امام وکیع بن جراح رواسی کوفی
نام: وکیع
کنیت : ابو سفیان
لقب: رواسی کوفی
ولادت :
ولادت ۱١٩ھ یا ۱۲۹ھ میں ہوئی۔
نسب:
وکیع بن جراح بن ملیح بن عدی بن فرس بن سفیان بن
حارث بن عمرو بن عبید بن رواس بن کلاب بن ربیعہ بن عامر بن صعصعہ۔آپ کا مولدکوفہ ہے وہی نشوونما پائی جہاں آپ کے والد بیت
المال کے نگراں تھے
تحصیلِ علم وفن:
امام وکیع نے جس دور کے کوفہ میں آنکھ کھولی تھی وہ
فقہاء، علماء، محدثین اور ادباء و شعراء کا بہت بڑا مرکز بن چکا تھا ہر گلی کوچے
قال اللہ و قال الرسول کے غلغلوں سے معمور تھے اور جہاں کے چپے چپے سے دانش و بینش
کے چشمے پھوٹ رہے تھے ایسے معارف پرور ماحول میں وکیع نے اپنی فطری استعداد اور
قوتِ حفظ و ضبط کو بروئے کار لا کر علمِ دین کی تحصیل میں ذرا بھی کوتاہی نہ کی۔
قدرت نے انہیں حفظ و ذکاوت کی غیر معمولی قوت عطا فرمائی
تھی ان کی ذکاوت و فطانت کے جوہر بچپن ہی سے کھلنے لگے تھے زمانہٴ طالبِ علمی میں
ایک حدیث کسی شیخ سے سنی تھی وہ عمر بھر ان کے حافظہ میں محفوظ رہی۔ قاسم جرمی کا
بیان ہے "كان
سفيان يدعو وكيعا وهو غلام فيقول اى شئ سمعته فيقول حدثنى فلان كذا قال وسفيان يتبسم
ويتعجب من حفظه"
سفیان ثوری اپنے شاگرد وکیع کو دیکھ کر پوچھتے جب کہ ابھی وہ بچے تھے تم نے کون سی
حدیث سنی ہے وہ پوری سند کے ساتھ اس کو بیان کر دیتے کہ مجھ سے فلاں شخص نے اس طرح
حدیث روایت کی ہے۔ سفیان ثوری اپنے شاگرد کی اس حاضر دماغی کو دیکھ کر مسکراتے اور
تعجب و حیرت کا اظہار کرتے۔ (تہذیب
التہذیب ج ۱۱ ص ۱۱۲)
وکیع اپنی قوتِ حفظ کے بارے میں کہتے ہیں میں نے گزشتہ
پندرہ سال کے عرصہ میں سوائے ایک دن کے کبھی کتاب کھول کر نہیں دیکھی اور اس ایک
مرتبہ میں بھی سرسری طور سے دیکھا اور دیکھ کر کتاب کو اس کی جگہ رکھ دیا۔
(تاریخ بغداد ج ۱۳ ص ۴۷۵)
زمانہٴ طالبِ علمی میں دورانِ درس کبھی حدیثیں قلم بند
نہیں کیں بلکہ گھر آ کر لکھا کرتے تھے خود فرماتے ہیں میں نے سفیان ثوری کے درس کے
وقت کبھی حدیث نہیں لکھی بلکہ اس کو دماغ میں محفوظ کر لیتا پھر گھر واپس آ کر
لکھتا تھا۔ (ایضاً)
اسحق بن راہویہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگوں کا حافظہ تو بتکلف
ہے اور امام وکیع فطری حافظ تھے (کتاب
الانساب ص ٢۶۱)
امام وکیع کے نزدیک قوتِ حافظہ کا سب سے بڑا نسخہ گناہوں
سے بچنا ہے خداوند تعالیٰ ہر انسان کو دولتِ حفظ و فہم سے نوازتا ہے مگر معاصی کی
کثرت اس کے دماغ کو کند کر دیتی ہے۔
علی بن خشرم کا بیان "رأيت وكيعا وما
رأيت بيده كتابا قط انما هو يحفظ فسألته عن دواء الحفظ فقال ترك المعاصى ماجربت
مثله للحفظ"
"میں نے امام وکیع کے ہاتھ میں کبھی کوئی کتاب نہیں دیکھی وہ صرف اپنے حافظہ
سے درس دیا کرتے تھے ان کی حیرت انگیز قوتِ حفظ و ضبط دیکھ کر میں نے ان سے ایسی
دوا پوچھی جس سے حافظہ قوی ہو جائے انہوں نے فرمایا اجتنابِ معاصی سے بڑھ کر قوتِ
حافظہ کے لیے کوئی چیز میرے تجربہ میں نہیں آئی۔
(تہذیب
التہذیب ج ۱۱ ص ۱۱۳)
ایک دفعہ کسی شخص نے سوء حفظ کی شکایت کی امام وکیع نے اس
کو گناہوں سے بچنے کا مشورہ دیا اور فرمایا علم خداوند قدوس کا نور ہے وہ کسی گناہ
گار اور عاصی کو عطا نہیں کیا جاتا۔ (مرآۃ
الجنان ج ۱ ص ۴۵۸)
حضرت وکیع نے اپنی بے پناہ قوتِ حفظ اور ذہانت و ذکاوٹ سے
کام لے کر اپنے عہد کے تمام محدثین و فقہاء کے خزائنِ علم و فقہ سے استفادہ کیا
اور اس سلسلہ میں رحلت و سفر کی مشقتیں بھی برداشت کیں ۔
ان کے شیوخ و اساتذہ :
جراح، اسماعیل
بن ابی خالد، ایمن بن نابل، عکرمہ بن عمار، ہشام بن عروہ، اعمش، توبہ ابو صدقہ،
جریر بن حازم، عبداللہ بن سعید بن ابی ہند، معروف بن خربوذ، ابن عون، عبدالرحمن بن
غسیل، ابو خلدہ خالد بن دینار، سلمہ بن نبیط، عیسیٰ بن طہمان، مصعب بن سلیم، مسعر
بن کدام، مسعر بن حبیب جرمی، عبدالمجید بن وہب عقیلی، ابن جریج، اوزاعی، مالک،
اسامہ بن زید لیثی، اسرائیل، اسماعیل بن مسلم عبدی، بختری بن مختار، بدر بن عثمان،
حسن، علی، زکریا بن اسحق، زکریا بن ابی زائدہ، سعید بن سعیدبن عبید طاحی، سفیان
ثوری، شعبہ، طلحہ بن یحییٰ بن طلحہ، عبدالحمید بن جعفر، اوزاعی، عثمان، شحام، عزرہ
بن ثابت، علی بن مبارک، عمر بن ذر، عمران بن حدیر، معاویہ بن ابی مزرد، معروف بن
واصل، نافع بن عمر جمحی، موسیٰ بن علی، موسیٰ بن علی بن رباح، یزید بن ابراہیم
تستری، فضیل بن غزوان، کہمس بن حسن، مالک بن مغول، ابن ابی ذئب، ابن ابی لیلیٰ،
محمد بن قیس اسدی مساور وراق، ہشام دستوائی، ہشام بن سعد، معلیٰ بن حارث، ابو سفان
شیبانی، افلح بن حمید، حماد بن سلمہ، حماد بن نجیح، زمعہ بن صالح، سعد بن اوس،
سعید بن عبدالعزیز تنوخی، سلیمان بن مغیرہ، صالح بن ابی الاخضر، عبداللہ بن عمر
عمری، عبدالعزیز بن ابی رواد، فضیل بن مرزوق، قرۃبن خالد، مبارک بن فضالہ، موسیٰ
بن عبیدہ، ہمام بن یحییٰ، یونس بن ابی اسحق، ابو شہاب، ابو ہلال راسی، یزید بن زیاد بن ابی جعد۔ (تہذیب التہذیب ج ۱۱ ص ۱۰۹، ۱۱۰)
سچے جذبۂ تحصیل علم اور سعی بلیغ نے وکیع کو علم وفن کے
اتنے اونچے مقام تک پہنچایا کہ دنیا ان کو امام المسلمین، احد ائمۃ الاسلام اور
محدث العراق کے خطابات سے یاد کرنے لگی، تحصیل علم کی ابتداء ہی میں بعض شیوخ نے
آپ کے شاندار مستقبل کی خبر دے دی تھی۔ امام اعمش نے آپ کا نام پوچھنے کے بعد
فرمایا "ما احسب
الا سيكون لک نبأ" میرا خیال ہے کہ تمہارا مستقبل شاندار ہوگا سفیان
ثوری نے آپ کی آنکھوں میں دیکھ کر لوگوں سے کہا "ترون هذا
الرواسى لا يموت حتى يكون له نبأ" کیا تم لوگ اس رواسی کو دیکھ رہے ہو موت سے پہلے
اس کی بڑی منزلت ہو جائے گی۔ (تاریخ
بغداد ج ۱۳ ص ۱۶۹)
حلقۂ درس:
امام وکیع نے
حضرت سفیان ثوری کے بعد ان کے جانشین کی حیثیت سے درس دینا شروع کیا۔ یحییٰ بن
یمان کہتے ہیں میں جب امام سفیان ثوری کا وصال ہوا تو وکیع ان کی جگہ مسند نشین
ہوئے۔ قعنبی کہتے ہیں: "کنا عند حماد بن زيد فلما خرج وكيع قالوا هذا راوية سفیان
فقال هذا ان شئتم ارجح من سفیان" ہم حماد بن زید کے پاس بیٹھے تھے وکیع نکلے تو لوگ
کہنے لگے یہ سفیان کے راویہ اور ان کے جانشین ہیں اس پر حماد نے کہا اگر چاہو تو
یہ کہہ سکتے ہو ان کو سفیان پر ترجیح ہے۔ (تذکرہ ج
۱ ص ۲۸۲)
جلد ہی آپ کے درس کی شہرت دور دور تک پہنچ گئی اور مختلف
ملکوں اور شہروں کے طالبانِ علم کوفہ آ کر حلقۂ درس میں شامل ہونے لگے، کوفہ ہی
نہیں بلکہ وہ جس مقام پر پہنچتے شائقینِ علم کا ازدحام ہو جاتا اور وسیع حلقۂ درس
قائم ہو جاتا تھا آپ کے حلقۂ درس کے سامنے دوسرے تمام حلقہائےدرس ویران ہو جاتے
تھے۔ ابو ہشام رفاعی کا بیان ہے ایک بار مسجد حرام میں گیا تو عبید اللہ بن موسیٰ
کو حدیث کا درس دیتے ہوئے دیکھا ان کے ارد گرد طلبہ کا ہجوم تھا پھر ایک ہفتہ بعد
آ کر دیکھا تو عبید اللہ تنہا بیٹھے ہوئے ہیں میں نے پوچھا یہ کیا ہوا؟ انہوں نے
"قدم التینين
فاخذهم يعنى وكيعا" ایک اژدہا آ گیا ہے جو پورے حلقہ کو نگل گیا ان کی
مراد امام وکیع سے تھی۔
(تہذیب ج
۱۱ ص ۱۱۳)
امام وکیع اپنے حلقۂ درس میں لایعنی اقوال وافعال سے حد
درجہ پرہیز کرتے تھے وہ درس میں بڑے سنجیدہ پروقار اور متین رہتے تھے، امام مسلم
بن جنادہ کا بیان ہے: "جالست وکیعا سبع سنین فما رایت بزق ولا مس حصاۃ ولا جلس
مجلسہ فتحرک ولا رایتہ الا مستقبل القبلة وما رايته يحلف بالله" میں امام
وکیع کی صحبت میں سات سال رہا ہوں میں نے ان کو مجلسِ درس میں کبھی تھوکتے ،
کنکروں کو چھوتے یا ادھر ادھر حرکت کرتے نہیں دیکھا ہمیشہ قبلہ رخ ہو کر بیٹھتے
تھے میں نے ان کو اللہ تعالیٰ کی قسم کھاتے ہوئے بھی کبھی نہیں دیکھا۔ (تذکرہ ج ۱ ص ۲۸۳)
تلامذہ:
امام وکیع کے
حلقۂ درس کی وسعت سے یہ بات سامنے آ جاتی ہے کہ ان سے فیض پانے والوں کی تعداد
ہزاروں ہو گی مگر یہاں چند اہم تلامذہ کے نام درج کیے جاتے ہیں:
سفیان، ملیح، عبید، مستملیہ، محمد بن ابان بلخی، سفیان
ثوری، عبدالرحمن بن مہدی، احمد، علی، یحییٰ، اسحٰق، ابوخیثمہ، حمیدی، قعنبی، اشج،
علی بن خشرم، مسدد، محمد بن سلام، ابن ابی عمر، نصر بن علی، یحییٰ بن یحییٰ
نیشاپوری، محمد بن صباح دولابی، ابراہیم بن سعد جو ہری، محمد بن رافع، ابراہیم بن
عبداللہ عبسی قصار ۔
(تہذیب ج
۱۱ ص ۱۱۰)
فضیلتِ علم:
امام وکیع نے
علم حدیث میں جو دستگاہِ بہم پہونچائی تھی اس کا اعتراف ان کے معاصر محدثین اور
بعد کے علمائے فن نے بڑی کشادہ دلی سے کیا ہے۔
(تہذیب
التہذیب ج ۱۱ ص ۱۱۰)
احمد بن جنبل: "ما رايت مثل
وكيع فى الحفظ والاسناد والابواب مع خشوع وورع" میں نے
وکیع جیسا شخص حفظ، اسناد اور ابواب میں خشوع و خضوع کے ساتھ نہیں دیکھا۔ (ایضاً ص
۱۱۱)
سفیان بن عبدالملک: "كان وكيع احفظ
من ابن مبارك"
وکیع عبداللہ بن مبارک سے بڑے حافظِ حدیث تھے۔ (ایضاً ص ۱۱۲)
محمد بن عبداللہ بن نمیر: "وكيع اعلم
بالحديث من ابن ادريس" وکیع، ابن ادریس سے زیادہ حدیث کے جاننے والے تھے۔
(ایضاً)
ابن حبان: "كان حافظاً
متقناً"
وہ حافظ اور متقن تھے۔ (ایضاً)
یحییٰ بن یحییٰ: "لم ار من الرجال
احفظ منه"
میں نے کسی شخص کو ان سے بڑا حافظِ حدیث نہیں دیکھا۔
حافظ ذہبی: "الامام الحافظ
الثبت محدث العراق احد الائمة الاعلام" ممتاز حافظِ حدیث اور چوٹی کے اماموں میں سے ایک
امام ہیں پختہ کار عالم اور عراق کے محدث ہیں۔ (تذکرہ الحفاظ ج
۱ ص ۲۸۲)
فقہ:
حدیث کے ساتھ
امام وکیع فقہ میں بھی کمال رکھتے تھے وہ امام اعظم کے شاگرد تھے انہیں کے مسلک پر
فتویٰ دیا کرتے تھے امام یحییٰ فرماتے ہیں: "ما رايت افضل
منه يقوم الليل ويسرد الصوم ويفتى بقول ابي حنيفة" میں نے
وکیع سے افضل کوئی آدمی نہیں دیکھا وہ رات کو قیام کرتے دن کو روزہ رکھتے اور ابو
حنیفہ کے قول پر فتویٰ دیتے تھے ۔ فقہ وحدیث کے امام اور حافظ وثقہ ، زاہد عابد، اکابر تبع
تابعین میں سے امام شافعی و امام احمد کے
شیخ تھے۔(تذکرہ ج
۱ ص ۲۸۲)
یحییٰ بن معین فرماتے تھے امام وکیع ابو حنیفہ کے قول کے
مطابق فتویٰ دیتے تھے اور انہوں نے امام صاحب سے کافی سماعت بھی کی تھی۔ (تاریخ بغداد ج ۱۳ ص ۴۷۱)
آپ کی فقہی بصیرت کو دیکھ کر خلیفہ ہارون رشید نے کوفہ کے
منصبِ قضا کی پیش کش کی مگر آپ نے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ (تذکرہ ج
۱ ص ۲۸۳)
حدیث کو امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف وزفر و ابن جریح
و سفیان ثوری و سفیان بن عینیہ و اور زاعی و اعمش وغیر ہم سے سنااور آپ سے عبد
اللہ بن مبارک ویحییٰ بن اکتم وامام احمد بن حنبل ویحییٰ بن معین وعلی بن مدینی و
ابن راہویہ و احمد بن منبع اور آپ کے بیٹے سفیان وغیرہ محدثین نے سنا اور اصحاب
صحاح ستہ نے آپ سے تخریج کی۔
ابن اکتم
کہتے
میں نے حضر و
سفر میں آپ کی صحبت کی ۔ آپ ہمیشہ روزہ رکھنے اور ہر رات قرآن کا ختم کرتے تھے اور
جب تک تیسر ا حصہ قرآن کا نہ پڑھ لیتے نہ سوتے پھر اخیر رات کو اٹھ کھڑے ہوتے ۔یحییٰ
بن معین کہتے ہیں کہ میں نے وکیع سے کوئی افضل نہیں دیکھا ۔ اس پر لوگون نے کہا کہ
کیا ابن مبارک کو بھی نہیں فرمایاکہ ابن مبارک کے بےشک فضل ہے لیکن میں نے وکیع سے
کوئی افضل نہیں دیکھا ۔ آپ کا دستو ر تھا کہ قبلہ کے سامنے بیٹ کر حدیث کو یاد
کرتے اور رات کو کھڑے ہوتے اور پے در پے حدیث کو لاتے اور امام ابو حنیفہ کے قول
پر فتویٰ دیتے اور یحییٰ بن سعید قطان آپ کے قول پر فتویٰ دیتے تھے۔ امام احمد
کہتے کہ میں نے علم کا دعویٰ کر نے والا زیادہ تر آپ سے کوئی نہیں دیکھا۔آپ ہی کو
کسی نے اس شعر مشارالیہ کیا ہے۔
تصانیف:
امام وکیع نے
درس و تدریس کے ساتھ تصنیف و تالیف کو بھی اپنا مشغلہ بنایا تھا امام احمد بن حنبل
فرمایا کرتے تھے وکیع کی تصنیف کردہ کتابوں کا بالالتزام مطالعہ کرو "علیکم
بمصنفات وکیع" (تذکرہ ج ۱ ص ۲۸۳)
امام ابن جوزی نے تحریر فرمایا "صنف
التصانيف الكثيرة" انہوں نے بکثرت کتابیں تصنیف کیں۔(صفوۃ
الصفوۃ ج ۲ ص ۱۶۴)
خیر الدین زرکلی لکھتے ہیں "له مصنف
في الفقه والسنن" افسوس ہے کہ دوسرے اسلاف کی طرح حضرت وکیع کی
مصنفات بھی صفحۂ ہستی سے ناپید ہو گئیں آج ان کی دو کتابوں کے نام ملتے ہیں مصنف
ابن سفیان ۔ (وکیع
ابن الجراح) کتاب السنن۔
اخلاق و کردار:
امام
وکیع کے زہد و اتقا کے لیے اتنا کافی ہے کہ انہوں نے ہارون رشید کے پیش کردہ عہدۂ
قضا کو مسترد کر دیا اور کسی خلیفہ و امیر سے راہ و رسم نہ رکھی علم و فضل کا
تاجدار اپنے کشورِ علم ہی کی توسیع و تزئین میں مصروف رہا۔ زندگی انتہائی سادہ
طریقہ پر گزارتے تھے جو مل جاتا اس پر شکر کرتے ، مزید کی خواہش نہ رکھتے اور نہ
کچھ مطالبہ کرتے ان کی والدہ نے وفات کے وقت ایک لاکھ نقد یا اتنی قیمت کی جائیداد
وراثت میں چھوڑی تھی وکیع نے کبھی اپنے حصہ کا مطالبہ نہیں کیا گھر میں جو کھانا
اور کپڑا مل جاتا اسی پر قناعت کرتے ۔ (تاریخ
بغداد ج ۱۳ ص ٢۶۹)
امام
وکیع کی کثرتِ عبادت، رقتِ قلب، خشیتِ الہی، گریہ وزاری پر معاصرین رشک کیا کرتے
تھے ابراہیم بن شماس کہتے ہیں کہ اگر میں کوئی آرزو کرتا تو وکیع کی عبادت اور رقت
کی تمنا کرتا ۔ (تہذیب ج ۱۱ ص ۱۱۳)
امام وکیع کے
زاہدانہ کردار کا اثر ان کے پورے خانوادے پر بھی تھا۔ یحییٰ بن ابوب بن بیان کرتے
ہیں کہ وہ رات میں ثلث قرآن پڑھنے سے قبل نہیں سوتے تھے اور پھر رات کے آخری حصہ
میں بیدار ہو جاتے تھے۔ ابراہیم بن وکیع فرماتے ہیں میرے والد جب رات میں نماز
پڑھتے تو ہمارے گھر میں کوئی شخص ایسا نہیں رہتا تھا جو نماز نہ پڑھتا ہو حتی کہ
ہماری سیاہ فام لونڈی بھی نماز پڑھتی تھی۔ (تاریخ بغداد ج ۱۳ ص ۴۷۱)
وصال:
192ھ کے حج
میں شرکت کے لیے حرمین شریفین حاضری ہوئی ، حج سے فراغت کے
بعد کوفہ کے لیے واپس ہوئے اور اثناء راہ مقام فید میں بروز عاشورہ ۱۹۷ھ کو واصل بحق ہوئے بوقتِ وصال عمر ستر سال تھی۔ (تذکرہ ج
۱ ص ۲۸۳)
ماخذ مراجع، محدثین عظام حیات و خدمات
