مالک دنیا، طالب عقبی خواجہ مؤید الدین رحمۃ اللہ علیہ جن کا ظاہر صفا سے آراستہ اور باطن وفا سے پیراستہ تھا زہد و تقوی میں معروف اور اعتقاد خوب میں مشہور تھے۔ آپ ابتدا میں دنیاوی کاموں میں مصروف تھے امور سلطنت کی بجا آوری کو فرض منصبی سمجھتے اور بادشاہ زادہ معظم کے لقب سے یاد کئے جاتے تھے جس زمانہ میں سلطان علاؤ الدین ولی عہدی کے منصب پر ممتاز تھا اسے شاہ وقت کی طرف سے جاگیر ملی تھی تو خواجہ مؤید الدین اس کی پیشی میں نہایت اہم اور عظیم الشان امور کو انجام دیتے۔ چونکہ سعادت ابدی روز ازل سے آپ کی قسمت میں لکھی جا چکی تھی لہذا آپ سلطان المشائخ کے غلاموں کی سلک میں داخل ہوئے اور بالا ختیار دنیاوی تجملات سے ہاتھ اٹھا لیا۔ جب سلطان علاؤ الدین تخت شاہی پر جلوہ آرا ہوا اور مستقل طور پر سلطنت کی باگ اس کے ہاتھ میں دی گئی تو اس نے خواجہ کو یاد کیا اور جب سنا کہ وہ تارک دنیا ہوگئے ہیں اور سلطان ا۔۔۔
مزید
عرف شکر خائے تھا نیسری اپنے باطنی نور اور اندرونی فراست سے دنیا و آخرت کو دیکھتے تھے۔ زہد تمام اور ورع رکھتے تھے محبت و عشق میں ایک آیت تھے اور یاران اعلی میں اوصاف حمیدہ کے ساتھ موصوف تھے اور علاوہ ان باتوں کے اعتقاد پیر میں اپنا نظریہ نہ رکھتے تھے ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ آپ سلطان المشائخ کے روضہ اقدس کے آگے تشریف رکھتے تھے اور کاتب حروف بھی حاضر خدمت تھا کہ آپ نے تاویلات محبت اور رموز عشق میں بحث چھیڑدی اور اسے نہایت عمدہ طور پر تکمیل کو پہنچایا۔ کاتب حروف نے اپنے حوصلہ ضعیف کے مطابق ان امثال احکامات اور عشق آمیز ابیات درد انگیز اشعار سے جو آپ دلی جذبات اور ذوق و شوق سے فرما رہے تھے اور آپ کی اثر صحبت سے محفل میں ایک شور و اضطراب برپا تھا بہت سے نظائر مستنبط کئے اس حالت میں یہ بزرگ اپنے عشق صادق کی وجہ سے خود ذوق حاصل کر رہے تھے۔ جب یہ مجلس برخاست ہوئی ت۔۔۔
مزید
صوفیوں کے جمال متقیوں کے شرف خواجہ تاج الملۃ والدین رحمۃ اللہ علیہ وادری زہد و تقویٰ کی مجسم تصویر تھے۔ آپ شروع شروع میں دنیا اور اہل دنیا کے ساتھ تعلق رکھتے تھے لیکن جب سعادت ابدی نصیب ہوئی تو آپ نے اس ذلت و خواری کو یک لخت ترک کر دیا اور سلطان المشائخ کی دولت ارادت سے مشرف و ممتاز ہوئے۔ سلطان المشائخ کی الفت و محبت آپ کے دل مبارک میں اس طرح متمکن اور جاگیر ہوئی کہ تمام دنیاوی تعلقات یکبارگی قطع کر دئیے اور فقر و مجاہدہ اور فاقہ کو اپنی دولت و ثروت جان لیا شیخ سعدی نے کیا خوب فرمایا ہے۔ بپائے سر در افتادہ چو لالۂ و گل کہ او شمائل قد نگار من دارد (سرو کے قدموں میں مثال لالۂ و کل پڑا ہوا ہوں کہ وہ میرے نگار سے قد میں مماثلت رکھتا ہے۔) اے سرو بتو شادم شکلت بفلان ماند اے گل زتو خوشنو دم تو بوے کسے داری (اے سرو میں تجھے دیکھ کر شاد کام ہوں کہ ۔۔۔
مزید
جنہیں لوگ اجنی کہتے تھے۔ ایک بوڑھے عزیز تھے نورانی۔ اگرچہ ابتدائے حال میں آپ دنیا کی طرف مشغول تھے اور اہل دنیا سے میل جول رکھتے تھے لیکن جب سعادت ابدی کا ستارہ اوج اقبال پر چمکا تو آپ سلطان المشائخ کے غلاموں کے سلک میں داخل ہوئے اور حضور کی مجلس اقدس میں نشست و برخاست کرنے کا مرتبہ پایا سلطان المشائخ کے ملفوظات سے آپ نے ایک عجیب و غریب کتاب مرتب کی ایک دفعہ ان بزرگوار نے سلطان المشائخ کی خدمت میں عرض کیا کہ اگر ارشاد ہو تو آنے جانے والوں کے لیے ایک مکان تیار کروں فرمایا کہ خواجہ شمس الدین! یہ کام ان مشاغل سے کسی طرح کم نہیں ہے جن سے تم باہر آئے ہوئے ہو۔ ازاں بعد سلطان المشائخ نے آپ کو وہ دوات عنایت کی جو آپ کی حضور میں رکھی ہوئی تھی اور اس میں اس طرف اشارہ تھا کہ جو آپ کو آخر عمر میں پیش آیا یعنی لوگوں نے پھر انہیں دنیاوی اعمال میں مشغول کیا اور ظفر آباد کی جاگیر ان کے ح۔۔۔
مزید
سوختہ محبت ساختہ مودت خواجہ شمس الدین رحمۃ اللہ علیہ امیر حسن شاعر کے بھانجے تھے جو جناب سلطان المشائخ کے اعلیٰ درجہ کے مریدوں میں شمار کئے جاتے اور آپ کی محبت کے ساتھ عام و خاص میں بے نظیر شہرت رکھتے تھے۔ کاتب حروف نے اپنے والد بزرگوار رحمۃ اللہ علیہ کو فرماتے سنا ہے کہ جس وقت یہ عاشق صادق حضرت سلطان المشائخ کے جماعت خانہ میں نماز کے لیے حاضر ہوئے تو نماز کی تحریمہ باندھتے وقت جب تک سلطان المشائخ کے جمال مبارک کو نہ دیکھتے تحریمہ باندھتے یعنی جماعت کی صف سے اپنا سر مبارک باہر نکالتے اور سلطان المشائخ کا روے جہان آرا دیکھ کر نیت باندھتے امیر خسرو نے کیا خوب کہا ہے۔ در اثنائے نماز اے جان نظر بر قامتت دارم مگر ار قامت خوبت قبول افتد نماز من (جانمن اثنائے نماز میں میں اپنی نظر تیرے قد پر جمائے رکھتا ہوں کہ شاید تیرے خوبصورت قد سے میری نماز قبولیت کا جامہ پہنے۔) خلاصہ کلام یہ کہ جب عاشق۔۔۔
مزید
کی روش اور چال چلن بالکل سلف کی روش جیسی تھی ان بزرگ کے حق میں سلطان المشائخ نے فرمایا کہ وہ نیک مرد اور سعادت اندوز ہے۔ آپ نے مولانا شمس الدین یحییٰ کی خدمت میں اکشاف کی قراءت کی تھی اور انتہا درجہ کی مشغولی اور کمال مرتبہ کی ترک تجرید میں مشغول تھے کبھی کوئی وقت آپ پر ایسا نہیں گزرا کہ اس میں آپ کے پاس کوئی غلام اور ہاتھ بٹانے والا آدمی ہو اور آپ کی خدمت کرے لیکن آخر وقت میں ایک لونڈی آپ کو دستیاب ہوگئی جس سے دو اولادیں پیدا ہوئیں اگرچہ یہ لونڈی اپنے آقا کے گھر کا تمام کام کاج کرتی تھی لیکن مولانا قوم الدین اپنے حصہ کا آٹا اپنے ہاتھ سے پیستے۔ غرضکہ اس قسم کا مجاہدہ و ریاضت جو مولانا موصوف کو حاصل تھی دوسرے کو کم میسر ہوتی۔ رحمۃ اللہ علیہ۔۔۔۔
مزید
ابن عمر و بن احوص۔ہمیں عبداللہ بن احمد خطیب نے خبردی وہ کہتے تھے ہمیں طراد بن محمد زینبی نے خبردی وہ کہتے تھے ہمیں بلالی حفارنےحسین بن یحییٰ بن عباس سے انھوں نے حسن بن محمد بن صباح سے انھوں نے عبیدہ بن حمیدسے انھوں نے یزید بن ابی زیاد سے انھوں نے سلیمان بن عمرو بن احوص سے انھوں نے اپنی والدہ سے روایت کرکے خبردی کہ ہو کہتی تھیں میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو حجرہ العقبہ کے پاس سواری پردیکھا آپ فرمارہے تھے کہ اے لوگو جو شخص حجرہ کو کنکر یاں مارے تو اسے چاہیے کہ خذف کی کنکریوں سے مارے وہ کہتے تھے کہ میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان میں کنکریاں دیکھیں پھر آپ نے کنکریاں ماریں اور سب لوگوں نے ماریں پھرآپ لوٹ گئے اس کے بعد ایک عورت اپنے لڑکے کو لے کر آئی اس لڑکے کو کچھ بیماری تھی پھراس عورت نے کہاکہ اے نبی اللہ میرا بیٹایہ ہے پس اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم ۔۔۔
مزید
ابن عمرو بن بجزہ بن خلف بن صداد بن عبداللہ بن قرطہ بن عدی بن کعب قرشی عدوی۔فتح مکہ کے دن اسلام لائے اور جنگ یمامہ میں شہید ہوئے ہم ان کی کوئی روایت نہیں جانتے۔ ان کا تذکرہ موسیٰ بن عقبہ اور ابن اسحاق نے ان لوگوں میں کیاہے جو خاندان بنی عدی بن کعب سے جنگ یمامہ میں شہید ہوئے اور ابومعشر نےکہا ہے کہ ان کا خاندان یمن میں ہے ان کے گھرانے کو بجرہ بن عبداللہ بن قرط نے قتینی بتایاتھا۔۔۔۔
مزید
شیخ علی الاطلاق قطب باتفاق، اسرر کے سر چشمہ، انوار کے مطلع، دنیا جہان کی شمع، بنی آدم کے بادشاہ نامدار شیخ الاسلام قطب الحق والدین بختیار اوشی قدس اللہ سرہ العزیز ہیں۔ آپ جناب شیخ الاسلام معین الدین حسن سنجری کے مشہور اور نامور خلیفہ اور اکابر اولیاء کے سرتاج۔ اجلہ اصفیا کے مقتدا ہیں تمام اولیاء وقت اور اصفیاء عصر آپ کے معتقد و فرما نبردار تھے اور نہایت وقعت و قبول کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ ’’ولِی معَ اللہ‘‘ کے شغل کے ساتھ موصوف اور ترک و تجرید کے ساتھ مخصوص تھے۔ آپ رجب المرجب کے مہینے ۵۲۲ ہجری میں شہر بغداد امام ابو اللیث سمر قندی رحمۃ اللہ علیہ کے مسجد میں شیخ شہاب الدین سہروردی اور شیخ اوحد کرمانی اور شیخ برہان الدین چشتی اور شیخ محمد صفاہانی کے سامنے شیخ الاسلام شیخ معین الدین سنجری کی بیعت کے شرف سے ممتاز ہوئے اور آپ کے اعتقاد و ارادت کا حلقہ اطاعت کے کان می۔۔۔
مزید
عارفوں کے سلطان عاشقوں اور محقیقں کے تاج، اصحاب دین کے پیشوا، ارباب یقین کے مقتدا، عالمِ گمنامی و عزلت کے گوشہ نشین سِرّ دوست کے مخزن، اقلیم اعظم کے سردار اقطاب عالم کے قطب یعنی شیوخ العالم شیخ فرید الدین شکر بار مسعود گنج شکر اجودھنی چشتی قدس اللہ سرہ العزیز ہیں جو فقر اور مساکین کے پناہ اور سلمان کے فرزند رشید ہیں اور جوابدی سعادت اور سرمدی دولت سے مالا مال ہیں۔ شیخ فرید الدین قدس سرہ اتقا و پرہیز گاری ورع و زہد، ترک دنیا تجرید عشق کا شوق اور کلام محبت کے اشارات و رموز میں بے نظیر زمانہ اور اپنے عہد و دولت مہد میں یگانہ تھے۔ میدانِ کرامت اور عالم دین کے سرداروں سے سبقت لے گئے تھے اور اپنی بے مثل شہرت میں مستثنیٰ اور ممتاز تھے۔ آپ شیخ الاسلام قطب الدین بختیار اوشی کے معزز خلیفہ تھے اور ان کے باجاہ و جلال اور عظمت و بزرگی کے دربار سے عام اور مطلق اجازت رکھتے تھے آپ ایسے عالی ہمت اور ۔۔۔
مزید