امام ابو
بشر اسماعیل بن عُلیہ
نام : اسماعیل
کنیت : ابو
بشرو ابن علیہ
ولادت:
آپ ١١٠ھ میں بصرہ میں پیدا ہوئے۔
نسب :
ابو بشر اسماعیل بن ابراہیم معروف بابن علیہ کے دادا مقسم
خراسان اور زابلستان کے درمیان ایک جنگ میں گرفتار ہوئے اور غلام بنائے گئے۔ ابراہیم
بن مقسم، عبدالرحمن بن قطبہ کے آزاد کردہ غلام تھے جو کوفہ میں تجارت کرتے تھے اور
اس سلسلہ میں بصرہ آنا جانا ہوتا تھا جہاں انہوں نے بنو شیبان کی ایک کنیز علیہ
بنت حسان سے شادی کی جو علم و فضل کے اعتبار سے بہت ممتاز خاتون تھیں۔ بصرہ کے بڑے
بڑے علماء و فقہاء ان سے علمی استفادہ کرتے تھے۔ خطیب بغدادی ان کے فضائل و کمالات
کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"كانت امرأة نبيلة عاقلة برزة لها دار بالعوقه تعرف بها
وكان صالح المرى وغيره ومن وجوه البصرة وفقهائها يدخلون عليها تبدر لهم وتحادثهم
وتسائلهم"
وہ بڑی شریف اور عقل مند خاتون تھیں ان کا مکان عوقہ میں تھا جو ان کے نام سے
مشہور تھا وہاں صالح مری اور بصرہ کے دوسرے ممتاز لوگ اور فقہاء ان کے پاس استفادہ
کے لیے آتے تھے وہ برآمد ہو کر ان سے بات چیت اور سوال و جواب کرتی تھیں۔ (تاریخ
بغداد ج ۶ ص ۲۳)
شادی کے
بعد ابراہیم بن مقسم نے بصرہ میں مستقل سکونت اختیار کر لی۔ جہاں 110ھ میں حضرت
اسماعیل پیدا ہوئے۔ ماں کی علمی جلالت کے مدنظر آپ ابن علیہ کی کنیت سے مشہور
ہوئے۔
تحصیل
علم:
عالمہ فاضلہ ماں کی آغوشِ تربیت میں پروان چڑھنے والے اس
محدث نے ابتدائی تعلیم گھر پر پائی پھر ان کی والدہ نے انہیں بصرہ کے محدث عبد
الوارث جوادی کی خدمت میں پیش کیا اور کہا "یہ میرا بیٹا ہے اسے آپ اپنی خدمت
میں رکھیں تا کہ آپ جیسا عالم وفاضل ہو جائے" عبدالوارث نے ہونہار اسماعیل کو
اپنا شاگرد بنا لیا اور اپنے ساتھ علماء ومحدثین کی مجلسوں میں لے جاتے اس طرح
انہوں نے بصرہ کے ممتاز شیوخ سے علم حاصل کیا اور وہ اپنے استاذ عبدالوارث پر فوقیت
لے گئے۔ ابراہیم حربی بیان کرتے ہیں "ابن علیہ بڑے ہوئے تو اس میں اہل بصرہ کو
شک نہیں تھا کہ وہ عبدالوارث سے زیادہ ثبت اور ثقہ فی الحدیث ہیں"۔ (ایضاً)
اساتذہ:
ابن علیہ نے جن با کمال ہستیوں سے فیض پایا ان کے اسماء
گرامی یہ ہیں:
عبدالعزیز
بن صہیب، سلیمان تیمی، حمید الطویل، عاصم الاحول، ایوب، ابن عون، ابوریحانہ، جریری،
ابن ابی نجیح، معمر، عوف اعرابی، ابو تیاح ،یونس بن عبید (تہذیب ج ۱ ص ۲۷۱)
علم
وفضل:
اسماعیل بن علیہ نے اپنے دامن میں علمی جواہر پاروں کو اس
طرح چن لیا تھا کہ وہ اپنے عہد کے نامور عالم بن گئے تھے اور جملہ علوم وفنون میں
دستگاہ بہم پہونچائی تھی ان کا خاص میدانِ علم حدیث تھا۔ وہ قوتِ حفظ وضبط کے مالک
تھے انہیں قلم وقرطاس کا مرہونِ منت نہ ہونا پڑا وہ شیوخ سے سنی ہوئی حدیثوں کو سفینہ
کے بجائے سینہ میں محفوظ کرتے تھے اور انہیں ساری حدیثیں اس طرح مستحضر رہتیں کہ
کبھی نقل وروایت میں تسامح نہ ہوتا۔
وہیب کا
بیان:
اسماعیل بن ابراہیم کا حفظ اور عبدالوہاب کی کتاب دونوں
برابر ہیں"۔ زیاد بن ایوب کہتے ہیں۔ "ما رأيت لابن علية كتابا قط"
میں نے کبھی ابن علیہ کے پاس کوئی کتاب نہیں دیکھی۔ (تذکرہ
ج ۱ ص ۲۹۶)
ابوداؤد
کہتے ہیں "ما احد الا وقد اخطأ الا ابن علية وبشر بن المفضل"
کوئی ایسا شخص نہیں جس نے حدیث میں خطا نہ کی ہو مگر اسماعیل بن علیہ اور بشر بن
مفضل۔ (ایضاً)
تحصیلِ
علم کے زمانہ ہی میں ان کے معاصرین ان سے استفادہ کیا کرتے تھے۔ حاتم بن وردان کا
بیان ہے کہ یحییٰ، اسماعیل، وہیب اور عبدالوہاب یہ چاروں ایک ساتھ حضرت ایوب کی
مجلسِ درس میں شریک ہوتے تھے۔ درس سے فارغ ہو کر جب یہ اٹھتے تو سب اسماعیل بن علیہ
کے گرد جمع ہو جاتے اور شیخ کی روایتوں کے بارے میں ان سے سوال کرتے کہ یہ روایت
کس طرح کی ہے؟ اس بارے میں کیا کہا اور اس سے شیخ کی کیا مراد تھی اسماعیل ان سب کا
جواب دیتے تھے۔ (تاریخ بغداد ج ۶ ص ۲۳۲)
علماء
ومحدثین نے ابن علیہ کے فضل وکمال اور ان کی محدثانہ عظمت کا اعتراف اس طرح کیا
ہے:
یونس بن
بکیر: "ابن علية
سيد المحدثين"
ابن علیہ محدثین کے سردار ہیں۔ (تہذیب ج ۱ ص ۲۴۱)
ابن مہدی:
"ابن علية
اثبت من هشيم" ابن
علیہ ہشیم سے زیادہ پختہ کار ہیں۔ (ایضاً)
قطان:
"ابن علية
اثبت من وهيب"
ابن علیہ وہیب سے زیادہ پختہ کار ہیں۔ (ایضاً)
احمد بن
حنبل: "اليه
المنتهى فى التثبت بالبصرة فاتنى مالك فاخلف الله على سفيان وفاتنى حماد بن زيد
فاخلف الله على اسماعيل ابن عليه" ابن علیہ بصرہ کے اندر تثبت میں ممتاز تھے مالک نے
وفات پائی تو اللہ نے میرے لیے سفیان کو ان کا جانشین بنایا اور حماد بن زید نے
وفات پائی تو اللہ نے ابن علیہ کو میرے لیے ان کا قائم مقام بنایا۔ (ایضاً)
یحییٰ بن
معین: "كان ثقة مأمونا صدوقاً مسلماً ورعاً تقياً" ابن علیہ ثقہ، مامون،
(محفوظ) صدوق، کامل، پرہیزگار اور متقی تھے۔ (ایضاً)
قتیبہ:
'لوگ کہتے تھے محدث چار ہیں۔ اسماعیل بن علیہ، عبدالوارث، یزید بن زریع، و وہیب۔'
(ایضاً)
ہشیم
کہتے ہیں ایک بار بصرہ کے محدثین جمع ہوئے تو ان سے کوفہ کے محدثین نے کہا۔ "نحو اعنا
اسماعيل وهاتوا من شئتم" تم لوگ اسماعیل بن علیہ کے علاوہ جسے چاہو سامنے
لاؤ ہم کو علم وفضل میں ان سے کم نہ پاؤ گے۔ (ایضاً)
ابن سعد:
"كان ثقة
ثبتاً فى الحديث حجة" وہ حدیث میں معتبر، ثابت اور حجت تھے۔ (ایضاً)
یعقوب بن
شیبہ: "اسماعیل
ثبت جداً"
اسماعیل بہت پختہ کار ہیں۔ (ایضاً)
عثمان بن
ابی شیبہ: "ابن علية اثبت من الحماد ين ولا اقدم عليه احداً من
البصريين لا يحيى ولا ابن مهدى ولا بشر بن مفضل" ابن علیہ
حماد بن زید اور حماد بن سلمہ سے پختہ کار تھے میں بصری محدثین میں کسی کو ان پر
مقدم نہیں کرتا نہ یحییٰ نہ ابن مہدی اور نہ بشر بن مفضل کو۔ (ایضاً)
ابن علیہ
کی عظمت فی الحدیث کا یہ عالم تھا کہ کبار محدثین بھی ان کی مخالفت فی الحدیث سے
ڈرتے تھے۔ عفان کہتے ہیں کہ ایک دن ہم لوگ حماد بن سلمہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ
انہوں نے کوئی حدیث پڑھی اور اس میں ان سے ایک غلطی ہو گئی کسی نے ان سے کہا کہ اس
حدیث میں آپ کی مخالفت کی گئی ہے، دریافت کیا کس نے مخالفت کی ہے؟ جواب ملا حماد
بن زید نے۔ حماد بن سلمہ یہ سن کر خاموش ہو گئے اور کوئی توجہ نہ کی پھر کسی نے
کہا ابن علیہ بھی اس میں آپ کے مخالف ہیں یہ سنتے ہی حماد بن سلمہ کھڑے ہوئے اور
گھر میں تشریف لے گئے پھر باہر آ کر فرمایا اس حدیث میں ابن علیہ ہی کا قول معتبر
ہے۔ (تہذیب
التہذیب ج ۱ ص ۲۴۳)
ابن علیہ
جب بغداد کے قاضی بنائے گئے تو عبداللہ بن مبارک وہاں تشریف لے گئے انہیں اس کا
علم ہوا تو آزرده خاطر ہوئے اور جو تحفہ ابن علیہ کے پاس بھیجا کرتے تھے موقوف کر
دیا۔ ابن علیہ ملاقات کی غرض سے حاضر ہوئے تو ان کی طرف کوئی التفات نہیں کیا ابن
علیہ دیر تک بیٹھ کر واپس چلے آئے اور دوسرے دن اس مضمون کا ایک خط لکھا۔
"میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کے لطف وکرم کا منتظر
تھا لیکن آپ نے مجھ سے کلام ہی نہیں کیا۔ معلوم نہیں آپ کو میری کون سی حرکت ایسی
ناگوار ہوئی۔"۔
خط پڑھنے
کے بعد عبداللہ بن مبارک نے یہ اشعار لکھ کر بھیجے۔
يا
جـاعــل الـعـلـم لـه بـازيـا
يـصـطـاد امـوال الـمـسـاكـيـن
احـتـلـت
لـلـدنـيـا ولـذاتـهـا بـحـيـلـة
تـذهـب بـالـديـن
صـرت
مـجـنـونـا بـهـا بـعـد مـا كـنـت
دواء للـمـجـانـيـن
ايـن
روایـاتـک فـی مـردهـا فـی تـرک
ابـواب الـسـلاطـيـن
ان قـلـت
اكـرهـت فـذا بـاطـل زل حـمـار
الـعـلـم فـی الـطـيـن
ترجمہ:
اے علم کو غریبوں کے اموال کا شکار کرنے والے باز بنانے والے تو نے دنیا اور اس کی
لذتوں کو حاصل کرنے کے لیے ایک ایسا حیلہ اختیار کر لیا ہے جو دین کو تباہ کر کے
رہے گا۔ پہلے تو تو پاگلوں کے لیے دوا کا حکم رکھتا تھا لیکن اب تو خود دنیا کی
محبت میں دیوانہ ہو رہا ہے۔ بادشاہوں کے دروازے سے بے پرواہ ہو کر تیرا وہ حدیث
وروایات میں مشغول رہنا کہاں ہے؟ اگر تو یہ کہے کہ مجھ کو (عہدۂ قضاء کے قبول کرنے
پر) مجبور کر دیا گیا تو یہ عذر سراسر باطل ہے۔ اب تو بہرحال علم کا گدھا کیچڑ میں
پھسل گیا ہے۔
امام اسماعیل نے جب یہ اشعار پڑھے زار و قطار رونے لگے
مجلسِ قضاء سے اٹھ کر ہارون رشید کے پاس پہونچے عہدۂ قضاء سے استعفاء دیتے ہوئے
کہا خدا کے لیے آپ میری کبر سنی پر رحم فرمائیے اس لیے کہ میں خطا پر زیادہ صبر نہیں
کر سکتا۔ ہارون رشید نے کہا معلوم ہوتا ہے تم کو اس مجنون (ابن مبارک) نے بہکا دیا
ہے آپ نے فرمایا بہکایا نہیں بلکہ انہوں نے مجھ کو ایک مصیبت سے نجات دلا دی ہے میری
دعا ہے کہ آپ کو بھی اللہ تعالیٰ اس سے رستگاری عطا فرمائے۔
ابن
مبارک کو جب آپ کے استعفے کا علم ہوا تو خوش ہوئے اور حسب سابق ایک تھیلی ابن علیہ
کی خدمت میں بھیج دی ۔
(تہذیب التہذیب ج ۱ ص ۲۴۳ تاریخ بغداد ج ۶ ص ۲۳۵)
تلامذہ:
ابن علیہ نے بصرہ میں حلقۂ درس قائم کیا ان کے گرد
ہزاروں تشنہ گانِ علوم جمع ہوتے رہے۔
ان کے تلامذہ کی
صفوں میں ایسے مقتدر اصحابِ علم بھی تھے جو آسمانِ علم پر چاند سورج بن کر چمک چکے
اور ان کی تابانیوں سے ایک عالم منور ہوا۔ ان کے اہم تلامذہ یہ ہیں:
شعبہ، ابن جریج، (جو ان کے شیوخ میں سے تھے) ، بقیہ، حماد
بن زید، ابراہیم بن طہمان، ابن وہب، شافعی، احمد، یحییٰ، علی، اسحاق، فلاس، ابو
معمر ہذلی، ابو خیثمہ، علی بن حجر، ابن نمیر، ابو عمران موسی ٰبن سہیل، عبدالرحمن
بن مہدی، علی بن مدینی، احمد بن حنبل، بندار، اسحاق، ابن ابی شیبہ۔ (تہذیب
ج ۱ ص ۲۳۱، تذکرہ ج ۱ ص ۲۹۶)
ابن علیہ
شاگردوں پر حد درجہ مہربان تھے وہ ان کے سوالوں پر خفا نہ ہوتے بلکہ خوشی کے ساتھ
جواب مرحمت فرماتے۔ امام احمد فرماتے ہیں: زید بن حباب نے ایک بار مجھ سے کہا کہ
مجھے ابن علیہ سے استفادہ کا موقع دیجئے۔ میں نے ابن علیہ کی روایات کے مجموعے ان
کے سامنے پیش کر دیئے ابن حباب اس میں سے لوگوں کی رایوں کی چھوٹی چھوٹی باتیں نوٹ
کرنے لگے جیسے ابن عون عن محمد، یا خالد عن ابی قلابہ پھر وہ ابن علیہ کے پاس گئے
اور ان احادیث کے بارے میں سوال کرنے لگے ابن علیہ ان سے بہت خوش ہوئے اس لیے کہ
وہ اس بات کو بہت پسند کرتے تھے کہ ان سے احادیثِ مسندہ اور ان کی اسناد کے بارے میں
سوال کیا جائے۔ (تاریخ
بغداد ج ۶ ص ۲۳۴)
فقہ:
وہ ایک ماہر فقیہ تھے۔ شعبہ کا بیان ہے "اسماعیل
ابن علیہ ریحانۃ الفقہاء" اسماعیل بن علیہ ریحانۃ الفقہاء تھے۔ (تہذیب ج ۱ ص ۲۳۱)
زہد و
عبادت:
ابن علیہ زہد و عبادت کے لحاظ سے بھی معاصرین میں اونچا
مقام رکھتے تھے ان پر خوفِ خدا اس درجہ غالب تھا کہ وہ ہنستے نہ تھے علی بن مدینی
کہتے ہیں۔ "بت عندہ لیلۃ فقرأ ثلث القرآن ما رأیتہ ضحک قط" میں
نے ان کے پاس رات گزاری تو انہوں نے ایک تہائی قرآن پڑھا میں نے ان کو کبھی ہنستے
ہوئے نہیں دیکھا۔ (تہذیب ج
۱ ص ۲۳۳)
ابن عمرو
بن زرارہ کہتے ہیں میں چودہ سال ابن علیہ کی خدمت میں رہا لیکن اس مدت میں ان کو
کبھی ہنستے ہوئے نہیں دیکھا۔
(تاریخ
بغداد ج ۶ ص ۲۳۵)
وہ قرآنِ
حکیم کی تلاوت کے بڑے شائق تھے۔ عبادت اور ریاضت میں صغر سنی ہی سے مشہور ہو گئے
تھے۔
وصال:
ٍذی قعدہ ۱۹۳ھ میں آپ نے
وصال فرمایا۔
ماخذ مراجع، محدثین عظام حیات و خدمات
