امام ابو سلیمان حمد خطابی (صاحب معالم السنن)
نام : حمد
کنیت : ابو
سلیمان
لقب : خطابی
ولادت
:
آپ کی ولادت ۳۱۹ھ بست کے شہر میں ہوئی ۔
نسب :
حمد بن محمد بن
ابراہیم بن خطاب
وطن بست کی طرف نسبت سے بستی کہلائے اور
اپنے جدِ اعلیٰ خطاب کی طرف منسوب ہوکر خطابی کہلائے۔ بعض تذکرہ نگاروں نے آپ کا
نام احمد بھی لکھا ہے جو مشہور ہو گیا ہے اب حقیقت حمد ہی ہے۔
شاہ عبد العزیز صاحب تحریر فرماتے ہیں:
ابو منصور ثعالبی نے یتیمۃ الدہر میں ان کا
ذکر کیا ہے مگر ان کے نام میں غلطی کی ہے کہ ”هو ابو سلیمان احمد“ ان کی یہی غلطی
شہرت پاگئی ۔ افغانستان کے مشہور شہر بست میں جو غزنیں اور ہرات کے درمیان واقع
ہے، رجب ۳۱۹ھ میں آپ کی ولادت ہوئی۔
تحصیل علم
امام خطابی نے جس
زمانہ میں ہوش سنبھالا غزنی، ہرات، نیشاپور، حجاز، خراسان اور ماوراء النہر وغیرہ
اسلامی علوم و فنون کے مرکز تھے آپ کا ذوقِ تحصیلِ علم اسلامی دنیا کو دو حصوں میں
پھرا تارہا تھا اور وہ علم و فہم کے چشموں سے سیراب ہوتے رہے۔ مکہ مکرمہ میں ابو
سعید بن الاعرابی، بغداد میں اسماعیل بن محمد صفار اور دوسرے علماء یں ابو العباس
اصم اور اس طبقہ کے دیگر محدثین سے حدِ سماع حاصل کیا۔ (تذکرہ
ج ۳ ص ۲۰۹)
علم و فضل:
امام خطابی نے
حصول علم کے لیے بڑی جدوجہد کی فہم و ذکاء کی بدولت اساتذہ کی خدمتوں میں حاضری کے لیے رحلت و سفر کی مشقتیں برداشت کیں
جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ حدیث، فقہ، عربیت، لغت اور شعر و سخن کے ماہر بن گئے،
دوسرے اسلامی علوم میں بھی دستگاہ حاصل تھی وہ اپنے زمانہ میں جامع کمالات امام
علم تھے۔ اربابِ سیر اور تذکرہ نویس نے آپ کے علمی کمالات کا اعتراف کیا ہے۔
حافظ ذہبی: "الامام العلام المحدث
الرحال... صاحب التصانیف" خلاصہ امام، محدث اور متعدد کتابوں
کے مصنف ہیں۔ طلبِ علم کے لیے دور دراز ممالک کا سفر کیا۔ (ایضاً)
علامہ سمعانی: "آپ (خطابی) فاضل، کبیر
الشان اور جلیل القدر تھے۔"
حافظ ابن جوزی نے: (خطابی) "کا علم
نہایت و افر تھا۔
ابن عماد: وہ (خطابی) اپنے تمام معاصرین پر
علمی حیثیت سے فائق تھے۔
علم حدیث:
یوں تو امام خطابی
جملہ علوم و فنون میں کامل مہارت رکھتے تھے لیکن انھیں علمِ حدیث میں امتیازی شان
حاصل تھی۔ ان کا شمار اس فن کے ائمہ اور نا مور محدثین میں کیا جاتا ہے۔ حفظ و ضبط، عدل و اتقان اور
فہم وحدیث میں ان کا پایہ بہت بلند تھا۔ حافظ ذہبی فرماتے ہیں:
آپ ثقہ اور محقق تھے علم کا خزانہ تھے بغداد میں علم لغت ابو عمر زاہد سے اور علمِ فقہ ابو علی بن ابی
ہریرہ اور قفال سے حاصل کیا۔ بہت عمدہ شعر کہتے تھے۔ (ایضاً)
علامہ سمعانی نے آپ کو حجت و صدوق کہتے ہیں
۔
حلقہ درس:
گانا گوں علوم و فنون میں بصیرت کی وجہ سے
آپ طالبانِ علم کا مرکز بن گئے تھے جہاں جاتے لوگوں کا ایک خطہ درس آپ کے گرد قائم
ہو جاتا۔ آپ نے نیشاپور میں زمانہ دراز تک قیام کیا اور وہاں درس و تدریس کے ساتھ
تصنیف و تالیف کا شغل بھی جاری رکھا۔ آپ کے درسِ حدیث میں شریک ہونے والوں کی
تعداد کافی ہے۔
امام حاکم، ابوحامد اسفرائینی، ابو نصر
محمد بن احمد بلخی غزنوی ، ابو مسعود حسین
بن محمد کرابیسی، ابو عمر محمد بن عبد اللہ رز جاہی، ابوذر عبد اللہ بن احمد هروی لغوی،
ابو الحسین عبدالغافر۔ (تذکرہ
ج ۳ ص۲۰۹)
تصانیف:
امام خطابی علمی
کمالات کے ساتھ تصنیف و تالیف کا بھی عمدہ ذوق رکھتے تھے انہوں نے مختلف علوم و
فنون پر اپنی معلومات کے قیمتی موتیوں کو کتابوں میں جمع کر دیا ہے۔ آپ کی بیشتر
کتابیں بیش قیمت، مفید اور لاجواب طریقے کا نمونہ ہیں۔
(۱) کتاب
الجہاد (۲) کتاب شان الدعاء (۳) کتاب
الالنکاح (۴) کتاب شرح الادعیۃ الماثورۃ (۵) کتاب شرح دعوات لابی خزیمہ (۶) کتاب الغریب (۷) کتاب
العروس (۸) کتاب اصلاح الغلط (۹) اعلام
السنن (۱۰) غریب الحدیث (۱۱) معالم
السنن۔
معالم السنن:
یہ کتاب سنن ابی
داؤد کی مبسوط و مستند شرح ہے جس کے اندر احادیث کے اہم مطالب کی دلنشیں توضیح کی
گئی ہے اور کتاب کے مشکلات کو بآسانی سلجھا دیا ہے۔ یہ کتاب سنن ابی داؤد کی سب سے پہلی مکمل شرح ہے بعد کی شرحیں
زیادہ تر اسی سے ماخوذ ہیں۔ اس کتاب میں احادیث کی شرح اور مسائل کی وضاحت کا
انداز عالمانہ ومحدثانہ ہے۔ معالم السنن میں حدیثوں سے مستنبط احکام و مسائل کو بھی
ذکر کیا گیا ہے اور حدیثوں کے اسرار و رموز کو بیان کرنے کا بھی خاص اہتمام کیا گیا
ہے۔ حدیثوں کے باہمی اختلاف و تضاد کو رفع کرنے اور ان میں جمع و تطبیق دینے کی
پوری کوشش کی گئی ہے۔ امام خطابی فن جرح وتعدیل میں بھی کمال رکھتے تھے اس لیے
معالم السنن میں حدیث کی فنی بحثوں اور اصول حدیث پر بڑی ماہرانہ گفتگو کی ہے۔
امام خطابی نقد و اجتہاد میں بھی ممتاز تھے اس لیے معالم السنن میں صحابہ، تابعین،
تبع تابعین اور اس زمانہ تک کے تمام ائمہ مجتہدین کے آراء و مسالک کی تفصیل بیان کی
ہے اور مختلف اقوال میں محاکمہ کر کے مرجح قول کی نشاندہی بھی کی ہے۔ امام ابو
داؤد سے پہلے محدثین جوامع اور مسانید پر مرتب کی گئیں، محدثین میں آپ کو یہ امتیاز
حاصل ہے کہ انہوں نے سب سے پہلے سنن و احکام کی حدیثوں پر مستند کتاب مرتب فرمائی۔
امام ابو داؤد نے ایمانیات و عقائد کے بجائے صرف احکام ومسائل کی حدیثیں جمع کی ہیں۔
امام خطابی نے بھی مصنف کی طرح فقہیات کی تخریج اور احکام و مسائل کے استنباط کی
جانب زیادہ توجہ کی ہے۔ علامہ شرف الدین نووی فرماتے ہیں:
"واما فقه الحديث ما
تضمنه من الاحكام والآداب المستنبطه منه هذا داب الفقهاء الاعلام کالائمة الاربعة
رضى الله عنهم وفى هذا الفن مصنفات كثيرة كمعالم السنن للخطابي والتمهيد لابن
عبدالبر"
فقہ حدیث سے وہ احکام و آداب مراد ہیں جن پر حدیث مشتمل ہوتی ہے اور جو اس سے
مستنبط کیے جاتے ہیں جیسے باہم سورت فقہاء جیسے ائمہ اربعہ وغیرہ کا طریقہ ہے اور
اس فن میں بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں جیسے امام خطابی کی معالم السنن اور ابن عبد
البر کی تمہید۔ (مقدمہ
شرح معالم السنن ج ۱ ص ۶)
امام خطابی نے معالم السنن میں حدیث و فقه
دونوں کو جمع کر دیا ہے مقدمہ میں خود فرماتے ہیں:
"حدیث کی حیثیت بنیاد اور اصل کی ہے۔
فقہ دراصل اس کی دیوار اور فرع ہے تو خود غور کرو کہ جو عمارت کی بنیاد اور اساس
پر تعمیر نہ کی گئی ہو اس کو ڈھہ جانے سے کون بچا سکتا ہے اسی طرح جس بنیاد پر کوئی
عمارت تعمیر نہ کی گئی ہو اس میں اور ویرانے میں کیا فرق ہو سکتا ہے ؟ مجھے امید
ہے کہ میں نے اس کتاب میں جو کچھ لکھا ہے یعنی علم حدیث کے معانی اور اس سے مستنبط
ہونے والے احکام و آداب اور اس کے تحت جو منقول روایات ہیں ان کو پڑھ کر وہ شخص علوم
حدیث کے لیے آمادہ ہو گا اور صاحب حدیث کو
فقہ سے رغبت ہو گی اور وہ اس کی تحصیل میں جدوجہد کرے گا۔
(مقدمہ خطابی معالم السنن ج ۱ ص ۶،۳)
کتاب میں عربیت ، اسلوب واداء کی بھی وضاحت
کی گئی ہے۔
یہ کتاب گوناگوں مختلف النوع مباحث اور علم
حدیث سے متعلق اہم تحقیقات کا مجموعہ ہے۔ محمد راغب الطباخ نے متعدد قلمی نسخوں کو
سامنے رکھ کر معالم السنن کو ایڈ یٹ کیا اور چار جلدوں میں مطبع علمیہ حلب سے ۱۳۵۱ھ میں شائع ہوئیں۔
اعلام السنن :
معالم السنن سے
امام خطابی جب فارغ ہوئے تو اہل علم نے خواہش ظاہر کی کہ صحیح بخاری کی شرح تحریر
فرمائیں چنانچہ امام خطابی نے بخاری شریف کی بھی ایک جلد میں شرح لکھی جو لطیف
نکات اور مفید مطالب پر مشتمل ہے۔
امام خطابی نے مذکورہ بالا دونوں کتابوں کے
علاوہ حدیث میں ایک کتاب "غریب الحدیث" بھی لکھی جو اس فن پر بڑی اہم
اور عمدہ کتاب خیال کی جاتی ہے۔
وصال:
امام خطابی نے
اپنے وطن بست میں ربیع الآخر ۳۸۸ھ میں
داعی اجل کو لبیک کہا۔
ماخذ
مراجع، محدثین عظام حیات و خدمات
