امام ابو محمد حسین فرا بغوی
نام: حسین
کنیت: ابومحمد
لقب : محی السنہ و رکن الدین
ولادت :
۴۳۶ھ میں شہر بغو میں ہوئی جو ہرات اور مرو کے درمیان خراسان
کا ایک آباد شہر ہے۔
نسب :
حسین
بن مسعود بن محمد بن فرا۔
امام بغوی نے
خراسان سے نکل کر دوسرے شہروں کے اکابرین سے حدیث وفقہ، قرآن وتفسیر کا درس لیا
اور بقول شاہ عبدالعزیز علیہ الرحمہ ان کو تین فنوں میں مہارت حاصل تھی اور ہر ایک
فن کو معراج کمال پر پہونچایا ہے بے نظیر محدث اور بے عدیل مفسر اور فقیہ بھی تھے
شافعی مذہب رکھتے تھے۔
(بستان
المحدثین ص ۸۶)
آپ کے علمی
مرتبہ کا اعتراف ملت کے اکابر نے ان الفاظ میں کیا ہے۔
ابن خلکان:
"الفقيه
الشافعي المحدث المفسر كان بحرا في العلوم"
شافعی فقیہ،
محدث، مفسر اور وہ بحر العلوم تھے۔ (وفیات
الاعیان ج ۱ ص ۲۵۸)
حافظ ذہبی: "الامام الحافظ
المجتهد محی السنة" بلند پایہ امام، زبردست فقیہ و مجتہد، جلیل القدر
اور نامی گرامی حافظ حدیث ہیں، محی السنہ لقب ہے۔ (تذکرۃ
الحفاظ ج ۴ ص ۵۲)
اساتذہ:
احمد بن نصر
توقانی، حسان بن محمد منيعی، قاضی حسین، ابو الفضل ابوالحسن، زیاد بن محمد حنفی،
ابو الحسن عبد الرحمن بن محمد داؤدی، ابو عمر عبد الواحد بن احمد ملیحی، علی بن یوسف
جوینی، ابوالحسن محمد بن محمد شیرازی، ابو بکر محمد بن ہشیم ترابی، ابو بکر یعقوب
بن احمد صیرفی۔
حدیث:
امام بغوی حدیث
میں بلند مقام پر فائز تھے ان کی محدثانہ عظمت کا اعتراف علمائے فن نے کیا ہے۔
علامہ ابن سبکی: اس فن میں ان کا مقام نہایت بلند ہے۔
حافظ ذہبی اور ابن خلکان نے محدث کہہ کر ان کے کمال فی الحدیث کو بیان کیا ہے۔
شوافع میں احادیث کی شرح کے لیے جو علماء ممتاز خیال کیے جاتے ہیں ان میں ایک
معتبر نام امام بغوی کا بھی ہے ان کا لقب محی السنہ حدیث و سنت میں ان کے بلند
درجہ کی بنا پر ہے۔
آپ تمام عمر حدیث و فقہ اور تفسیر کے درس میں مصروف رہے
ہمیشہ باوضو درس دیتے تھے۔
مشہور تلامذہ یہ ہیں:
ابو منصور محمد
بن اسد عطاردی المعروف بابن حفدہ، ابو الفتوح محمد بن محمد طائی، ابو المکارم فضل
اللہ بن محمد توقانی، فخر الدین، علی مقدس۔ ی
(تذکرہ ج
۴ ص ۵۲)
فقہ و تفسیر:
امام بغوی ماہر
فقہ اور درجہ اجتہاد پر فائز تھے علامہ ابن سبکی تحریر کرتے ہیں ان کو فقہ میں ید
طولیٰ حاصل تھا اور اس میں ان کی معلومات کا دائرہ نقل و تحقیق ہر اعتبار سے وسیع
تھا ان کے اختیار کردہ مسائل پر جب بحث کی گئی تو وہ ان اقوال کے مقابلہ میں جن کو
انہوں نے ترک کیا تھا قوی اور راجح تھے فقہ میں قاضی حسین بن محمد کے شاگرد ہیں جو
صاحبِ تصانیف اور اجلہ شوافع میں سے ہیں۔
حدیث کی طرح قرآن کی تشریح و تفسیر میں بھی مہارت رکھتے
تھے صاحبِ روضات نے آپ کو عدیل المفسر کہا ہے وہ قرأت و تجوید کے فن میں بھی یکتا
تھے اپنی تفسیر میں فن قرأت سے متعلق مفید بحثیں کی ہیں۔
تصانیف:
وہ تفسیر، قرأت،
حدیث، فقہ میں ممتاز تھے انہوں نے تدریس کے ساتھ ساتھ ان علوم وفنون میں اپنی یادگار
تصانیف سے اسلامی علوم وفنون کے خزانہ کو مالامال کیا ہے حافظ ذہبی لکھتے ہیں: 'وبورک
لہ فی تصانیفہ بقصدہ الصالح فانہ کان من العلماء الربانیین'
"خلوص نیت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ کی تمام تصانیف میں برکت عطا فرمائی
ہے جن سے مخلوقِ خدا کو بے پایاں نفع ہوا آپ عالم ربانی تھے۔ (تذکرہ ج ۴ ص ۵۲)
مفید و مقبول تصانیف حسبِ ذیل ہیں:
۱ ) معالم التنزیل (۲) مصابیح السنہ (۳) شرح السنہ (۴) تہذیب فی الفقہ
(۵) الجمع بین الصحیحین (۶) تعلیقات
(۷) فتاوی بغوی (۸) ارشاد الانوار فی
شمائل النبی المختار (۹) ترجمۃ الاحکام فی
الفروع (۱۰) الکفایہ فی القرأت (۱۱) الکفایہ
فی الفقہ (۱۲) معجم الشیوخ (۱۳) تجرید (۱۴) شرح ترمذی۔
مصابیح السنہ:
حدیث میں امام
بغوی کی شہرہ آفاق کتاب ہے جسے قبولِ عام حاصل ہوا عوام وخواص ہر طبقہ نے اس سے
فائدہ اٹھایا خطیب تبریزی کی مشہور زمانہ کتاب مشکوۃ المصابیح اسی کتاب کا تملہ ہے
مصابیح السنہ کی اہمیت خطیب تبریزی کے اس بیان سے ہوتی ہے محی السنہ قاطع البدعت
امام ابو محمد حسین بن مسعود فراء بغوی کی کتاب المصابیح نہایت ہی جامع کتاب ہے لیکن
اس میں اختصار کا طریقہ اختیار کیا گیا ہے اور سندیں حذف کر دی گئیں ہیں اس لیے
بعض ناقدینِ فن نے اس میں کلام کیا ہے حالانکہ فی نفسہ اس کے نقلِ اسناد میں کوئی
کلام نہیں۔ مصنف علماء ثقات میں ہیں اس حیثیت سے اس میں یک گونہ کمی تھی کیوں کہ
نہ تو صحابہ کا اس میں ذکر ہے اور نہ حدیثوں کا اس سے اصل مخرج معلوم ہوتا ہے کتب
وابواب کی ترتیب میں نے بغوی کا تتبع کیا ہے البتہ ہر باب کو دو کے بجائے تین
فصلوں میں تقسیم کیا ہے۔ (مقدمہ مشکوۃ)
چونکہ مصابیح صحاح ستہ کی احادیث کا انتخاب ہے اس وجہ سے
اس کی حدیثیں نہایت معتبر اور مستند ہیں اگرچہ یہ مجموعہ ضعیف، منکر، غریب حدیثوں
سے خالی نہیں ہے تاہم مجموعی اعتبار سے صحیح اور مستند حدیثوں کا مجموعہ ہے امام
بغوی نے اس میں غریب وضعیف روایتوں کی نشان دہی کر دی ہے
حدیث کے طلبہ کو طویل اور ضخیم کتابوں سے بے نیاز کر دیتی
ہے اختصار کی وجہ سے اس سے استفادہ بہت آسان ہے چوں کہ یہ کتاب ایمانیات و اعتقادیات
اور اعمال و احکام ہر قسم کی روایتوں کا مجموعہ ہے اس لیے ہر طرح کا ذوق رکھنے
والے اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں مصابیح کی اہمیت اور خصوصیات کی وجہ سے اس کی
متعدد شرحیں اور مختصرات لکھے گئے ہیں۔
مکارم اخلاق:
امام بغوی نے اپنی زندگی درس و تدریس، تصنیف و تالیف اور
عبادت و ریاضت کے لیے وقف کر دی تھی وہ عالم ربانی تھے انہوں نے بڑی سادہ درویشانہ
زندگی بسر کی حرص و طمع زر اندوزی اور تعیش و تنعم کے داغ سے ان کا دامن حیات ہمیشہ
پاک رہا۔ قناعت و سادگی کا یہ حال تھا کہ موٹا جھوٹا پہنتے اور روکھا سوکھا کھاتے
افطار میں خشک روٹی کھاتے لوگوں نے اصرار سے کہا کہ خشک روٹی سے دماغ میں خشکی پیدا
ہو جائے گی تو انہوں نے سالن کے بجائے روغن زیتون سے روٹی کھانا شروع کیا۔
(تذکرہ ج
۴ ص ۵۲)
حافظ ذہبی نے لکھا: "کان ذا تعبد
ونسک وقناعة بالیسیر" وہ عبادت گذار اور قناعت پسند تھے۔ (ایضاً)
وصال:
شہر
مرو روذ میں شوال ۵۱۶ھ میں وفات پائی اور اپنے استاد قاضی حسین کے مقبرے کے
پاس طالقان میں دفن کیے گئے۔
ماخذ مراجع، محدثین عظام حیات و خدمات
