امام قتیبہ بن سعید بلخی بغلانی ثقفی
نام: قتیبہ
کنیت: ابو
رجاء،
نسب :
قتیبہ بن سعید بن جمیل بن طریف بن عبد اللہ ثقفی
بغلانی بلخی۔
قبیلہ ثقیف سے
نسبتِ ولاء رکھتے تھے۔ اسی لیے ثقفی کہلاتے ہیں۔ آپ کے دادا جمیل بن طریف اموی
گورنر حجاج بن یوسف ثقفی کے غلام تھے۔ حجاج اپنے مزاج کی سختی اور تشدد کے باوجود
آپ کا بڑا اعزاز و احترام کرتا تھا اور مجلس میں آپ کو اپنی داہنی طرف ایک کرسی پر
بٹھاتا۔
ولادت:
قتیبہ بن سعید کی ولادت ان کے آبائی
وطن بغلان مضافاتِ بلخ میں ۱۵۰ھ
میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
قتیبہ کا خاندان دولت و
ثروت کے لحاظ سے نمایاں مقام رکھتا تھا ساتھ ہی ساتھ علمی ذوق بھی اس خاندان کی
میراث تھا چنانچہ سعید خود صاحبِ علم تھے اور فرزند کو بڑا عالم دیکھنا چاہتے تھے۔
سعید بن جمیل نے ایک بار خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کا شرف
حاصل کیا۔ دیکھا کہ حضور کے دستِ مبارک میں ایک صحیفہ ہے۔ عرض کی اے اللہ کے رسول
صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ کیا ہے؟ ارشاد ہوا اس میں علماء کے نام درج ہیں انہوں نے
عرض کی حضور! ذرا یہ رجسٹر مجھ کو مرحمت فرمادیجیے تاکہ میں دیکھوں کہ اس میں میرے
فرزند (قتیبہ) کا نام بھی درج ہے یا نہیں۔ حضور نے رجسٹر عطا فرما دیا۔ انہوں نے
دیکھا تو اس صحیفہ میں ان کے فرزند قتیبہ کا نام بھی لکھا ہوا تھا۔
(تاریخ
بغداد ج ۱۲
ص ۴۶۸)
قتیبہ ایسے نیک دل اور صالح مردِ مومن کے فرزند تھے۔
علم کی طرف فطری رجحان تھا۔ ابتداء میں وہ قیاسی مسائل کی طرف زیادہ راغب تھے۔ وہ
خود فرماتے ہیں کہ میں نے ایک شب خواب میں دیکھا کہ آسمان سے ایک توشہ دان لٹک رہا
ہے لوگ اس کو حاصل کرنے کی کوشش کر رہے
ہیں لیکن اس تک پہونچنے سے عاجز ہیں پھر اس کو میں نے
لینا چاہا تو میں اپنی کوشش میں کامیاب ہو گیا۔ اب میں نے اس میں جھانک کر دیکھا
تو مجھے مشرق و مغرب کے درمیان کی کل کائنات نظر آ گئی۔ صبح کے وقت میں ایک بزرگ
کی خدمت میں حاضر ہوا جو خواب کی تعبیر بتانے میں بڑی شہرت رکھتے تھے۔ میں نے ان
سے اپنا خواب بیان کیا۔ انہوں نے سن کر فرمایا بیٹے ! روایات و آثار کی طلب میں
مشغول ہو جاؤ کیوں کہ صرف احادیث و آثار ہی مشرق و مغرب تک پہونچ سکتے ہیں۔ قیاسی
مسائل میں اس درجہ وسعت پائی کہاں؟۔
چنانچہ اپنے وطن سے نکل کر عراق، خراسان، شام، مکہ،
مدینہ اور مصر کا سفر کیا اور یہاں کے اکابر شیوخ و علماء سے حدیثِ نبوی کا سماع
کیا اور اپنے دامنِ کو علم کے سدا بہار پھولوں سے بھر لیا۔
اساتذه كرام:
مالک، لیث، ابن لہیعہ،
رشدین بن سعد، داؤد بن عبد الرحمن عطار، خلف بن خلیفہ، عبد الرحمن بن ابی الموال،
بکر بن مضر، مفضل بن فضالہ، عبد الوارث بن سعید، حماد بن زید، عبد اللہ بن زید بن
اسلم، عبد العزیز الدراوردی، ابو زید البصری، عاصم، عبد العزیز بن ابی حازم، یزید
بن مقدام بن شریح بن ہانی، معاویہ بن عمار دہنی، حفص بن غیاث، جریر بن عبد الحمید،
حمید بن عبد الرحمن رواسی، ابو الاحوص، شریک، عباد بن عباد، عبد السلام بن حرب،
عبد الوہاب ثقفی، عطاف بن خالد، فرج بن فضالہ، فضیل بن عیاض، ایوب بن نجار یمامی،
جعفر بن سلیمان ضبعی، ہشیم، ابو عوانہ، ابن ادریس، یزید بن زریع، یعقوب بن عبد
الرحمن اسکندرانی، اسماعیل بن جعفر، اسماعیل بن علیہ، ابو ضمرہ، ابو اسامہ، ابن
عیینہ، سہل بن یوسف، ابو صفوان عبد اللہ بن سعید اموی، مروان بن معاویہ، محمد بن
فضیل غزدان، ابو معادیہ، محمد بن عبد اللہ انصاری، وکیع وغیرہہم۔
(تہذیب التہذیب ج ۸ ص ۳۵۱)
اگرچہ انہوں نے طلبِ علم کے لیے وطن ترک کیا تھا مگر
علم کا شوق اور مراکزِ علم سے ایسا والہانہ جذبہ تھا کہ ہمیشہ کے لیے وطن چھوڑ دیا
اور عراق میں بود و باش اختیار کر لی، کبھی کبھی دو ایک دن کے لیے وطن جاتے پھر
عراق واپس آ جاتے۔ وہ خود کہا کرتے تھے:
ما كان مثلي في بغلان مسكنہ
ولا يمر بها الا على سفر
میری طرح بغلان میں کوئی بھی ایسا نہ ہوگا جس کا وطن ہو
تو بغلان مگر وہ وہاں آئے مسافر کی طرح۔
(تاریخ بغداد ج ۱۲ ص ۴۷۰)
علم و فضل:
حضرت قتیبہ نے جس ذوق و
شوق اور لگن سے طلبِ علم کے لیے رحلت و سفر کی دُشواریاں جھیلیں اور اسلامی بلاد
کے اکابر شیوخ سے علم حاصل کیا جس کی وجہ سے ان کی ذات علم کا ظرف بن گئی تھی۔
حدیث میں ان کے تبحر کا یہ عالم تھا کہ ایک شب انہوں نے اپنے ایک شاگرد سے کہا۔
"اقم
عندى هذه الشتوة حتى اخرج اليك مائة الف حديث عن خمسة الخ"
"تم اس موسمِ سرما میں میرے پاس قیام کرو تو میں تم کو پانچ شخصوں کی روایت
کی ہوئی ایک لاکھ حدیثیں سناؤں گا"۔ شاگرد نے کہا غالباً ان میں سے ایک بزرگ
تو عمر بن ہارون ہوں گے فرمایا نہیں۔ صرف عمر بن ہارون سے تو میں نے تیس ہزار
حدیثیں لکھی ہیں۔ یہ ایک لاکھ احادیث تو وکیع بن جراح، عبد الوہاب ثقفی، جریر
الرازی، محمد بن بکر برسانی سے منقول ہیں۔ راوی کہتا ہے کہ قتیبہ بن سعید نے
پانچویں بزرگ کا بھی نام لیا تھا لیکن میں اس کو بھول گیا۔ (ایضاً
ص ۴۶۷)
آپ کی کثرتِ حدیث، ثقاہت و اتقان اور ضبط و تثبت پر
اساطینِ علمِ حدیث متفق ہیں۔
حافظ ذہبی: "الشيخ
الحافظ محدث خراسان ..... وكان
ثقة عالماً صاحب حديث ورحلات وكان غنياً متمولاً"
نامور شیخ، بلند پایہ حافظِ حدیث اور محدثِ خراسان ہیں۔۔۔۔۔ آپ قابلِ اعتماد عالم
اور صاحبِ حدیث تھے اس فن کی طلب میں انہوں نے دور دراز ملکوں کے سفر کیے۔ غنی اور
مالدار تھے۔
(تذکرۃ
الحفاظ ج ۲
ص ۳۰)
ابنِ سیار: "كان
ثقة صاحب سنة كتب الحديث عن ثلاث طبقات" آپ ثقہ
کارِ عالم اور صاحبِ سنت تھے۔ تین طبقہ کے اساتذہ سے حدیث لکھی تھی۔ (ایضاً)
- نسائی: "ثقة مأمون"
"وہ ثقہ اور مامون تھے۔ (ایضاً)
- ابنِ عمار جبلی: "اليه المنتهى فى الثقة"
ثقاہت ان پر ختم ہے۔
(شذرات
الذہب ج ۲
ص ۹۵)
- فریابی: "قتيبة صدوق ليس احد من
الكبار الا وقد حمل عنه بالعراق" قتیبہ
صدوق ہیں۔ عراق کے اکابرِ حدیث میں سے کوئی ایسا نہیں جس نے ان سے حدیث نہ لی
ہو۔ (تہذیب ج ۸
ص ۳۴۲) ابنِ
معین، ابو حاتم بزاز اور حاکم نے آپ کو ثقہ قرار دیا۔ (ایضاً)
امام بخاری نے اپنی صحیح میں ۳۰۸ حدیثیں اور امام مسلم نے
اپنی صحیح میں ۶۶۸
سو سے زائد حدیثیں روایت کی ہیں۔
(ایضاً ص ۳۴۳)
امام ترمذی نے بھی اپنی جامع میں آپ سے بکثرت حدیثیں
نقل کی ہیں۔
درسگاہ:
قتیبہ کی علمی شخصیت
طالبانِ حدیث کا مرکزِ نگاہ بنی ہوئی تھی وہ جہاں کہیں جاتے لوگ ان کے گرد جمع ہو
کر حدیثیں سنتے اور قلم بند کرتے، عام طالبانِ حدیث تو درکنار بڑے بڑے اعیانِ حدیث
آپ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر حدیثوں کا سماع کرتے چنانچہ جب بغداد آئے تو امام احمد
بن حنبل، یحییٰ بن معین جیسے بلند پایہ محدثین نے آپ سے حدیثیں سنیں۔ جو لوگ آپ سے
استفادہ میں پیچھے رہ جاتے وہ کفِ افسوس ملتے۔ عمرو بن فلاس بیان کرتے ہیں میں ایک
مرتبہ منیٰ میں حضرت قتیبہ کے پاس سے گزرا تو دیکھا عباس عنبری ان کے پاس بیٹھے
ہوئے حدیث لکھ رہے ہیں میں اس وقت گزرتا ہوا چلا گیا اور ان سے احادیث کا سماع
نہیں کیا۔ لیکن بعد میں مجھ کو اپنی تساہل پر بڑی ندامت ہوئی۔
(تاریخ
بغداد ج ۱۲
ص ۴۶۸)
تلامذہ:
ترمذی، امام احمد بن
حنبل، احمد بن سعید دارمی، ابو بکر بن ابی شیبہ، محمد بن یحییٰ ذھلی، علی بن
مدینی،نعیم بن حماد، ابو بکر حمیدی، محمد بن عبد اللہ بن نمیر، یحییٰ بن معین،
یحییٰ بن عبد الحمید حمانی، ابو خثیمہ، زہیر بن حرب، حسن بن عرفہ، ہارون حمال،
عباس عنبری، زعفرانی، یوسف بن موسیٰ قطان، یعقوب بن شیبہ، ابو حاتم، ابو زرعہ،
حارث بن ابی اسامہ، جعفر بن محمد صائغ، حسن بن سفیان، جعفر بن محمد فریابی، زکریا
بن یحییٰ سجزی، عبدان بن محمد مروزی، عبد اللہ بن محمد فرہیانی، حسن بن طیب باخی،
علی بن طیفور بسطامی، ابو العباس محمد بن اسحاق سراج۔
(تہذیب
ج ۸
ص ۳۴۲)
وصال:
آپ
کا وصال ۲۷ شعبان
۲۴۰ھ میں بمقام بغلان بلخ میں
ہوا ۔
ماخذ مراجع، محدثین عظام حیات و خدمات
