امام ابو
عمر حفص بن غیاث
نام : حفص
کنیت ،
ابو عمر
ولادت :
آپ کی ولادت ۱۱۷ھ میں بمقام
کوفہ ہوئی۔
نسب :
حفص بن غیاث بن طلق بن معاویہ بن مالک بن حارث بن ثعلبہ
نخعی۔ آپ یمن کے قبیلہ نخع سے تعلق رکھتے ہیں جس کی ایک شاخ کوفہ میں آباد ہو گئی
تھی۔
تحصیلِ
علم:
حفص نے مرکزِ علم کوفہ میں آنکھ کھولی تھی جہاں کا ذرہ
ذرہ علم کی تابانیوں سے جگمگا رہا تھا۔ آپ نے فطری استعداد کے ساتھ تحصیلِ علم کے
کوچے میں قدم رکھا اور مشاہیرِ علم کی بارگاہوں سے علم وفن کی تحصیل کی۔
شیوخ و
اساتذہ یہ ہیں:
طلق، اسماعیل بن ابی خالد، اشعث، ابو مالک اشجعی، سلیمان
تمیمی، عاصم الاحول، عبیداللہ بن عمر، مصعب بن عمیر، یحییٰ بن سعید انصاری، ہشام
بن عروہ، اعمش، ثوری، جعفر صادق، برید بن عبداللہ بن ابی بردہ، ابن جریج، لیث بن
ابی سلیم۔ (تہذیب
التہذیب ج ۲ ص ۳۵۸)
علم و
فضل:
اپنے زمانہ کے عالم ،محدث ،ثقہ ،زاہد ، پرہیز گار تھے اور
امام ابو حنیفہ کے ان اصحاب میں سے تھے جن کے حق میں امام موصوف ’’انتم مسالہ قلبی وجلاء حزنی‘‘ کا جملہ فرمایا کرتے
تھے،
اپنے عہد کے مقتدر شیوخ سے کسب علم نے حفص کے علمی درجے
کو بہت اونچا کر دیا تھا۔ خاص طور سے حدیث و فقہ میں ان کا پایہ کافی بلند تھا ان
کی ثقاہت اور جلالت فی الحدیث کا اعتراف ائمہ فن نے اس طرح کیا ہے۔
عجلی:
"ثقة،
فقيه، مأمون"
وہ ثقہ، فقیہ اور مامون تھے۔ (ایضاً)
یحییٰ بن
سعید: "اوثق
اصحاب الاعمش"
اعمش کے شاگردوں میں حفص بن غیاث سب سے زیادہ معتبر ہیں۔ (ایضاً)
ابن نمیر:
"كان حفص
اعلم بالحديث من ابن ادريس" حفص، ابن ادریس سے بڑے عالمِ حدیث تھے۔ (ایضاً)
ابو
حاتم: "حفص اتقن
واحفظ من ابى خالد الاحمر" حفص ابو خالد احمر سے بڑے متقن اور حافظ ہیں۔ (ایضاً)
ابن سعد:
"كان ثقة
مأموناً كثير الحديث" حفص ثقہ مامون اور کثیر الحدیث تھے۔ (ایضاً)
ابن معین:
"كان حفص
بن غیاث صاحب حدیث له معرفة" حفص ابن غیاث محدث تھے اور انہیں اس میں پوری
مہارت حاصل تھی۔ (ایضاً)
ابن معین،
ابن خراش اور نسائی نے آپ کو ثقہ قرار دیا ہے۔ (ایضاً)
حضرت حفص
کو ہزاروں حدیثیں ازبر تھیں ان کا علمی پایہ ان کے شیوخ سے بھی بلند تھا۔
خطیب
بغدادی لکھتے ہیں "كان حفص كثير الحديث حافظاً له ثبتاً فيه و كان ايضاً
مقدماً عند المشائخ الذين سمع منهم الحديث" حفص بن غیاث کثیر الحدیث، حافظ
اور ثقہ تھے یہاں تک کہ وہ اپنے شیوخ سے بھی بلند مرتبہ تھے۔ (تاریخ
بغداد ج ۸ ص ۱۹۴)
انہوں نے علم کی اشاعت میں بڑی فیاضی سے کام لیا وہ سخاوت
کا پیکر تھے۔ اپنے اصحاب کو کھانا کھلاتے ابو جعفر مسندی کا بیان ہے "كان حفص
بن غیاث من اسخى العرب و كان يقول من لم يأكل من طعامى لا احدثه واذا كان يوم
ضيافته لا يبقى راس فى الرواسين" حفص تمام عربوں سے زیادہ سخی تھے فرمایا کرتے تھے
جو میرا کھانا نہیں کھائے گا میں اسے حدیث نہیں پڑھاؤں گا جب وہ دعوت کرتے تو
رواسیوں کے محلے میں ایک آدمی پیچھے نہ رہتا۔(تذکرہ ج ۱ ص ۲۷۷)
آپ کا
حافظہ بہت قوی تھا ہزاروں حدیثیں سند کے ساتھ حافظے میں محفوظ تھیں اور اپنے
تلامذہ کو کتاب کے بغیر حدیث کا درس دیا کرتے تھے۔ امام ابو حنیفہ سے حاصل کی اور
حدیث کو امام ابو یوسف اور سفیان ثوری اور اعمش اور ابن جریح بن سعید انصاری اور
اسمٰعیل بن ابی خالد اورعاصم الاحول اور ہشام بن عروہ وغیر ہم سے سنا اور روایت کیا
اور آپ سے آپ کے بیٹے عمر و اور امام احمد بن حنبل اور یحییٰ بن معین اور علی بن
المدینی اور ابن متعق اور یحییٰ الفظان وغیرہ اہل عراق نے سنا اور روایت کیا اور
اصحاب صحاح ستہ نے اپنی اپنی صحاح میں آپ سے تخریج کی ۔ ابن ابی شیہ سے روایت ہے
کہ آپ کوفہ میں تیرہ سال اور بغداد میں دو برس تک دار القضاء کے متولی رہے۔
ابن معین
کہتے ہیں: "جميع ما حدث به حفص ببغداد وبا الكوفة فمن حفظه لم يخرج
كتابا كتبوا عنه ثلاثة آلاف واربعة آلاف حديث من حفظه" بغداد
اور کوفہ میں حفص نے جتنی بھی حدیثیں روایت کیں سب صرف اپنے حافظہ سے بغیر کتاب کے
بیان کیں لوگوں نے اس طرح ان سے تین یا چار ہزار حدیثیں لکھیں۔ (تذکرہ
الحفاظ ج ۱ ص ۲۷۷)
مگر عہدہ
قضاء کی مصروفیات سے بعض لوگوں کے نزدیک ان کے حافظہ میں خلل واقع ہو گیا تھا
چنانچہ ابو زرعہ کا بیان ہے "ساء حفظه بعد ما استقضى فمن كتب عنه من كتابه فهو صالح"قاضی
بن جانے کے بعد وہ سوء حافظہ کا شکار ہو گئے تھے اس لیے جو ان کی کتاب سے روایت
کرے وہ قابل قبول ہے۔ (تہذیب ج
۲ ص ۳۵۸)
تلامذہ:
آپ کا حلقہ درس کافی وسیع تھا جس میں طالبان علوم کی بڑی
تعداد شریک ہوتی چند اہم تلامذہ کے نام یہ ہیں:
احمد،
اسحاق، علی، ابوبکر بن ابی شیبہ، یعقوب بن ابی شیبہ، ابن معین، ابو نعیم، ابو داؤد
حضری، ابو خیثمہ، عفان، ابو موسیٰ، یحییٰ بن یحییٰ نیشاپوری، عمرو بن محمد ناقد،
ابوکریب، عمر بن حفص بن غیاث، حسن بن عرفہ، یحییٰ بن قطان، یعقوب دورقی، احمد
عطاردی، (تہذیب ج
۲ ص ۳۵۸، تذکرہ ج ۱ ص ۲۷٤)
فقہ
وقضاء:
حفص حدیث کی طرح فقہ میں بھی کامل درک رکھتے تھے عجلی
کہتے ہیں ’’ ثبت فقيه البدن‘‘ (تہذیب ج ۲ ص ۳۵۹)
ان کی
فقہی بصیرت کی بنا پر ہارون رشید نے ۱٧۷ھ میں بغداد کے عہدہ قضاء پر سرفراز کیا وہ بڑی شان کے
ساتھ قرآن و حدیث اور دلائل و نظائر کی بنیاد پر مقدمات کے بے لاگ فیصلے فرمایا
کرتے تھے۔ اس سلسلے میں کسی کے عہدہ و منصب، دولت و ثروت اور اثر و رسوخ کی ذرا
بھی پرواہ نہ کرتے۔ ان کے فیصلوں کو بڑی قدر و منزلت کی نظر سے دیکھا جاتا۔
اسی
دوران قاضی حفص نے ایک قرضدار مجوسی سردار کے مقدمہ میں دلائل و شواہد کی بنا پر
اس کے خلاف فیصلہ دے دیا۔ ۲۹، ہزار کے اس قرض کا کچھ تعلق ام جعفر سے بھی تھا چنانچہ اس
نے خلیفہ پر دباؤ ڈالنا شروع کیا کہ وہ قاضی حفص کو معزول کر دیں لیکن ہارون رشید
اس کے لیے کسی طرح تیار نہ ہوا بلکہ وہ اس بے لاگ فیصلہ سے اس قدر خوش ہوا کہ اس
نے حفص بن غیاث کو ۳۰/ ہزار درہم دینے
کا حکم دیا۔
لیکن بعد
میں جب ام جعفر کا دباؤ بڑھا تو ہارون نے قاضی حفص کو بغداد کے بجائے کوفہ کا قاضی
بنا دیا جہاں وہ ۱۳، سال تک
اس منصب کی ذمہ داریوں کو پوری دیانت کے ساتھ انجام دیتے رہے۔
وہ
تقریباً ۱۵، سال منصبِ قضاء پر فائز رہے۔ اس پوری مدت میں جرأت، غیر
جانبداری حق گوئی و بیباکی کے ساتھ زیرِ سماعت قضیوں کا منصفانہ فیصلہ صادر فرمایا
کرتے تھے۔ وہ اپنے فیصلوں میں کسی قسم کا دباؤ قبول نہ کرتے پوری تحقیق اور بصیرت
کے ساتھ حق فیصلہ دیتے۔ انہوں نے عہدہ قضا کی تمام تر ذمہ داریوں کو حسن و خوبی کے
ساتھ پورا کیا۔ علماء و محققین نے آپ کی حیثیت قضاء اور برحق فیصلوں کا اعتراف کیا
ہے۔ چنانچہ وکیع بن الجراح سے کسی بات کا سوال کیا جاتا تو فرماتے ’’اذهبوا
الى قاضينا فسلوه‘‘ہمارے قاضی حفص کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو۔ کہا جاتا
ہے ’’ختم القضاء بحفص ، حفص پر قضاء کا
خاتمہ ہو گیا۔ (ایضاً)
مکارمِ
اخلاق:
امام حفص ایثار و استغناء، سخاوت و سیر چشمی کا پیکر تھے
انہوں نے عہدہ قضاء حق و انصاف کے قیام کے لیے قبول کیا تھا دنیاوی وجاہت یا مال و
زر سمیٹنا ان کا مطمحِ نظر نہ تھا انہوں نے تنگ دستی و افلاس دور کرنے اور غرباء و
مساکین کی کفالت کے لیے یہ منصب قبول کیا تھا وہ خود کہتے ہیں ’’والله ما
وليت القضاء حتى حلت لى الميتة‘‘خدا کی قسم میں نے عہدہ قضا قبول نہیں کیا تھا تاآنکہ
میرے لیے مردار کھانا حلال ہو گیا۔ (ایضاً)
ان کا
مشاہرہ تین سو درہم تھا جس سے وہ شاہانہ زندگی گزار سکتے تھے مگر انہوں نے اپنی
سادہ زندگی کو امراء و سلاطین کی خوبو سے الگ رکھا۔ وہ ایک سو درہم اپنے اہل و
عیال کے خرچ کے لیے نکال کر باقی رقم اہل حاجت میں تقسیم کر دیا کرتے تھے۔
کسبِ
حلال میں وہ اس درجہ محتاط تھے کہ خدمت کے بغیر معاوضہ قبول نہ کرتے ایک مرتبہ بیماری
کی وجہ سے کچھ دنوں دارالقضاء جا کر فرائض منصبی انجام نہ دے سکے۔ جب انہیں پورے
مہینے کی تنخواہ پیش کی گئی تو سو درہم یہ کہہ کر واپس کر دیئے کہ یہ ان ایام کا
خرچ ہے جن میں میں نے مسلمانوں کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔
امام حفص
بڑے فیاض اور سیر چشم واقع ہوئے تھے ضرورت مندوں کی حاجت روائی کے ساتھ اپنے
تلامذہ کو کھانا کھلاتے اور بسا اوقات عام لوگوں کی دعوت بھی کیا کرتے تھے امام
وکیع کہا کرتے تھے "کان سخیا عفیفا مسلما" اسی
سخاوت کی وجہ سے ساری عمر تنگ دستی میں بسر ہوئی جب وفات پائی تو ان کے پاس ایک
درہم بھی نہ تھا بلکہ ۹۰۰/ درہم کے مقروض
تھے۔ (تذکرہ ج
۱ ص ۲۷٤)
وصال:
وصال سے دو سال
قبل عہدہٴ قضا سے سبکدوش ہو گئے، اسی آخری
ایام میں فالج میں مبتلا ہوئے بالآخرہ ٠ا ذی الحجہ ۱۹۴ھ کو
امین کی خلافت میں وصال پرملال فرمایا۔
نماز
جنازہ:
حاکم کوفہ فضل بن
عباس نے نمازِ جنازہ پڑھائی۔
ماخذ مراجع، محدثین عظام حیات و خدمات
(حدائق الحنفیہ)
