امام حافظ ابو جعفر عقیلی
نام: محمد
کنیت : ابو جعفر
لقب : عقیلی حجازی
نسب
محمد
بن عمرو بن موسیٰ بن حماد عقیلی حجازی
بنو عقیل کی طرف
منسوب ہونے کی وجہ سے عقیلی کہلاتے ہیں۔ آپ حجاز کے رہنے والے تھے، آپ کا زمانہ
علمِ حدیث کی ترویج و اشاعت اور ترتیب و تدوین کا سنہرا دور تھا۔ حجاز میں قیام کی
وجہ سے وہاں کے علماء، اور پھر اس سرزمین پر وارد ہونے والے دوسرے دیار و امصار کے
محدثین سے بھی کسبِ علم کا موقع ملا مگر علم کی پیاس نہ بجھی تو حجاز سے نکل کر
شام، مصر اور عراق کا سفر کیا۔ اور وہاں کے شیوخ سے حدیث کا سماع کیا۔
اساتذہ
یزید بن محمد بن
اسماعیل صائغ، ابو یحییٰ بن ابی میسرہ، محمد بن احمد بن ولید بن برد انطاکی، یحییٰ
بن ایوب علاف، محمد بن اسماعیل ترمذی، اسحاق بن ابراہیم ترمذی، علی بن عبدالعزیز
بغوی، محمد بن خزیمہ، محمد بن موسیٰ بلخی، عبداللہ بن موسیٰ، عبداللہ بن احمد بن
ابراہیم دبری۔
(تذکرۃ
الحفاظ ج ۳ ص ۵۰)
علم و فضل
آپ حدیث کے حفظ و
ضبط اور ثقاہت میں بلند مقام رکھتے تھے۔ جرح و تعدیل میں بھی پایہ نہایت بلند تھا۔
علماءِ حدیث نے آپ کی عظمت کا اعتراف کیا ہے۔
مسلمہ بن قاسم: "کان
العقیلی جلیل القدر عظیم الخطر ما رایت مثلہ وکان کثیر التصانیف"
عقیلی جلیل القدر اور عظیم الشان شخصیت کے مالک تھے۔ میں نے ان جیسا کوئی آدمی
نہیں دیکھا، وہ بہت سی کتابوں کے مصنف ہیں۔ (ایضاً)
ابو الحسن بنِ القطان: "ابو جعفر ثقۃ
جلیل القدر عالم حفظ و اتقان میں سب سے آگے ہیں۔ (ایضاً)
حافظ ذہبی نے آپ کا تعارف صاحبِ نقد اور
ابنِ حماد عقیلی نے صاحبِ جرح و تعدیل سے کیا ہے۔
قدرت نے آپ کو بے
مثال قوتِ حفظ و ضبط عطا فرمائی تھی۔ جب بھی کوئی محدث آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا،
آپ اس سے کہتے: اپنی کتاب سے پڑھو، وہ پڑھتے اور آپ اپنی کتاب کھولے بغیر قوتِ
حافظہ پر اعتماد کر کے اس کی تصحیح فرماتے۔ لوگوں میں اس طریقے پر دبی دبی چہ
میگوئیاں شروع ہو گئیں اور ان کو شک کی نگاہ سے دیکھنے لگے۔ بعض لوگ کہنے لگے:
عقیلی احفظ الناس ہیں یا اکذب الناس ہیں۔ چنانچہ ایک دن بعض امتحان لینے والوں نے
ان کی کچھ روایتوں کو غلط ملط اور کی ورڈز کی الٹ پھیر کر کے ان کو سنانا شروع کر
دیا جہاں کی زیادتی کی گئی تھی۔ انہوں نے فوراً اس کی گرفت کرلی۔ مسلمہ بن قاسم
کہتے ہیں: ہمارے ہاتھ سے وہ کتاب لے کر ان غلطیوں کی اصلاح فرمادی۔ اس واقعے کے
بعد ہم لوگ خوشی خوشی اپنے گھروں کو واپس ہوئے اور یقین کرلیا کہ آپ احفظ الناس
ہیں۔ (تذکرہ ج ۳
ص ۵۰)
تلامذہ
محمد بن نافع
خزاعی، یوسف بن دخیل مصری، ابوبکر بن مقری۔ (ایضاً)
الضعفاء الکبیر
امام عقیلی نے
حدیث پر متعدد کتابیں تصنیف کیں اس کا اوپر ذکر گزر چکا ہے "کان کثیر التصانیف"
آپ کی کتابوں میں ایک اہم کتاب ’’الضعفاء الکبیر" ہے۔
یہ کتاب اس فن میں
پہلی اور جامع تصنیف ہے کتاب کے اندر جملہ مقتدر فیہ راویوں کا تذکرہ مصنف نے اپنے
علم کے مطابق کیا ہے، اس طرح اس میں کذاب، متہم بالکذب، مجہول، ضعیف نیز داعی بدعت
راویوں کا تفصیلی تذکرہ پایا جاتا ہے۔ اس میں بعض راویوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
جو صحیحین کے راوی ہیں اور ان پر کلام کیا گیا ہے۔ تراجم کی ترتیب حروفِ معجم پر
ہے۔ ترجمہ میں راوی کا نام و نسب اور کنیت کا ذکر کیا گیا ہے اس کے بعد راوی پر
حکم لگانے کے لیے ائمہ جرح و تعدیل کے اقوال کو بطورِ استدلال ذکر کیا گیا ہے۔
امام عقیلی نے راویوں کے اقوال کو اپنی سند سے ذکر کیا ہے۔ جن ائمہ فن کے اقوال
ذکر کیے گئے ہیں ان میں عبدالرحمن بن مہدی، یحییٰ بن معین، احمد بن حنبل اور امام
بخاری قابلِ ذکر ہیں۔ متعدّد جگہوں پر راویوں کے بارے میں اپنی رائے بھی دلائل کے
ساتھ ذکر کی ہے۔ راوی کے ترجمہ میں ایک دو غریب اور منکر
حدیثوں کا ذکر بھی بطورِ نمونہ کیا ہے جس کی وجہ سے یہ کتاب ضعیف اور موضوع حدیثوں
کی معرفت کے لیے اہم مصدر بن گئی ہے۔
امام عقیلی کا
موقف جرح و تعدیل کے بارے میں قدرے سخت اور وسیع ہے اس لیے بہت سے راویوں کو غیر
مسلم اسبابِ جرح کی بناء پر انہوں نے ضعیف قرار دے دیا ہے اسی وجہ سے مذکورہ راوی
ان کے یہاں اگرچہ ضعیف سمجھا جائے گا مگر یہ ضروری نہیں کہ حقیقت میں بھی وہ ضعیف
ہو۔ سبعین کے جو راوی اس کتاب میں آگئے ہیں عموماً ان کا حال یہی ہے۔
امام ذہبی نے جرح میں وسعت کی بناء پر آپ
پر نکتہ چینی کی ہے مگر حافظ ذہبی نے مجموعی لحاظ سے اس کتاب کی اہمیت وافادیت کی
تعریف کی ہے۔ "العلل فی معرفۃ الضعفاء" ضعفاء کی
معرفت میں عقیلی کی کتاب کافی مفید ہے۔
(میزان الاعتدال ج ۲
ص ۲۱)
وصال
آپ کا وصال ربیع
الاول ۳۲۲ھ میں مکہ مکرمہ میں ہوا۔
ماخذ مراجع، محدثین عظام حیات و خدمات
