امام ابو زکریا یحییٰ بن آدم
نام : یحییٰ
کنیت : ابو
زکریا
القاب : کوفی و قرشی
ولادت :
آپ کی ولادت ۱۴۰ھ کوفہ میں
ہوئی۔
نسب:
یحییٰ بن آدم بن سلیمان
قریش کی طرف نسبتِ ولاء کی وجہ سے قرشی کہلاتے ہیں۔ انہوں
نے مرکزِ علم و حکمت کوفہ میں آنکھ کھولی۔ علم کا ذوق ورثہ میں ملا تھا۔ چنانچہ
اکابر محدثین اور فقہاء کی بارگاہوں سے کسبِ فیض کیا اور کوفہ، بصرہ، مکہ، مدینہ،
حمص کے شیوخ سے علم حاصل کیا۔ ان کے نوے شیوخ ہیں جن میں سے ۷۳ سے
انہوں نے کتاب الخراج اور ۱۷ سے باقی دوسری
کتابوں میں روایت کی ہے ۔
اساتذہ:
ابراہیم بن حمید بن عبد الرحمن رواسی، ابراہیم بن حمید حیمی،
ابراہیم بن محمد بن ابی یحییٰ اسلمی، اسرائیل بن یونس بن ابی اسحاق سبیعی، اسماعیل
بن ابراہیم بن مقسم، ابو بکر بن نہشلی ، جریر بن عبد الحمید، جعفر بن زیاد، حاتم
بن اسماعیل، حیان بن علی کوفی، حسن بن ثابت، حسن بن صالح، ابو عبد اللہ ثوری، حسن
بن عیاش، حسین بن زید بن علی بن حسین، حفص بن غیاث، حماد بن زید، حماد بن سلمہ، سفیان
بن عیینہ، شریک بن عبد اللہ، عبد اللہ بن مبارک، عبد الرحمن بن ابی زناد، فضیل بن
عیاش، مبارک بن فضالہ، وکیع بن جراح، یحییٰ بن زکریا، ابو حیان کی، فضیل بن عیاض،
فطر بن خلیفہ، مسعر بن کدام، موسیٰ بن قیس حضرمی، یونس بن ابی اسحاق سبیعی، عیسیٰ
بن طہمان، اسرائیل، سفیان ثوری، جریر بن حازم، حسن بن حی، زہیر بن معاویہ، ابو
الاحوص، عمار بن رزیق، فضیل بن ابی مرزوق، مفضل بن مہلل، ورقاء، وہیب، ابوبکر بن عیاش
وغیرہ۔ (تہذیب ج
۱۱ ص ۱۵۲)
علم و
فضل:
ان شیوخ و اساتذہ کے فیضِ تعلیم و تربیت نے یحییٰ کو
علومِ اسلامی کا مخزن بنا دیا تھا حدیث و فقہ میں ان کی عظمت و جلالت کا اعتراف
اکابرِ امت نے اس طرح کیا ہے:
یعقوب بن
ابی شیبہ: "ثقہ کثیر الحدیث فقیہ البدن ولم یکن لہ سن متقدم"
وہ ثقہ کثیر الحدیث اور بڑے فقیہ تھے۔ حالانکہ ان کا سن (عمر) بہت زیادہ نہ تھی۔
علی بن المدینی: "یرحم اللہ
تعالیٰ یحییٰ بن آدم ای علم کان عندہ جعل يطریہ" اللہ یحییٰ
بن آدم پر رحم کرے ان کے پاس کتنا وسیع علم تھا پھر دیر تک ان کی مدح کرتے رہے۔
ابو
اسامہ: "ما رأيت
يحيى بن آدم الا ذكرت الشعبي" میں نے یحییٰ بن آدم کو جب بھی دیکھا شعبی کی یاد
آئی۔
عجلی:
"كان ثقة
جامعاً للعلم عاقلاً ثبتاً فی الحديث" وہ ثقہ، جامعِ علم، عاقل اور حدیث میں ثابت تھے۔
یحییٰ بن
ابی شیبہ: "ثقة صدوق ثبت حجة مالم يخالف من هو فوقہ مثل وکیع"
وہ ثقہ، صدوق، ثبت، حجت تھے ان سے بڑا کوئی نہ تھا جس طرح وکیع بے مثل تھے۔
ابن حبان: "ابن معین، امام نسائی، ابو داؤد نے یحییٰ
بن آدم کو ثقہ قرار دیا ہے"۔ (ایضاً ۱۵۵)
محمد بن
احمد بن برا کہتے ہیں۔ میں نے علی بن مدینی کو سنا وہ کہتے تھے۔ میں نے بنظرِ غور
دیکھا تو معلوم ہوا کہ عموماً صحیح سندوں کا دارومدار چھ اشخاص پر ہے مدینہ منورہ
میں ابن شہاب، مکہ میں عمرو بن دینار، بصرہ میں قتادہ، یحییٰ بن ابی کثیر، اور
کوفہ میں ابو اسحاق اور اعمش پھر ان کا علم اربابِ تصنیف ائمہ کے پاس پہونچ گیا۔
مدینہ منورہ میں امام مالک اور ابن اسحاق مکہ معظمہ میں ابن جریج اور سفیان بن عیینہ،
بصرہ میں سعید بن عروبہ، حماد بن سلمہ، ابو عوانہ، شعبہ اور معمر کے پاس، اور ان
کو پہلے چھ ائمہ سے سماع حاصل ہے کوفہ میں سفیان ثوری، شام میں اوزاعی، واسط میں
ہشیم کے پاس، پھر ان بارہ ائمہ کا علم یحییٰ بن قطان، یحییٰ بن زکریا اور وکیع کے
پاس پہونچ گیا پھر ان تینوں کا علم عبد اللہ بن مبارک، عبد الرحمن بن مہدی اور ابن
آدم کے پاس جمع ہو گیا۔
تلامذہ:
امام یحییٰ سے روایت کرنے والوں کی تعداد کثیر ہے ان میں
سے چند اہم نام یہ ہیں:
احمد،
اسحاق، علی بن المدینی، یحییٰ بن معین، الحسن بن علی الخلال، احمد بن ابی رجاء
الہروی، ابوکریب، السندی، یعقوب بن ابی شیبہ، یحییٰ ابن ابی شیبہ، عبدۃ بن عبداللہ
الصفار، عباس بن حسین القنطری، محمد بن رافع، محمود بن غیلان، ہارون الحمال، الحسن
بن علی بن عفان العامری۔
(تہذیب
التہذیب ج ۱۱ ص ۱۵٤)
مصنفات:
حافظ ذہبی نے آپ کے بارے میں لکھا "هو صاحب
التصانيف"
ابنِ ندیم نے کتاب الخراج، کتاب الزوال اور کتاب الفرائض کا ذکر کیا ہے مگر مؤخر
الذکر دونوں کتابیں ناپید ہو گئیں۔ کتاب الخراج کا ایک قدیم نسخہ ڈاکٹر جانیبول کو
ایم شارل سیفر (پیرس) سے ملا، جسے انہوں نے تحقیق و کاوش کے ساتھ مرتب کر کے ۱۸۹۸ء میں مطبع بریل لیڈن سے شائع کیا۔ یہ نسخہ پانچویں صدی
ہجری کا لکھا ہوا ہے۔
قاضی
ابوالاشبال احمد مصری نے ڈاکٹر جانیبول کے مرتبہ نسخے پر تصحیح کی نظر ڈالی اور
غلطیوں کی اصلاح کر کے دوبارہ ۱۳۴۷ھ / ۱۹۲۸ء میں قاہرہ سے شائع کیا۔
خراج
اسلامی مملکت کی آمدنی کا ایک شعبہ ہے جس کا قیام عہدِ رسالت میں ہو چکا تھا۔ حضرت
عمرؓ نے حکومت کے دوسرے شعبوں کی طرح اس شعبہ کو بھی ایک حد تک منظم کیا اور اس کے
اصول وضوابط بنائے جوں جوں اسلامی حکومت کا دائرہ پھیلتا رہا اس شعبے میں بھی وسعت
پیدا ہوتی رہی۔ لیکن تقریباً پونے دو صدی تک اس کا کوئی مکمل تحریری دستور مرتب
نہیں ہوا خلیفہ ہارون رشید نے ۱۷۰ھ میں قاضی ابو
یوسف سے اس موضوع پر کتاب لکھنے کی درخواست کی۔ انہوں نے سب سے پہلے کتاب الخراج
لکھ کر ہارون کے سامنے پیش کی اس کے بعد اس موضوع پر متعدد کتابیں لکھی گئیں جن
میں یحییٰ بن آدم کی کتاب الخراج اور ابو عبیدہ کی کتاب الاموال زیادہ مشہور ہیں۔
شعبۂ
مالیات سے متعلق قرآنِ پاک کی جن آیات میں اشارات موجود ہیں ان کو امام یحییٰ نے
عنوان کے تحت نقل کیا ہے پھر احادیث وآثار سے استدلال کیا ہے۔ انہوں نے مسائل کے
سلسلے میں اپنی رائے کے بجائے حدیث وآثار صحابہ یا اقوالِ تابعین پیش کیے ہیں۔
یحییٰ بن آدم قناعت پسند انسان تھے۔ انہوں نے خلفاء اور
امراء سے کبھی تعلقات وابستہ نہ کیے وہ بڑی بے نیازی کے ساتھ علم کی خدمت انجام
دیتے رہے
وصال :
ربیع الاول ۲۰۳ھ میں دارِ فانی
سے رحلت فرمائی۔
ماخذ مراجع، محدثین عظام حیات و خدمات
