امام ربیع بن
صبیح بصری
نام:
ریبع بن صبیح
کنیت : ابو حفص اور ابوبکر
قبیلہ بنوسعد بن زید کے آزاد کردہ غلام تھے جس کی بنا پر
سعدی کہلاتے ہیں آپ کا وطن بصرہ تھا۔ آپ ان تبع تابعین ومحدثین میں سے ہیں جنہوں
نے خاک ہند کواپنے قدوم میمنت لزوم سے نوازا اور اس سر زمین کو اپنی ابدی خوابگاہ
بنایا۔
تحصیل علم:
ربیع بن
صبیح نے جس سرزمین میں آنکھ کھولی تھی وہ علم وفضل کے چرچے سےمعمور تھی ۔ابتدائی
تعلیم کے بعد بصرہ کے عظیم محد ث مولانا حسن بصری کی درسگاہ سے وابستہ ہوگئے اور
ان کی علمی وعملی شخصیت کا کامل ترین نمونہ بن کر افق علم وشجاعت پر نمودار ہوئے ۔
ابن صبیح نے حسن بصری کے علاوہ دیگر علماء تابعین ومحدثین سے کسب فیض کیا ان میں
سے چند کے اسماء یہ ہیں۔
محمد بن سیرین، مجاہدبن جبر، عطاء بن ابی رباح، حمید الطویل
، ابو الزبیر ، ابو غالب، ثابت البنانی، قیس بن ثابت ، یزید
(تہذیب التہذیب ج3ص 214)
علم حدیث:
ربیع بن
صبیح بصری ان تبع تابعین میں ہیں جن کی
علمی جلالات اور حدیث وثقاہت کا اعتراف امت کے اکابر علماء نے کیا ہے۔ اگرچہ بعض
ائمہ فن نے ان پر جرح کی ے اور ضعیف قرار دیا ہے مگر علماء جرح وتعدیل اور ائمہ
حدث کی بہت بڑی تعداد آپ کی توثیق کرتی ہے انہیں صادق وعادل قرار دیتی ہے۔
ابن شاہین:
الربیع
بن صبیح قال یحی ثقہ وقال مرۃ اخری ضعیف وقال فیہ لاباس بہ رجل صالح‘‘
ربیع بن صبیح کے
بارے میں یحی نے ایک موقع پر ثقہ اوردوسرے موقع پر ضعیف کہا ہے اور ساتھ ہی کہا ہے
کہ ان سے حدیث کی روایت میں کوئی حرج نہیں ہے وہ صالح آدمی تھے۔
(تاریخ اسماء الثقات قلمی)
امام احمد بن حنبل :
لاباس بہ رجل صالح ‘‘ ان سے روایت کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں وہ صالح آدمی تھے۔
(تہذیب التہذیب ج3 ص 414)
امام جرح وتعدیل عبدالرحمن بن مہدی آپ کے شاگردوں میں سےہیں
اور بلا تردد آپ سے روایت کرتے ہیں چنانچہ ابو حفص عمر بن علی کا بیان ہے ’’کان عبدالرحمن بن مہدی یحدث عن الربیع بن صبیح‘‘ عبدالرحمن بن مہدی ربعی بن صبیح سے حدیث کی روایت کیا
کرتے تھے۔
امام ربیع بن صبیح کی ثقاہت وعدالت پر اوپر کے بیانات شاہد
عدل ہیں وہ اعاظم تبع تابعین میں تھے ان سے بڑے بڑے محدثین اور ائمہ فن نے حدیث قبول کی ہے مگر بعد میں زہد وتقوی، عبادت
وریاضت اور جہاد کی کثرت کی وجہ سے ان کی محدثانہ وفقہیانہ حیثیت بعض ائمہ جرح
وتعدیل اور محدثین کے نزدیک اس معیار پر نہ رہی جو ان کے اصول روایت ودرایت کےلیے
مقررہے اور بہت سے ائمہ حدیث نے ان سے روایت کرنے میں کلام کیا۔ انہیں امام ربیع
کی بزرگی کا اعتراف بھی تھا مگر وہ صیانت حدیث کے معیار کو مد نظر رکھ کر ان کے زہد
وتقوی کی نرمی کو غیر معیاری قرار دیتے امام شافعی فرماتے ہیں ۔
کان الربیع بن صبیح غزاء واذا مدح الرجل بغیر صناعتہ فقد
مضر ای دی عنقہ‘‘ ربعی بن صبیح کثیر
الفزوہ آدمی تھے اور جب کسی شخص کی تعریف اس کی حدیث دانی بغیر کرتے ہیں تو اسے
تعریف وتوصیف کرکے ختم کردیتے ہیں ۔
(تہذیب التہذیب ج3 ص 414)
زہد وعبادت:
امام
ربیع حدیث وفقہ کے ممتاز عالم تھے اور ان کی بارگاہ سے علم وفن کے تاجداروں نے فیض
پایا مگر انہوں نے اپنے شیخ کی زاہدنہ زندگی کو عمر کے آخری حصہ میں مشعل راہ بنایا
اور عبادت وریاضت کا پہلو اس قدر غالب آیا کہ ان کی علمی حیثیت دب سی گئی اور وہ
محدث وفقیہ سے زیادہ عابد وزاہد اور غازی کی حیثیت سے مشہور ہوئے۔ انہوں نے اپنی
علمی سرگرمیوں کا مرکز عباد ان کو بنایا جو اس زمانہ میں عابدوں کا مسکن تھا ۔
آپ کی شب بیداری اور عبادت کا تذکرہ ابن حبان نے اس طرح کیا
ہے: ’’کان من عباد اھل البصرۃ وزھا دھم
وکان یشبہ بیتہ باللیل بیت النحل من کثرۃ التھجد‘‘ ربیع اہل بصرہ کے عباد وزہاد میں سے تھے تہجد کی کثرت کی
وجہ سے راتوں کو ان کا مکان شہد کی مکھیوں کا چھتہ معلوم ہوتا تھا۔ (یعنی تلاوت
وقراٌت سے گونجتا تھا )
(تہذیب التہذیب ج3ص 415)
امام ربیع کی پیشوائی، صالح اعمال اور زہد وتقوی کا اعتراف
امام شعبہ، عقیلی ، احمد بن حنبل ابو حاتم رازی، ساجی، ابن خداش اور یعقوب بن شیبہ
رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کیا ہے۔
عمر کے آخری ایام میں عبادان کے زاویہ عبادت میں جہاد اصغر
کے ساتھ جہاد اکبر کے لیے روح بے قرار ہوئی۔ خلیفہ مہدی عباسی نے جب عبدالملک بن
شہاب سمعی کی سرکردگی میں بار بار کی طرف فوج رانہ کی تو ربیع بن صبیح بھی اس جہاد
میں شریک ہوئے اور مظفر ومنصور ہوکر جب لشکر اسلام واپس ہورہا تھا تو اسی علاقہ
میں وبائی مرض پھوٹ پڑا اور اجتماعی طور پر مجاہدین اسلام نے وفات پائی جن میں
امام ربیع بن صبیح بصری بھی تھے۔ جائے انتقال ہی پر ان کی تجہیز وتدفین ہوئی ابن
سعد لکھتے ہیں۔
’’خرج
غازیا الی الھند فمات فدھن فی جزیرۃ من الجزائر سنۃ 160فی اول
خلافۃ المھدی اخبرنی بذلک شیخ من اھل
البصرۃ کان معہ‘‘ ربیع غزوہ کے لیے
ہنددستان گئے۔
وصال
160ھ میں
مہدی کے ابتدائی دور خلافت میں وصال ہوا ۔
تدفین:
انہی کے
جزیروںمیں سے ایک جزیرہ میں مدفون ہوئے،
ان
کی خبر بصرہ کے ایک شیخ نے دی جو ان کے ساتھ تھے۔
(طبقات ابن سعد ج7 ق2ص 36)
ماخد مراجع : محدثین عظام حیات وخدمات
