جمعہ , 07 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Friday, 24 April,2026

خواجہ موسیٰ رحمتہ اللہ علیہ

علم میں مشہور حلم میں مذکور زہد و تقوی کے ساتھ موصوف خواجہ موسیٰ ابن مولانا بدر الدین اسحاق ہیں جو خواجہ محمد امام کے برادر حقیقی تھے۔ ان بزرگوار نے بھی جناب سلطان المشائخ کی نظر مبارک میں پرورش پائی تھی اور تمام علوم میں کمال حاصل کیا تھا اپنے زمانہ کے ذو فنون اور فرزانہ عصر تھے آپ نے اصول فقہ میں بزودی مولانا وجیہہ الدین پائلی سے پڑھی تھی اور کلام ربانی کے حافظ تھے تحقیق سخن میں کوشش کرتے اور طبع فیاض اور  لطافت بہت کچھ رکھتے تھے عربی و فارسی اشعار  و نظم میں پورا حصہ حاصل تھا اور اکثر اوقات پر سوز غزل کہتے تھے جو لوگ علم موسیقی میں مہارت نامہ اور ورک کامل رکھتے تھے خاص کر علم حکمت میں وہ کمال پایا تھا جس کی نظیر اس زمانہ میں باوجود تلاش کے بھی دستیاب نہیں ہوتی تھی او رساتھ ہی تجربات حکمت میں بھی پرلے درجہ کا کمال حاصل تھا اپنے بڑے بھائی خواجہ محمد  امام کی غیبت میں خود سل۔۔۔

مزید

شیخ بدر الدین سلیمان رحمتہ اللہ علیہ

شیخ المشائخ طریقت آفتابِ عالم حقیقت  شیخ بدر الملۃ  والدین سلیمان ہیں جو علم تقوی کے ساتھ مشہور اور  مشائخ کبار کے اوصاف کے ساتھ موصوف تھے۔ شیخ شیوخ العالم  کے انتقال کے بعد جناب شیخ شیوخ العالم فرید الحق والدین اپنے والد کے سجادہ  پر باتفاق راے تمام بھائیوں اور  ان اہل  ارادت  کے جو وہاں حاضر و موجود بیٹھے تھے اور اس  مقام کو نور  حضور حضور سے منور  و روشن کیا۔ کیونکہ آپ ہی الولد سر لابیہ کے پور سے فوٹو تھے۔ کاتب حروف نے اپنے والد بزرگوار سید محمد مبارک کرمانی رحمۃ اللہ علیہ سے سنا ہے کہ شیخ بدر الدین سلیمان محلوق نہ تھے بلکہ سر پر مانگ رکھتے تھے جیسا کہ مشائخ چشت قدس اللہ سرہم العزیز کا طریقہ ہے کیونکہ آپ خلفائے چشت سے بیعت  رکھتے اور دست خلافت  حاصل کیے ہوئے تھے اور اس کی کیفیت یہ ہے کہ جب لوگوں نے خواجہ قطب الدین چشتی قدس۔۔۔

مزید

خواجہ یعقوب رحمتہ اللہ علیہ

سیرتِ خوب، اہل دلوں کے نزدیک محبوب، خواجہ یعقوب ہیں جو شیخ شیوخ العالم کے سب فرزندوں میں چھوٹے اور فیاضی و سخاوت میں مشہور تھے آپ کی کرامتیں آشکار تھیں اور  دعائیں قبول ہوتی تھیں۔ آپ اہل ملامت کی راہ چلتے اور اس  کے مخالف خلق پر ظاہر کرتے مشغول بحق رہتے۔ طبع فیاض اور لطافت تام رکھتے تھے۔ کاتبِ حروف نے اپنے والد بزرگوار سید محمد کرمانی سے سنا ہے۔ فرماتے تھے کہ میں اکثر اوقات سفر و حضر میں شیخ زادہ عالم صاحبزادہ داریں خواجہ یعقوب کا مصاحب رہتا تھا بہت کم ایسے موقع پیش آئے ہوں گے جن میں کسی ضرورت خاص کی وجہ سے آپ کے ہمراہ نہ رہا ہوں گا۔ ایک دفعہ کا ذکر  ہے کہ خطہ  اودھ میں آپ کے ساتھ گیا۔ جب اودھ میں پہنچے تو ایک سرا میں اترے۔ شیخ زادے مجھے سرا میں چھوڑ کر شہر کی سیر و  تماشے کے لیے باہر تشریف لے گئے ایک پہر رات گزر چکی تھی لیکن آپ سرا میں تشریف نہیں لائے اور کسی جگہ ۔۔۔

مزید

شیخ کمال الدین رحمتہ اللہ علیہ

کمال طریقت جمال حقیقت شیخ زادہ کمال الحق والدین ابن شیخ زادہ بایزید ابن شیخ زادہ نصر اللہ ہیں جن کا لباس تکلف و بناوٹ سے ہمیشہ خالی ہوتا تھا اور جو فیاضی  سخاوت میں عدیم المثال اور بے نظیر تھے۔ آپ بہت سی روٹیاں پکواتے اور محتاج و مساکین کو تقسیم کرتے اور لذیذ و مزیدار کھانوں سے ہمیشہ احتراز کرتے اگر آپ سفر کا قصد کرتے تو رویٹوں کے بہت سے بھرے ہوئے تھیلے آپ کے ساتھ ساتھ ہوتے جس زمانہ میں یہ بزرگوار سلطان محمد تغلق کے عہد حکومت میں دہارے جو آپ کی سکونت کا مقام تھا دہلی میں تشریف لائے تو کاتب حروف اس خاندان معظم کے ان حقوق کی رعایت کی وجہ سے جو اس کے آباؤ اجداد رکھتے تھے ان بزرگوار کی خدمت میں حاضر ہوا تھا اس وقت شیخ حجرہ کے اندر چار پائی پر بیٹھے ہوئے تھے جوں ہی کاتب حروف کو دیکھا حجرہ کے اندر سے ایک دیگچی ہاتھ مبارک میں لیے ہوئے باہر تشریف لائے اور ایک مٹی کا بڑا  ساطباق خدام نے ل۔۔۔

مزید

خواجہ محمد رحمتہ اللہ علیہ

شیخ شیوخ العالم کے عام نواسوں کے سر دفتر شیخ زادہ معظم و مکرم خواجہ محمد ابن مولانا بدر الدین اسحاق ہیں جن کی والدۂ محترمہ شیخ شیوخ العالم کی صاحبزادی تھیں۔ یہ شیخ زادے تمام اوصاف حمیدہ کے ساتھ موصوف اور علوم دینی اور تقویٰ و طہارت موزونی طبع ذوق سماع  جگر سوز گریہ اور فیاضی طبع سخاوت  شجاعت  میں مشہور  و مذکور تھے۔ بچپنے کے زمانے سےلے کر بڑھاپے تک حضرت سلطان المشائخ کی نظر مبارک میں پرورش پائی۔ کلام ربانی کے حافظ ہوئے اور علوم و افر عشق کامل حاصل کیا حتی کہ سلطان المشائخ کی حالت زندگی ہی میں آپ کی خلافت  کے معزز و ممتاز  مرتبے کو پہنچ گئے۔ اور سلطان المشائخ کی حیات  میں خلق خدا سے بیعت لینے لگے۔ خواجہ محمد سلطان المشائخ کی امامت کے ساتھ مخصوص تھے۔ چنانچہ آج کے دن تک لوگ آپ کو خواجہ محمد امام کہہ کر پکارتے ہیں۔ سلطان المشائخ کو آپ کی امامت میں رقت و ذوق ح۔۔۔

مزید

شیخ حبیب جعفری قدس سرہ

  آپ بنگال کے رہنے والے تھے شیخ محمد حالیہ رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت تھے بڑے صاحب عظمت و شہامت بزرگ تھے پہلے قصبہ حالیہ میں رہتے تھے پھر بجنیر چلے آئے تیس سال تک ضرورت کے بغیر اپنے حجرۂ عبادت سے باہر نہیں نکلے ہمیشہ روزہ رکھتے تھے لوگوں سے نذرانے قبول نہیں کرتے تھے۔ ذکر اسم ذات میں مشغول رہتے تھے آپ کی کشف و کرامات بہت ہیں چنانچہ صاحب معارج الولایت لکھتے ہیں کہ ایک بار حضرت شیخ نے میرے بھائی عبدالستار کو فرمایا کہ تمہارا بھائی فلاں فلاں تاریخ کو فلاں فلاں منصب پر فائز ہوگا چنانچہ ایسا ہی ہوا ایک دن ایک سپاہی کو فرمانے لگے کہ تم عنقریب شاہ عالم بادشاہ کے دربار میں حاضر ہوکر نوکری کروگے چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ آپ کی وفات ۱۰۷۹ھ میں ہوئی۔ آپ کا مزار اورنگ آباد میں ہے۔ چوں محب خدا حبیب زمن شد بجنت بسال رحلت آں متقی شاہ اکبر است بگو نیز اعظم ولی حبیب بخواں ۔۔۔

مزید

شیخ حبیب جعفری قدس سرہ

  آپ بنگال کے رہنے والے تھے شیخ محمد حالیہ رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت تھے بڑے صاحب عظمت و شہامت بزرگ تھے پہلے قصبہ حالیہ میں رہتے تھے پھر بجنیر چلے آئے تیس سال تک ضرورت کے بغیر اپنے حجرۂ عبادت سے باہر نہیں نکلے ہمیشہ روزہ رکھتے تھے لوگوں سے نذرانے قبول نہیں کرتے تھے۔ ذکر اسم ذات میں مشغول رہتے تھے آپ کی کشف و کرامات بہت ہیں چنانچہ صاحب معارج الولایت لکھتے ہیں کہ ایک بار حضرت شیخ نے میرے بھائی عبدالستار کو فرمایا کہ تمہارا بھائی فلاں فلاں تاریخ کو فلاں فلاں منصب پر فائز ہوگا چنانچہ ایسا ہی ہوا ایک دن ایک سپاہی کو فرمانے لگے کہ تم عنقریب شاہ عالم بادشاہ کے دربار میں حاضر ہوکر نوکری کروگے چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ آپ کی وفات ۱۰۷۹ھ میں ہوئی۔ آپ کا مزار اورنگ آباد میں ہے۔ چوں محب خدا حبیب زمن شد بجنت بسال رحلت آں متقی شاہ اکبر است بگو نیز اعظم ولی حبیب بخواں ۔۔۔

مزید

شیخ سعد اللہ کیس واز بن شیخ متوکل قدس سرہ

پ بھی شیخ نصیرالدین چراغ دہلی قدس سرہ کے خلیفہ تھے۔ حضرت چراغ دہلوی کے علاوہ آپ کو اپنے والد ماجد شیخ متوکل رحمۃ اللہ علیہ سے بھی خلافت حاصل تھی نہایت پاک سیرت اور متقی بزرگ تھے۔ معارخ الولایت کے مولّف نے لکھا ہے کہ شیخ سعد اللہ کو حضرت خضر علیہ السلام نے ایک کیسہ (تھیلی) عطا فرمائی تھی۔ جو ہر وقت درہم و دینار سے بھری رہتی تھی۔ شیخ کو جب ضرورت ہوتی اسی تھیلی سے نکالتے اور خرچ کرتے جاتے۔ مگر وہ کسی وقت بھی خالی نہ ہوتی تھی۔ اسی وجہ سے آپ شیخ سعد اللہ کیسہ دار مشہور ہوگئے۔ آپ کو حضرت میر سیّد اشرف جہانگیر سمنانی قدس سرہ السامی سے بھی خرقۂ خلافت ملا تھا۔ معارج الولایت نے آپ کا سال وصال ۸۰۶ھ لکھا ہے۔ شیخ سعد اللہ کیسہ وار پیر شد چو از دنیائے دوں اندر جناں ناصر دین کاشف آمد رحلتش ۸۰۶ھ ہم عیاں گر دید تاج عارفان ۸۰۶ھ۔۔۔

مزید

حضرت خواجہ احمد بن مودود چشتی

آپ اپنے والد خواجہ مودود کے خلیفہ تھے۔ بہت بڑے بزرگ اور قطب الوقت تھے، ظاہری اور باطنی علوم کے ماہر تھے۔ آپ نے ایک بار پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو خواب میں دیکھا تو آپ نے فرمایا کہ اے احمد تم ہمارے مشتاق نہیں ہو ہم تمہارے مشتاق ہیں، صبح ہوئی آپ نے تین چار دوستوں کو ساتھ لیا اور اس طرح گھر سے باہر نکلے جیسے انہیں کوئی جانتا ہی نہیں، اس طرح حرمین شریف کی زیارت کو روانہ ہوئے، پہلے مکہ معظمہ پہنچے۔ مناسک  حج ادا کرنے کے بعد مدینہ منورہ حاضر ہوئے چھ ماہ تک حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روضۂ انور پر بیٹھے رہے آپ کا اس طرح بیٹھنا وہاں کے مجاوروں کو گراں گزرا۔ انہوں نے چاہا ان کو تنگ کرکے حضور کے روضے سے دور کردیا جائے روضۂ منورہ سے آواز آئی کہ اس شخص کو تنگ  نہ کیا جائے۔  یہ ہمارا مشتاق ہے اور ہم اس کے مشتاق ہیں۔ یہ آوازیں حاضرین نے سنی، تو سب خاموش ہوگئے، باگاہِ ر۔۔۔

مزید

شیخ فتح اللہ اودھی قدس سرہ

  آپ شیخ صدرالدین حکیم کے مخلص دوستوں اور مشہور خلفاء میں سے تھے۔ ابتدائی زندگی میں دہلی کے مشہور علماء میں شمار ہوتے تھے اور دہلی کی جامع مسجد میں درس قرآن دیا کرتے تھے۔ مگر جب جذب حقیقی نے اثر کیا تو شیخ صدرالدین حکیم قدس سرہ الحکیم کے مرید ہوگئے ریاضت اور مجاہدہ اختیار کرلیا فقر و فاقہ اور محنت کے باوجود کام نہ بنا تو اپنے مرشد مکرم کے سامنے شکایت کی آپ نے فرمایا تم کتابیں پڑھنا پڑھانا چھوڑ دو جو کتابیں تمہاری ملکیت میں ہیں انہیں لے آؤ آپ نے ایسا ہی کیا۔ مگر چند نادر اور لطیف کتابیں اپنے گھر میں رکھ لیں۔ اس کے باوجود بھی آپ کے دل پر عرفان خداوندی کے دروازے نہ کھل سکے۔ آخر کار شام کی تمام کتابیں جمع کر کے دریا کے کنارے بیٹھ گئے اور کتابوں کو دریا برد کرنے لگے۔ ساتھ ہی آپ کی آنکھوں سے آنسوں کے دریا بہہ رہے تھے۔ اس حالت میں آپ کے دل کی تختی ما سوای اللہ کے نقش سے پاک ہوگئی۔ اور صفحہ ب۔۔۔

مزید