اور مستند
ہے بعد میں رجال پر جتنی کتابیں لکھی گئیں سب میں اس کے حوالے ملتے ہیں۔
رجال میں دوسری کتاب کتاب الضعفاء ہے۔
ابن حبان نے
شائقین علم کے لیے اپنا ذاتی ایک مدرسہ اور کتب خانہ قائم کیا تھا دور دراز کے
طلبہ کو وہ اپنے گھر سے کھانا دیتے تھے یہ ان کی سخاوت و فیاضی اور معارف پروری کی
دلیل ہے۔
وصال
آپ کا وصال ۲۴ شوال ۳۵۴ھ میں بمقام بست ہوئی ۔
تدفین
اپنے مکان کے قریب ایک چبوترہ میں دفن کیے گئے۔
ماخذ مراجع، محدثین عظام حیات و خدمات
