امام بقی بن مخلد
قرطبی
نام
: بقی
لقب
: شیخ
الاسلام
ولادت:
آپ کی ولادت رمضان
المبارک ۲۰۱ھ میں ہوئی ۔
نسب :
بقی
بن مخلد بن یزید قرطبی علم و حکمت کے مرکز قرطبہ (اندلس) میں پیدا ہوئے۔
تحصیلِ علم:
بقی
نے اندلس کے مشہور علمی شہر قرطبہ میں آنکھ کھولی تھی جو اس زمانہ میں علماء و
فضلاء، ادباء، شعراء اور حکماء و اطباء کا آماجگاہ تھا۔ فطری ذوق و ذہانت کے ساتھ
انہوں نے طلبِ علم کا آغاز کیا مگر اپنے آپ کو قرطبہ ہی تک محدود نہ رکھا بلکہ دور
دراز شہروں کے سفر محض طلبِ علم کے شوق میں کیے۔اور محنت و جانکاہی، عسرت و تنگدستی
کی ہوشربا تلخیاں بڑی خوشی سے گوارا کیں اور علم وفن کی لازوال دولت سے اپنے دامن
کو مالا مال کر لیا۔ اربابِ تذکرہ نے آپ کو کثرتِ سفر کے باعث "ذو
رحلۃ واسعۃ" (کثیر الاسفار) لکھا ہے۔ تنگ دستی
کے سبب سواری کا اہتمام ان کے لیے دشوار تھا اس لیے پیدل ہی سفر کرتے تھے خود
فرماتے ہیں: "کل من رحلت الیہ فماشیاً علیٰ قدمی"
میں طلبِ علم کے لیے جس کے پاس گیا پیدل ہی گیا۔
(تذکرہ ج ۲ ص ۱۸۵)
حصولِ علم کی راہ میں اپنی
بے سرو سامانی اس طرح بیان کرتے ہیں: "انی
لاعرف رجلاً کانت تمضی علیہ الایام فی وقت طلبہ لیس لہ عیش الا ورق الکرنب"
میں ایسے شخص کو جانتا ہوں جو بطالبِ علمی کے زمانہ میں کئی کئی دن کرنب (ایک سبزی)
کے پتے کھا کر گزارا کرتا تھا۔ (یہ خود انہی کا حال تھا) (ایضاً ص ۱۸۶)
آپ کا غِذا اور روشنی کے
لیے اپنے پاجامے بیچ دیا کرتے تھے۔
اساتذہ :
ابراہیم
بن محمد شافعی، ابراہیم بن منذر خزاسانی، ابو ثور، ابو مصعب، احمد بن ابراہیم دورقی،
ابو طاہر احمد بن سرح، بکار بن عبداللہ، حارث بن مسکین، خلیفہ بن خیاط، دحیم، ابوخیثمہ،
زہیر بن حرب، زہیر بن عباد،مجنون بن سعید، سلمہ بن شعیب، صفوان بن صالح، ابوبکر
عبداللہ بن ابی شیبہ، عبداللہ بن ذکوان، عون بن یوسف، محمد بن بشار بندار، محمد بن
عبداللہ بن نمیر، محمد بن بیدبن حسان، محمد بن عیسیٰ اعشی ،محمد بن عمر عدنی، محمد
بن مصطفیٰ حمصی، ہارون بن عبداللہ حمال، یحییٰ بن عبداللہ بن بکیر، یحییٰ بن
عبدالحمید حمانی، یحییٰ بن یحییٰ لیثی وغیرہ۔
حدیث:
امام
بقی نے دستورِ زمانہ کے مطابق علمِ حدیث کی طرف خصوصی توجہ کی اور وہ اپنے وقت کے
جلیل القدر محدث بن کر دیارِ مغرب میں مشہور ہوئے۔ ان کی عدالت و ثقاہت اور ضبط وتثبت
کا اعتراف علماء نے کیا ہے۔
حافظ ذہبی: "کان
اماماً علماً قدوۃ مجتھداً لا یقلد احداً ثقۃ حجۃ صالحاً عابداً متھجداً اواھاً
عدیم النظیر فی زمانہ" یہ (بقی) امام چوٹی کے عالم، پیشوا
اور مجتہد تھے کسی کی تقلید نہیں کرتے تھے۔ ثقہ، حجت، صالح، عابد، تہجد گزار اور
خوفِ خدا رکھنے والے اور اپنے زمانہ میں عدیم النظیر تھے۔
(تذکرہ ج ۲ ص ۱۸۴)
فقہ:
امام بقی حدیث کے ساتھ
فقہ میں بھی کامل دستگاہ رکھتے تھے وہ کسی فقہی مکتب کے پابند نہ تھے بلکہ خود
مجتہد اور فقیہ تھے۔ ابن عساکر لکھتے ہیں "كان
مجتهدا متخيرا لا يقلد أحدا" وہ مجتہد صاحب اختیارات
اور کسی امام کے مقلد نہ تھے۔
(ابن عساکر ج ۳ ص ۷۹)
تلامذہ:
آپ کے دامنِ علم سے خوشہ
چینی کرنے والوں کی تعداد کثیر ہے چند ممتاز تلامذہ یہ ہیں
احمد بن بقی ، احمد بن
عبد اللہ اموی ، اسلم بن عبد العزیز ، محمد بن عمر بن لبابہ ، حسن بن سعید ،
عبداللہ بن یونس قیری۔
(تذکرہ ج ۲ ص ۱۸۴)
تصنیفات:
امام بقی بلند پایہ مصنف
بھی تھے اگرچہ ان کی اکثر کتابیں امتدادِ زمانہ سے ناپید ہو گئی ہیں مگر ان کے
تذکرے سیر و تاریخ کی کتابوں میں محفوظ ہیں:
1) فتاویٰ صحابہ و تابعین
ومن دونہم (۲) کتاب
التفسیر (۳) مسند
بقی۔ کتاب التفسیر بڑی مبسوط اور معلومات افزا کتاب تھی۔
حافظ ذہبی نے آپ کا تعارف
کراتے ہوئے لکھا صاحب المسند الکبیر والتفسیر الجلیل۔
ابن حزم کہتے ہیں "ما صنف تفسیر مثلہ اصلاً"
ان کی مانند اصلاً کوئی تفسیر ہی نہیں لکھی گئی۔ (تذکرہ
ج ۲
ص ۱۸۴)
مسند کبیر آپ کی بڑی اہم
کتاب ہے جس کے اندر تقریباً ڈیڑھ ہزار صحابہ کی احادیث کو ابواب فقہ پر مرتب کیا گیا
ہے اس طرح وہ مسند اور مصنف دونوں عنوانوں میں شامل ہے ابن حزم کتاب کی اہمیت و
صحت اس طرح بیان فرماتے ہیں۔
"اس
کتاب کو انہوں نے صحابہ کے ناموں پر مرتب کیا ہے اس میں ایک ہزار تین سو سے زیادہ
صحابہ کی روایات ہیں ہر صحابی کی احادیث کو فقہ و احکام کے ابواب و عنوانات کے تحت
نقل کیا گیا ہے اس اعتبار سے یہ مسند بھی ہے ، مصنف بھی۔ میرے علم میں اس مرتبہ و
اہمیت کی اس سے پہلے کوئی کتاب نہیں لکھی گئی انہوں نے اپنی ثقاہت ، ضبط ، اتقان ،
حدیث میں جامعیت اور جودت شیوخ کے باوجود ایک ہزار چوراسی راویوں سے اس کی روایت کی
ہے جو قریب قریب سب مشہور اوربلند پایہ محدث ہیں۔
(تاریخ
ابن عساکر ج ۲ ص ۲۷۹)
ورع و عبادت :
علم
کیساتھ حضرت بھی زہد و تقویٰ اور عبادت و ریاضت میں بھی امتیازی شان رکھتے تھے۔ وہ
پوری پوری رات عبادت میں مشغول رہتے تیرہ رکعتوں میں پورا قرآن ختم کر دیتے۔ رمضان
کے علاوہ بھی اکثر روزے رکھتے۔ انہوں نے تیس حج کیے تھے وہ جہاد فی سبیل اللہ کا
بھی جذبہ بیکراں رکھتے تھے ستر جنگوں میں داد شجاعت دی ۔ وہ مستجاب الدعوات تھے
اکثر لوگ آپ سے دعا کی درخواست کیا کرتے تھے وہ بڑے حق پسند ستودہ صفات بزرگ تھے۔
حافظ ذہبی نے ان کے صفات
حمیدہ اس طرح بیان کیے ہیں۔ ’’ذکر عن بقی خیر ونسک
وايثار حتی ثوبه و کان مجاب الدعوات وقيل انه كان يختم القرآن کل ليلة في ثلاث
عشرة ركعة ويسرد الصوم وحضر سبعين غزوة‘‘ ان کی خیر خواہی،
عبادت اور ایثار و قربانی کے واقعات زبان زد خاص و عوام تھے کپڑے تک محتاجوں کو دے
دیتے تھے مستجاب الدعوات بھی تھے کہتے ہیں ہر رات تیرہ رکعت میں قرآن کریم ختم کیا
کرتے تھے اور عمر بھر میں ستر جنگوں میں شریک ہوئے۔
(تذکرہ
ج ۲
ص ۱۸۵)
وصال:
بروز
منگل 29 جمادی الاخریٰ ۲۷۶ھ اندلس میں وصال ہوا ۔
ماخذ
مراجع، محدثین عظام حیات و خدمات
