ابن عمروبن حلحلہ ۔ان کا ذکر لوگوں نے صحابہ میں کیا ہے مگر یہ غلطی ہے محمد بن عبداللہ بن عمرو بن حلحلہ نے اپنے والدسے اور رافع بن خدیج سے روایت کی ہے کہ یہ دونوں کہتے تھے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ کے دن غسل کرنااورمسواک کرنا ہربالغ پرواجب ہے ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھا ہے۔۔۔۔
مزید
ابن عمروبن زید بن خمز بن عوشیاں بن عمرو بن مالک بن تیہان الہانی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور میں گئے تھےحضرت نے ان کا نام پوچھاتو انھوں نے کہا عبدالزیٰ حضرت نے فرمایاتمھارانام عبداللہ ہے۔اس کوکلبی نے بیان کیا ہے۔۔۔۔
مزید
خواجہ رفیع الملۃ والدین سلطان المشائخ کے حقیقی بھانجے ہیں جو مکارم اخلاق کے ساتھ موصوف اور جناب سلطان المشائخ کی قربت و شفقت کے ساتھ مخصوص و معروف تھے اور بچپن کے زمانہ سے بڑھا پے تک سلطان المشائخ کی نظر مبارک میں پرورش پائے ہوئے تھے۔ آپ سلطان المشائخ کی مہربانی و شفقت کی وجہ سے کلام ربانی کے حافظ ہوگئے تھے۔ سبحان اللہ اس شفقت و مہربانی کا کیا کہنا جو سلطان المشائخ کو آپ پر تھی کہ اگر کسی وقت یہ بزرگ کھانا کھاتے وقت دستر خوان پر نہ ہوتے تو سلطان المشائخ با وجود اس قدر بزرگوں کے ہوتے کھانے میں توقف کرتے اور ان بزرگ کے پہنچنے کا انتظار کرتے۔ آپ کے پاس جو تحفے اور ہدیئے آتے ان میں سے کافی حصہ آپ کو بھیجتے او راپنے تمام اقرباء کی فہرست میں اس بزرگ کااول نمبر رکھتے اور اپنے فرزندوں کی جگہ ظاہر و باطن میں آغوش محبت اور سایۂ عاطفت میں پرورش کرتے تھے ہر وقت انہیں دیکھ کر مسکراتے اور نہایت خن۔۔۔
مزید
مولانا فخرالدین مروزی افضل زہاد زینت عباد مولانا فخر الملہ والدین جمال ورع اور کمال تقوی سے آراستہ تھے اور قطع نظر اس کے کلام ربانی کے حافظ تھے آپ سلطان المشائخ کے مصاحبان قدیم اور مریدان سابق میں شمار کیے جاتے تھے آخر عمر میں سلطان المشائخ کی خدمت میں زندگی بسر کی اور غیاث پور تو طن اختیار کیا باوجود مبالغہ تقویٰ اور انتہا درجہ کی طہارت و تزکیہ کے ترک و تجرید میں بہت کوشش کی۔ آپ ہمیشہ کلام مجید کے لکھنے میں مصروف رہتے اور اختلاف خلق سے الگ زندگی بسر کرتے تھے عظمت و کرامت میں اپنا نظیر نہ رکھتے تھے اور مردانِ غیب سے ملاقات حاصل ت ھی۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ آپ سلطان المشائخ کی خدمت میں اپنا ایک واقعہ اس طرح بیان کرنے لگے کہ ایک دن مجھ پر پیاس کا غلبہ ہوا اور میرے پاس کوئی ایسا شخص نہ تھا جس سے پانی مانگوں۔ دفعۃً پانی کا بھرا ہوا ایک کوزہ غیب سے پیدا ہوا۔ میں نے اس کوزہ کو فوراً توڑ ڈالا سارا۔۔۔
مزید
قاضی شرف الدین مولانا حسام الدین ملتانی کے یار تھے جو سلف کی سیرت و صورت رکھتے اور فخر خلف تھے آپ کو قاضی شرف الدین فیروز گہی بھی کہتے تھے۔ آپ وفور علم اور زہد و تقوی کے ساتھ آراستہ اور ترک تکلف سے پیراستہ تھے قرآن مجید کے حافظ اور درگاہ سبحانی کے عاشق تھے۔ اگر کوئی شخص آپ کو دیکھتا تو بے ساختہ بول اٹھتا کہ یہ کوئی مقرب فرشتہ ہے جو اس ہئیت سے زمین پر چلتا ہے یہ بزرگوار علوم کا کافی حصہ رکھتے اور فضل و بزرگی میں ایک آیت تھے۔ کاتب حروف نے دیوانِ احسن حسن بزرگ کے سامنے رکھا ہے ار اس کے دقائق و حقائق دریافت کیے ہیں۔ آپ کا دستور تھا کہ اپنے گھر کی ضروری اور مایحتاج چیزیں مثلاً غلہ لکڑی وغیرہ خود اٹھا کر گھر میں لاتے۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ آپ کھچڑی اور لکڑیاں ہاتھ میں لیے ہوئے رستہ میں چلے آ رہے تھے کہ سامنے سے قاضی کمال الدین صدر جہان مرحوم نے آپ کو دیکھا باوجود اس کروفر اور حشمت و شوکت کے صدر ۔۔۔
مزید
زاہدِ یگانہ عابدِ زمانہ خدا تعالیٰ کا منتخب و بر گزیدہ شرف اختصاص کے ساتھ مخصوص خواجہ ابو بکر مصلی دار خاص ہیں جو سلطان المشائخ کی قرابت کے شرف کے ساتھ مشرف تھے اور خلا ملا میں آپ کی خدمت میں مصروف رہتے تھے اگرچہ آپ کو سلطان المشائخ کی خدمت میں سے کوئی وقت سانس لینے کو نہیں ملتا تھا اور ہر وقت اس میں مصروف و مشغول رہتے تھے۔ لیکن پھر بھی ہمیشہ روزہ سے رہتے تھے بلکہ کئی کئی دن گزر جاتے اور آپ افطار نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ آپ کا شکم مبارک پیٹھ سے لگ جاتا تھا۔ قطع نظر اس کے آپ انتہا درجہ کی مشغولی اور سخت مجاہدہ میں محو رہتے تھے۔ جب جمعہ کے دن سلطان المشائخ کا مصلا نماز فجر کے بعد کیلوکھری کی جامع مسجد میں لے جایا کرتے تھے۔ جب جمعہ کا دن ہوتا تھا تو سلطان المشائخ فرمایا کرتے تھے کہ خواجہ ابو بکر میرا مصلّٰی جامع مسجد میں لے گئے ہیں اور مشغول بحق ہیں۔ خواجہ ابو بکر کو سماع کا بہت ذ۔۔۔
مزید
عابد اہل طریقت۔ افضل اہل حقیقت مولانا بہاؤ الملۃ والدین ادہمی رحمۃ اللہ علیہ کو اس زمانہ کے لوگ دار الامانی بھی کہتے تھے علم میں کافی حصہ رکھتے تھے اور تقوی کامل سے آراستہ تھے۔ دنیائے غدار میں بہت دن تک زندہ رہے اگرچہ آپ عالمانہ تزک و احتشام رکھتے تھے لیکن حقیقت میں اہل تصوف کی صفت سے موصوف تھے جب آپ اپنے قدیم وطن ملتان سے شہر دہلی میں تشریف لائے تو سلطان المشائخ کی سلک ارادت میں منسلک ہوئے اور صرف جناب سلطان المشائخ کی محبت و عشق کی وجہ سے شہر میں سکونت اختیار کی۔ اس کے بعد آپ کا ہمیشہ یہ دستور رہا کہ جب سلطان المشائخ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو دن کو وہاں رہتے اور شب کو کاتب حروف کے والد بزرگوار کے مکان پر رونق افروز ہوتے اور وہیں سوتے۔ آپ انتہا درجہ کے تقوی و ورع کے سبب ہر روز غسل کرتے اور ترک و تجرید میں انتہا سے زیادہ کوشش کرتے۔ آخر الامر چند روز بیمار رہ کر کر انتقال ف۔۔۔
مزید
مولانا قاسم جو سلطان المشائخ قدس اللہ سرہ العزیز کے بھانجوں میں سے ایک نہایت نامور بلند اقبال شخص ہیں۔ خواجہ عمر کے صاحبزادے اور خواجہ ابو بکر کے بھتیجے ہیں جو لطائف التفسیر کے مشہور مصنف ہیں۔ آپ تفسیر کے دیباچہ میں فرماتے ہیں کہ رحمت پرور دگار کا امید وار بندہ قاسم جناب سید السالکین برہان العاشقین نظام الحق والدین کے حقیقی بھانجے کا فرزند عرض کرتا ہے کہ جب خدا تعالیٰ نے اس فقیر پر اپنی عنایت سابقہ کی اور اس بیچارہ کو عدم کے پردہ سے عالم وجود میں لایا تو طرح طرح کی نعمتوں کے ساتھ مخصوص کیا جس میں سے بعض نعمتیں جو فلاح دارین کی موجب اور دین و دنیا کی سعادت کے باعث ہیں۔ منجملہ ان کے ایک یہ ہے کہ اس خاکسار کو سلطان المشائخ قطب الاقطاب عالم کی نظرِ مبارک میں ملحوظ رکھا اور آپ نے اپنے طرح طرح کے باطنی انفاس سے جو حقیقت میں غیب کی کان اور لاریبی علوم کے قرار کی جگہ ہے۔ زب۔۔۔
مزید