شیخ الاسلام امام محمد بن نصر مروزی
نام: محمد
كنيت : ابو عبداللہ
لقب: شیخ
الاسلام
ولادت :
آپ کی ولادت ٢۰۲ھ بمقام بغداد میں ہوئی ۔
وطن :
خراسان کا مشہور
شہر مرو ہے.جس کی جانب منسوب ہوئے۔
تحصیلِ علم:
آپ نے تحصیلِ علم
کا آغاز نیشاپور سے کیا اور جوانی کے بیشتر ایام طلبِ علم کے لیے رحلت و سفر میں
گزارے اور تمام مشہور علمی مراکز مثلاً خراسان، عراق، حجاز، شام و مصر وغیرہ کے
شیوخ و اساتذہ سے علم حاصل کیا۔
خطیب لکھتے ہیں: "رحل الیٰ
سائر الامصار فی طلب العلم"انہوں نے طلبِ علم کے لیے تمام شہروں
کا سفر کیا۔شوقِ علم انہیں مدتوں دربدر پھراتا رہا۔ بلا شبہ انہوں نے بہت سے شیوخ
سے کسبِ فیض کیا ہوگا ۔
اساتذہ :
یحییٰ بن یحییٰ
نیشاپوری، عبدان بن عثمان، ابو کامل جحدری، ابراہیم بن منذر، عبید اللہ بن معاذ،
اسحاق بن راہویہ، یزید بن صالح، صدقہ بن فضل، شیبان بن فروخ، سعید بن عمرو اشعثی،
محمد بن عبداللہ بن نمیر، ہشام بن عمار وغیرہہم۔
(تہذیب
ج ۹ ص ۳۹۴، تذکرہ ج ۲ ص ۲۰۱)
امام مروزی نے پوری عمر حصولِ علم اور
اشاعتِ علم سے سروکار رکھا۔ ایک شخص چالیس سال تک آپ کی مجلس میں بیٹھا اس کا بیان
ہے کہ "اس طویل مدت میں ان سے علم کے سوا کوئی گفتکو نہیں سنی ۔
علم و فضل:
محمد بن نصر مروزی
اپنے وقت کے امام اور شیخ الاسلام تھے وہ جملہ علوم وفنون میں مہارتِ تامہ رکھتے
تھے مگر ان کا خاص میدان حدیث و فقہ تھا۔ آپ کے زمانے میں یہ قول خواص کی نوکِ
زبان پر رہتا 'خراسان کے ستارے چار ہیں۔ ابن مبارک، یحییٰ بن یحییٰ، اسحٰق بن
راہویہ اور محمد بن نصر مروزی'۔ (تہذیب
الاسماء)
آپ کے علمی کمالات
کا اعتراف علماء نے اس طرح کیا ہے۔
* ابن عبدالحکم مصری:- "کان محمد
بن نصر المروزی عندنا اماماً فکیف بخراسان" ،
"محمد بن نصر ہمارے یہاں مصر میں امام تھے خراسان میں بھلا کیسے امام نہیں
ہوں گے۔ (تہذیب التہذیب ج ۹ ص ۴۳۲)
* ابن حبان:- "کان احد
الائمة فی الدنیا ممن جمع وصنف وکان من اعلم اهل زمانه بالاختلاف واکثرهم صیانة فی
العلم"
"وہ دنیا کے ان اماموں میں ایک تھے جنہوں نے علم جمع کیا اور کتابیں تصنیف
کیں اور وہ اپنے زمانہ میں اختلافِ ائمہ کے سب سے بڑے عالم تھے اور علماء میں سب
سے بڑھ کر علم کی حفاظت کرنے والے تھے۔ (ایضاً ص ۴۳۳)
حدیث:
امام محمد بن نصر
مروزی علمِ حدیث میں اپنے وقت کے ممتاز محدث تھے ان کی جلالت فی الحدیث اور ثقاہت
و اتقان کا اعتراف ملت کے اکابر علم وفن نے کیا ہے۔ حافظ ذہبی آپ کا ذکر اس طرح
کرتے ہیں:"الامام شیخ الاسلام الفقیہ" پھر حدیث
کے بارے میں لکھتے ہیں "وبرع فی ھذا الشان" ، یعنی اس
فن میں درجہ کمال حاصل کیا۔ (تذکرہ
ج ۲ ص ۲۰۱)
* حاکم:- "هو امام اهل الحدیث
فی عصره بلا مدافعة" "یہ اپنے زمانہ میں بلا نزاع اہل حدیث کے
امام ہیں۔
(ایضاً ۲۰۲)
* سلیمان حافظ:- "محمد بن
نصر امام وفق من السماء" "محمد بن نصر ایسے امام ہیں جن
کو آسمان سے توفیق حاصل ہوتی ہے۔
(تذکرہ
ج ۲ ص ۲۰۳)
ابن اخرم کہتے ہیں جتنے لوگوں نے سنن کو
جمع اور مرتب کیا اور جو مفاہیم سنن کے عالم ہوئے اور صحتِ حدیث کے ماہر ہوئے اور
مختلف فیہ مسائل کے جامع ہوئے ان میں سب سے برتر و فائق محمد بن نصر مروزی ہیں، (مزید
لکھتے ہیں) اگر کوئی حدیثِ نبوی یا اثرِ صحابہ کسی اور کے پاس نہیں ہے صرف محمد بن
نصر مروزی کے پاس موجود ہے تو یہ بعید از صدق نہیں ہے۔ (تہذیب الاسماء ج ۱ ص ۹۳)
ابو محمد بن حزم: "اعلم
الناس من كان اعلمهم بالسنن واضبطهم لها واذكرهم لها وادراهم بصحتها وبما اجمع
عليه الناس مما اختلفوا فيه الى ان قال وما يعلم هذه الصفة بعد الصحابة اتم منها
فى محمد بن نصر المروزی"
سب سے بڑا عالم وہ ہے جو احادیث کو سب سے
زیادہ جمع کرنے اور سب سے زیادہ ضبط کرنے والا ہو پھر ان کے معنوں اور ان کی صحت
کو سب سے زیادہ جاننے والا ہو نیز اجماعی و اختلافی مسائل سے بھی خوب آگاہ ہو اور
ہم نہیں جانتے کہ یہ صفت صحابہ کرام کے بعد محمد بن نصر مروزی سے بڑھ کر کسی اور
شخص میں پائی جاتی ہے۔ (ایضاً)
اسحاق دبوسی: "رأيت محمد
بن نصر بسمرقند وكان بحرا فى الحديث" میں نے محمد بن نصر کو سمرقند
میں دیکھا وہ حدیث کے بحر (سمندر) تھے۔
(تہذیب
ج ۹ ص ۳۳۲)
علامہ ابن حجر عسقلانی نے الفقہیہ،
الحافظ
لکھا ہے اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے۔
فقہ:
امام محمد بن نصر
جلیل القدر فقیہ بھی تھے انہیں الفقیہ، احد ائمۃ الفقہاء اور راساً فی الفقہ وغیرہ
کے الفاظ سے یاد کیا گیا ہے۔ محمد بن یحییٰ ذہلی سے جب کوئی سوال کیا جاتا تو وہ
سائلین کو آپ کے پاس بھیج دیتے اور کہتے "سلوا ابا عبد اللہ
المروزی"
ابو عبد اللہ مروزی سے پوچھو۔ (ایضاً)
خطیب بغدادی لکھتے ہیں: "صنف الكتب
الكثيرة ورحل الى الامصار فى طلب العلم وكان من اعلم الناس باختلاف الصحابة ومن
بعدهم فى الاحكام" انہوں نے بہت سی کتابیں تصنیف کیں اور طلب علم
میں شہروں کا سفر کیا وہ لوگوں میں صحابہ و تابعین کے اختلافی مسائل کو سب سے
زیادہ جانتے تھے۔ (ایضاً)
صغانی کہتے ہیں "لم نر بعد
يحيى بن يحيى من فقهاء خراسان اعقل من محمد بن نصر" ہم نے
یحییٰ بن یحییٰ کے بعد خراسان کے فقہاء میں محمد بن نصر سے زیادہ عقل مند کوئی
امام نہیں دیکھا۔
(تذکرہ
ج ۲ ص ۲۰۲)
ابتداء میں وہ حدیث کی طرف زیادہ مائل تھے
مگر بعد میں انہیں امام شافعی کے کتب فقہ سے دلچسپی پیدا ہوئی اور انہوں نے مصر جا
کر فقہ شافعی کے اساطین امام ربیع بن سلیمان، یونس بن عبد الاعلیٰ، اور حارث
محاسبی سے فقہ شافعی کی پورے انہماک سے تحصیل کی اور اس فن کے بھی امام بن گئے۔
ابوبکر صیرفی ان کی کتاب القسامہ کا ذکر
کرتے ہوئے لکھتے ہیں "لو لم يصنف الا كتاب القسامه لكان من افقه
الناس"
اگر یہ کتاب القسامہ کے سوا اور کوئی کتاب تصنیف نہ کرتے تو بھی ان کے سب لوگوں سے
بڑھ کر فقیہ ہونے کا کافی ثبوت تھا۔
تصانیف:
امام مروزی بلند
پایہ مصنف بھی تھے ان کی کتابیں افادیت کے لحاظ سے بہت اہم تھیں علامہ ابن کثیر
لکھتے ہیں "وصنف الكتب المفيدة المحافلة النافقة"
ان کی مشہور تصانیف یہ ہیں:* (۱) مسند: یہ کتاب مجموعہٴ احادیث ہے جس کے
شروع میں ایک باب نماز سے بھی متعلق ہے۔ اس کتاب کا ایک نسخہ کتب خانہ خدیویہ مصر
میں موجود ہے جس کا سن کتابت ۲۵۶ھ ہے
* (۲) کتاب
القسامہ: یہ اہم کتاب فقہ میں ہے۔
* (۳) قیام
اللیل
(۴) کتاب
رفع الیدین۔ موخر الذکر دونوں کتابیں طبع ہو چکی ہیں۔
تلامذہ:
امام مروزی نے
اپنے علم کی اشاعت میں بھی بھرپور کوشش کی اور اسے خوب عام کیا چند اہم تلامذہ یہ
ہیں:اسماعیل بن محمد بن نصر، محمد بن اسحاق رشادِی، عبداللہ بن محمد بن علی بلخی،
عثمان بن جعفر، ابو عبداللہ بن اخرم، ابو العباس سراج، ابو حامد بن شرقی۔
(تہذیب ج ۹ ص ۴۳۶،
تذکرہ ج ۲ ص ۲۰۱)
بارگاہِ رسالت میں مقبولیت:
محمد بن نصر نے
خراسان میں جو عزت و شہرت اور علمی تمکنیت حاصل کی تھی اس کا اثر تھا کہ عوام و
خواص یکساں طور پر آپ کو عزت و احترام کی نظر سے دیکھتے تھے۔ وزیر ابوالفضل بلعمی کہتا
ہے میں نے والیٴ خراسان امیر اسماعیل بن احمد سے سنا ہے وہ فرماتے تھے کہ ایک دن
دربار لگا ہوا تھا کہ امام محمد بن نصر مروزی تشریف لائے میں ان کے احترام میں
کھڑا ہو گیا اور آدابِ تعظیم و تکریم بجا لایا جب وہ دربار سے چلے گئے تو میرے
بھائی اسحاق نے ناگواری کے لہجے میں مجھ سے کہا۔ "تم رعیت کے ایک آدمی کے لیے
کھڑے کیوں ہوئے؟" اس کے بعد جب میں سویا تو میں نے خواب میں حضور اکرم علیہ
الصلوٰۃ والسلام کو دیکھا میرا بھائی بھی میرے ساتھ موجود تھا آپ نے مجھے بازو سے
پکڑا اور فرمایا محمد بن نصر کی تعظیم کرنے کی وجہ سے تیری اور تیرے بیٹوں کی
حکومت قائم رہے گی اور اس کی حکومت ان کا استخفاف کرنے کی بنا پر جاتی رہے گی۔
(تذکرہ
ج ۲ ص ۲۰۳)
عبادت:
ان کا علمی پایہ
جتنا بلند تھا وہ زہد وعبادت میں بھی اتنا ہی بلند مقام رکھتے تھے۔ ابو بکر صبغی
کہتے ہیں۔ "ما رأیت احسن صلوۃ منہ" میں نے
کوئی آدمی ان سے اچھی طرح نماز پڑھتے نہیں دیکھا۔
(تذکرہ
ج ۲ ص ۲۰۲)
نمازیں بڑے خشوع وخضوع کے ساتھ ادا کرتے
تھے ابن اخرم فرماتے ہیں "کان یقع الذباب علیٰ اذنہ فی صلوتہ ویسیل الدم
فلا یذبہ لقد کنا نتعجب من حسن صلوتہ وخشوعہ" بسا اوقات
مکھی ان کے کان پر بیٹھ کر کاٹتی جس سے خون بہنے لگتا مگر آپ اس کو اپنے بدن سے نہ
اڑاتے ہم ان کے حسنِ نماز خشوع وخضوع کو دیکھ کر تعجب کرتے تھے۔
(تذکرہ
ج ۲ ص ۲۰۲)
استغراق ومحویت کا یہ حال ہوتا کہ ایک دفعہ
نماز میں بھڑ نے ڈنک مار دیا اور جسم سے خون جاری ہو گیا مگر انہوں نے کوئی حرکت
اور جنبش نہ کی وہ جب نماز کے لیے کھڑے ہو جاتے تو ایک بے حس و حرکت لکڑی کی طرح
معلوم ہوتے تھے۔ (ایضاً)
فیاضی:
علم و عمل کے ساتھ
وہ جود وسخا کے پیکر تھے انہوں نے کبھی نقد وجنس جمع نہ کیے بلکہ اپنی ساری آمدنی
راہ خدا میں دریا دلی کے ساتھ خرچ کر دیتے تھے۔
ان
کی آمدنی بارہ ہزار سالانہ تھی وہ مدتوں لا ولد رہے ان کے ذاتی مصارف بہت قلیل تھے
وہ اپنی آمدنی کا اکثر حصہ غریبوں محتاجوں اور طالب علموں میں تقسیم کر دیا کرتے
تھے۔
حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں "وقد کان
من اکرم الناس واسخاهم نفسا" وہ بڑے کریم وسخی تھے۔
(البدایہ
والنہایہ ج ۱۱ ص ۱۰۲)
کسی نے ان سے کہا اگر آپ یہ مال محفوظ
رکھیں تو آڑے وقت بہت مفید ہو سکتا ہے فرمایا"کان قوتی بمصر وثیابی
وکاغذی فی السنۃ عشرین درهما فتوی ان ذهب ذا لا یبقى ذا" مصر میں
میرے لباس، خوراک اور کاغذ پر سالانہ ۲۰ رہم
خرچ ہوتے تھے جب وہ نہیں رہے تو یہ بھی نہیں رہیں گے۔
(تذکرہ
ج ۲ ص ۲۰۳)
وصال:
محرم الحرام ۲۹۴ھ
مین سمر قند میں وصال ہوا ۔
ماخذ مراجع، محدثین عظام حیات و خدمات
