امام قاضی علامہ ابن العربی شبیلی
نام: محمد
عرفی : ابن
العربی
کنیت : ابو بکر
ولادت:
آپ کی
ولادت ۴۶۸ھ میں بمقام اشبیلیہ ہوئی۔
نسب:
محمد
بن عبد اللہ بن محمد بن عبد اللہ بن احمد
آپ کا نسبی تعلق
یمن کے قبیلہ معافر سے تھا جس کی بنا پر معافری کہلائے۔ آپ کے والد ابو محمد عبد
اللہ اشبیلیہ کے ممتاز علماء اور رؤسا میں شمار کیے جاتے تھے۔ آپ کی ولادت ۴۳۵ھ میں ہوئی تھی حافظ ذہبی نے تحریر کیا ہے "کان ابوه
من علماء الوزراء فصیحا مفوھا شاعرا ماھرا" ابن
العربی کے والد اہل علم وزراء میں شمار ہوتے تھے بڑے فصیح اللسان اور قادر الکلام
شاعر تھے۔ (تذکرہ ج ۴ ص ۸۵)
عبد
اللہ اپنی ہمہ گیر علمی شخصیت کی وجہ سے آل عباد سے خصوصی تعلق رکھتے تھے اور اشبیلیہ
کے ارباب اقتدار کے درمیان کافی مقبول تھے اور وہ بعض سرکاری عہدوں پر بھی فائز
رہے مگر جب آل عباد کا زوال شروع ہوا تو اپنے فرزند ابو بکر محمد ابن العربی کو
ساتھ لے کر دیارِ مشرق کا رخ کیا اسی سفر کے دوران ۴۹۳ھ میں
مصر کے اندر وفات پائی۔
تحصیل علم و اساتذہ :
ابو
بکر ابن العربی نے اندلس کے مرکزی شہر اشبیلیہ میں آنکھ کھولی تھی اور صاحب علم
باپ کی آغوش میں پروان چڑھے تھے انہوں نے کمسنی ہی سے تحصیل علم کا آغاز کر دیا
تھا اور اشبیلیہ کے صاحب کمال علماء وفقہاء سے کسب علم کیا۔ ۴۸۵ھ میں جب
ان کے والد عبد اللہ بلاد مشرق کے سفر پرروانہ ہوئے تو اپنے ہونہار فرزند ابن
العربی کو بھی ساتھ لے لیا اس تعلق سے ابن العربی کو شام، بغداد،حجاز، مصر اور
اسکندریہ کے مقتدر شیوخ سے تحصیل علم کا سنہرا موقع ہاتھ آیا۔ اپنے امام ابو حامد
غزالی،علامہ ابو بکر شاشی اور فقیہ ابو بکر شاشی سے سندِ فراغت حاصل کی۔ آپ نے
بغداد میں ابو عبد اللہ بن طلحہ نعالی، طراد بن محمد زینبی، نصر بن بطر اور اس
طبقہ کے دوسرے علماء سے، دمشق میں ابو الفتح نصر بن ابراہیم مقدسی، ابو الفضل بن
فرات اور اس طبقہ کے دوسرے افراد سے، اندلس میں اپنے ماموں حسن بن عمر ہوزنی اور ایک
دوسری جماعت سے، مصر میں قاضی ابو الحسن خلعی، محمد بن عبد اللہ بن ابی داؤد فارسی
اور متعدد دوسرے اشخاص سے اور بیت المقدس میں حافظ مکی بن عبد السلام رمیلی سے حدیث
کا سماع کیا۔ (ایضاً)
علم وفضل:
ابوبکر ابن
العربی نے جس ذوق وشوق اور انہماک کے ساتھ علم حاصل کیا تھا اور اپنے عہد کے متبحر
ارباب علم وفن کی بارگاہوں میں حاضری دی تھی اس کا خوشگوار نتیجہ یہ ہوا کہ وہ
اپنے معاصرین میں بلند پایہ عالم بن گئے۔
انہیں علم کے ضبط و اتقان کا کس درجہ خیال تھا اس کا
اندازہ ان کے اس بیان سے کرنا آسان ہوگا۔
میں جب تک مکہ معظمہ میں مقیم رہا اس کی پابندی کی کہ جب
آب زمزم کا گھونٹ لیتا تو ثبات علم وایمان کی خواہش دل میں رکھتا چنانچہ خدائے
تعالیٰ نے مجھ پر علم وافر کا دروازہ کھول دیا"۔ (بستان المحدثین
ص ۲۱۲)
ان کی گوناگوں علمی صلاحیتوں اور فنی بالغ نظری کا اعتراف
ملت اسلامیہ کے نامور علماء و محققین نے کیا ہے۔
حافظ ذہبی: "جمع وصنف وبرع
فی الادب والبلاغۃ وبعد صیتہ" آپ نے بہت علم جمع کیا کتابیں لکھیں، علم وادب اور
بلاغت میں کمال پیدا کیا اور چار دانگ عالم میں شہرت پائی۔ (تذکرۃ الحفاظ ج
۴ ص ۸۷)
ابن خلکان: "کان من اهل
التفنن فی العلوم والاستبحار فیہا والجمع بھا فی المعارف کلھا متکلماً فی۔ انواعھا
نو الفذا فی جمیعھا حریصاً علی ادائھا ونشرها ثاقب الذهن في تمييز الصواب منها
وبجميع الى ذالك كله اداب الاخلاق مع حسن المعاشرت ولين الكنف وكشر الاحتمال وكرم
النفس و حسن الاحد وثبات الود“
اہلِ سیر نے ان کو جامع کمالات، تبحرِ عالم، علوم و معارف
میں مقدم، فنون اور انواعِ علوم میں بحث کرنے والا اور صحیح اور ثواب کے امتیاز میں
ثاقب الذہن قرار دیا ہے۔ ان کے تمام سوانح نگار ان کے فضل و کمال پر متفق ہیں۔
صاحبِ فتح المبین فرماتے ہیں وہ اصول و فروع میں امام تھے اور فضل و کمال سے متصف
تھے۔
حدیث:
علمِ
حدیث میں وہ اندلس کے خاتم المحدثین تھے ان کا شمار نامور محدثین کے زمرہ میں ہوتا
ہے۔ مورخین اور اربابِ سیر نے ان کی توثیق و جلالت اور حفظ و وثاہت پر اتفاق کیا
ہے۔
حافظ ذہبی: ”وادخل الاندلس علماً شريفاً واسناداً منيفاً وكان متبحراً
في العلم ثاقب الذهن عذب العبارة مؤطا الاكناف كريم الشمائل“ ”آپ نے
شریف ترین علم اور بلند قدر اسناد سے بلادِ اندلس کو مالا مال کر دیا آپ تبحرِ
عالم اور روشن دماغ مفکر تھے۔ حسنِ اخلاق اور شیریں گفتاری کی وجہ سے لوگ آپ کے
گرد جمع رہتے تھے۔ (ایضاً)“
ابن بشکوال: ”هو الحافظ المتبحر ختام علماء الاندلس وآخر ائمتها
وحفاظها“ ”وہ
تبحرِ حافظِ حدیث اور اندلس کے ائمہ اور خاتمۃ المحدثین میں تھے۔ صاحبِ دیباج
رقمطراز ہیں: ”انہوں نے حدیثیں قلمبند کیں اور بڑے وسیع الروایات اور کثیر الخیر
تھے۔“۔ (الدیباج
المذہب ص ۲۸۱)
ابن ناصر الدین: ”وہ ثقات اور اثبات اور مشہور ائمہ میں
تھے“
فقہ:
ابوبکر ابن
العربی بلند مرتبہ فقیہ بھی تھے اصولِ فقہ اور اختلافاتِ ائمہ کے ماہر تھے۔ حافظ
لکھتے ہیں ”کان ابو
بكر احد من بلغ رتبته الاجتهاد فيما قيل“ ”مشہور ہے کہ قاضی ابوبکر ابن العربی اجتہاد کے بلند
مرتبہ پر فائز تھے۔ (تذکرہ ج
۳ ص ۸۸)
فقہی
کمال کی بنا پر انہیں اشبیلیہ کا منصبِ قضا پیش کیا گیا اگرچہ وہ قاضی بننا پسند
نہ کرتے تھے مگر چارد ناچار یہ منصب قبول کرنا پڑا۔ ابن حزم لکھتے ہیں ”فولى
القضاء فمحن وجرى فى اعارض الامارة فلحق واصبح يتحرک باثاره الالسنة ياتى بما
اجراء القدر عليه النوم والسنة وما اراد الاخيراً۔“ انہیں منصب
قضا سونپا گیا اور خاص آزمائش میں ڈالا گیا انہوں نے اس منصب کو قبول کرنے سے
انکار کیا مگر انہیں قبول کرنا پڑا اسی بنا پر ان کے بارے میں لوگوں کے اندر کئی
باتیں مشہور ہو گئیں تاہم ان کے پیش نظر سوائے خیر کے کچھ نہ تھا۔ (تذکرہ ج۴ ص ۸۸)
قرآن
وسنت کی روشنی میں منصفانہ فیصلے صادر کرتے ۔ وہ عدل کی راہ سے ذرا بھی منحرف نہ
ہوئے اور دولت و ثروت کا رعب ان پر کبھی حاوی نہ ہو سکا۔ حافظ ذہبی لکھتے ہیں ”ولى قضاء
اشبيلية فحمدوا جاد السياسة وكان ذاشدة وسطوة“ اشبیلیہ کے
منصب قضا پر فائز ہوئے اور اپنی سیاسی و انتظامی صلاحیت کی وجہ سے بڑا نام پیدا کیا۔
(ایضاً ص
۸۷)
چوں کہ لوگ اس عہدۂ قضا کی وجہ سے آپ پر ناحق زبان درازی
کرتے جس کی وجہ سے عہدۂ قضا سے استعفیٰ دے دیا اور ہمہ تن اشاعت علم اور تصنیف و
تالیف میں مصروف ہو گئے۔
تلامذہ :
چوں کہ آپ حدیث
وفقہ عربیت و شاعری، اصول فقہ ، اور اختلافیات کے زبردست عالم تھے اس لیے آپ کے
گرد علوم وفنون کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے جمع رہتے ۔ آپ نے تحصیل علم کے
دوران کچھ دنوں بغداد میں بھی درس حدیث دیا تھا۔ تلامذہ کی تعداد کثیر ہے کچھ
نامور تلامذہ یہ ہیں:
عبدالخالق بن احمد یوسفی ، ابن صابر دمشقی ، قاضی احمد بن
خلف اشبیلی ، حسن بن علی قرطبی ، ابوبکر محمد بن عبداللہ جد فہری، محمد بن ابراہیم
بن فخار، محمد بن یوسف بن سعادہ ، محمد بن علی کتانی ، محمد بن جابر ثعلبی ، نجبہ بن
یحییٰ رعیسی، حافظ ابوالقاسم سہیلی ، عبدالمنعم بن یحییٰ بن حلوف غرناطی ، علی بن
احمد بن لبال شریشی، ابوالحسن علی بن احمد شقوری اور احمد بن عمر خزرجی ۔
(تذکرہ ج۲ ص ۸۷)
تصانیف :
ابن
العربی بلند پایہ مصنف تھے اور انہوں نے مختلف اہم موضوعات پر کتابیں تصنیف کیں ۔
حافظ ذہبی لکھتے تھے ”وصنف فى الحديث والفقه والاصول وعلوم القرآن والادب
والتفسير والتواريخ“ آپ نے فن حدیث، فقہ ، اصول فقہ ، علوم قرآن، ادب و تفسیر
اور تاریخ میں مفید کتابیں تصنیف کی ہیں۔ (ایضاً)
آپ کی گرانقدر مصنفات حسب ذیل ہیں:
(1) انوار
الفجر (2) کتاب احکام القرآن (3) کتاب الناسخ والمنسوخ (4) قانون التاويل (5) كتاب
المشكلین (6) کتاب شرح حدیث الافک (7) کتاب شرح حديث ام زرع (8) کتاب شرح حدیث
جابر فی الشفاعة (9) کتاب الکلام علی مشكل حديث السحاب والحجاب (10) کتاب السباعیات
(11) کتاب السلسلات (12) کتاب النيرين في شرح الصحيحين (13) کتاب ترتيب المسالک
(14) كتاب القبس (15) عارضة الاحوذی (16) شرح غريب الرسالة (17) الانصاف في مسائل
الخلاف (18) تخليص التخليص (19) المحصول في اصول الفقه (20) کتاب المتکلمین (21)
تبیین الصحیح فی تعیین الذبيح (22) تفصیل التفصیل بین التحمید والتہلیل (23) کتاب
التوسط في المعرفة لصحة الاعتقاد والرد على من خالف السنة من ذوى البدع والالحاد
(24) سراج المريدين (25) سراج المهتدين (26) عواصم وقواصم (27) نواہی ورواہی (28)
کتاب ملجا المتفقہین الی معرفة غوامض النحو یین (29) کتاب الرحلة (30) کتاب
الخلافيات (31) کتاب الامد الاقصی باسماء اللہ الحسنی وصفاتہ العلی (32) کتاب
العقد الاکبر للقلب الاصغر (33) کتاب اعیان الاعیان (34) رسالة الكافى ان لا دليل
على النامى (35) کتاب ستر العورة (36) کتاب مراقى الزلف ۔
انوارالفجر:
یہ
کتاب ابوبکر ابن العربی کی مبسوط تفسیر ہے جسے انہوں نے بیس سال میں تصنیف کیا جو
اسی ہزار اوراق پر مشتمل ہے شاہ عبدالعزیز صاحب لکھتے ہیں ’ یہ تفسیر اسی زمانہ میں
ابوحیان فارس علی بن یوسف کے کتب خانہ میں اسی جلدوں میں موجود تھی‘۔
(بستان
المحد ثین ص ٢۱۱)
احکام القرآن:
ابن العربی کی اہم کتاب ہے جس میں احکام ومسائل
سے متعلق آیتوں کی تفسیر وصیت کے ساتھ کی گئی ہے۔ چوں کہ مصنف مالکی مسلک فقہ سے
تعلق رکھتے ہیں اس لیے یہ تفسیر مالکی فقہ کا بھرپور دفاع کرتی ہے۔
شروح کتب احادیث:
ابوبکر
ابن العربی کا خاص میدان حدیث تھا اس لیے انہوں نے متعدد کتب احادیث کی شرحیں لکھی
ہیں جو ان کی حدیث دانی اور بصیرت فی الحدیث کا واضح ثبوت ہیں۔ مؤطا امام مالک کی دو
شرحیں (۱) کتاب ترتیب المسالک (۲) کتاب
القبس مؤطا کے بارے میں آپ کا نقطہ نظر یہ ہے کہ مؤطا شرائع اسلام میں اول و آخر
کتاب ہے ایسی کوئی اور کتاب نہیں لکھی گئی ہے کیوں کہ امام مالک نے اس کو فروع کے
اصول کے لیے تمہید بنایا ہے اور اس میں انہوں نے فقہ کے ایسے اہم اور بڑے اصولوں
پر تنبیہ کیا ہے جن کی جانب مسائل و فروع میں رجوع کیا جاتا ہے۔"۔
صحیحین کی شرح میں کتاب النیر لکھی۔
جامع
ترمذی کی شرح عارضة الاحوذی فی شرح الترمذی کے نام سے لکھی۔ یہ جامع ترمذی کی
مشہور و مقبول شرح ہے اس کی اہمیت اس سے ظاہر ہے کہ علامہ سیوطی کے زمانہ تک اس کے
علاوہ ترمذی کی کوئی مکمل شرح متداول نہ تھی وہ فرماتے ہیں۔ لا نعلم
انہ شرحہ احد کاملا الا القاضی ابو بکر بن العربی فی کتاب اعرضة الاحوذی، 'ہم کو
ابو بکر ابن العربی کی اعرضتہ الاحوذی کے علاوہ ترمذی کی کسی اور کامل شرح کا علم
نہیں۔
(مصر سے یہ مکمل شرح چھپ چکی ہے)
اخلاق و کردار:
علم کے
ساتھ ان کے اندر عمل صالح اور زہد و ورع کا جذبہ بھی تھا وہ عابد و زاہد اور اخلاق
کریمانہ کے حامل تھے۔ شیریں مقالی، حسن خلق اور رحم دلی کی وجہ سے لوگوں میں کافی
مقبول تھے ابن خلکان لکھتے ہیں 'حسن اخلاق اور عمدہ خصائل و عادات کی وجہ سے وہ
لوگوں میں نہایت مقبول اور ہر دل عزیز تھے'۔
(ابن
خلکان ج ۲ ص ۲۹۳)
اللہ
نے علم و عمل کے ساتھ دنیاوی مال و دولت سے بھی خوب نوازا تھا آپ کا دست کرم نہایت
کشادہ تھا جو دوسخا کے پیکر تھے لوگوں پر ابر کرم بن کر برستے شہر اشبیلیہ کی فصیل
آپ نے اپنے صرف سے تیار کرائی تھی۔ حافظ ذہبی لکھتے ہیں "واتسع
حالہ و کثر افضالہ ..... وعلی الشبیلیۃ سور النساء من مالہ"
آپ کی مالی حالت قابل رشک تھی عوام پر آپ کے ابر کرم کی بارش ہوتی رہتی تھی چنانچہ اشبیلیہ
شہر کے گرداگرد فصیل آپ نے ذاتی مال سے تعمیر کرائی تھی۔ (تذکرہ ج
۴ ص ۸۸)
وصال:
وہ ایک
سفر میں مراکش سے اشبیلیہ لوٹ رہے تھے کہ فاس کے قریب عدوہ نامی جگہ میں ربیع
الآخر ٥٤٣ھ میں وصال فرمایا ۔
تدفین:
باب المحروق کے قریب سپر خاک کیے گئے ۔
ماخذ مراجع، محدثین عظام حیات و خدمات
