امام
ولید بن مسلم دمشقی
نام: ولید بن مسلم
کنیت: ابوالعباس
لقب: دمشقی
ولادت:
آپ کی
ولادت 119 ھ دمشق میں ہوئی ۔
آپ کے
والد بنوامیہ کے شاہی غلام تھے اس لیے اموی کہلاتے ہیں وطن دمشق تھا ۔ (تذکرہ ج ۱ ص ۳۲۸)
تحصیلِ علم:
ولید بن مسلم نے شام کے مرکزی شہر دمشق میں
آنکھ کھولی تھی جو ان دنوں اموی خلفاء کا پایہٴ تخت تھا بڑے بڑے امراء اور اربابِ
ثروت کے ساتھ یہ شہر کبار تابعین، ائمہ محدثین اور اربابِ علم و دانش بزرگوں کا
مسکن بھی تھا جہاں شب و روز علم وفن کے چرچے رہتے تھے۔ حضرت ولید نے پورے ذوق وشوق
کے ساتھ تحصیلِ علم کا سلسلہ شروع کیا اور وقت کے جلیل القدر ائمہ حدیث و فقہ، سیر
و مغازی سے اکتسابِ فیض کیا انہوں نے بعض اساتذہ کی خدمت میں طویل عرصہ بسر کیا،
خود ان کا بیان ہے میں سترہ سال تک جابر کی صحبت میں رہا ولید فقیہ شام حضرت امام
اوزاعی کے تلمیذِ خاص تھے۔
مروان بن
محمد کہا کرتے تھے "اذا كتبت حديث الاوزاعى عن الوليد فماتبالى من فاتك"
"کہ جب ولید کے واسطے سے امام اوزاعی کی روایت کسی کو مل جائے تو اسے لے کر
کسی اور راوی کے چھوٹنے کی پرواہ نہ کرنی چاہئے۔
(تہذیب ج ۱۱ ص ۱۳۴)
اساتذہ:
جن
بزرگوں سے ولید بن مسلم نے تحصیلِ علم کی ان کے نام یہ ہیں:
جریر بن
عثمان، صفوان بن عمرو، امام اوزاعی، ابن جریج، ابن عجلان، ابن ابی ذئب، سعید بن
عبدالعزیز، ثوری، عبداللہ بن علاء بن زبر، ثور بن یزید، حنظلہ بن ابی سفیان، بکر
بن مضر، اسماعیل بن رافع، زہیر بن محمد تمیمی، خالد بن یزید، ابن صبیح، شیبان
نحوی، عبدالرحمن بن نمیر، عبدالرحمن بن یزید بن جابر، عبدالعزیز بن ابی رواد،
عیسیٰ بن موسیٰ قرشی، محمد بن مہاجر دمشقی، ہشام بن حسان، موسیٰ بن ایوب غافقی،
ابوغسان محمد بن مطرف، یزید بن ابی مریم شامی، یحییٰ بن حارث ذماری۔ (تہذیب ج
۱۱ ص ۱۳۳)
علم وفضل:
امام
ولید نے ذاتی شوق و محنت سے دنیائے علم وفن میں وہ بلند مرتبہ حاصل کیا جو کم ہی
غلام خانوادوں کو میسر ہوا۔ حدیث و مغازی میں آپ کو بڑا درک و کمال حاصل تھا وہ
اہل شام کے امام تھے دیگر بلاد و امصار کے علماء ومحدثین نے بھی آپ سے فیض پایا ہے۔
آپ کی جلالتِ شان اور علمی مرتبہ کا اعتراف وقت کے جید ائمہ فن نے کیا ہے۔
حافظ ذہبی:
"الامام
الحافظ عالم اهل دمشق" بلند پایہ حافظِ حدیث اور اہل دمشق کے عالم ہیں۔ (تذکرہ ج ۱ ص ۲۷۹)
ابن سعد: "الوليد
ثقة كثير الحديث والعلم" ولید ثقہ کثیر الحدیث اور کثیر العلم ہیں۔ (ایضاً)
ابو حاتم:
"ما راءيت
مثل الوليد بن مسلم" میں نے ولید جیسا کوئی راوی نہیں دیکھا۔ (ایضاً)
علی بن مدینی:
"سمعت من
الوليد وما رايت من الشاميين مثله" میں نے ولید سے حدیث کا سماع کیا ہے اور اہل شام
میں ان جیسا کوئی عالم نہیں دیکھا۔ (ایضاً)
ابو حاتم: صالح
حدیث ہیں۔
ابن عدی: ثقہ
ہیں۔ (ایضاً)
ابن ناصر الدین:
ولید امام، حافظ اور دمشقیوں کے عالم تھے۔
امام احمد بن
حنبل: "عندكم
ثلاثة اصحاب، اصحاب الحدیث مروان بن محمد والولید وابو مسهر"
میں نے ابو زرعہ دمشقی سے کہا تین بزرگ واقعی اصحابِ حدیث ہیں ۔ مروان بن محمد ،
ولید بن مسلم اور ابو مسہر۔ (تہذیب ج
۱۱ ص ۱۳۵)
یعقوب بن سفیان:
"كنت اسمع
اصحابنا يقولون علم الناس اسماعیل بن عياش والوليد بن مسلم فاما الوليد فمضى على
سنته محموداً عند اهل العلم متقناً صحيحاً صحيح العلم" میں نے
اپنے شیوخ سے سنا ہے کہ لوگوں کا علم صرف دو شخصوں کے پاس ہے اسماعیل بن عیاش اور
ولید بن مسلم لیکن ولید کو تو میں جانتا ہوں کہ وہ نہایت قابلِ تعریف طور پر آخر
وقت تک چلتے رہے وہ اہل علم کے نزدیک پسندیدہ، قابلِ وثوق، صحیح الحدیث اور صحیح
العلم تھے۔
(تہذیب ج
۱۱ ص ۱۳۵)
امام نووی: ان
کی جلالتِ علم، بلندی مرتبہ، وثوق فی الحدیث پر سب لوگ متفق ہیں۔ (تہذیب الاسماء ج ۲ ص ۱۷۴)
امام احمد بن
حنبل: "ما راءيت اعقل منه" میں نے ان سے بڑا عقلمند نہیں دیکھا۔ (تہذیب ج ۱۱ ص ۱۳۵)
عجلی و یعقوب بن
شیبہ: "الوليد
بن مسلم ثقة"
ولید بن مسلم ثقہ ہیں۔ (ایضاً)
ابو زرعہ رازی:
"كان
الوليد اعلم من وكيع بامر المغازی" ولید مغازی میں وکیع سے بڑے عالم تھے۔ (ایضاً)
تلامذہ:
امام
ولید بن مسلم طالبانِ علم کا مرجع بن گئے تھے ان سے علم حاصل کرنے والوں میں بڑے
بڑے ائمہ حدیث بھی شامل تھے تلامذہ کی تعداد کافی تھی چند اہم نام یہ ہیں:
لیث بن سعد،
بقیہ بن ولید، حمیدی، سلیمان بن عبدالرحمن، احمد بن حنبل، اسحاق بن راہویہ، علی بن
مدینی، ابو خیثمہ، داؤد بن رشید، ابراہیم بن منذر، اسحاق بن منصور انصاری، سدقہ بن
فضل مروزی، دحیم ابو قدامہ، علی بن حجر، سوید بن سعید، ابوبکر بن خلاد، محمد بن
مہران حمالی، ہارون بن معروف، ہشام بن عمار، موسیٰ بن ہارون بردی، محمود بن خالد
سلمی، ابو ہمام سکونی، موسیٰ بن عامر مری۔ (تہذیب ج
۱۱ ص ۱۳۴)
تصانیف:
امام
ولید نے اپنے علم کو سینہ سے سفینہ میں منتقل کرنے کا کام بھی کیا اور کافی کتابیں
تصنیف کیں تذکرہ نگاروں نے ان کی مصنفات کی تعداد ستر بتائی ہے جو حدیث، فقہ،
تاریخ، مغازی سے متعلق ہیں ولید کی کتابوں کی افادیت کا اندازہ ابن جوصا کے بیان
سے ہوتا ہے وہ کہتے ہیں "لم نزل نسمع انه من كتب مصنفات الوليد صلح ان يلى القضاء"
ہم لوگ برابر اس بات کو سنتے آئے ہیں کہ جو شخص ولید کی کتابوں کو پڑھ لے گا وہ
عہدہٴ قضاء کے قابل ہو جائے گا۔ (تہذیب ج
۱۱ ص ۱۳۵)
تاریخ و مغازی
میں بھی کمال رکھتے تھے اس موضوع پر بھی ان کی کتابیں تھیں۔
ذہبی: "كان
الوليد بارعاً فى حفظ المغازی" ولید مغازی یاد رکھنے میں بہت آگے تھے۔ (تذکرہ الحفاظ ج ۱ ص ۲۷۹)
ابن ندیم:
"الوليد
بن مسلم من اصحاب السير واحداث وله من الكتب كتاب المغازی" ولید بن
مسلم علماءِ سیر و احداث میں سے تھے اور ان کی کتابوں میں کتاب المغازی ہے۔
(ایضاً)
سیرت و کردار:
ولید علم
و عمل کے سنگم تھے وہ بلند اخلاق، صاحبِ زہد و تقویٰ عالم تھے یعقوب بن حموی کا
بیان ہے میں نے ہشام سے ولید کے بارے میں دریافت کیا "فاقبل
يصف علمه وورعه وتواضعه" تو وہ دیر تک ان کے علم وفضل، تورع اور پرہیز گاری
اور تواضع کی تعریف کرتے رہے۔ (تذکرہ ج
۱ ص ۲۷۹)
وصال:
محرم
الحرام 195ھ میں داعی اجل کو لبیک کہا۔
حج و
زیارت سے فارغ ہو کر دمشق لوٹ رہے تھے کہ اثناءِ راہ ذی المروہ میں بیمار پڑے اپنے
ایک دوست کے مکان پر قیام کیا وہیں ۔ حرملہ کہتے ہیں ولید حج سے واپسی پر میرے پاس
ٹھہرے تھے اور میرے پاس ہی ذی مروہ میں ان کا انتقال ہوا۔ (تذکرہ ج
۱ ص ۲۷۹)
ماخذ
مراجع، محدثین عظام حیات و خدمات
