ا غاضری۔ان کا شمار اہل شام میں ہے انھوں نے حمص میں سکونت اختیارکرلی تھی بعض لوگوں نے کہاہے کہ یہ اس غاضرہ کے خاندان سے ہیں جو قبیلہ ٔ قیس کی ایک شاخ ہے ان سے جبیر بن نضیر نے روایت کی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتھا کہ تین چیزیں (ایسی)ہیں کہ جس کسی نے ان تینوں کوکیااس نے ایمان کا مزہ پالیا(اول یہ کہ)اس نے فقط اللہ کی عبادت کی اس لیے کہ اللہ کے سوا کوئی دوسرامعبود نہیں اور(دوسری بات) یہ کہ اس نے بطبیب خاطر اپنے مال کی زکوٰۃ کواداکیا جوکہ ہرسال اس پرواجب ہواکرتی ہے۔زکوٰۃ میں نہ اس نے بوڑھے جانوروں کودیا اور نہ اس کوکہ جس میں کوئی داغ وغیرہ ہو۔اورنہ موٹے تازے دیے(تم لوگ اپنے متوسط اور درمیانی قسم کے مالوں سے زکوٰۃ دیاکرو)اس لیے کہ اللہ عزوجل نے تم سے (زکوٰۃ میں)سب سے بہتر چیزطلب نہیں کی اور نہ تم لوگوں کو سب سے بری چیزدینے کا حکم دیاہےاور(تیسری بات)یہ کہ اس نے اپنے نفس کی۔۔۔
مزید
۔ابوموسیٰ نےکہاہے کہ میں نے ایساہی ان (کے نسب)کوابوالحسن یعنی محمد بن قاسم فارسی کی کتاب موسوم بہ الاسباب الجالبہ للرزق میں پایا۔اسی کتاب میں ابوالحسن نے اپنی سند کے ساتھ احمد بن علی بن مثنی سے انھوں نے ابوربیع سے انھوں نے سلام بن سلیم سے انھوں نے معاذ بن قرّہ سے انھوں نے عبداللہ بن مظفرسے روایت کرکے یہ بیان کیا ہے کہ وہ کہتے تھے رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک دن )فرمایاکہ اللہ تبارک وتعالیٰ (اپنے بندوں کو مخاطب کرکے)فرماتاہے کہ اے ابن آدم میری عبادت کے لیے تم(ہرکام سے فارغ ہوجاؤ توہم تمھارے قلب کوغنا سے اور تمھارے دونوں ہاتھوں کو رزق سےبھردیں گے۔اے ابن آدم ہم سے دورنہ ہو ورنہ ہم تمہارے ۱؎ ہم وہی ہیں جو کہ واقعۂ حرہ کے دن بھاگ گئے تھے:اور(حرہ یعنی)گرمی (سال بھر میں)ایک ہی دفعہ جاتی ہے:کیااچھی وہ بہادری اورلڑائی ہے جوکہ بعد فرار کے ہو:پس آج ہم اپنی (اس) بہادری کواس فرار کا عو۔۔۔
مزید
ابن مظعون بن حبیب بن حذافہ بن جمحی قریشی جمحی۔ان کی کنیت ابومحمد ہے۔یہ اوران کے بھائی عثمان بن مظعون ملک حبش میں ہجرت کرکے چلے گئے تھے اور یہ اور ان کے بھائی غزوۂ بدر میں شریک تھے واقدی نے لکھاہے کہ ان کی وفات ۳۰ھ میں ہوئی اس وقت ان کی عمرساٹھ سال کی تھی ان سب بھائیوں میں سے سواقد امہ بن مظعون کے اور کسی سے کوئی حدیث مروی نہیں ہے مظعون کے لڑکے عبداللہ بن عمروبن خطاب رضی اللہ عنہم کے ماموں تھے ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
ابن مطیع بن اسود بن حارثہ بن نضلہ بن عوف بن عبید بن عویج بن عدی بن کعب قریشی عدوی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں پیداہوئے تھے حضرت نے ان کی تحنیک۱؎ کی تھی جب اہل مدینہ نے زمانہ یزید بن معاویہ میں بنی امیہ کو مدینہ سے نکال دیا اوریزید کی بیعت توڑدی تو یہ عبداللہ بن مطیع قریش کے سردارتھےجب واقعہ حرہ میں اہل شام کواہل مدینہ پرفتح حاصل ہوئی تو یہ عبداللہ بن مطیع بھاگ کر مکہ میں عبداللہ بن زبیرسے جاملے اوران کے ساتھ محاصرہ میں شریک تھے جبکہ ان لوگوں ۱؎حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں صحابہ کامعمول تھا جب کسی کے یہا ں بچہ پیداہوتاتھا تو اس کو حضورنبوی میں لے جاتے آپ اس بچہ کو گود میں لیتے دعادیتے اورکھجورچباکر اپنے دہن مبارک سے اس کے منہ میں ڈال دیتے اسی کو تحنیک کہتے ہیں۔ کااہل شام نے واقعہ حرہ میں محاصرہ کرلیاتھااور یہ عبداللہ بن مطیع انھیں کے پاس رہے یہاں تک حجاج بن یوسف نے عبد۔۔۔
مزید
ابن مطیع بن اسود بن حارثہ بن نضلہ بن عوف بن عبید بن عویج بن عدی بن کعب قریشی عدوی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں پیداہوئے تھے حضرت نے ان کی تحنیک۱؎ کی تھی جب اہل مدینہ نے زمانہ یزید بن معاویہ میں بنی امیہ کو مدینہ سے نکال دیا اوریزید کی بیعت توڑدی تو یہ عبداللہ بن مطیع قریش کے سردارتھےجب واقعہ حرہ میں اہل شام کواہل مدینہ پرفتح حاصل ہوئی تو یہ عبداللہ بن مطیع بھاگ کر مکہ میں عبداللہ بن زبیرسے جاملے اوران کے ساتھ محاصرہ میں شریک تھے جبکہ ان لوگوں ۱؎حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں صحابہ کامعمول تھا جب کسی کے یہا ں بچہ پیداہوتاتھا تو اس کو حضورنبوی میں لے جاتے آپ اس بچہ کو گود میں لیتے دعادیتے اورکھجورچباکر اپنے دہن مبارک سے اس کے منہ میں ڈال دیتے اسی کو تحنیک کہتے ہیں۔ کااہل شام نے واقعہ حرہ میں محاصرہ کرلیاتھااور یہ عبداللہ بن مطیع انھیں کے پاس رہے یہاں تک حجاج بن یوسف نے عبد۔۔۔
مزید
ابن مطیع بن اسود بن حارثہ بن نضلہ بن عوف بن عبید بن عویج بن عدی بن کعب قریشی عدوی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں پیداہوئے تھے حضرت نے ان کی تحنیک۱؎ کی تھی جب اہل مدینہ نے زمانہ یزید بن معاویہ میں بنی امیہ کو مدینہ سے نکال دیا اوریزید کی بیعت توڑدی تو یہ عبداللہ بن مطیع قریش کے سردارتھےجب واقعہ حرہ میں اہل شام کواہل مدینہ پرفتح حاصل ہوئی تو یہ عبداللہ بن مطیع بھاگ کر مکہ میں عبداللہ بن زبیرسے جاملے اوران کے ساتھ محاصرہ میں شریک تھے جبکہ ان لوگوں ۱؎حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں صحابہ کامعمول تھا جب کسی کے یہا ں بچہ پیداہوتاتھا تو اس کو حضورنبوی میں لے جاتے آپ اس بچہ کو گود میں لیتے دعادیتے اورکھجورچباکر اپنے دہن مبارک سے اس کے منہ میں ڈال دیتے اسی کو تحنیک کہتے ہیں۔ کااہل شام نے واقعہ حرہ میں محاصرہ کرلیاتھااور یہ عبداللہ بن مطیع انھیں کے پاس رہے یہاں تک حجاج بن یوسف نے عبد۔۔۔
مزید
بن عبدعوف زہری۔سرزمین حبش میں پیداہوئے اور وہیں ان کے والد نے وفات پائی اور ان کی میراث انھیں عبداللہ کوملی ابن اسحاق نے کہاہے کہ اسلام میں سب سے پہلے جس نے اپنے باپ کی میراث پائی وہ یہی ہیں۔ہمیں ابوجعفر بن احمد بن علی نے اپنی سندسے یونس بن بکیر سے انھوں نے ابن اسحاق سے مہاجرین حبش کے ناموں میں بیان کیا ہے کہ خاندان بنی زہرہ سے مطلب بن ازہر بن عبدعوف بن عبدالحارث بن زہرہ بھی تھے اور ان کے ساتھ ان کی بی بی رملہ بنت ابی عوف بن صبرہ بھی تھیں۔ ان سے سرزمین حبش میں یہ عبداللہ بن مطلب پیداہوئے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
صحابی ہیں ان کا شمار اہل شام میں ہے قبیلۂ ازد کے رہنے والے ہیں ان کی حدیث ہشام بن عمارنے رفدہ بن قضاعہ سے انھوں نے صالح بن راشد قریشی سے روایت کی ہے وہ کہتے تھے کہ حجاج بن یوسف کے پاس ایک شخص لایاگیا جس نے اپنی بہن کے ساتھ زناکیاتھاتو حجاج نے کہا اسے قیدکردو اورجولوگ یہاں اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوں ان سے مسئلہ دریافت کرو چنانچہ لوگوں نے عبداللہ بن ابی مطرف سے یہ مسئلہ پوچھا انھوں نے کہا کہ میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے سناہے آپ فرماتے تھے کہ جوشخص دوحرام باتیں ایک ساتھ کرے اس کوتلوار سے دو ٹکڑےکردو پھرلوگوں نے حضرت ابن عباس کے پاس یہ مسئلہ لکھ کر بھیجا انھوں نے بھی ایساہی جواب دیا ابواحمدعسکری نےکہاہے کہ عبداللہ بن ابی مطرف توکوئی شخص معلوم نہیں ہوتے ہاں عبداللہ بن مطرف بن عبداللہ بن مخیر البتہ ایک شخص ہیں اور یہ حدیث مرسل ہے روایت کی گئی ہے کہ حجاج کے پاس ۔۔۔
مزید
کنیت ابوریحانہ۔بعض لوگ ان کا نام شمعون بتاتے ہیں یہ قبیلۂ ازد کے ایک شخص تھے۔ مقام ایلیا (بیت المقدس) میں وعظ کہاکرتے تھے صاحب کشف و کرامات تھے ان سے کریب بن ابرہہ نے اورثوبان بن شہر نے اورہثیم نے اورعبادہ بن نسی نے روایت کی ہے یہ ابونعیم کا قول ہے اور ابن مندہ نے کہاہے کہ یہ قبیلئہ بنی نمیر سے ہیں جوبنی ثعلبہ بن یربوع کی ایک شاخ ہے۔شہربن حوشب نے ابوریحانہ سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایابخار جہنم کی سانس سے پیداہوتاہے مومن کے لئے آتش دوزخ سے صرف اتنا ہی حصہ مقرر ہےہمیں یحییٰ بن محمود نے اجازۃً اپنی سند سے ابوبکر بن ابی عاصم تک خبردی وہ کہتے تھے ہم سے ابوعمیر نے ضمرہ سے انھوں نے ابن عطاء سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے ایک مرتبہ ابوریحانہ کودریاکاسفرپیش آیا دریا کی طغیانی سے انھیں سخت تکلیف ہوئی تو انھوں نے کہااے دریا ٹھیرجات۔۔۔
مزید
ابن مسیب۔عسکری نے ان کو صحابہ میں ذکرکیاہے۔ابن جریج نے محمدبن عباد بن جعفر سے انھوں نے ابوسلمہ بن سفیان اور عبداللہ بن مسیب اورعبداللہ بن عمروسے روایت کی ہے یہ لوگ کہتے تھے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن مکہ میں ہمیں فجرکی نماز پڑھائی آ پ نے نماز میں سورۂ مومنون پڑھنا شروع کی یہاں تک کہ جب حضرت موسیٰ و ہارون و عیسیٰ علیہم السلام کا ذکر آیا تویکایک آپ کوکھانسی آنے لگی پس آپ نے سجدہ کردیا انھوں نے اس حدیث کواسی طرح روایت کیا ہے یہ سندان تینوں سے ثابت ہے اور یہ تینوں اس حدیث کو عبداللہ بن سائب سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید