بن عبید بن ایاس البلوی: یہ انصار کے بنو ظفر کے حلیف تھے۔ ابن اسحاق اور ابن عقبہ نے انہیں غزوۂ بدر کے شرکاء میں شامل کیا ہے۔ تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
ان کا شمار صحابہ میں ہوتا ہے۔ انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی اور خود ان سے ان کے بیٹے کلیب بن منفعہ نے روایت کی۔ انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، یا رسول اللہ! مَیں کس سے بھلائی کروں۔ فرمایا، اپنی ماں سے۔ ابو عمر نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
بن ذہل: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔ ان کے بیٹے لاحق بن معد نے ان سے روایت کی ہے۔ ابو موسیٰ نے مختصراً ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن ذہل: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔ ان کے بیٹے لاحق بن معد نے ان سے روایت کی ہے۔ ابو موسیٰ نے مختصراً ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن حارث بن لحی بن شرجیل بن حارث الکندی: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہُوئے تھے۔ یہ ہشام بن کلبی کا قول ہے۔۔۔۔
مزید
بن رفاعہ: ابو رمثہ ان کی کنیت ہے۔ یحییٰ بن مندہ نے ابو العباس احمد بن حسن نصیری حاکم ابو عبد اللہ سے اسی طرح روایت کی ہے۔ اس کے علاوہ اوروں کا بھی یہی خیال ہے۔ ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن شراجیل بن شیطان بن خدیج بن امرء القیس بن حارث بن معاویہ الکندی: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ یہ ابن الکلبی کا قول ہے۔۔۔۔
مزید
بن قیس: ان کا عرف اشعث الکندی تھا۔ ہم اس سے پہلے ان کا ذکر اشعث مستوفی اور ان کے بھائی سیف کے ترجمے میں آئے ہیں۔ ۔۔۔
مزید
جزری: سلیمان بن مغیرہ نے مبذول بن عمرو سے انہوں نے مہدی جزری سے روایت کی، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین آمیوں کو تھوڑی بہت بد خلقی کی جازت ہے: مریض مسافر اور روزہ دار۔ ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ نیز ان کا خیال ہے کہ حدیث مرسل ہے۔۔۔۔
مزید
بن عمرو الاصم بن قیس بن مسعود بن عامر بن عمرو بن ابی ربیعہ بن ذہل بن شیبان بن ثعلبہ بن عکابہ بن صعب بن علی بن بکر بن وائل شیبانی: ان کا نام نعمان تھا، لیکن عرف مفروق تھا اور اسی نام سے مشہور ہُوئے۔ ابان بن ثعلب نے عکرمہ سے، انہوں نے ابن عباس سے انہوں نے علی بن ابی طالب سے روایت کی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دورۂ بنو شیبان کے دوران میں ’’اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ وَ اِیْتَآئِ‘‘ الخ پڑھی۔ اس محفل میں مثنی بن حارثہ، مفروق بن عمرو ہانئی بن قبیصہ اور نعمان بن شریک موجود تھے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی طرف توجہ فرمائی۔ انہوں نے گزارش کی۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ان لوگوں کے علاوہ جو اپنی قوم میں معزز شمار ہوتے ہیں اور کسی سے امداد کی توقع نہیں رکھی جاسکتی۔ اس موقعہ پر مفروق بن عمرو نے جو اپنی قوم میں زبان اور جمال ۔۔۔
مزید