ابن قیس بن حصن بن حذیفہ بن بدر فزاری۔ عینیہ بن حصن کے بھائی ہیں۔ ان کا نسب ان کے چچا کے نام میں گذر چکا ہے۔ قبیلہ قزارہ کے وفد کے ہمراہ نبی ﷺکے حضور میں پہنچے تھے جب کہ آپ تبوک سے لوٹے ہوء ےآرہے تھے۔ یہ ابو احمد عسکری کا ول ہے۔ اور ابن عباس سے مروی ہے کہ ان کے چچا عینیہ بن حصن ان کے یہاں آئے تھے یہ ان لوگوں میں تھے جن کو حضرت عمر اپنے قریب بٹھائے تھے اور اس کے بعد انھوںنے پورا قصہ بیان کیا۔ میں کہتا ہوں کہ یہ عسکری کا وہم ہے یہ حال حر بن قیس کا ہے۔ ان ک حال پورا اوپر ہوچکا ہے۔ ان کا ذکر اس لئے کر دیا کہ کوئی شخص ان کو دیکھ کر یہ نہ سمجھے کہ یہ صحابی ہیں اور ان کا ذکر ہم سے رہ گیا واللہ اعلم۔ (اس الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن قیس بن حارث بن اسماء بن مر بن شہاب بن ابی شمر۔ نبی ﷺ کے حضور میں وفد بن کے آئے تھے۔ بڑے شہسوار اور شاعر تھے ابن دباغ اندلسی نے ابن کلبی سے ان کا تذکرہ نقل کیا ہے۔ (اس الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن فردہ بن شیطان بن ضریج بن امر القبیس بن حارث بن معاویہ بن حارث بن معاویہ بن ثور۔ نبی ﷺ کے حضور میں وفد بن کے حاضر ہوئے تھ ابن شاہین ین کاہ ہے کہ ابن کلبینے بیان کیاہے کہ ان کے دادا کو اہل عرب شیطان صرف ان کے حسن و جمال کی وجہس ے کہتے تھے۔ نبی ﷺ کے حضور میں وفد بن کے حاضر ہوئے تھے۔ ابو موسی نے ان کے نسب میں قرہ کا نام لکھا ہے حالانکہ میں نے کلبی کی کتاب جمرہ میں ان کا نام فردہ لکھا دیکھا ہے ایسا ہی طبری نے بھ کہا ہے ان کا تذکرہ ابو موسی نے لکھا ہے۔ (اس الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن خفیف سکولی کندی۔ اور بعض لوگ کہتے ہیں (ان کا نام) غضیف بن حارث (ہے) مگر پہلا ہی قول صحیح ہے۔ انکا شمر اہل شام میں ہے۔ حمس میں رہتے تھے ان سے یونس بن سیف عبسی نے رویتکی ہے کہ یہ کہتے تھے میں کوئی بات بھولتا نہیں ہوں میں یہ بات بھی نہیں بھولتا کہ میں نے رسول خدا ﷺ کو دیکھا آپ نماز میں اپنا داہنا ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ پر رکھے ہوئے تھے ان کا تزکرہ تینوں نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن غریۃ۔ اور بعض لوگ ان کو غزیہ بن حارث کہت یہیں۔ ان کا شمار اہل مدینہ میں ہے۔ ان سے عبداللہ بن رافع نے روایت کی ہے۔ یحیی بن حمزہ نے اسحاق بن عبداللہ سے انھوں نے عبداللہ بن رافع سے انھوں نے حارث بن غزیہ سے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا میں نے رسول خداﷺ سے سنا آپ فتح مکہ کے دن فرماتے تھے کہ بعد فتح کے اب ہجرت باقی نہیں ہے اب صرف ایمان اور نیت (نیک) اور جہاد باقی ہے اور عورتوں سے متعہ کرنا حرام ہے اس حدیث کو سوید بن عبد العزیز نے اسحاق بن عبد اللہ بن ابی فردہ سے انھوں نے عبداللہ بن ابی رافع سے روایت کیا ہے ان کا تذکرہ تینوں ن یلکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن عوف بن ابی حارثہ بن مرہ بن نشہ بن غیظ بن مرہ بن عوف بن سعدبن ذبیان بن بفیض بن ریث بن غطفان غطفانی خالد بیانی ثم الرمسی رسول خدا ﷺ کے حضور میں حاضر ہوئے تھے اور اسلام لائے حضرت نے ان کے ہمراہ انصار میں سے ایک شخص کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تھا ان کی قوم کے لوگوںنے انصری کو قتل کر دیا اور حارث ان کو بچا نہ سکے انھیں کے متعلق حسان کے یہ شعر ہیں۔ یا جار یمن بغدریذمستہ جارہ منکم فان محمد الا یعدر ومانتہ المری ما استو دعتہ مثل الزجا بند صدعہا لایجبر (٭ترجمہ۔ اے حارث تم میں سے جو شخص اپنے پروسی کی حفاظت میں بدعہدی کرتا ہے (وہ سمجھ لے) کہ محمد بدعہدی نہیں کرتے قبیلہ مرہ کی امانت اچھی طرح نہ رکھی شیشہ کی طرح اس کی شکست نہیں سکتی) حارث عذر کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یارسول اللہ اللہ کی اور آپ کی قسم کہ یہ واقعہ ابن فریعہ کی شرارت سے ہوا خدا کی قسم وہ ایسا شریر ہ۔۔۔
مزید
ابن عوف بن اسید بن جابر بن عویرہ بن عبد مناف بن شجع بن عامر بن لیث بن بکر بن عبد مناہ بن کنانہ۔ کنیت ان کی ابو واقد لیثی۔ لیث قبیلہ کنانہ کی ایک شاخ ہے ان کے نام میں اختلاف ہے بعض تو وہی بیان کرتے ہیں جو ہم نے بیان کیا اور بعض لوگ کہت یہیں عوف بن مالک اور بعض لوگ کہتے ہیں حارث بن مالک مگر پہلا ہی قول صحیح ہے۔ یہ اپنی کنیت ہی سے مشہور ہیں کنیت کے باب میں ان شاء اللہ تعالی ان کا ذکر کیا جائے گا۔ فتح مکہ سے پہلے اسلام لائے تھے اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ فتح مکہ کے نو مسلموں میں سے ہیں اور قاضی ابو احمد نے اپنی تاریخ میں لکھاہے کہ ہم حنین میں نبی ﷺ کے ہمراہ تھے اور کہا کہ ہم کفر سیس قریب العہد تھے۔ ان سے سعید بن مسیب نے اور عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود نے اور عروہ بن زبیر نے اور عطاء بن یسر نے اور بشر بن سعید وغیرہم نے رویت کی ہے۔ ہمیں ابو جعفر یعنی عبید اللہ بن احمد بن علی وغ۔۔۔
مزید
ابن عمیر ازدی۔ قبیلہ بنی لہب میں سے ایک شخص ہیں۔ انھیں رسول خدا ﷺ نے اپنا خط دے کے ملک شام کی طرف شاہ روم کے پاس بھیجا تھا اور بعض لوگ کہتے ہیں شاہ بصری کی طرف بھیجا تھا راستہ میں ان کو شرحبیل بن عمرو غسانی ملا اس نے ان کی مشکیں کسیں اور ان کو لے گیا پھر یہ باندھ کر قتل کر دیئے گئے۔ رسول خدا ﷺ کا کوئی قاصد ان کے سوا مقتول نہیں ہوا جب رسول خدا ﷺ کو یہ کبر پہنچی تو آپ نے ایک لشکر مرتب کیا جسے موتہ کی طرف بھیجا ان پر زید ابن حارثہ کو آپنے سردر بنایا تھا س لشکر میں قریب تین ہزار آدمی کے تھے اہل روم نے ایک لاکھ آدمیوں سے ان کا مقابلہ کیا۔ ان کا تزکرہ ابو عمر نے ایسا ہی لکھاہے اور بو موسینے صرف ان کا نام لکھ دیا ہے۔ اور کہا ہے کہ ابن شاہین نے ان کو صحابہ میں ذکر کیا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن عمیر ازدی۔ قبیلہ بنی لہب میں سے ایک شخص ہیں۔ انھیں رسول خدا ﷺ نے اپنا خط دے کے ملک شام کی طرف شاہ روم کے پاس بھیجا تھا اور بعض لوگ کہتے ہیں شاہ بصری کی طرف بھیجا تھا راستہ میں ان کو شرحبیل بن عمرو غسانی ملا اس نے ان کی مشکیں کسیں اور ان کو لے گیا پھر یہ باندھ کر قتل کر دیئے گئے۔ رسول خدا ﷺ کا کوئی قاصد ان کے سوا مقتول نہیں ہوا جب رسول خدا ﷺ کو یہ کبر پہنچی تو آپ نے ایک لشکر مرتب کیا جسے موتہ کی طرف بھیجا ان پر زید ابن حارثہ کو آپنے سردر بنایا تھا س لشکر میں قریب تین ہزار آدمی کے تھے اہل روم نے ایک لاکھ آدمیوں سے ان کا مقابلہ کیا۔ ان کا تزکرہ ابو عمر نے ایسا ہی لکھاہے اور بو موسینے صرف ان کا نام لکھ دیا ہے۔ اور کہا ہے کہ ابن شاہین نے ان کو صحابہ میں ذکر کیا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن عمرو بن مومل بن حبیب بن تمیم بن عبداللہ بن قرط بن رزاح بن عدی بن کعب بن لوی قریشی عدوی۔ ان سواروں کے ہمراہ انھوںنے بھی ہجرت کی تھی جو سال خیبر میں بنی عدی سے ہجرت کر کے آئے تھے یہ کل ستر آدمی تھے اور یہ وہ وقت تھا جب تمام بنی عدی نے ہجرت کی تھی اور مکہ میں ان کا ایک شخص باقی نہ رہا تھا۔ ان کا تذکرہ ابو عمر نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید