صائدی کوفی۔ ابو الفتح ازدی نے ان کو ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ صحابی ہیں مگر ان کی کوئی حدیث نہیں نقل کی۔ انکا تذکرہ ابو موسی نے لکھاہے اور کہا ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ کسی اور نے بھی ان کا ذکر کیا ہے اور ان کو قبیلہ ازد کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن عمرو بن عتیک بن امیہ بن زید بن مالک بن عوف بن عمرو بن عوف بن مالک بن اوس انصاری اوسی غزوہ بدر میں شڑیک تھے۔ ابن اسحاق نے شرکائے بدر میں ان کو ذکر نہیں کیا۔ انک ا تذکرہ ابو عمر نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن عمرو بن عبد شمس بن عبدوو بن نصر بن مالک بن حسل بن عامر بن لوی۔ سہل اور سلیط اور سکران کے بھائی ہیں۔ رسول خدا ﷺ کے ارقم بن ابی الارقم کے گھر میں تشریف لے جانے سے پہلے اسلام لے آئے تھے سرزمیں حبش کی طرف دونوں ہجرتیں انھوں نے کی تھیں ایک قول کیموافق حبش کی طرف ہجرت کرنے والوں میں یہ سب سے پہلے تھے بدر میں رسول خدا ﷺ کے ہمراہ شریک تھے۔ موسی بن عقبہ نے اور ابن اسحاق نے اور واقدی نے ان لوگوںکے نام میں جنھوں نے حبش کی طرف ہجرت کی اور غزوہ بدر میں بھی شریک ہوئے حاطب بن عمرو کا نما لکھاہے جو بنی عامر بن لوی میں سے تھے بعض لوگ ان کو ابو حاطب بھی کہتے ہیں کنیت میں ان شاء اللہ اس کا بیان ہوگا۔ ان کا تذکرہ تینوں نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن عبد العزی بن ابی قیس بن عبدو بن نصر بن مالک بن حسل بن عامر بن لوی۔ عبداللہ بن احلج نے اپنے والد سے انھوں نے بشیر بن تیم وغیرہ سے ان کا تذکرہ نقل کیا ہے ان لوگوںنے کہا ہے کہ بنی عامر بن لوی میںسے حاطب ابن عبد العزی مولفۃ القلوب میں سے تھے۔ ابو موسی نے ان کا تذکرہ مختصر لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن حارث بن معمر بن حبیب بن وہب بن حذافہ بن جمح جمحی۔سرزمیں حبش میں ان کی وفات ہوئی جب یہ وہاں ہجرت کر کے گئے تھے یہ وہاں جب گئے تھے تو ان کے ہمراہ ان کی بی بی فاطمہ بنت مجلل عامر یہ بھی تھیں وہیں ان سے ان کے دونوں بیٹے محمد اور حارث پیدا ہوئے۔ یہ ابو عمر کا قول ہے اور ابن مندہ نے ( اس طرح) لکھا ہے حاطب بن حارث بن معمر بن حبیب انھوںنے سرزمیں حبش کی طرف ہجرت کی تھی اور ان کے ستھ ان کی بی بی فاطمہ اور ان کے دونوں بیٹے محمد اور حارث بھی تھے اور انھوں نے سرزمیں حبش کی طرف ہجرت کی تھی اور ان کے ساتھ ان کی بی بی فاطمہ اور ان کے دونوں بیٹے محمد اور حارث بھی تھے اور انھوں نے ابن اسحاق سے حبش کی طرف ہجرت کرنے والوں کے نام میں حاطب بن حارث بن مغیرہ ابن حبیب بن حذافہ جمحی کا نام بھی نقل کیا ہے مگر یہ وہم ہے جو بروایت یونس بن بکیر کے ابن اسحاق سے منقول ہے اور اسی کو ابن ہشام نے بکائی سے انھوں ن۔۔۔
مزید
ابن ابی بلتعہ۔ ابو بلتعہ کانام عمرو بن عمیر بن سلمہ۔ بنی خالفہ سے ہیں جو ایک شاخ ہے لخم کی۔ اور ابن ماکولا نے کہا ہے کہ (انکا نسب اس طرح ہے) حاطب بن ابی بلتعہ بن عمرو بن عمیر بن سلمہ بن صعب بن سہل بن عتیک ابن سعاد بن راشدہ بن جزیلہ بن لخم بن دی۔ بنی اسد کے حلیف ہیں۔ کنیت ان کی ابو عبداللہ ہے اور بعض لوگ کہتے ہیں ابو محمد اور بعض لوگوں کا بیان ہے کہ یہ قبیلہ مذحج سے ہیں اور حلیف ہیں بنی اسد بن عبد العزی کے بعد اس کے حضرت زبیر بن عوام بن خویلد بن اسد کے حلیف ہوئے۔ اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ عبید اللہ بن حمید بن زبیر بن حارث بن اسد کے غلام تھے انھوںنے ان کو مکاتب (٭مکاتب اس غلام کو کہتے ہیں جس سے اس کا مالک یہ کہہ دے کہ تم اس قدر روپیہ مجھے دے دو تو آزاد ہو جائو گے یہ معاملہ بذریعہ تحریر و کتابت کے ہوا کرتا تھا جو روپیہ غلام دیتا اس کو بدل کتابت کہتے تھے) کر دیا تھا انھوں نے اپنا۔۔۔
مزید
یہ ایک دوسرے شخص ہیں عبدان نے ان کی حدیث ذکر کی ہے انھوں نے کہا ہے کہ رسول خدا ﷺ نے صدقہ فطر کو روزہ دار کے لئے تمام لغو اور فحش باتوں سے پاکی کا سبب قرار دیا ہے جو شخص اس کو قبل نماز (عید) کے ادا کر دے اس کے لئے زکوۃ کا ثواب ہوگا اور جو شخص بعد نماز کے ادا کرے ا کو (معمولی) صدقہ کا ثواب ہوگا ان کا تذکرہ ابو موسی نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن حرام اور بعض لوگ کہتے ہیں ابن حزام۔ خزاعی۔ عقیلی نے ان کو صحابہ میں ذکر کیا ہے۔ ان کی حدیث مدرک بن سلیمان بن عقبہ بن شبیب بن حازم نے اپنے والد سے انھوں نے ان کے دادا شبیب سے انھوں نے اپنے والد حازم سے روایت کی ہے کہ وہ نبی ﷺ کے حضور میں گئے حضرت ن پوچھا کہ تمہارا کیا نام ہے انھوں نے کہا حازم حضرت نے فرمایا نہیں بلکہ تمہارا نام مطعم ہے۔ ابو عمر نے ان کو خزاعی قرار دیا ہے اور ابن مندہ نے ان کو جذامی لکھا ہے۔ ابن مندہ وغیرہ نے (ان کے راوی کانام) مدرک بن سلیمان لکھا ہے اور دارقطنی اور عبد الغنینے بجائے مدرک بن سلیمان کے محمد بن سلیمان لکھا ہے۔ یہ ابن ماکولا کا قول ہے۔ ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن حرملہ بن مسعود۔ غفاری۔ بعض لوگ ان کو اسلمی کہتے ہیں ان سے صرف ایک حدیث مروی ہے۔ ہمیں ابو الفرج یحیی بن محمود اصبہانی نے اپنی سند سے ابوبکر یعنی احمد بن عمرو بن ضحاک تک خبر دی وہ کہت یتھے ہم سے ابراہیم بن منذر حزامی نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہمیں محمد بن معن نے خبر دی وہ کہتے تھے مجھ سے خالد بن سعید نے بیان کیا وہ کہتے تھے مجھ سے ابو نے جو حازم بن ابی حرملہ کے غلام تھے حازم بن حرملہ سے انھوں نے نبی ﷺ سے رویت کر کے بیان کیا کہ آپ نے فرمای الا حول ولا قوۃ الا باللہ ایک خزانہ ہے جنت کے خزانوں میں سے۔ ان کا تذکرہ تینوں نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن ابی حازم احمسی۔ والد ہیں قیس بن ابی حازم کے۔ ابو حازم کا نام عبد عوف بن حارث ہے۔ حازم اور ان کے بھائی قیس دونوں رسول خدا ﷺ کے زمانے میں مسلمان ہوچکے تھے مگر آپ کو یکھا نہیں۔ حازم جنگ صفین میں حضرت علی کے ہمراہ قبیلہ احمس اور بحیلہ کے جھنڈے کے نیچے شہید ہوئے۔ ان کا تذکرہ ابو عمر نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید