امام ابو سعيد عبدالرحمن بن مہدی
نام : عبدالرحمن
کنیت: ابو
سعید
لقب: لولوی
ولادت:
آپ کی
ولادت بمقام شہر بصرہ ۱۳۵ھ میں ہوئی۔
مہدی یہ
قبیلہ ازد کے مولیٰ تھے آپ کے خاندان میں موتیوں کا کاروبار ہوتا تھا اس لیے لولوی
بھی مشہور ہیں آپ غلامانِ اسلام میں ہونے کے باوجود علم وفضل میں اتنے ممتاز ہوئے
کہ یحییٰ بن معین اور یحییٰ بن سعید قطان کے ہم پلہ سمجھے جاتے ہیں اور زمرۂ تبع
تابعین میں امامت فی الحدیث کا درجہ رکھتے ہیں۔
تحصیل
علم:
جو اس وقت علم وفضل کا مرکز تھا چوں کہ بصرہ میں مختلف
قوم ونسل کے لوگ آباد تھے اور اس اختلاط سے ایک بری رسم جو بصرہ میں قائم ہوئی وہ
پند وموعظت کی مجلسوں میں قصہ گوئی کا عام رواج تھا قصہ گو واعظوں کو عوام میں
قبولیت حاصل تھی چنانچہ ابن مہدی نے جب شعور کی آنکھیں کھولیں تو انہیں قصہ گوئیوں
کی صحبت اختیار کر لی ابو عامر عقدی کہتے ہیں وہ قصاص کے پاس جایا کرتے تھے ایک دن
میں نے ان سے کہا کہ ان قصہ گو یوں کی صحبت سے تمہارے ہاتھ کچھ نہ آئے گا چنانچہ
میری یہی نصیحت ان کو علم حدیث کی طرف مائل کرنے کا سبب بن گئی پھر یہ طلب اتنی
بڑھی کہ بصرہ سے سیکڑوں میل دور دیارِ نبی (مدینہ منورہ ) پہونچے اور امام مالک کے
حلقۂ درس میں شریک ہو کر علم کی پیاس بجھائی۔ (تاریخ
بغداد ۱۰ ص ۲۴۰)
ابن مہدی
نے بڑے ذوق اور انہماک سے تابعین اور تبع تابعین کے حلقۂ درس سے خوب خوب فائدہ
اٹھایا ۔
شیوخ:
امام مالک، ایمن بن نابل، جریر بن حازم، عکرمہ بن عمار، ابوخلدہ
خالد بن دینار، مہدی بن میمون، شعبہ، سفیان ثوری، سفیان بن عیینہ، حماد بن سلمہ،
حماد بن زید، اسرائیل، حرب بن شداد، محمد بن راشد، مالک بن مغول، وہیب، ہشام بن
سعد، ہمام بن یحییٰ، مثنیٰ بن سعید صبیعی، سلیم بن حیان، سلام بن ابی مطیع،
ابراہیم بن نافع مکی، ابان العطار، صخر ہ بن جویریہ، عمران القطان، منصور بن سعد۔ (تہذیب التہذیب
ج ۶ ص ۲۵۱)
علم حدیث:
ابن مہدی نے وقت کے جلیل القدر ائمۂ فن کی بارگاہوں سے
علم حدیث کا جو حظِ وافر اپنے دامن میں سمیٹ لیا تھا اس نے ان کو وقت کا امام اور
مرجوعۂ خلائق بنا دیا تھا عالمِ حدیث میں آپ کی بلند پایہ شخصیت کا اعتراف وقت کے
بڑے بڑے ائمۂ حدیث نے کیا ہے۔
احمد بن
حنبل: "ما رأيت
بالبصرة مثل يحيى بن سعيد وبعده عبد الرحمن وعبدالرحمن "افقه
الرجلين..." "اذا اختلف وكيع وعبد الرحمن فعبد الرحمن اثبت لانه اقرب
عهدا بالكتاب"
"میں نے بصرہ میں یحییٰ بن سعید اور ان کے بعد عبدالرحمن بن مہدی جیسا عالم
نہیں دیکھا۔ عبدالرحمن یحییٰ سے بڑے فقیہ تھے جب وکیع اور عبدالرحمن اختلاف کریں
تو عبدالرحمن زیادہ پختہ کار ہیں کیوں کہ انہوں نے اپنی کتابوں میں حدیث کا سرمایہ
تازہ تازہ جمع کیا ہے۔ (تہذیب
التہذیب ج ۶ ص ۲۵۱)
ابوربیع
زہرانی: "ما رايت
مثل عبدالرحمن واوصف منه بصراً بالحديث" "میں نے عبدالرحمن کے مانند کسی کو نہیں
دیکھا اور بصرہ میں ان سے بڑھ کر حدیث بیان کرنے والا کوئی نہ تھا۔ (ایضاً
ص ۲۵۲)
علی بن
مدینی: "كان عبد
الرحمن بن مهدى اعلم الناس .... لو حلفت بين الركن والمقام لحلفت بالله انى لم ار
احداً قط اعلم بالحديث من عبد الرحمن بن مهدى ... ما شبهت علم عبد الرحمن بالحديث
الا بالسحر"
"عبدالرحمن بن مہدی لوگوں میں سب سے بڑے عالم تھے .... اگر میں رکنِ حطیم اور
مقامِ ابراہیم کے درمیان کھڑا ہو کر قسم کھاؤں تب بھی یہی کہوں گا کہ میں نے ان سے
بڑا عالمِ حدیث دنیا میں نہیں دیکھا.... حدیث کے بارے میں عبدالرحمن کا علم جادو
کی حیثیت رکھتا ہے۔ (ایضاً)
ابن سعد:
"كان ثقة
كثيرا الحديث"
"وہ ثقہ کثیر الحدیث تھے۔ (ایضاً)
ابن
حبان: "كان من
الحفاظ المتقنين واهل الورع فى الدين ممن حفظ وجمع وتفقه وصنف وحدث وابى الرواية
الاعن الثقات"
"وہ متقن حفاظِ حدیث میں تھے اور دین میں صاحبِ تقویٰ یہ ان علما میں تھے
جنہوں نے علمِ حدیث حفظ کیا اور جمع کیا تفقہ پیدا کیا۔ کتابیں لکھیں، حدیث بیان
کی، اور انہوں نے غیر ثقہ لوگوں سے روایتیں قبول نہیں کیں۔ (ایضاً)
قوتِ حفظ:
امام ابن مہدی حفظ و ضبط میں بھی یکتائے روزگار تھے جو
سنتے یاد رکھتے اور مجال نہیں کہ اس میں کوئی غلطی یا خطا واقع ہو جائے اسی بنا پر
لوگ ان کی مہارتِ حدیث کو جادو سے تعبیر کرتے تھے۔ محمد بن یحییٰ کہتے ہیں
"میں نے عبدالرحمن بن مہدی کے ہاتھوں میں کبھی کوئی کتاب نہیں دیکھی میں نے
ان سے جو کچھ سنا ہے زبانی سنا ہے وہ اپنی یاد سے روایت کرتے تھے"۔
(تاریخ بغداد ج ۱۰ ص ۲۴۷)
امام ابن
مہدی اس بات کی کوشش کرتے کہ روایت باللفظ کریں۔ اسماعیل بن اسحاق القاضی کا بیان
ہے کہ "علی بن مدینی غایت درجہ محتاط تھے ایک دن انہوں نے عبدالرحمن بن مہدی
کا امتحان لینے کی غرض سے ان کے سامنے کوئی حدیث غلط ملط کر کے پیش کی لیکن انہوں
نے فوراً پہچان لیا اور کہا کہ یہ حدیث فلاں شخص سے اس طرح مروی ہوگی بعد میں ہم
نے اس کی تحقیق کی تو واقعی وہ حدیث اسی طرح نکلی"۔ (تاریخ
بغداد ج ۱۰ ص ۲۴۵)
ابو
عبداللہ سے کسی نے پوچھا کیا عبدالرحمن حافظ تھے؟ بولے ہاں حافظ تھے اور وہ بڑی
احتیاط کرتے تھے وہ تحدیث باللفظ کو زیادہ پسند کرتے تھے۔ (تہذیب ج ۶ ص ۲۵۲)
جرح
وتعدیل:
شب وروز کی ممارست اور صحیح قوت فیصلہ کی وجہ سے ان میں
تنقید حدیث کا ایک ایسا ملکہ پیدا ہو گیا تھا کہ وہ بیک نظر صحیح کو سقیم سے جدا
کر دیتے۔
عبیداللہ بن سعید کہتے ہیں میں نے امام عبدالرحمن بن مہدی
کو فرماتے سنا "لا يجوز ان يكون الرجل اماما حتى يعلم ما يصلح مما لا
يصلح"
کسی شخص کو جب تک صحیح اور غیر صحیح احادیث میں تمیز نہیں کر سکتا امامت کا درجہ
دینا جائز نہیں۔ (تذکرہ ج
۱ ص ۳۰۲)
علم حدیث
میں ان کا شمار ان اساطین امت میں ہوتا ہے جن کے ذریعہ یہ فن اہل ہوس کی دست برد
سے محفوظ و مامون رہا وہ جرح وتعدیل کے امام تھے انہیں صحیح وسقیم احادیث کا ملکہ
حاصل تھا نعیم بن حماد نے عبدالرحمن بن مہدی سے دریافت کیا "كيف تعرف
الكذاب قال كما يعرف الطبيب المجنون" "آپ حدیث میں جھوٹے کو کیسے معلوم کر لیتے
ہیں؟ فرمایا جیسے طبیب دیوانے کو معلوم کر لیتے ہیں۔ (تذکرہ ج ۱ ص ۳۰۳) امام
احمد بن حنبل فرماتے تھے ابن مہدی جس شخص کی روایت قبول کر لیں سمجھو کہ وہ حجت
ہے۔ (تاریخ بغداد ج ۱۰ ص ۲۴٣)
علامہ
ابن حبان ارشاد فرماتے تھے کہ "دو آدمیوں نے دینداری تقویٰ اور پرہیزگاری
تفقہ فی الدین کے ساتھ ساتھ راویانِ حدیث کی تحقیق، ضعفا کی معرفت کو اپنا پیشہ
بنا رکھا تھا جنہوں نے اس فن میں سب سے زیادہ کام کیا اور بڑا عظیم کارنامہ انجام
دیا ہے وہ یحییٰ بن سعید قطان اور عبدالرحمن بن مہدی ہیں"۔ (مقدمۃ
المجروحین ج ۱ ص ۵۲)
حلقۂ درس:
ابن مہدی نے جس لگن اور ذہانت کے ساتھ علم کی تحصیل کی
تھی اس کا لازمی نتیجہ تھا کہ آپ ابتداء ہی سے مرجوعۂ خلائق بن گئے تھے لوگ دین
ودنیا کے مسائل اور حدیث کے حصول کے لیے آپ کی بارگاہ میں جوق در جوق حاضر ہوا
کرتے تھے۔ ایوب بن متوکل کا بیان ہے "کنا اذا اردنا
ان ننظر الى الدين والدنيا ذهبنا الى دار عبد الرحمن بن مهدى"
"ہمیں جب کبھی کسی دینی و دنیاوی معاملہ میں غور کرنے کی ضرورت ہوتی تھی تو
ہم عبدالرحمن بن مہدی کے گھر چلے جاتے تھے۔ (تذکرہ ج
۱ ص ۳۰۲)
بڑے بڑے
ائمۂ فن اپنے متعلقین کو ابن مہدی سے تحصیلِ علم کی ترغیب دیا کرتے تھے صدقہ بن
فضل نے بیان کیا میں نے یحییٰ بن سعید سے ایک حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے
کہا عبدالرحمن بن مہدی کے پاس جاؤ۔ (تہذیب ج ۶ ص ۲۵۱)
کوئی قلم
بناتا تھا اور نہ مجلس سے اٹھ کر جا سکتا تھا ایسا محسوس ہوتا تھا کہ حاضرین نماز
میں منہمک ہیں یا ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں۔ (تذکرہ ج ۱ ص ۳۰۲)
علم اور طلبِ علم کی اہمیت اور آداب کا تذکرہ امام ابن
مہدی نے اس طرح فرمایا: "کوئی شخص اگر کسی ایسے شخص سے ملاقات کرے جو اس سے
بڑا عالم ہو تو وہ دن اس کے لیے غنیمت کا دن ہے۔ اور کسی ایسے شخص سے ملے جو علم
میں اس کا ہم پایہ ہو تو اس کو چاہئے کہ اس سے مذاکرہ کرے اور کچھ اس سے فائدہ
اٹھائے اور اگر کسی کی ملاقات ایسے شخص سے ہو جو علم میں اس سے کم مرتبہ ہے تو
چاہئے کہ تواضع سے پیش آئے اور اس کو کچھ سکھائے اور جو شخص ہر سنی ہوئی بات کو
نقل کر دیتا ہو یا ہر کس و ناکس کی روایت کو قبول کر لیتا ہو اسے علم کا امام نہیں
کہا جا سکتا اور نہ وہ امام ہو سکتا ہے جو شاذ روایتوں کے بیان کرنے میں بھی
احتیاط سے کام نہ لیتا ہو۔ (صفوۃ الصفوہ ج ۴ ص ۲)
تلامذہ:
ابن مبارک، ابن وہب، موسیٰ، احمد، اسحاق، علی، یحییٰ بن
معین، یحییٰ بن یحییٰ، ابو ثور، ابو خیثمہ، ابو عبید، احمد بن سنان قطان، ابراہیم
بن محمد بن عرعرہ، عبداللہ بن محمد بن مسندی، فلاس، بندار، ابو موسیٰ ذہلی،
عبداللہ بن ہاشم طویل، عبدالرحمن بن عمر رستہ، عبدالرحمن بن محمد بن منصور
الحارثی۔ (تہذیب ج ۶ ص ۲۵۱)
تفقہ:
ابن مہدی کے پاس احادیثِ نبوی کا بہت بڑا سرمایہ موجود
تھا اور ان کے پاس حدیثوں اور سندوں کی جانچ کا معیار بھی موجود تھا وہ اصولِ
روایت ودرایت میں امتیازی شان رکھتے تھے جو شخص دین کی روح اور مآخذِ فقہ سے کامل
آگاہ ہو اس کے تفقہ فی الدین میں کسے شبہ ہو سکتا ہے ابن مہدی امامِ حدیث ہونے کے
ساتھ بڑے فقیہ بھی تھے۔ امام احمد بن حنبل جو خود بڑے محدث اور عظیم فقیہ تھے
فرماتے ہیں بصرہ میں دو غیر معمولی عالم پیدا ہوئے ایک یحییٰ بن سعید دوسرے
عبدالرحمن بن مہدی مگر تفقہ میں ابن مہدی کا پلہ بھاری تھا۔ معاذ بن معاذ فرماتے
تھے بصرہ میں عہدۂ قضا کا اگر کوئی اہل ہے تو صرف ابن مہدی ہیں مگر ان میں کمی یہ
ہے کہ ان کا خاندان یہاں نہیں ہے اگر وہ کسی بڑے آدمی کے خلاف کوئی فیصلہ کریں تو
پھر وہ بڑے ان کو اس فیصلہ سےروکنے کی کوشش کریں گے۔ (تاریخ بغداد ج ۱۰ ص ۲۴۷)
حافظ
ذہبی لکھتے ہیں: "كان عبد الرحمن فقيها بصيرا بالفتوى عظيم الشان"
امام عبدالرحمن بن مہدی عظیم الشان فقیہ اور بلند پایہ مفتی تھے۔ (تذکرہ ج
۱ ص ۳۰۳)
علی بن مدینی کہا کرتے تھے: "مدینہ منورہ کے فقہائے
سبعہ کے فتاوے کا امام زہری پھر امام مالک اور ان کے بعد عبدالرحمن کو سب لوگوں سے
زیادہ علم تھا۔ (ایضاً)
زہد وتقویٰ:
سیرت و کردار کے لحاظ سے بھی آپ کا مرتبہ نہایت بلند تھا
امام ابن جوزی نے آپ کو صاحبِ زہد وتقویٰ تبع تابعین میں شمار کیا ہے وہ ساری رات
عبادت میں مصروف رہا کرتے ان کا معمول تھا کہ ایک شب میں نصف قرآن اور دو راتوں
میں پورا قرآن ختم کر دیتے تھے ابن مہدی کے فرزند یحییٰ کا بیان ہے میرے والد امام
عبدالرحمن بن مہدی اکثر ساری ساری رات قیام کرتے تھے ایک رات قیام میں مصروف رہے
اور صبح کے وقت تھک کر بستر پر دراز ہو گئے اور آفتاب نکلنے کے بعد بیدار ہوئے صبح
کی نماز فوت ہو گئی اس کا آپ کو اتنا غم ہوا کہ آئندہ دو ماہ تک اپنے لیے بستر پر
سونا حرام کر لیا چنانچہ ضرورت کے وقت زمین پر ہی لیٹا کرتے جس سے آپ کے جسم پر
زخم پیدا ہو گئے ۔ (تذکرہ ج
۱ ص ۳۰۳)
ایک بار انہوں نے کسی زمین کے بیچنے کا ارادہ کیا اس کی
قیمت فی جریب ڈھائی سو دینار قرار پائی۔ دلال نے کہا آپ کو اس ویران زمین کی اتنی
قیمت مل رہی ہے اگر میں اور آپ کا غلام دونوں مل کر اس میں کھاد ڈال دیں اور اس
طرح اسے درست کر لیں تو آپ کو ایک جریب پر پچاس دینار اور زیادہ مل جائیں گے پھر
پوری زمین کی قیمت میں آپ کو چار ہزار دینار ملیں گے ابن مہدی کو یہ سن کر غصہ آ گیا
اور فرمایا کیا صرف چار ہزار دینار "اعوذ بالله من
الشيطان الرجيم"
اور اس کے بعد یہ آیت پڑھی "لا يستوى الخبيث والطيب ولو اعجبك كثرة الخبيث فاتقوا
الله يا اولى الالباب" (ایضاً) وہ علم کے حریص اور عمل کے شائق، زہد وورع
کے پیکرِ جمیل تھے اور دوسروں کو بھی ایسی نصیحت فرمایا کرتے تھے جس سے اس کے علم
میں اضافہ ہو اور وہ صلاح وفلاح کی زندگی بسر کرے۔
وصال:
آپ کا وصال 63 سال کی عمر ، بمقام بصرہ ۱۹۸ھ میں ہوا
۔
ماخذ مراجع، محدثین عظام حیات و خدمات
