امام ابو
اسماعيل حماد بن زید بصری
نام : حماد
کنیت : ابو
اسماعیل
القاب : ازدی بصری
ولادت :
آپ کی ولادت ۹۸ھ میں بمقام بصرہ ہوئی۔
نسب:
ابو
اسماعیل حماد بن زید بن درہم ازدی بصری۔آپ کے دادا درہم
سجستان کی جنگ میں گرفتار ہوئے اور آل جریر بن حازم کے غلام بنے۔
علم و
فضل:
حماد بن زید نے مرکز علم بصرہ میں آنکھ کھولی اور یہاں کے
جلیل القدر شیوخ کی بارگاہوں سے علم کے گراں بہا موتی چنے،
شیوخ :
ثابت بنانی، انس بن سیرین، عبدالعزیز بن صہیب، عاصم
الاحول، محمد بن زیاد، ابو جمرہ ضبعیی، جعد ابو عثمان، ابو حازم سلمہ بن دینار، شعیب
بن حبحاب، صالح بن کیسان، عبد الحمید صاحب زیادی، ابو عمران جونی، عمرو بن دینار،
ہشام بن عروہ، عبید اللہ بن عمرو وغیرہما۔
(تہذیب
التہذیب ج ٣ ص ۹)
حضرت
حماد نے بچپن ہی سے تعلیم شروع کر دی تھی اور جوانی میں بینائی کی دولت سے محروم
ہو گئے تھے مگر حصول علم کا سلسلہ جاری رہا انہوں نے اپنے حافظے کی مدد سے علم کا
وافر حصہ دماغ میں محفوظ و مستحضر کر لیا۔
حماد
طالب علمی کے زمانہ میں اپنے شیوخ کی مرویات ضبط تحریر میں لانے کا اہتمام کیا
کرتے تھے۔ یحییٰ کہتے ہیں کہ ایوب کے پاس حماد کے سوا کوئی اور حدیثوں کی کتابت نہیں
کرتا تھا۔ ابن ابی خیثمہ کا بیان ہے کہ ایک شخص نے عبید اللہ بن عمر سے دریافت کیا
کیا حماد لکھنا بھی جانتے تھے یا نہیں؟ بولے ایک مرتبہ میں جاڑے کے دن میں حضرت
حماد کے پاس آیا تو میں نے خود دیکھا کہ لکھتے جاتے تھے اور پھر پھونکیں مار مار
کر اسے خشک کرتے جاتے تھے۔علم حدیث میں بڑا ادراک رکھتے تھے۔ انہیں چار ہزار حدیثیں
ازبر تھیں۔
عجلی
کہتے ہیں "كان له اربعة آلاف حديث كان يحفظها ولم يكن له كتاب"
ان کے پاس چار ہزار حدیثیں تھیں جو انہیں حفظ تھیں ان کے پاس کوئی کتاب نہ تھی۔ (تذکرۃ
الحفاظ ج ۱ ص ۲۱۲)
آپ کی
علمی جلالت پر ائمہ حدیث کا اتفاق ہے۔
حافظ ذہبی:
"الامام
الحافظ المجود شيخ العراق" (ایضاً ص ۲۱۱)
یحییٰ بن
معین: "ليس احد
اثبت من حماد بن زيد" کوئی محدث حدیث میں حماد بن زید سے بڑھ کر پختہ نہیں
ہے۔ (ایضاً)
یحییٰ بن
یحییٰ: "ما رأيت
شيخا احفظ منه" میں
نے کوئی استاد ان سے زیادہ حافظہ والا نہیں دیکھا۔ (ایضاً)
عبد
الرحمن بن مہدی: "لم ار احدا قط اعلم بالسنة منه" میں نے
ان سے زیادہ حدیث جاننے والا کبھی کوئی شخص نہیں دیکھا۔ (ایضاً)
بقیہ:
"ما رأيت
بالعراق مثل حماد بن زيد" میں نے سارے عراق میں حماد بن زید جیسا کوئی آدمی
نہیں دیکھا۔ (ایضاً ص ۲۱۲)
ابن
خراش: "لم اخطئ
فى حديثه قط"
انہوں نے کبھی کسی حدیث میں غلطی نہیں کی۔ (ایضاً)
یزید بن
زریع: "هو سيد
المسلمين"
وہ مسلمانوں کے سردار تھے۔ (ایضاً)
حماد بن
زید اور حماد بن سلمہ ہم عصر تھے بعض لوگوں نے حماد بن زید کو حماد بن سلمہ سے
افضل قرار دیا۔ یزید بن زریع سے پوچھا گیا حماد بن زید اور حماد بن سلمہ میں آپ کے
نزدیک کون اثبت ہے؟ جواب دیا حماد بن زید۔
(تہذیب التہذیب ج ۲ ص ۱۰)
ابن سعد:
"کان ثقة،
ثبتاً، حجة، كثير الحديث" حماد بن زید ثقہ، ثبت، حجت اور کثیر الحدیث تھے۔
(ایضاً)
ابن مہدی:
"ائمة
الناس فى زمانهم اربعة سفيان الثورى بالكوفة، ومالك بالحجاز، والاوزاعى بالشام
وحماد بن زيد بالبصرة" زمانے میں لوگوں کے چار امام ہوئے ہیں سفیان ثوری
کوفہ میں، امام مالک حجاز میں، امام اوزاعی شام اور حماد بن زید بصرہ میں۔ (ایضاً
ص ۹)
حماد بن
زید کی عظمت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔
نصر بن
حماد کہتے ہیں میں امام مالک کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے اہل بصرہ میں سے
صرف حماد بن زید کے بارے میں مجھ سے پوچھا۔ (ایضاً)
امام نووی:
"وہ امام عالی مقام ہیں جن کی جلالت و عظمت پر سب کا اتفاق ہے"۔ (تہذیب
الاسماء ج ۱ ص ۱۶۷)
فقہ:
حماد بن زید عالی مرتبت فقیہ بھی تھے عبدالرحمن بن مہدی
کہتے ہیں "ما رأيت بالبصرة افقه منه" میں نے
بصرہ میں حماد سے بڑا فقیہ نہیں دیکھا۔ (تذکرہ ج
۱ ص ۲۱۱)
ابو
اسامہ آپ کی شائستگی علم و ادب اور فقہ دیکھ کر کہتے تھے "كنت اذا
رأيت حماد بن زيد قلت ادبه كسرى وفقهه عمر رضى الله عنه" میں جب
بھی حماد کو دیکھتا ہوں تو کہتا ہوں انہوں نے علم و ادب کسریٰ اور فن فقہ حضرت عمر
فاروق اعظم سے سیکھا ہے۔ (ایضاً ص ۲۱۲)
تلامذہ:
آپ کی علمی مجلسوں سے فائدہ اٹھانے والوں کی بڑی تعداد ہے
ان میں چند مشہور تلامذہ کے نام یہ ہیں:
عبداللہ
بن مبارک، عبدالرحمن بن مہدی، ابن وہب، قطان، ابن عیینہ، سفیان ثوری، ابراہیم بن
ابی عبلہ، مسلم بن ابراہیم، عارم، مسدد، مومل بن اسماعیل، ابو اسامہ، سلیمان بن
حرب، عفان، عمرو بن عوف، علی بن مدینی، قتیبہ، محمد بن زنبور مکی، ابواشعث، احمد
بن مقدام عجلی، وغیرہم (تہذیب التہذیب ج ۳ ص ۹)
وصال:
آپ كا وصال پرملال رمضان المبارک ۱۷۹ھ میں ہوا ۔
ابو عاصم کہتے ہیں
’’مات حماد
بن زيد يوم مات ولا اعلم له فى الاسلام نظيرا فى هيئته ودله‘‘
حماد بن زید کا
انتقال ہوا اسلام میں ان جیسے اخلاق و عادات اور پرسکون و پرقار حالت کا حامل کوئی
نہیں تھا۔ (تذکرۃ
الحفاظ ج ۱ ص ۲۱۱)
ماخذ مراجع، محدثین عظام حیات و خدمات
