شیخ الاسلام امام
شعبہ بن حجاج
کنیت : ابو بسطام
لقب : شیخ
الاسلام
سلسلہ نسب :
شعبہ بن
حجاج بن ورد عتکی ازدی، قبیلہ ازد کے ایک شخص جہضم بن عتیک کے غلام تھے اسی نسبت
سے ازدی اور عتکی کہلاتے ہیں۔
ولادت:
اصل
وطن واسط جہاں بقول ابن حبان 83ھ میں ولادت
ہوئی ۔
پروان
چڑھے پھر بصرہ آکر آباد ہوگئے ۔
تحصیل علم:
امام شعبہ
نے واسط ہی میں تحصیل علم کا آغاز کیا ابتداء میں وہ شعروشاعری کی جانب متوجہ رہے
اور اس میں کمال پیدا کیا مشہور شاعر طرماح بن حکیم طائی کے ساتھ رہا کرتے تھے۔
انہیں دوسرے علوم کے تحصیل کا خیال نہ تھا مگر وہ ایک واقعہ سے متاثر ہوکر حدیث کی جانب متوجہ ہوئے۔خود کہتے ہیں ایک وز میرا
گزر حکم بن عتیہ کے پاس سے ہوا وہ حدثناکہہ کر ایک حدیث بیان کررہے تھےاسے سن کر
میں نے دل میں کہا یہ اس چیز سے بدرجہا بہتر ہے جس کو میں طلب کرتاہوں یعنی شعر
وشاعری میرا یہ خیال پختہ ہوگیا اور اسی
دن سے میں نے شاعری ترک کرکے حدیث کی طلب شروع کردی۔
(تاریخ بغداد ج9 ص 257)
امام شعبہ نے طلب علم حدیث کے میدان میں جب قدم رکھا تو
تابعین کی بڑی تعداد موجود تھی چنانچہ 400 / تابعین سے حدیث کا سماع کای اور اس فن
میں اپنے معاصرین پر گوئے سبقت لے گئے اور مہارت فی الحدیث کی وجہ سے ’’امیر المحدثین‘‘
مشہور ہوئے۔
آپ نے علم حدیث کے حصول اور اس میں تحقیق وتدقیق کے لیے مختلف
مقامات کا سفر کیا جس میں کوفہ، شام، بغداد، حجاز اور مصر وغیرہ شامل ہیں۔ ابن حبان
فرماتے ہیں کہ ’’امام شعبہ امام مالک سے زیادہ سفر کرنے والے اور طلب سنن میں
زیادہ تیز تھے‘‘۔
(المجروحین ج1 ص46)
ابن عیینہ کا بیان ہے: میں نے امام شعبہ سے یہ کہتے ہوئے سنا ہے جو حدیث
طلب کرے گا وہ مفلس ہی رہے گا میں نے تنگ آکر ایک دفعہ اپنی والدہ کا تھال فروخت
کرنا پڑا تھا۔
(تذکرہ ج1 ص 183)
یہ واقعہ اس بات کی صاف طور پر نشاندہی کرتا ہے کہ شعبہ نے
وقت وانہماک کے ساتھ اپنی پونجی بھی خرچ کر ڈالی امام شعبہ نے کبار تابعین کا دورپایا
تھا چنانچہ انہوں نے اپنے زمانے کے بڑے بڑے مشائخ حدیث سے حدیث حاصل کی اور اس فن
میں درجۂ کمال پر پہنچے۔
اساتذہ کرام:
ایان بن
تغلب، ابراہیم بن عامر بن مسعود، ابراہیم بن محمد بن منتشر، ابراہیم بن مسلم ہجری،
ابراہیم بن مہاجر، ابراہیم میسیرہ، ابراہیم بن میمون، ازرق بن قیس، اسماعیل بن ابی
خالد، اسماعیل بن رجاء، اسماعیل بن سمیع ، اسماعیل بن عبدالرحمن سدی، اسماعیل بن
علیہ، اسود بن قیس، اشعث بن سوار، ایوب بن موسی، اشعث بن ابی شعاء ، اشعث بن
عبداللہ بن جابر، انس بن سیرین، ایوب بن ابی چیمہ، بدیل بن میسرہ، برید بن ابی
مریم، بسطام بن مسلم، بشیر بن ثابت، بکیر بن عطا، بلال، بیان ، ابو مختار اسیدی،
ابو مؤمل ، ابو نعامہ سعدی، ابو ہاشم رمانی، ابو یعفور عبدی، شمسیہ عتکہ۔
(تہذیب التہذیب ج4ص 300، 297)
حدیث اور تنقید رجال:
امام شعبہ
نے اپنی ذہنی صلاحیتوں کے بروئے کار لاکر حدیثوں کا ایک بڑا سرمایہ اپنے سینہ میں
محفوظ کرلیا تھا۔ وہ کتابت حدیث کے قائل نہ تھے اپنے حافظہ سے طویل حدیث من وعن
یاد کرلیتے اور انہیں دوسروں کے سامنے بیان فرماتے۔ علی بن مدینی نے یحیی بن قطان
سے دریافت کیا سفیان ثوری اور امام شعبہ میں کون لمبی لمبی حدیثوں کو زیادہ اچھی
طرح یاد رکھتاہے، بولے شعبہ اس میں بہت آگے تھے۔
(تاریخ بغداد ج9 ص 264)
امام شعبہ ایک بار کے بعد دوبارہ شیخ سے حدیث کا سننا ضروری
سمجھتے تھے اور اس سلسلے میں وہ بڑی سے بڑی پریشانی کو خاطر میں نہ لاتے۔ ابن
عیینہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میری ملاقات امام شعبہ سے ہوئی۔ بارش ہورہی تھی
لیکن وہ ایک دم بریدہ گدھے پر سوار چلے
آرہے تھے۔ میں نے کہا ابو بسطام اس وقت کہاں تشریف لے جارہے ہیں؟
انہوں نے جواب دیا کہ اسود بن قیس کے پاس جارہا ہوں فلاں
سنہ میں انہوں نے کچھ حدیثیں بیان کی تھیں آج یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ ان کو یہ حدیثیں
اب تک یاد ہیں کہ نہیں۔
(حلیۃ الاولیاء ج7 ص 148)
قوت حافظہ:
امام
شعبہ کو قدرت نے بڑا قوی حافظہ عطا کیا تھا۔ وہ اپنی قوت حفظ ہی پر پوری عمر
اعتماد کرتے رہے حالانکہ اس دور میں عام طور پر تابعین اپنے شیوخ کی مرویات نقل
کرلیا کرتے تھے۔ حفظ وضبط کے ساتھ اس تحریری دستاویز کی جانب رجوع بھی کرتے مگر
شعبہ تحریر و کتابت پر بھروسہ نہ کرتے۔
ابو نوح کہتے ہیں’’میں عبداللہ بن عثمان کے پاس آکر جو حضرت
شعبہ کے شاگرد تھے اور ان کی حدثیں لکھتے تھے حضرت شعبہ کی احادیث کا مطالعہ کرتاتھا
اور ان کو لکھ لیتا تھا اس کے بعد میں حضرت شعبہ کی خدمت میں حاضر ہوتا تو وہ مجھ
سے انہی روایتوں کو بیان کرتے لیکن املاء کی ہوئی روایتوں میں اور ان میں
ادنی سا فرق بھی نہیں ہوتا تھا۔
(بغدادی ج9 ص 265)
اپنے نوشتہ حدیث پر اعتماد کم کرتے اپنے بیٹے کو وصیت کی
تھی کہ میرے مرنے کے بعد اس کو دھودینا، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔
اخلاق و کردار :
امام
شعبہ علم وفضل میں جس طرح ممتاز تھے اسی طرح سیرت و کردار، زہد وتقوی، فیاضی وسیر
چشتی میں بھی اپنا ثانی نہ رکھتے تھے نماز بڑے ہی حضور قلب اور خشوع وخضوع کے ساتھ
پڑھتے تھے رکوع وسجود میں اتنی تاخیر کرتے تھے کہ دیکھنے والوں کو شبہہ ہوتا تھا
کہ وہ بھول گئے ہیں۔ ابو قطن کا قول ہے جب میں شعبہ کو ر کوع وسجدہ کرتے دیکھتا تو
خیال کرتا آپ سر اٹھانا بھول گئے۔ انہیں کا بیان ہے کہ کثرت صلوٰۃ کے باعث آپ کے
کرتے مٹی کی طرح میلے ہوتے تھے۔
(تذکرہ ج1 ص 182)
ابو بکر راوی : ’’مارایت احدا عبد للہ من شعبۃ لقد عبد للہ حتی جف جلدہ علی
عظمہ واسود‘‘
میں نے امام شعبہ سے زیادہ عبادت کرنے والا کوئی نہیں دیکھا
آپ نے اس قدر عبادت کی کہ آپ کی جلد ہڈیوں پر خشک ہو کر رہ گئی۔
(تذکرہ ج1 ص 160)
روزہ سے بھی اسن کو خاص شغف تھا سال کے اکثر ایما نیں وہ
روزے سے ہوتے تھے کثرت صوم وصلوٰۃ کے باعث کافی کمزور ہوگئے تھے، حقو ق اللہ کے ساتھ حقو ق العباد کی ادائیگی میں کوئی
دقیقہ اٹھا نہ رکھتے تھے غریبوں اور مسکینوں کی حاجت روائی اپنا فرض تصور کرتے تھے
ان کی مالی حالت اچھی نہ تھی مگر جب بھی ان کو مال ہاتھ آجاتا اسے فقراء ومساکین
پر خرچ کردیتے تھے ایک دن سلیمان بن مغیرہ بصرہ روتا ہوا آیا اور امام شعبہ سے کہنے
لگا میرا گدھا مرگیا ہے جس کی وجہ سے میں جمعہ سے پیچھے رہ گیا ہوں اور میرے کپڑے
بھی بوسیدہ ہوگئے ہیں آپ نے پوچھا تم گدھا کتنے کا خریدا تھا بولا تین دینار کا۔
آپ نے فرمایا میرے پاس بھی اس وقت تین دینار
ہیں اور وہ تین دینا ر اسے دے دیئے۔
(تذکرہ ج1 ص 185)
امام شعبہ کی زندگی بڑی سادہ تھی اکثر فقروفاقہ میں بسر
ہوتی آخرت کا خوف ہر وقت دامن گیر رہتا تھا۔
وصال :
160ھ 77برس
کی عمر پاکر بصرہ میں وصال ہوا۔
سفیان ثوری کو جب وفات کی خبر پہنچی تو فرمایا ، ’’مات الحدیث
‘‘ یعنی حدیث کا علم آج ختم ہوگیا۔
ماخذ مرجع : محدثین عظام کی حیات وخدمات
