ابن عبداللہ بن وہب دوسی۔ بخاری نے ان کا ذکر صحابہ میں کیا ہے۔ ان کی حدیث محمد بن حمید رازی سے مروی ہے وہ کہتے تھے ہم سے ابو زہیر یعنی عبدالرحمن بن معز نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہمیں خالد بن معز بن عیاض بن حارث بن عبداللہ بن وہب نے خبر دی کہ حارث اپنے والد کے ہمراہ نبی ﷺ کے حضور میں حاضر ہوئے تھے ان کے والد تو ۰مقام) سراۃ کی طرف واپس چلے گئے ان کے یہاں میوہ جات (کے) درخت بہت تھے جب نبی ﷺ کی وفات ہوئی تو حاث مدینے میں تھے۔ یہ جنگ یرموک میں شریک تھے بالاخر فلسطین میں فروکش ہوئے تھے۔ صفین میں حضرت معاویہ کے ساتھ تھے۔ حضرت معاویہ کے زمان یمیں ان کی وفات ہوئی۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے لکھا ہے۔ (اس الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن عبداللہ بن کعب بن مالک بن عمرو بن عوف بن مذبول۔ انصاری۔ حدیبیہ میں اور اس کے بعد کے مشاہدم یں شریک تھے اور حرہ کے دن شہید ہوئے۔ ابوعمر نے ان کے والد کا ذکر کیا ہے۔ (اس الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن عبداللہ۔ کنیت ن کی ابو علکشہ۔ ان کا شمار اہل شام میں سے اہل رملہ میں ہے نبی ﷺ کے حضور میں وفد بن کے آئے تھے یہ ازدی ہیں اور ان کی حدیث انھیں کے گھر والوں سے مروی ہے۔ ان کا تذکرہ ابو موسینے مختصر لکھا ہے۔ (اس الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن عبداللہ بن سعد بن عمرو بن قیس بن عمرو بن امرء القیس بن مالک اغربن ثعلبہ بن کعب بن خزرج بن ہارث بن خزرج غزوہ احد میں شہید ہوئے تھے۔ ان کا تذکرہ ابو عمر نے لکھاہے۔ (اس الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن عبداللہ بن سائب بن مطلب بن اسد بن عبد العزی بن قصی۔ ان کی حدیث سعید مقبری نے ان سے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا رسول خدا ﷺ نے فرمایا قریش پر پیش قدمی نہ کرو اور نہ قریش کو پڑھائو اگر قریش کو تکبر نہ پیدا ہو جاتا تو میں بتا دیتا کہ کس وجہ سے اللہ عزوجل کے نزدیک ان کی بزرگی ہے۔ ان کا تذکرہ ابو موسی نے لکھاہے۔ (اس الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن عبداللہ بن ابی ربیعہ بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم قریشی مخزومی۔ عیاش بن ابی ربیعہ کے بھتیجے ہیں۔ عبدالکریم بن ابی امیہ نے حارث بن عبداللہ بن ابی ربیعہ سے روایت کی ہے کہ نبی ﷺ کے حضور میں ایک چور لایا گیا الی آخر الحدیث ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے لکھا ہے۔ یہ بھائی ہیں عمر بن عبداللہ بن ابی ربیعہ شاعر کے جن کا نام قباع ہے۔ ان کے متعلق گفتگو حارث ابن ابی ربیعہ کے نام میں ہوچکی ہے۔ یہ ابن زبیر کی طرف سے بصرہ کے حاکم تھے۔ (اس الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن عبداللہ بجلی اور بعض لوگ ان کو جہنی کہتیہیں۔ ان کا شمار اہل کوفہمیں ہے ان کی حدیث حماد بن عمو نصیبی نے زید بن رفیع سے انھوں نے معبد جہنی سے رویت کی ہے کہ انھوں نے کہا مجھے ضحاک بن قیس نے حارث بن عبد اللہ جہنی کے پاس بیس ہزار درہم دے کے بھیجا اور کہا کہ ان سے کہنا امیر المومنین نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم یہ اشرفیاں تم پر خرچ کر دیں لہذا تم اس سے اپنا کام نکالو (چنانچہ میں گیا) حارث نے مجھ سے پوچھا کہ تم کون ہو میں نے کہا میں معبد بن عبداللہ بن عویمر ہوں میں نے کہا امیر المومنین نے مجھے حکم دیا ہے ہ میں آپ سے وہ بات پوچھوں جو ایک کتابی عالم نے آپ سے یمن میں کہی تھی حارث نے کہا اچھا (سنو) مجھے رسول خدا ﷺ نے یمن بھیجا اگر میں جانتا کہ آ کی وفات ہو جائے گی تو ہرگز نہ آپ کو چھوڑتا وہ کہتے تھے پھر میرے پاس ایک کتابی عالم آیا اور اس نے کہا کہ محمد کی وفات ہوگئی میں نے پوچھا کہ کب اس نے کہ۔۔۔
مزید
ابن عبداللہ بن اوس ثقفی۔ بعض لوگ ان کو حارث بن اوس کہتے ہیں ان کا ذکر ہوچکا ہے یہ حجازی ہیں۔ طائف میں رہتے تھے۔ انھوں نے حائضہ عورت کے برے میں روایت کی ہے کہ اس کو آخر میں کعبہ کا طوف کرنا چاہئے۔ ہمیں ابراہیم بن محمد بن مہران وغیرہ نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں کروخی نے اپنی سند سے ابو عیسی ترمذی تک خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں انصر بن عبدالرحمن کوفی نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں محاربینے حجاج بن ارطاۃ سے انھوں نے عبدالملک بن مغیرہ سے انھوں نے بدالرحمن بلیمانی سے انھوں نے عمرو بن اوس سے انھوں نے حارث بن عبید اللہ بن اوس سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے میں نے رسول خدا ﷺ سے سنا آپ فرماتے تھے کہ جو شخص حج کعبہ کرے اس کو آخر میں کعبہ کا طواف کرنا چاہئے۔ ان کا تذکرہ ابو عمر نے لکھاہے۔ (اس الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن عباس بن عبدالمطلب۔ ان کی والدہ قبیلہ ہذیل کی خاتون نتھیں۔ ابو عمر نے ان کا ذکر ان کے بھائی تمام بن عباس کے ذکر میں کیا ہے اور کہا ہے کہ حضرت عباس کے سب بیٹوں نے حضرت کو دیکھا ہے ہم نے بھی ان کا ذکر ویسا ہی لکھاہے جیسا انھوں نے لکھا۔ (اس الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن ظالم بن عبس سلمی۔ یہ ابن مندہ اور ابو نعیم کا قول ہ اور ان دونوں نے کہا ہے کہ ان کی کنیت ابو الاعور ہے۔ ہم نے کنیت کے باب میں ان کا ذکر اس سے زیادہ کیا ہے یہ حارث جنگ بدر میں شریک تھے یہ ابن اسحاق کا قول ہے ان کے نام میں اختلاف ہے ان سے قبس بن ابی حازم نے رویت کی ہے۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے لکھا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ بعض علمائے ابو نعیم اور ابن مندہ کے اس قول کو رد کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ بڑا وہم ہے انھوں نے دو آدمیوں کو ایک کر دیا حارث بن ظالم کی کنیت ابو الاعور ہے اور ابو الاعو سلمی کا نام عمرو بن سفیان ہے ان دونوں کی کنیت ابو الاعور ہے مگر پہلے انصاری خزرجی ہیں بنی عدی بن نجار سے ان کے صحابی ہونے میں کسی کا اختلف نہیں بدوی ہیں اور دوسرے کا نام عمرو بن سفیان سلمی ہے ان کے صہابی ہونے میں اختلاف ہے ابن مندہ اور ابو نعیمنے اندونوں آدمیوں کو ایک کر دیا باوجود یہ ۔۔۔
مزید