امام ابو یعلیٰ احمد بن علی موصلی
نام: احمد
کنیت: ابو
یعلی
ولادت :
آپ
کی ولادت ۲۱۰ھ
میں ہوئی۔
نسب:
احمد بن علی بن
مُثنی بن یحییٰ بن عیسیٰ بن ہلال تمیمی
موصلی۔
وطن :
شام کا مشہور شہر
موصل آپ کا وطن ہے جو دجلہ و فرات کے درمیان واقع ہے۔
۱۵ سال کی عمر میں طلبِ علم کے لیے موصل سے نکلے،
اور اپنے وقت کے جلیل القدر محدثین وفقہاء سے علم حاصل کیا۔
اساتذہ:
علی بن جعد، یحییٰ
بن معین، محمد بن منہال، ضریر، غسان بن ربیع، شیبان بن فروخ، یحییٰ حمانی، احمد بن
حاتم طویل، احمد بن حنبل، غسان بن لیث ۔ (تذکرہ ج ۲
ص ۲۴۸)
حدیث:
ابو یعلیٰ موصلی
اپنے وقت کے مشہورِ حفاظِ حدیث میں شمار کیے جاتے ہیں، قوتِ حفظ وضبط، اتقان و
وثوق میں ممتاز تھے، حدیث میں ان کی معلومات وسیع اور ان کی نگاہ بڑی گہری تھی،
اربابِ علم نے ثقاہت و عدالت اور غیر معمولی مرتبہ بلند کا اعتراف کیا ہے۔
حافظ ذہبی: "الحافظ الثقۃ محدث
الجزيرة صاحب المسند الكبير" قابلِ اعتماد حافظِ حدیث، جزیرہ کے
محدث اور مسند کبیر کے مصنف ہیں۔
(تذکرہ ج ۲ ص ۲۴۸)
یزید بن محمد ازدی: "كان ابو
يعلى من اهل الصدق والامانة والدين والحلم" ابو یعلیٰ
راست گو، امانت دار، متدین اور حلیم الطبع تھے۔ (ایضاً)
ابن حبان: حافظ ذہبی لکھتے ہیں "وثقه ابن
حبان و وصفه بالاتقان والدين ثم قال بينه وبين النبى صلى الله عليه وسلم ثلاثة
انفس"
ابن حبان نے ان کی توثیق کی ہے اور کہا ہے وہ صاحبِ اتقان و دین تھے۔ نیز فرمایا
ان کے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان صرف تین نفوس کا واسطہ ہے۔ (ایضاً
ص ۲۴۹)
امام حاکم: "كنت ارى ابا على
الحافظ معجبا بابی یعلی و اتقانه و حفظه لحد يثه حتى كان لا يخفى عليه منه الا
يسير.....
هو
ثقة مأمون"
میں نے دیکھا ہے...
حافظ ابن کثیر: "وہ اپنی مروایات میں
ثقہ و عادل اور احادیث میں حافظ و ضابط تھے"۔ (شذرات ج ۲
ص ۲۵۰)
حلقۂ درس:
امام ابو یعلیٰ
موصلی نے پوری زندگی حدیث کی تحصیل اور اس کی اشاعت میں اخلاص وایثار کے ساتھ بسر
کر دی، ایک دفعہ ابو عمرو حریری نے امام ابو یعلیٰ کا تذکرہ کیا اور ان کی حسن بن
سفیان پر فضیلت بیان کی تو کسی نے اعتراض کیا کہ ان کو حسن پر فضیلت کس طرح ہو
سکتی ہے جب کہ حسن کی مسند ان کی مسند سے بڑی ہے اور ان کے شیوخ ان کے شیوخ سے
اعلیٰ ہیں؟ بولے "ان ابا یعلیٰ كان يحدث احتسابا والحسن كان
يحدث اكتساباً"
ابو یعلیٰ لوجہ اللہ حدیث پڑھاتے تھے اور حسن حدیث پڑھانے پر اجرت لیتے تھے۔ (تذکرہ ج ۲ ص ۲۴۹)
امام ابو یعلیٰ کی پرخلوص، با عظمت علمی
شخصیت کا فیضان تھا کہ ان کے حلقۂ درس میں کافی لوگ شرکت کرتے، ان کا حلقہ درس
کئی دہائیوں تک جاری رھا ، زمانہ تک قائم رہا، جس میں شرکت کے لیے دور دراز سے
طالبانِ علم نبوت کی شمعیں لے کر آتے۔ حافظ ذہبی لکھتے ہیں: "عمر وتفرد
ورحل الناس اليه" طویل زندگی پائی اور منفر د شخصیت کے حامل تھے،
یہی وجہ ہے کہ لوگ دور دراز سے سفر کرتے ان کی خدمت میں پہونچتے اور ان سے استفادہ
کرتے تھے۔ (تذکرہ
ج ۲ ص ۲۴۹)
تلامذہ:
ابو حاتم بن حبان،
ابو علی نیشاپوری، حمزہ بن محمد کنانی، ابو بکر اسماعیلی، ابو بکر بن مقری، ابو
عمرو بن حمدان، نصر بن احمد مرحبی، محمد بن نخاس۔ (تذکرہ
ج ۲ ص ۲۴۸)
تصانیف:
امام ابو یعلیٰ
بلند پایہ مصنف بھی تھے، حافظ ابن کثیر کا بیان ہے کہ وہ عمدہ اور اعلیٰ تصانیف کے
مالک تھے، ان کی مشہور کتابیں ہیں، معجم ،مسندِ کبیر و مسندِ صغیر، آپ
نے دو مسندیں لکھیں، مسندِ کبیر اور مسندِ صغیر، مسندِ
صغیر
مشہورِ زمانہ ہے جو ۳۶ اجزاء پر مشتمل ہے، اسے حدیث کی اہم اور جامع
کتابوں میں شمار کیا جاتا ہے، اس کے اندر علما کا یہ قول بھی ہے جو ابن فضل فرماتے
ہیں "قرأت
المسانيد كمسند العدى ومسند ابى منيع وهى كالانهار ومسند ابي یعلی
کالِبحَرِ يَكُونُ مَجْمَعَ الانْهَارِ "میں نے مسندِ عدی، مسندِ ابی
عوانہ اور بھی کئی مسندیں پڑھی ہیں مگر ان سب کی حیثیت نہروں کی ہے اور مسندِ ابی یعلی
ایک سمندر ہے جس میں سب نہریں آکر ملتی ہیں۔
(تذکرہ
ج ۲ ص ۲۴۹)
وصال:
آپ نے طویل عمر
پائی سن ۳۰۷ھ میں اپنے وطن موصل میں وصال ہوا ۔ آپ کی ہردل عزیزی اور مرجوعیت کا یہ عالم تھا کہ
موصل کے بازار بند ہو گئے کثیر لوگوں نے آپ
کے جنازہ میں شرکت کی۔
ماخذ مراجع، محدثین عظام حیات و خدمات
