امام معمر بن راشد
ولادت :
آپ کی ولادت : ۹۵ھ ، رمضان المبارک بصرہ میں ہوئی۔
کنیت: ابو عروہ۔
نام: معمر بن راشد۔
آپ بنو ازد کے مولیٰ
عبدالسلام بن عبدالقدوس بصری کے غلام تھے، اسی لیے "بالواسطہ ازدی"
کہلائے۔
تحصیلِ علم
بصرہ میں آغازجو اس وقت علم کا مرکز تھا۔ غلام ہونے کے
باوجود آپ نے علمی فیض حاصل کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کیا۔ذہانت و بصیرت آپ غیر
معمولی قوتِ حفظ، ضبط اور فہم و فراست کے مالک تھے۔علم کے شوق میں آپ نے بصرہ کے
علاوہ دوسرے علمی مراکز کا رخ کیا اور اپنے وقت کے عظیم محدث اور شیخ بن گئے۔
امام احمد بن حنبل کی گواہی:
امام احمد بن حنبل آپ کے علمی ذوق کے بارے میں فرماتے ہیںکان من اطلب اھل زمانہ للعلم (وہ اپنے زمانے میں
سب سے بڑھ کر علم طلب کرنے والے تھے)۔
مدینہ منورہ کا سفر:
آپ کا علمی ذوق آپ کو مدینہ منورہ لے گیا جہاں آپ نے امام
زہری جیسے جلیل القدر محدث سے فیض حاصل کیا۔ عبدالواحد بن زیاد نے ان سے امام زہری
سے حصولِ علم کے اتفاق کیسے ہوا۔بولے میں بنو طاحیہ میں سے ایک شخص کا غلام تھا اس
نے مجھے کپڑے فروخت کرنے کے لیے مدینہ منورہ بھیجا۔ میں نے جس محلہ میں کاروبار
کرنا شروع کیا وہاں ایک شیخ رہتے تھے جن کے پاس لوگ بکثرت علم حاصل کرنے کے لیے
آتے تھے میں نے اس موقع کو غنیمت سمجھا اور ان سے علم حاصل کرنا شروع کیا۔ (تذکرہ
ج 1 ص 190)
خود امام معمر اپنے طلب علم کے ذوق بیکراں اور قوت حفظ و
ضبط کا تذکرہ اس طرح کرتے ہیں "طلبت العلم سنة مات الحسن وسمعت من قتادة ولى
اربع عشرة سنة فما سمعته اذ ذاک کانہ مکتوب فی صدری و جئت الزہری بالرصافہ"جس
سال حضرت حسن بصری کا انتقال ہوا میں نے اس سال علم حاصل کرنا شروع کیا تھا میں نے
چودہ سال کی عمر میں قتادہ سے سماع کیا میں جو کچھ ان سے سنتا تھا میرے سینہ میں
اس طرح نقش ہو جاتا تھا جیسے پہلے وہاں لکھا ہوا ہے پھر میں رصافہ میں بھی تحصیل
علم کے لیے امام زہری کی خدمت میں حاضر ہوا۔
یمن کی سکونت:
مدینہ سے معمر جستجوئے علم میں یمن پہنچے وہاں کے شیوخ سے
طلب علم کے بعد جب وہ بصرہ لوٹنے لگے تو شہر صنعاء کے باشندوں نے آپ کی علمی جلالت
اور عظمت شان کو محسوس کر لیا ان کی خواہش ہوئی کہ معمر بن راشد جیسا صاحب علم یمن
ہی میں مجلس درس قائم کرے اور اس خطہ کے طالبان علم اس کی بارگاہ سے فیض حاصل کریں
چنانچہ یمن کے مرکزی شہر صنعاء کے قدر شناس اصحاب نے آپ کو مستقل طور پر روکنے کی یہ
تدبیر کی کہ وہیں آپ کی شادی کر دی چنانچہ امام معمر نے صنعاء میں بود و باش اختیار
کر لی۔ حضرت معمر نے بصرہ میں قتادہ، رصافہ میں امام زہری اور یمن میں ہمام بن
منبہ جیسے تابعین عظام سے علم حاصل کیا ان کے علاوہ دوسرے شیوخ کے سامنے بھی
زانوئے تلمذ تہہ کیا ۔آپ کے اہم شیوخ کے اسمائے گرامی یہ ہیں:
ثابت بنانی، عاصم الاحول، ایوب، جعد، زید بن اسلم، صالح بن
کیسان، عبداللہ بن طاؤس، جعفر بن برقان، حکم بن ابان، اشعث بن عبداللہ حدانی،
اسماعیل بن امیہ، ثمامہ بن عبداللہ بن انس، بہز بن حکیم، سماک بن فضل، عبداللہ بن
عثمان بن خثیم، عبداللہ بن عمر عمری، یحییٰ بن ابی کثیر، امام بن معمر، ہشام بن
عروہ، محمد بن منکدر، عمرو بن دینار، عطاء خراسانی،
علم و فضل:
بیکراں استعدادِ علم اور ذوق و جستجو، رحلت و سفر نے جناب
معمر کو علم و فضل کا ظرف بنا دیا تھا۔ بڑے بڑے علماء و محدثین نے آپ کے علمی
کمالات کا اعتراف کیا۔امام احمد بن حنبل: "لیس تضم معمراً الی احد الا وجدتہ
فوقہ" (تم جس کے ساتھ بھی معمر کا مقابلہ کرو گے معمر کو اس سے برتری پاؤ
گے۔)
(تذکرہ ج 1 ص 178)
حافظ ذہبی:
"الامام الحجة احد الاعلام وعالم الیمن" وہ
امام حجت بڑے عالم اور یمن کے محدث تھے۔ غلابی کا بیان ہے کہ ابن معین مالک بن انس
کو زہری کے اصحاب پر مقدم سمجھتے اور پھر معمر بن راشد کو۔
(تہذیب ج 10 ص 219)
ابن جریج جیسے زبردست عالم بھی اپنے تلامذہ سے فرمایا کرتے
تھے۔ "علیکم بهذا الرجل فانه لم يبق احد من اهل زمانه اعلم منه
یعنی معمراً" تم لوگ اس مرد یعنی معمر کے فیضِ علم سے مستفید ہو کیوں
کہ اس زمانہ میں ان سے بڑا عالم کوئی نہیں رہا۔ (ایضاً ص 220)
ابن سعد: "كان معمر رجلاً له
قدر و نبل في نفسه" معمر ایسے شخص تھے جو قدر و منزلت والے اور ہوشمند
انسان تھے۔ (ایضاً)
حدیث:
علمِ حدیث میں معمر کا مرتبہ کافی بلند تھا انہیں ہزاروں حدیثیں
ازبر تھیں اور وہ متعلقاتِ حدیث کے بھی ماہر تھے۔ عبد الرزاق بن ہمام کہتے ہیں۔كتبت من معمر عشرة آلاف حديث" میں نے معمر
سے دس ہزار حدیثیں لکھی ہیں۔ (ایضاً)معمر ہی کے ذریعہ ہمام بن منبہ تابعی کا 'صحیفہ
صحیحہ' ان کے شاگردوں میں رائج ہوا اور صدیوں تک اس کی روایت کا سلسلہ جاری رہا۔معمر
بن راشد کی ثقاہت و عدالت کا اعتراف علماء حدیث نے اس طرح کیا ہے۔یحییٰ بن معین:
"هو من اثبت الناس فی الزهری" زہری سے جتنے بھی حدیث حاصل کرنے والے ہیں معمر ان سب سے پختہ ہیں۔
(تذکرہ ج 1 ص 179)
عجلی: "بصری سکن الیمن ثقة رجل
صالح" وہ بصرہ کے رہنے والے تھے ثقہ اور نیک آدمی تھے۔کیا
آپ کو اس تحریر کے حوالے سے معمر بن راشد کی زندگی کے بارے میں مزید کچھ جاننا ہے؟
اس تصویر میں موجود تمام تحریر درج ذیل ہے:
یمن میں سکونت اختیار کر لی تھی ثقہ اور نیک انسان تھے۔ نسائی:
"ثقہ مامون" (ایضاً)
ابو حاتم: "ھو صالح الحدیث" (ایضاً)یعقوب بن شیبہ:
"معمر ثقہ وصالح ثبت عن الزھری ، معمر ثقہ وصالح الحدیث اور زہری سے روایت کرنے میں ثبت ہیں۔ (ایضاً)ابن
حبان: "کان فقیھا حافظا متقنا ورعا" وہ فقیہ، حافظ، متقی، پرہیزگار ہیں۔
(ایضاً)ابن معین: "ثقہ" (ایضاً)عمرو بن علی: "کان من اصدق
الناس" وہ لوگوں میں سب سے صادق ہیں۔ (ایضاً)معمر بن راشد کے علمی چشمہ سے سیراب
ہونے والوں کی تعداد کثیر ہے چند اہم نام یہ ہیں:
یحییٰ بن ابی کثیر، ابواسحاق سبیعی، ایوب، عمرو بن دینار،
سعید بن ابی عروبہ، ابان عطار، ابن جریج، عمران قطان، ہشام دستوائی، سلام بن ابی
مطیع، شعبہ، ثوری، ابن عیینہ، ابن مبارک، عبدالاعلیٰ بن عبد الاعلیٰ، عیسیٰ بن یونس،
معتمر بن سلیمان، یزید بن زریع، عبدالمجید بن ابی رواد، عبدالواحد بن زیاد، ابن علیہ،
ابوسفیان معمری، محمد بن جعفر غندر، عبدالرزاق، ہشام بن یوسف، محمد بن ثور،
عبداللہ بن معاذ، محمد بن کثیر۔ (تہذیب ج ۱۰ ص ۲۱۹)
مکارم اخلاق:
علم و فضل کے ساتھ محترم عمل و کردار، تقویٰ و پرہیزگاری،
صبر و استغناء جیسے مکارم اخلاق کے بھی حامل تھے حافظ ذہبی نے ان کے انہی اوصافِ
حمیدہ کی بنا پر لکھا "کان معمر صالحا خیرا" وہ کسی کا مرہونِ احسان
ہونا پسند نہ کرتے تھے۔ ایک بار معن بن زائدہ نے کچھ سونا آپ کے پاس بھیجا مگر آپ
نے اسے قبول نہ کیا اور واپس کر دیا اور اسے پوشیدہ رکھا۔ (تذکرہ ج ۱ ص ۱۷۹)
وصال :
58سال کی عمر پا کر رمضان ۱۵۳ھ میں وصال ہوا۔
ماخذ مراجع: محدثین
عظام حیات وخدمات
