امام
ابن جریج
نام
ونسب : امام عبد الملک بن عبد العزیز ابن
جریج القرشی الاموی ۔
ولادت:
آپ 80ھ میں مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔یہ وہ مبارک
دور تھا جب مکہ میں ابھی بعض صحابہ کرام کے آثار باقی تھے اور تابعینِ عظام کی علمی
مجالس جوبن پر تھیں۔
آبائی وطن:
آپ کے دادا 'جریج'
رومی نژاد تھے، جنہیں بنو امیہ کے دور میں قیدی بنا کر لایا گیا تھا۔ وہ آلِ زبیر
بن العوام کے غلام بنے اور پھر آزاد ہوئے۔ اسی نسبت سے آپ کو 'القرشی' کہا جاتا
ہے۔
تحصیلِ
علم
امام ابن جریج نے علم
کی خاطر اپنی جوانی وقف کر دی تھی۔ آپ کے علمی سفر کی سب سے خاص بات طویل رفاقت
ہے۔
امام عطاء بن ابی رباح: آپ نے ان کی صحبت میں 18 سال گزارے۔
آپ خود فرماتے ہیں: "میں نے 17 سال تک عطاء کی مجلس میں کسی دوسرے کی طرف رخ
نہیں کیا، پھر ایک سال مزید ان کی خدمت میں رہا۔" مکہ کے فتاویٰ کا جتنا علم
عطاء کے پاس تھا، وہ سب ابن جریج نے سمیٹ لیا۔
اساتذہ کرام :
آپ
نے امام ابن شہاب زہری (مدینہ کے عظیم محدث) سے بھی بھرپور استفادہ کیا۔: مجاہد بن
جبر (شاگردِ ابن عباس)، عمرو بندینار، نافع مولیٰ ابن عمر، اور ہشام بن عروہ جیسے
جلیل القدر محدثین سے روایت کی۔ علمِ حدیث میں مقام اور 'تدوینِ حدیث آپ کا سب سے بڑا کارنامہ حدیث کی باقاعدہ تدوین
ہے۔امام ابن جریج مکہ مکرمہ کے وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے احادیث کو بکھری ہوئی
حالت سے نکال کر ابواب (Chapters) کی صورت میں مرتب کیا۔ آپ سے پہلے لوگ حافظے پر بھروسہ کرتے
تھے یا غیر منظم نوٹ لکھتے تھے۔محدثین کے ہاں آپ کا مرتبہ 'ثقہ' (انتہائی معتبر)
ہے۔ امام یحییٰ بن معین اور امام علی بن المدینی نے آپ کو مکہ کے سب سے بڑے محدثین
میں شمار کیا ہے۔
فقہی بصیرت :
آپ صرف حدیث کے راوی
نہیں تھے بلکہ ایک عظیم مجتہد اور فقیہ بھی تھے۔فقیہِ حرم: مکہ مکرمہ میں مفتیِ
اعظم عطاء بن ابی رباح کی وفات کے بعد مسندِ افتاء پر آپ ہی فائز ہوئے۔ حرمِ مکی میں
آپ کا حلقۂ درس سب سے بڑا ہوتا تھا۔
تلامذہ
:
آپ کے فیض یافتگان
کی فہرست بہت طویل ہے۔ امام سفیان بن عیینہ (جو امام شافعی کے استاد ہیں) فرماتے ہیں
کہ میں نے ابن جریج سے بڑھ کر علم کا پیاسا نہیں دیکھا۔ امام اوزاعی اور امام لیث
بن سعد جیسے ائمہ بھی آپ کے شاگرد رہے۔
علمی صفات :
آپ
کی قوتِ حافظہ حیرت انگیز تھی۔ آپ نے اپنے اساتذہ سے سنی ہوئی ہزاروں احادیث اور
ان کی جزئیات کو محفوظ کیا۔ امام احمد بن حنبل فرماتے تھے: "اگر ابن جریج کسی
حدیث کو سماع (سنی ہوئی) کہہ کر بیان کریں تو وہ تمہارے لیے کافی ہے"۔
اخلاق کردار
آپ
علمی کمال کے ساتھ ساتھ زہد و تقویٰ کا پیکر تھے۔ آپ کے بارے میں مروی ہے کہ آپ
کثرت سے روزے رکھتے اور راتوں کو طویل قیام فرماتے تھے۔ آپ کی نماز اس قدر خشوع و
خضوع والی ہوتی تھی کہ دیکھنے والے حیران رہ جاتے۔آپ نہایت خوش لباس اور پروقار
شخصیت کے مالک تھے۔ امام سفیان بن عیینہ فرماتے ہیں کہ ابن جریج جب نماز پڑھتے تو
ایسا لگتا جیسے اللہ کے سامنے بالکل عاجزی سے کھڑے ہوں۔
تصانیف:
اگرچہ ان کی تصانیف
آج اپنی اصلی صورت میں مطبوعہ نہیں ہیں، لیکن ان کا سارا علمی ذخیرہ "مصنف
عبد الرزاق" (امام عبد الرزاق صنعانی جو آپ کے شاگرد تھے) میں موجود ہے۔ عبد
الرزاق کی کتاب میں 'ابن جریج' کی مرویات کا ایک بہت بڑا حصہ ہے، جو ثابت کرتا ہے
کہ آپ نے فقہ اور حدیث کو کتنا وسیع مرتب کیا تھا۔
وصال :
آپ
نے 150ھ (بمطابق 767ء) میں مکہ مکرمہ میں وصال ہوا۔ یہ وہ سال ہے جسے "عامُ
الفقہاء" کہا جا سکتا ہے کیونکہ اسی سال امام ابو حنیفہؒ کی وفات ہوئی اور اسی
سال امام شافعیؒ کی ولادت ہوئی.
ماخذ مراجع ۔ محدثین عظام حیات و خدمات۔
