امام ابو
جعفر محمد ابن جریر طبری
نام: محمد
کنیت : ابو
جعفر
لقب: طبری
ولادت :
آپ کی ولادت ۲۲۴ھ مشہور آمل میں
ہوئی۔
نسب:
محمد بن جریر بن یزید بن کثیر بن
غالب طبری
آبائی وطن:
آپ کا آبائی وطن
طبرستان کا مشہور شہر آمُل تھا آپ وہیں ۲۲۴ھ میں
پیدا ہوئے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب عالمِ اسلام کا شہر شہر قریا قریا قال اللہ وقال
الرسول کی صدائے دلنواز سے گونج رہا تھا ایسے ماحول میں ابنِ جریر نے آنکھ کھولی۔
تحصیلِ علم:
قدرت نے تحصیلِ
علم کی جو قوت آپ کو دی تھی اسے بچپن ہی سے بروئے
کارلانے لگے اور اپنے وطن ہی کے
علماء سے تحصیلِ علم میں مصروف ہوئے۔ سات سال کی عمر میں قرآن شریف حفظ کر لیا۔
پھر دوسرے علوم وفنون کی تحصیل کی طرف متوجہ ہوئے جب سن رشد کو پھونچے آپ کے والد نے حصولِ علم کے لیے سفر کی اجازت دی
چنانچہ آپ سب سے پہلے رے (قم) آئے جہاں شہر رے اور مضافاتِ رے کے علماء سے بیک وقت
کسبِ علم کرتے رہے۔ طلبِ علم کا ذوقِ وفراں اور اس سلسلے میں ان کی جدوجہد اور
کاوش کا یہ عالم تھا کہ احمد بن حماد دولابی مضافاتِ رے میں رہتے تھے ان کا فاصلہ
رے سے دور تھا وہ رے سے دوڑتے ہوئے رے آتے تاکہ یہاں کے مشائخ کے حلقہء درس میں
شریک ہو سکیں۔
(معجم الادباء ج ۲ ص ۴۳۰)
رے کے بعد بصرہ، کوفہ، مصر، فسطاط اور شام
کے سفر کیے اور ہر مقام کے علماء ومحدثین سے علم کی دولت حاصل کی۔ ان کے والد
بزرگوار انہیں اخراجات بھیجتے تاکہ وہ معاش سے نیاز ہو کر یکسوئی کے ساتھ تعلیم
حاصل کریں۔ فرغانی کا بیان ہے۔ "ورحل محمد لما ترعرع من آمل وسمع له
ابوه وكان طول حياته وجه اليه بالشئ الى البلدان قال لی ابطات عنی نفقہ ابى حتى بعت كمى قميصی" جب آپ نے
عہدِ شباب میں قدم رکھا تو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے رختِ سفر باندھا اور والد
ماجد کی اجازت سے اپنے شہر آمُل کو چھوڑا اور علمی تشنگی بجھانے کے لیے ہر چشمہء
صافی پر حاضری دی جس شہر میں بھی گئے آپ کے والد محترم آپ کو برابر خرچ بھجواتے
رہے آپ نے مجھے بتایا کہ ایک مرتبہ والد ماجد کی طرف سے خرچ آنے میں دیر ہو گئی تو
مجھے اپنی قمیص کی دونوں آستینیں بیچنی پڑیں۔
(تذکرۂ
والفاظ ج ۲ ص ۲۵۳)
ذہانت و تجوّدتوجہ اور محنت نے انہیں
اساتذہ کی نظر میں محبوب بنا دیا تھا۔ چنانچہ کوفہ میں ایک بار اپنے استاد ابو
کریب کے مکان پر دوسرے طالبانِ حدیث کے ساتھ گئے استاد نے شاگردوں کا امتحان لیا
اور چند سوالات کیے ان سوالات کا باوقار اور صحیح جواب صرف ابنِ جریر نے دیا۔
استاد خوش ہو گئے اور اپنے حلقۂ درس میں اعزاز واکرام کی جگہ دی ۔
( معجم
الادباء ج ۶ ص ۴۳۱)
اساتذہ :
محمد بن عبد الملک
بن ابی الشوارب، ابو ہمام سکونی، اسحاق بن ابی اسرائیل، اسماعیل بن موسیٰ سدی،
محمد بن حمید رازی، احمد بن منیع، ابو کریب، ہناد بن سری۔ (تذکرہ) مثنی بن ابراہیم
ا بلی ، احمد بن حماد دولابی، محمد بن بشار وغیرہم۔
علم وفضل:
علامہ ابنِ جریر طبری نے جس یکسوئی اور
انہماک سےشہر علم کی کوچہ گردی کی اور اپنی سعی مسلسل سے علم کے مراکز تک رسائی
حاصل کی علماء فقہاء ومحمد ثین ومفسرین کے دامنِ فیض سے وابستہ ہو کر علم وفن کا گنج
گراں مایہ اپنے دامن میں سمیٹ لیا۔ قرآن و
تفسیر، حدیث وفقه، تاریخ و ادب ہر شعبہء علم میں ان کو یدِ طولیٰ حاصل تھا ملتِ
اسلامیہ کے علماء ومحدثین ان کی جلالتِ شان کا اعتراف اس طرح کرتے ہیں۔
حافظ ابو بکر خطیب: "کان ابن
جریر احد الائمۃ یحکم بقولہ ویرجع الی رایہ لمعرفتہ وفضلہ وجمع من العلوم مالم
یشارکہ فیہ احد من اہل عصرہ فکان حافظاً لکتاب اللہ عارفاً باحوال الصحابۃ
والتابعین بصیراً بایام الناس واخبارہم"
علماء دین اور اماموں میں سے ایک بلند پایہ
امام تھے کہ ان کے فتوے پر عمل کیا جاتا تھا اور علم و فضل میں مہارت کی بنا پر
لوگ ان کی رائے کو ترجیح دیتے تھے۔ آپ کتاب اللہ کے حافظ اس کے معنوں کے جاننے اور
احکامِ قرآن کو سمجھنے والے تھے۔ احادیثِ رسول ان کی صحیح اور ضعیف اسانید اور ان
سے ناسخ و منسوخ کے عالم تھے۔ صحابہ کرام اور تابعین عظام کے حالات سے واقف اور
لوگوں کے تاریخی و جنگی واقعات سے باخبر تھے۔ (تذکرہ ج ۲ ص ۲۵۱)
حافظ ذہبی: "الامام العلم الفرد
الحافظ ابو جعفر الطبری احد الاعلام وصاحب التصانیف من اہل طبرستان اکثر الطواف"
حافظ ابو جعفر طبری چوٹی کے علماء میں سے ایک عالم، امام اور علوم کا منفرد پہاڑ
ہیں بہت سی تصانیف کے مصنف اور طبرستان کے رہنے والے تھے۔ آپ تحصیلِ علم کے لیے
قریہ قریہ اور بستی بستی گھومے۔ (ایضاً)
خلاصہ ابن خزیمہ: "ما اعلم
علی ادیم الارض اعلم من محمد بن جریر" میں روئے زمین پر کوئی ایسا
آدمی نہیں جانتا جو علامہ ابن جریر سے زیادہ علم رکھتا ہو۔ (ایضاً ص ۲۵۲)
ابو محمد فرغانی: "کان محمد
لا یاخذہ فی اللہ لومۃ لائمۃ مع عظیم ما یؤذی فاما اھل الدین والعلم فغیر منکرین
علمہ وزھدہ ورفضہ للدنیا وقناعتہ" با وجود سخت ترین ابتلاء، وہ حق بات
کے اظہار میں علامہ ابن جریر پر کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا مطلقاً اثر نہیں
ہوتا تھا اہل دین اور اہل علم آپ کے علم و فضل اور آپ کے زہد ترک دنیااور قناعت کے
معترف تھے۔ (ایضاً ص ۲۵۲)
حافظ ذہبی: "لو شاءلکتبت عشرین
ورقۃ من سیرۃ ہذا الامام" امام صاحب کے اتنے فضائل و مناقب
ہیں کہ اگر میں چاہوں تو ان کی سیرت پر بیس ورق لکھ سکتا ہوں۔ (ایضاً ص ۲۵۳)
علامہ ابن خلکان: "کان
اماماً فی فنون کثیرۃ منہا التفسیر والحدیث والفقہ والتاریخ وغیر ذالک و لہ مصنفات
ملیحۃ فی فنون عدیدۃ تدل علی سعۃ علمہ وغزارۃ فضلہ وکان من الائمۃ المجتھدین لم
یقلد احدا "
وہ کثیر فنون تفسیر حدیث، فقہ، تاریخ وغیرہ
میں امامت کا درجہ رکھتے تھے اور متعدد فنون میں ان کی عمدہ کتابیں ہیں جو ان کی
علمی وسعت و کثرت پر دلالت کرتی ہیں وہ امامِ مجتہد تھے کسی امام کی تقلید نہیں
کرتے تھے۔
(وفیات
الاعیان ج ۲ ص ۳۲۵)
قیامِ بغداد اور اشاعتِ علم:
مدتوں تحصیلِ علم کے بعد جب علامہ ابن جریر
اپنے وطن طبرستان لوٹے تو دیکھا لوگوں کے عقائد میں بگاڑ پیدا ہو چکا ہے۔ بکثرت
لوگ رفض و تشیع کے زیر اثر خلفاء راشدین اور صحابہ پر سب و شتم کر رہے ہیں اور ان
عظیم ہستیوں پر زبانِ طعن دراز کر رہے ہیں۔ آپ نے ان حالات میں روافض کی تردید
شروع کر دی اور فضائلِ شیخین بیان کیے۔ انجام کار حکومت و وقت کی مخالفت کا سامنا
ہوا اور آپ ترکِ وطن کر کے عروس البلاد، بغداد میں سکونت گزیں ہو گئے۔ جہاں آپ
جیسی عظیم علمی شخصیت کے لیے وسیع میدانِ عمل ہاتھ آ گیا۔ اور پورے اخلاص کے ساتھ
علومِ اسلامی کی اشاعت میں مصروف ہو گئے پوری عمر خدمتِ دین اور اعلاء کلمتہ الحق
کے لیے بغداد ہی میں رہے ۔
آپ کی علمی شخصیت کا سکہ پورے بغداد بلکہ
دوسرے اسلامی شہروں میں چلنے لگا اور خلقِ خدا آپ کی طرف متوجہ ہونے لگی آپ کا
علمی ٹھاٹھیں مارتا سمندر دیکھ کر حکومتِ وقت نے خدمت کا ارادہ کیا لیکن ان کی
غیور اور سچی طبیعت نے کبھی قبول نہ کیا۔ خاقانی نے اپنے زمانہ وزارت میں کافی
دولت نذر کرنی چاہی مگر انہوں نے لینے سے انکار کر دیا قضا کا عہدہ پیش کیا اسے
بھی مسترد کر دیا۔ مصاحبوں نے عرض کیا کہ یہ تو ثواب کا کام تھا اسے آپ نے کیوں
چھوڑ دیا اس پر ان برہم ان لوگوں سے ناراض ہوئے اور فرمایا کہ امید تھی کہ اگر میں
اس عہدہ کو قبول کرتا تو تم مجھ سے اس سے روکتے نہ کہ تم خود مجھ کو ترغیب دے رہے
ہو ۔؟ (طبقاتِ شافعیہ)
بغداد کے زمانہ قیام میں دوسرے علماء حق کی
طرح ابن جریر کو بھی ابتلاء اور آزمائش کی بھٹی سے گزرنا پڑا۔ حاسدوں نے ان پر رفض
و الحاد کے الزامات عائد کیے حنابلہ نے بھی آپ کو اپنی حماقتوں کا ہدف بنایا۔ فرغانی
لکھتے ہیں: "لقد ظلمتہ الحنابلۃ" حنابلہ نے
آپ پر ظلم کیا۔ (تذکرہ ج ۲ ص ۲۵۲) مگر آپ صبر و استقامت کے ساتھ یہ مصائب
جھیلتے رہے۔
تلامذہ :
مخلد باقرحی،احمد
بن کاملع ابو قاسم طبرانی ،علی بن عبدالعزیز دولابی، ابوبکر محمد بن
احمد بن محمد بن ابی الثلج الکاتب، ابوالحسن احمد بن یحییٰ المنجم، ابوالحسن دقیقی
الحلوانی، ابوالفرج المعافی بن زکریا النہروانی، ابوالقاسم بن العراد، ابوالحسین
بن یونس، ابوبکر بن کامل، ابواسحاق ،ابراہیم بن حبیب الاسقی الطبری۔
تصانیف:
ابن جریر طبری نے
عنفوانِ شباب ہی سے دینی، تاریخی، فنی مواد کی فراہمی پر توجہ مرکوز کردی تھی۔ اس
مقصد کے حصول کے لئے انہوں نے دور دراز کے شہروں کا سفر کیا اور وہاں کے علماء،
محدثین اور ماہرینِ فن سے رابطہ پیدا کیا تاکہ ان سے اپنی دلچسپی کے مضامین میں
استفادہ کرسکیں۔ ان کے ذاتی کتب خانوں سے فائدہ اٹھا سکیں اور انکے علاوہ سماعت کے
ذریعہ ان سے مستفید ہوں، جب وہ وطن واپس لوٹے تو ان کے پاس علوم کا وافر خزانہ
موجود تھا چنانچہ انہوں نے تصنیف و تالیف کا مہتم بالشان کام شروع کیا اور اس کام
سے انہیں ایسی رغبت ہوئی کہ مادی سود و زیاں سے بے نیاز ہوکر علم و دین کے سچے
خادم بن گئے اور پوری زندگی قرطاس و قلم سے سرکار رکھا اور گرانقدر عظیم کتابیں
آپ کے قلم سے معرضِ وجود میں آئیں آپ علومِ اسلامیہ کے بہت بڑے خادم تھے تفسیر،
حدیث، فقہ، کلام، تصوف، تاریخ، نحو، صرف، ادب، معانی، منطق، حساب، جبر و مقابلہ
اور طب میں ان کو کمال حاصل تھا، انہیں علوم وفنون سے متعلق ان کی بیش بہا کتابیں
ہیں ان کے کثیر التصانیف ہونے کا اندازہ حافظ ذہبی کے اس بیان سے لگانا آسان
ہوگا۔
وقيل مكث اربعين سنة يكتب كل يوم اربعين ورقة
و قال تلميذه ابو محمد الفرغاني حسبت تلامذة ابي جعفر منذ احتلم الي ان مات فقسموا
على المدة مصنفاته فصار لكل يوم اربع عشرة ورقة۔ کہتے ہیں آپ کی
چالیس سالہ تحریروں کا اندازہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ آپ ہر روز چالیس ورق لکھتے
تھے آپ کے شاگرد رشید ابو محمد فرغانی کہتے ہیں کہ امام طبری کے شاگردوں نے آپ
کے سنِ بلوغ سے لیکر وفات تک کی تصانیف کا اندازہ کیا تو ثابت ہوا کہ آپ ساری عمر
فی یوم چودہ ورق لکھتے تھے۔
آپ کی کچھ اہم کتابوں کے نام یہ ہیں۔
تفسیر ابن جریر، تاریخ ابن جریر، کتاب القرأت،
کتاب العدد والترتیل، کتاب اختلاف العلماء، کتاب الاصول، تہذیب الاثار، کتاب
البسیط، بالفضل بین القرأت، کتاب الفصائل، احکام شرائع الاسلام۔
فنِ تجوید وقرأت:
ابن جریر کو قرأت
میں کامل عبور حاصل تھا اس میں انہوں نے امامت کا درجہ حاصل کیا تھا اور ان کا
شمار ان لوگوں میں ہوتا تھا جو مختلف قرأتوں میں سے کسی ایک کو ترجیح دے سکتے
تھے۔
آپ قرآن اتنے عمدہ پڑھتے تھے کہ دور دور
کے قرآء اس کے سننے کے لئے اور عام لوگ ان کے پیچھے نماز پڑھنے کے لئے آتے تھے۔
ایک بار رمضان کی کسی آخری شب میں ابو علی
الطماری اپنے استاذ ابوبکر بن مجاہد کے ساتھ تراویح کے لئے روشنی لئے ہوئے جارہے
تھے ابنِ مجاہد چلتے چلتے محمد بن جریر طبری کی مسجد کے سامنے کھڑے ہو گئے، طبری
مسجد میں سورہ رحمٰن پڑھ رہے تھے جو ابوبکر بن مجاہد ان کی قرأت سنتے رہے، جب
واپس لوٹے تو ابو علی الطماری نے عرض کیا کہ آپ نے لوگوں کو اپنا منتظر رکھا اور
یہاں قرآن سنتے رہے ابوبکر بن مجاہد نے کہا کہ تمہیں کیا خبر کہ اللہ نے کیسا
آدمی پیدا کیا ہے جو اس قدر اچھا قرآن پڑھتا ہے۔ (تاریخ
بغداد ج ۲ ص ۱۶۴)
اس فن بالفضل بین القرأت کے علاوہ بقول
ابوعلی الحسن بن علی بن تجوید میں ابن جریر کی ایک کتاب میں نے آٹھ جلدوں میں
دیکھی ہے اس میں انہوں نے تمام مشہور اور شاذ قرأتوں کو جمع کردیا ہے۔ (معجم الادباء ج ۶ ص ۲۶۷)
تفسیر:
ابن جریر مفسرِ
اعظم ہیں۔ آپ کی عظیم تفسیر بیشمار مفسرین اور بعد میں آنے والوں کا ماخذ ہے۔
آپ نے اپنی تفسیر پہلے تین ہزار صفحات میں لکھی بعد میں اسے مختصر کیا۔ علامہ ابن
سبکی طبقات الکبریٰ میں لکھتے ہیں۔
"ابن جریر نے اپنے
تلامذہ سے پوچھا۔ کیا تمہیں تفسیرِ قرآن سے دلچسپی ہے؟ انہوں نے کہا اس کی ضخامت
کس قدر ہے؟ کہا تیس ہزار صفحات کہنے لگے ایسی تفسیر کو پڑھتے پڑھتے تو عمر ختم ہو
جائے گی چنانچہ آپ نے اس کو تین ہزار صفحات میں مختصر کردیا"۔
علمی لحاظ سے ابن جریر کی تفسیر کو اولیت
کا مقام حاصل ہے اس سے پہلے کوئی اتنی مبسوط، کامل اور وسیع معلومات پر مشتمل
تفسیر نہیں لکھی گئی علماء اسلام نے اس تفسیر کی طرف کافی اعتناء کیا اور
اسےمسلمانوں میں شہرت و مقبولیت دوام حاصل ہوئی۔ علما اور مفسرین نے اس تفسیر کی
اہمیت اس طرح بیان فرمائی۔
ابو حامد اسفرائنی: لو سافر
رجل الى الصين فى تحصيل تفسير ابن جرير لم يكن كثيراً۔ (اگر کسی شخص کو
علامہ ابن جریر کی تفسیر حاصل کرنے کے لیے چین تک کا سفر کرنا پڑے تو اس کے لیے یہ
سودا مہنگا نہیں۔
(تذکرہ
جلد ۲ ص ۲۵۲)
حافظ جلال الدین سیوطی: "تفسیر ابن
جریر کتبِ تفسیر سے اعظم و افضل ہے اس میں تفسیری اقوال کی توجیہ و ترجیح، کلمات
کی نحوی حالت اور استنباطِ مسائل سے تعرض کیا گیا ہے۔ اس طرح یہ تفسیر سابقہ کتبِ
تفسیر پر فوقیت رکھتی ہے۔"
(الاتقان ج ۲، ص ۱۹۰)
امام نووی: "اس امر پر پوری امت کا
اجماع منعقد ہو چکا ہے کہ تفسیر ابن جریر جیسی کوئی کتاب تصنیف نہیں کی گئی۔"
(ایضاً)
داؤدی مالکی: "حسبِ اتفاقِ علما ابن
جریر کی تفسیر القرآن کے مثل کوئی تفسیر نہیں لکھی گئی۔"
(بحوالہ
طبقات المفسرین، ص ۵)
تفسیرِ طبری اپنی گونا گوں خصوصیات اور
امتیازات کی بناء پر اپنی نوعیت کی مستند کتاب ہے۔ اس سے پہلے جو تفسیریں کتابی
شکل میں لکھی گئیں، وہ یا تو لغاتِ قرآن کی حکیمانہ تشریح تھیں یا محض بعض سورتوں
اور آیتوں کے سلسلے میں تفسیری اقوال کا مجموعہ تھیں، پھر یہ مصحفِ قرآن کی مکمل
اور جامع تفسیر صرف ابن جریر نے اپنی تفسیر میں سابقہ تفسیری اقوال اور اجمالی روایات
و آثار کو جرح و تبصرہ کی بازاری صورت پر حاصل ہونے ان کو جمع کر کے محفوظ کر لیا۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ نے محض جمع روایات پر اکتفا کیا ہے بلکہ تمام اقوال کو
نقل کر کے مجتہدانہ شان سے ساتھ ان کی توجیہ اور بعض کو بعض پر ترجیح دینے کی کوشش
کی گو یا انہوں نے روایت کے ساتھ درایت سے بھی کام لیا۔
ابن جریر نے اپنی تفسیر میں عام فہم، عام
فہمی، الہام و اعجازِ قرآن سے متعلق اس عہد تک کے علمی بحث و مباحث کو اپنی اس
معرکہ آرا میں جمع کر کے اس وقت عہد تک کی قرآنی انسائیکلو پیڈیا بنا دیا چنانچہ
نحو، صرف، تجوید، لغت، فقہ، عقائد و کلام ملحدہ اور فرقِ باطلہ کی تردید و علومِ
طبعیہ کے متعلق مسائل ان کی تفسیر میں صاف طور سے ملتے ہیں۔
تاریخ:
تاریخ الامم
ولملوک ابن جریر کی وہ شاہکار کتاب ہے جس سے ان کو مورخین اسلام صفِ اول میں کھڑا
کر دیا ہے۔ آپ نے جب یہ تفصیلی تاریخ قلمبند کرنے کا ارادہ کیا تو اپنے شاگردوں سے
کہے کہ اگر میں دنیا کی تاریخ لکھوں تو تم لوگ بخوشی اس کا مطالعہ کرو گے؟ وہ بولے
حضرت وہ کتنی بڑی ہوگی؟ آپ نے فرمایا کوئی تیس ہزار ورق یعنی ساٹھ ہزار صفحات پر
مشتمل ہوگی۔ شاگردوں نے عرض کیا جناب والا! اس کو تو پورا پڑھنے سے پہلے لوگوں کی
عمریں ختم ہو جائیں گی تو آپ نے فرمایا: انا للہ! علم کا شوق اور اس کو حاصل کرنے
کی ہمت مر گئی پھر آپ نے تین ہزار ورق پر مشتمل تاریخ کی کتاب لکھی۔
(تذکرہ
ج۲ ص ۲۵۲)
اس کتاب کا آغاز
ایک طویل تمہید سے ہوتا ہے اس کے بعد تخلیقِ کائنات اور تخلیقِ آدم کے مسائل پر
مواد پیش کیا گیا ہے پھر تاریخِ الانبیاء کا حصہ شروع ہوتا ہے۔ تاریخِ الانبیاء کے
ساتھ ساتھ پرانے زمانے کے بادشاہوں اور پرانی قوموں کے مختصر حالات بھی تحریر کیے
گئے ہیں اس کے بعد ایران کے ساسانی بادشاہوں کی تاریخ بیان کرتے ہیں ساتھ ساتھ
یونان و روم کی تاریخ پر بھی سرسری نظر ڈالی ہے پھر رسول اللہ ﷺ کی سیرت پوری
تفصیل کے ساتھ بیان کی ہے پھر خلفاء راشدین، خلفاء بنو امیہ، خلفاء بنی عباس کے
حالات، سیاسی گفتگو، صلح و جنگ اور نظامِ حکمرانی کے تعلق سے بھرپور روایات سند کے
ساتھ جمع کی گئی ہیں اس طرح یہ تاریخ ابتدائے آفرینش سے لے کر ۳۰۲ھ تک کے اہم واقعات و حالات اور حوادث کا
احاطہ کرتی ہے۔ ابن جریر نے اپنی تاریخ کا ماخذ ایسے اشخاص اور کتابوں کو بنایا ہے
جو مستند اور قدیم ترین اہمیت کے حامل ہوں۔
علامہ ابن جریر نے انتھک کوشش کے ذریعہ معلومات کا
وسیع اور بیش بہا خزانہ محفوظ کر دیا ہے اس طرح اپنے معاصرین اور بعد کے مورخین کے
لئے زبردست تاریخی ریکارڈ فراہم کر دیا یہی وجہ ہے کہ علما نے اس کتاب کی طرف توجہ
کی ابن خلقان کہتے ہیں (یہ کتاب) "اصح التواریخ" ہے۔
علامہ سخاوی کہتے ہیں:
"یہ انتہائی
معتبر تاریخ ہے ان کے بعد میں آنے والوں نے اس سے بھرپور استفادہ کیا۔"
(الاعلان
بالتوبیخ، ص ۱۴۴)
فقہ:
علامہ طبری نے
تحصیلِ علم کے دوران حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی مذاہبِ فقہ کے علماء سے علمِ
فقہ حاصل کیا اور فقہ میں امتیازی شان پیدا کر لی۔ ابتداء میں وہ امام شافعی کے
مقلد تھے اور اسی فقہ کے مطابق دس سال تک فتوٰی دیتے رہے مگر رفتہ رفتہ بعض قانونی
مسائل پر اپنا بہتر نقطۂ نظر واضح کیا اور اس طرح وہ ایک الگ فقہی دبستان کے بانی
ہو گئے۔ اس مکتبِ فکر کے ماننے والے "جریریہ "کہلاتے تھے ان کا مذہب
پانچویں صدی ہجری کے نصف تک معمول بہا رہا۔
آپ نے فقہ میں بھی عظیم تصانیف چھوڑیں مگر
دستِ بردِ زمانہ سے ان کا اکثر حصہ ضائع ہو گیا فقہ میں آپ کی سب سے مشہور کتاب ”اختلاف
علماء الامصار فی احکام شرائع الاسلام“ ہے ۔ اس کتاب کے بارے میں آپ کہا
کرتے تھے فقیہ اس سے بے نیاز نہیں ہو سکتا ہے اس کتاب میں فقہاء کے اختلاف سے بحث
کی گئی ہے تین ہزار صفحات پر مشتمل تھی۔
دوسری کتاب ”لطیف القول فی احکام
شرائع الاسلام“
ہے یہ کتاب ڈھائی ہزار صفحات پر مشتمل تھی اس کے علاوہ ایک اور کتاب بسیط
القول فی احکام شرائع الاسلام ہے مزید برآں متعدد فقہی رسائل بھی تصنیف
کئے تھے۔
حدیث:
ابن جریر طبری
علمِ حدیث میں بھی بلند پایہ رکھتے تھے ان کی عظمت فی الحدیث کا اندازہ اس بات سے
لگایا جا سکتا ہے اربابِ تذکرہ نے آپ کو الامام العلم الفرد الحافظ کے القاب سے
یاد کیا ہے ۔ امام نووی کہتے ہیں کہ ان کا شمار ترمذی اور نسائی کے طبقہ میں ہے
اور ان کے مشائخ وہی ہیں جو بخاری و مسلم کے مشائخ ہیں
(تہذیب
الاسماء ج ۱ ص ۷۸)
حافظ ذہبی کتاب ”الفضائل“ کے طرق کے بارے
میں لکھتے ہیں ۔ ”رأیت مجلد طرق الحدیث لابن جریر فاندهشت له و لكثرة تلك
الطرق“
۔ یعنی میں نے ایک جلد پر مشتمل ابن جریر کی یہ کتاب دیکھی ہے جس میں اس حدیث کے
تمام طریق اور تمام سندیں جمع کر دی ہیں میں اس کتاب میں حدیث کی اتنی زیادہ سندیں
دیکھ کر حیرت میں ڈوب گیا۔
(تذکرۃ الحفاظ ج ۲
ص ۲۵۳)
تہذیب الآثار:
حدیث میں آپ کی
اہم ترین کتاب ہے حافظ ذہبی رقم طراز ہیں۔
”هو من عجائب كتبه
ابدابما رواه ابو بكر الصديق فما صح وتكلم على كل حديث وعلته وطرقه ما فيه من
الفقه واختلاف العلماء وحججه واللغة فتم مسند العشرة واهل البيت والموالى ومن مسند
ابن عباس قطعة ومات“ آپ کی عجب ترین کتاب ہے اس میں آپ نے پہلے حضرت ابو
بکر صدیق کی کل احادیث جمع کیں اور ہر حدیث پر اس کے طرق، اسانید، اور ہر بحث کی
اس سے فقہی مسائل کا استنباط کیا اور اس میں علماء کااختلاف اور ان کے دلائل
بالتفصیل بیان کئے نیز حل لغات پر بھی کام کیا اس طریقہ پر عشرہ مبشرہ اہل بیت اور
موالی کے مسندات کو پوری کر لی تھیں ۔ اور ابن عباس کی کچھ مسند حدیثیں لکھنے پائے
تھے کہ اللہ تعالیٰ کو پیارے ہو گئے۔ (ایضاً)
خطیب بغدادی کہتے ہیں میں نے ایسی کتاب
نہیں دیکھی۔ حدیث کے سلسلہ میں یا قوت معجم الادباء میں ابن جریر کی ایک مسند کا
بھی ذکر کیا ہے حضرت ابوبکر و عمر اور علی کے فضائل پر بھی ایک کتاب لکھی ہے ایک
اور کتاب عبارۃ الرویاہ ہے۔
ابن جریر طبری نے تفسیر، حدیث، فقہ کے
علاوہ دوسرے علوم وفنون میں بھی گراں قدر تصانیف چھوڑیں۔
وصال:
شوال ۳۱۰ھ میں اس عظیم و متبحر عالم دین نے وصال
فرمایا،
تدفین:
محلہ رحبہ یعقوب میں اپنے گھر کے اندر مدفن ہوئے
۔
ماخذ
مراجع، محدثین عظام حیات و خدمات
