امام حافظ یوسف جمال الدین مزی
نام : یوسف
کنیت : ابوالحجاج
لقب : جمال الدین
ولادت:
آپ کی ولادت با سعادت ظاہرحلب میں ربیع الاول ۶۵۴ھ میں
ہوئی پرورش دمشق کے مضافات "مزہ" میں ہوئی۔
نسب :
یوسف بن زکی
عبدالرحمن بن یوسف مزی دمشقی ۔
’’مزہ‘‘ کو مشہور صحابی رسول حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے
دفن ہونے کا شرف حاصل ہے۔ یہاں پر آپ کا
خاندان عرب سے آکر آباد ہوا تھا۔
تحصیلِ علم:
سقوطِ بغداد کے
بعد شام کی راجدھانی دمشق علم و علماء کا عظیم مرکز بن گیا تھا یہاں کی عظیم
درسگاہیں علومِ اسلامی کی جوگ جگا رہی تھیں جن کے دامن میں طالبانِ علم نبوتِ
پروان چڑھ رہے تھے اور ان کی مساعی جمیلہ سے اسلامی علوم و ثقافت کی روایت زندہ و
تابندہ تھی۔
حافظ مزی نے اسی معارف پرور ماحول میں شعور کی آنکھ کھولی
پہلے قرآنِ حکیم حفظ کیا پھر فقہ شافعی کی تعلیم حاصل کی جذبۂ طلبِ حدیث بیدار
ہوا تو علمِ حدیث کی تعلیم کا سلسلہ شروع کیا سب سے پہلے علامہ ابنِ ابی الخیر کی کتاب الحلیہ سبقا سبقا پڑھی ان سے مسند امام
احمد، صحاحِ ستہ، معجم طبرانی، اجزاء طبرزدیہ اور اجزاء کندیہ کی تعلیم حاصل کی۔ اور علامہ اربلی سے صحیح مسلم کا سماع کیا۔ ۶۸٤ھ میں مزید طلبِ علم کے لیے سفر پر نکلے اور حرمینِ شریفین،
حلب، حماۃ، بعلبک وغيره شہروں کے علماء سے
بھی فیوض حاصل کیے۔
(تذکرۃ
الحفاظ ج ص ۲۸۰)
علم و فضل:
آپ نہایت خوش خط کا تب تھے اپنے لیے اور دوسروں کے لیے
بہت سی کتابیں نقل کیں، ادب، لغت، منطق وفلسفہ کا بھی گہرا ذوق رکھتے تھے۔ آپ کے
تبحرِ علمی اخلاص و ایثار زہد و عبادت کا تذکرہ اربابِ سیر و تاریخ نے اس طرح کیا
ہے۔
حافظ ذہبی:
"العالم
الحافظ الاوحد محدث الشام" شام کے محدث، مورخ، حافظِ حدیث، بلند پایہ عالمِ دین
اور علمِ حدیث میں منفرد علمی شخصیت کے حامل ہیں۔ (ایضاً)
ابنِ سید الناس:
دمشق کے جن ايل علم سے میری ملاقات ہوئی
ان میں امام ابوالحجاج مزی قابلِ ذکر ہیں جو اپنے ہم عصروں میں متقدم و متاخر سب
پر فوقیت رکھتے تھے ۔
حافظ ذہبی:
"وكان ثقة
حجة كثير العلم حسن الاخلاص، كثير السكوت قليل الكلام جدا صادق اللهجة لم يعرف له
صبوة وكان يطالع" ثقہ اور حجت تھے، آپ کی معلومات کا دائرہ نہایت وسیع
تھا، نیز اخلاقِ حسنہ کے مالک تھے۔ کثیر السکوت و قلیل الکلام تھے ۔ (مقدمہ
تہذیب الکلام ٣٠ )
جرح و تعدیل:
حدیث و فقه اور
دیگر علوم وفنون میں مہارت کے ساتھ ساتھ آپ فن جرح و تعدیل میں بھی امامت کا درجہ
رکھتے تھے اس میں آپ کی بصیرت اور ژرف نگاہی کا اعتراف علماء نے اس طرح کیا ہے۔
علامہ ابن سید
الناس: "تراجم رجال کا سب سے بڑے واقف کار راویوں کے بارے میں ارب وعجم میں
سب سے زیادہ معلومات رکھنے والے امام مزی ہیں۔" (الدر الکامتہ ج ۵ ص ۴۹)
حافظ ذہبی:
"واما
معرفتة الرجال فهو حامل لوائها والقائم باعبائها لم ير العيون مثله، اسماء
الرجال میں تو آپ کا جواب نہیں تھا اور اس فن میں آنکھوں نے آپ جیسا کوئی دوسرا
آدمی دیکھا۔ (تذکرۃ الحفاظ ج ۴ ص ۲۸۰)
امام صفدی:
ابن حبان کے بعد آپ جیسا عربی دان پیدا نہیں
ہوا، محدثين و رجال حدیث کے تراجم کے آپ کو بڑی گہری معرفت تھی امراء و سلاطین کے
تراجم سے دلچسپی نہ تھی علم حدیث کے بارے میں ایسی فائدہ مند چیزیں آپ کے پاس تھیں
جو کسی کتاب میں نہیں ملتی تھیں۔
(الدر الکامتہ
٤-٤٥٩)
حلقہ درس:
آپ کے علمی
کمالات کا شہرہ دور دور تک پھیلا طالبان علم جوق در جوق آپ کے گرد جمع ہونے لگے
اور آپ کی عظيم تاليف، تهذيب الکمال کی شہرت، ہوئی تو دمشق کے
مشہور علمی مرکز "دارالحدیث اشرفیہ" کا شیخ الحدیث بنایا گیا دمشق کے
قاضی القضاة تقی الدین سبکی سے بعض لوگوں نے حافظ مزی کی شکایت کی اور انہیں مسند
درس سے معزول کرنے کا مشورہ دیا تو انہوں نے کہا "جب میں نے ان کی بات سنی تو
میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور حواس باختہ ہوکر میں نے دل میں کہا یہ تو امام المحدثین ہیں خدا
کی قسم اگر امام دارقطنی ابھی زندہ ہوتے تو ان کی مسند درس پر بیٹھنے میں شرم
محسوس کرتے کون یہ کہنے کی جرأت کر سکتا ہے کہ مزی دارالحدیث سے لائق نہیں"۔ (طبقات الشافعیہ
السبکی)
تلامذہ :
ابن سید الناس،
ابن تیمیہ، تقی الدین سبکی، امام ذہبی، امام برزالی، ابن عبد الہادی، صلاح الدین
علائی، علاء الدین مغلطائی، ابن رافع سلامی، علاء الدین کثیر۔ (الدر
الکامتہ ج ٤ص ۴٥۹)
تصانیف:
حافظ مزی نے
اپنے علمی معلومات اور فن اسماء الرجال کی مہارت کو اپنی دو اہم کتابوں میں ظاہر کیا
ہے (۱) تہذیب الکمال (۲) كتاب الاطراف۔
حافظ ذہبی تحریر فرماتے ہیں "عمل کتاب تهذيب الكمال فى مائى جزء و عمل كتاب الاطراف في
بضعة وثمانين جزءاً أخرج لنفسه و أملى مجالس واوضح مشكلات ومعضلات ما سبق اليها في
علم الحديث و رجاله"۔ آپ نے اپنی شہرہ آفاق کتاب ٢۰۰ جزوں میں
لکھی پھر کتاب الاطراف ۸۰ جزوں میں مکمل
کی۔ اپنے لئے احادیث کی تخریج کی اور املا وحدیث کے لئے مختلف مجلسیں منعقد کیں
جن میں علم الحدیث اور علوم الرجال کے ایسے ایسے پیچیدہ وعقدے حل کئے جو پہلے لاینحل
سمجھے جاتے تھے۔ (تذکرہ ج
۴ ص ۲٨۰)
امام سبکی:
"صنف
تهذيب الكمال المجمع على انه لم يصنف مثله " علما کا
اس بات پر اتفاق ہے کہ اس طرح کی کوئی دوسری کتاب تصنیف نہیں کی گئی ہے۔ (طبقات
الشافعیہ ج ٦ص ۲۵٤)
وصال:
آپ نے ۱۲ ذوالحجہ ۷۴۲ھ میں داعی اجل کو لبیک کہا۔
ماخذ مراجع، محدثین عظام حیات و خدمات
