امام محمد ولی
الدین خطیب تبریزی
نام : محمد
والد گرامی: عبداللہ
کنیت : ابو عبداللہ
لقب : ولی الدین
نسب :
خلیفہ
ثانی امیر المؤمنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نسبی تعلق رکھتے تھے۔
خطیب تبریزی کے نام سے شہرت پائی۔ آپ کا وطن آذربائیجان
کا مشہور شہر تبریز تھا جس کی بنا پر تبریزی
کہلائے۔
علم و فضل:
امام ولی
الدین نے اپنے وقت کے مشاہیر علمائے سےاسلامی علوم و فنون کا درس لیا قوت حفظ و ضبط اور اخذ و ضبط کی کامل صلاحیت رکھتے تھے۔ انہوں نے شیخ علامہ
حسین بن محمد بن عبداللہ الطیبی سے خاص طور پر علم حاصل کیا۔ دوسرے شیوخ و اساتذہ
کا ذکر عام تذکروں میں نہیں ملتا خطیب تبریزی کا علمی پایا بہت بلند تھا ۔ ملا علی قاری لکھتے ہیں:
"علم، فضل، اور حقائق و دقائق کا بحر بیکراں تھے ان کی کتابیں ان کی وسعت علم
و نظر اور غیر معمولی فضل و کمال پر شاہد ہیں"۔ (مقدمہ مشکوٰۃ)
تصانیف:
خطیب تبریزی
نے متعدد کتابیں لکھیں امتداد زمانہ کے ہاتھوں ان کی اکثر کتابیں اب ناپیدہیں ان
کی مشکوٰۃ المصابیح کو بڑی شہرت اور مقبولیت
حاصل ہوئی۔ خطیب نے یہ کتاب اپنے استاد علامہ طیبی کے مشورے پر مرتب کیا تھا۔ اس
کتاب میں صحاح ستہ اور دوسرے محدثین کی کتابوں کی حدیثیں حسن ترتیب کے ساتھ جمع کی
گئی ہیں۔ یہ کتاب دراصل امام بغوی کی تصنیف مصابیح السنہ کا خلاصہ ہے۔ مصابیح میں
صرف حدیثیں مذکور تھیں راوی کا نام، مخبر حدیث، صحت و ضعف، اور سنن وغیرہ کا تذکرہ
نہ تھایہ سب صاحب مشکوٰۃ نے کیا اور ہر باب میں فصل ثالث کا بھی اضافہ کیا ۔
حضرت خطیب تبریزی نے کتاب کی تصنیف اور اس کے کوائف اس
طرح بیان فرمایا:
حمد و
صلوٰۃ کے بعد جاننا چاہیے کہ حضور کی سیرت کا مضبوطی سے حاصل کرنا ناممکن ہے بغیر
اتباع کیے ان احادیث کے جو آپ کے سینے سے صادر ہوئیں اور اللہ کی رسی کامضبوطی سے تھامنامکمل نہیں بغیر اس کے واضح بیان کے اور کتاب مصابیح
جو سنت زندہ کرنے والے بدعت مٹانے والے امام ابو محمد حسین بن مسعود فراء بغوی کی
تصنیف ہے اللہ تعالیٰ ان کا درجہ بلند کرے تمام ان کتب میں جامع تر تھی جو اس بارے
میں لکھی گئی اور شوارد اور دوابد حدیثوں کی محافظ تھی ۔ چوں کہ مصنف نے طریقہ
اختصار اختیار کیا اور سندوں کو چھوڑ دیا ہے اس بارے میں بعض ناقدین نے گوئیاں کیں
اگر چہ مصنف کا نقل کرنا ہی اسناد کی مثل ہے کیوں کہ وہ معتبر ہیں ۔ اس لیے میں نے
اللہ سے خیر اور اچھائی مانگی
(۱) الکاشف عن حقائق السنن علامہ طیبی نے مشکوۃ کی شرح لکھی
ہے جو خطیب کی خوش بختی ہے کہ ان کے استاذ نے شاگرد کی کتاب کی شرح لکھی۔ (۲) حاشیہ سید شریف از سید شریف جرجانی (۳) بدایۃ الرواۃ الی تخریج المصابیح و المشکوۃ از حافظ ابن
حجر (۴) منھاج
المشکاۃ از عبدالعزیز بن محمد ابہری (۵) فتح الآلٰہہ
فی شرح المشکوۃ از
علامہ شہاب الدین ہیثمی (۶) مرقاۃ
المفاتیح از شیخ نور الدین ہروی (۷) انوار
المشکوۃ (۸) لمعات
التنقیح از محدث دہلوی (۹) اشعۃ
اللمعات از محدث دہلوی (۱۰) جامع
البرکات متن شرح مشکوۃ (۱۱) اسماء
الرجال والرواۃالمذکورین فی المشکوۃ (۱۲) مظاہرِ حق نواب قطب الدین خاں دہلوی (۱۳) تنقیح الرواۃ فی تخریج احادیث المشکوۃ (۱۴) مراءۃ المناجیح از مولانا احمد یار خان ۔
عمل و کردار:
خطیب تبریزی
علم کے ساتھ عملِ صالح، زہد و پارسائی، حسنِ اخلاق میں بھی نمایاں مقام رکھتے تھے۔
وصال:
737ھ میں خطیب
مشکوۃ کی تصنیف سے فارغ ہوئے جس کے بعد ان کا وصال ہوا۔
بعض تذکرہ نگاروں نے سنِ وفات ۷۴۰ھ لکھا ہے۔
ماخذ مراجع، محدثین عظام حیات و خدمات
